عرب دنیا کے فرسودہ تصورات اور جدید سیاسی سوچ


muhammad raiyd khan

حال ہی میں مجھے مضمون بعنوان ”کیا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اب دوست نہیں رہے؟“ پڑھنے کا موقع ملا جس میں مصنف نے بڑی ہی دقت نظر سے سعودیہ اور عرب امارات کے سفارتی ’سیاسی اور معاشی تعلقات کا جائزہ لیا اور مشرق وسطیٰ میں بدلتے حالات بیان کیے۔ جہاں تک عربوں کی بات ہے تو وہ اپنی قبائلی و عصبی تاریخ کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی ایک دوسرے سے الجھے رہے ہیں اور شاید ہی ایسا کوئی زمانہ گزرا ہے جب وہ اپنے حریف قبیلے کے خلاف میدان جنگ میں نہ اترے ہوں۔ آج بھی یہی معاملہ ہے کہ سعودی خاندان اور امارات کا مقتدر خاندان ایک دوسرے کے خلاف ”نیم جنگ“ چھیڑ چکے ہیں۔ بھلے ہی دنیا عربوں کے اختلافات کے پیچھے ”معاشی مفادات“ یا مشرق وسطیٰ میں ”طاقت کے توازن“ کو سمجھتے ہوں، لیکن معاملہ پس پشت قبائلی علت و سوچ کی کارفرمائی کا ہی ہے۔

مضمون کے مصنف اختلافات کا جزوی مطالعہ کرنے سے پیشتر اختلافات کی بنیاد کو کھنگالتے ہیں، لکھتے ہیں کہ ”ایک طویل عرصے سے، دونوں خلیجی ریاستیں سیاسی طور پر بہت قریب تھیں، کئی شعبوں میں شانہ بشانہ کام کر رہی تھیں۔ متحدہ عرب امارات کو سعودی عرب کا ایک قسم کا جدید“ جونیئر پارٹنر ”سمجھا جاتا تھا۔ تاہم سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان (جنہیں ایم بی ایس بھی کہا جاتا ہے ) نے اپنے ایک بیان میں اس دیرینہ دوست ملک کے ساتھ اپنے حالیہ تعلقات کے بارے میں کہا،“ انہوں نے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔

”مشرق وسطیٰ کے خطے پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کی طرف سے ایک طویل عرصے سے یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے مابین نظر آنے والی ہم آہنگی کے پیچھے بڑی گہری دشمنی جڑیں پکڑ چکی ہے۔ اب اس بارے میں ٹھوس بیانات اور اقتباسات گردش کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال گزشتہ سال دسمبر میں ایم بی ایس کا وہ بیان ہے جو انہوں نے اپنے مقامی صحافیوں کے ساتھ ایک پس پردہ گفتگو میں دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا،“ آپ جلد دیکھیں گے کہ میں کیا کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ ”سعودی عرب کے ولی عہد کے اس بیان پر مبنی امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ سے پورے خطے میں سوشل نیٹ ورکس پر بہت ہنگامہ آرائی ہوئی۔“

اختلافات کا جائزہ لیتے ہوئے مصنف ”ذاتی حساسیت“ کو بھی موضوع بناتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ”مذکورہ بالا توقعات میں سے کسی کی بھی دونوں طرف سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے لیکن ماہرین یہ بھی ماننا ہے کہ ہم آہنگی کی سطح کے پیچھے، حالیہ برسوں میں دونوں ممالک یا ان کے انتظامی عملے کے مابین دشمنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جرمن مڈل ایسٹ میگزین“ زینتھ ”کے چیف ایڈیٹر اور اس خطے میں ایک طویل عرصے سے کام کرنے والے ماہر ڈینیئل گیرلاخ کا کہنا ہے کہ سیاسی اور معاشی مسابقت یا اختلاف کے علاوہ ذاتی حساسیت نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔“

یمن کے حوالے سے سعودی اور اماراتی رویوں کا جائزہ لیتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ”سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یمن کی جنگ بھی بنی۔ سعودی بادشاہت نے سن 2015 میں اس وقت کی یمنی حکومت کی طرف سے ایک فوجی اتحاد کی سربراہی میں مداخلت کرتے ہوئے حوثی باغیوں سے لڑائی کی تو متحدہ عرب امارات بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔ سعودی عرب کی طرح متحدہ عرب امارات بھی حوثیوں کو اس وقت اپنے دیرینہ دشمن ایران کی توسیع کے طور پر دیکھ رہا تھا۔

شروع شروع میں متحدہ عرب امارات جنگ میں بہت زیادہ ملوث تھا اور اسے کافی زیادہ نقصان بھی پہنچا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس پوری حکمت عملی کے مقصد پر سوالیہ نشان بھی اٹھایا۔ اس وقت کے صدر عبد ربو منصور ہادی کی حکومت پر ملک کو دوبارہ متحد کرنے اور استحکام پران کا بھروسا کم ہی تھا۔ یہاں بھی دونوں ساتھی ممالک الگ الگ ہو گئے۔“

ٓاسی اثناء میں ”حوثی باغیوں“ سے سعودی اور اماراتی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تجزیے کا حوالے دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”متحدہ عرب امارات ان مذاکرات میں شامل نہیں تھا جو سعودیوں نے بعد میں حوثی باغیوں کے ساتھ کیے تھے۔ متحدہ عرب امارات کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2023 ء میں طے پانے والے معاہدے میں بھی شامل نہیں کیا گیا تھا، جس کی باضابطہ طور پر ثالثی بنیادی طور پر چین نے کی تھی۔ مشرق وسطیٰ امور کے ماہر گرلاخ کا مزید کہنا ہے،“ ان سب کے نتیجے میں سعودیوں میں یہ تاثر بڑھتا چلا گیا کہ متحدہ عرب امارات کا تعلق حوثیوں کو شکست دینے یا انہیں کسی سمجھوتے پر مجبور کرنے سے نہیں بلکہ بنیادی طور پر اپنے مقاصد کو پورا کرنے سے ہے۔ ”

میدان جنگ اور سیاست کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی میدان میں مقابلہ بازی کے متعلق رقم طراز ہیں کہ ”کچھ عرصے سے، دونوں ریاستیں معاشی طور پر بھی تیزی سے مسابقت کر رہی ہیں۔ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والی مغربی اور بین الاقوامی کمپنیاں طویل عرصے سے اپنا صدر دفتر دبئی میں رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ شہر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے زیادہ کھلا اور کاسموپولیٹن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سعودی عرب اب بظاہر جدیدیت کی طرف گامزن ہے اور اگر ضرورت پڑے تو دباؤ کے ساتھ بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنی طرف لانے کی کوشش بھی کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب نے حکم دیا ہے کہ جو کمپنیاں اس مملکت کی شراکت داری سے کام کر رہی ہیں ان کا 2024 ء کے بعد سے علاقائی ہیڈکوارٹر بھی وہاں ہی ہونا چاہیے۔ اس کا اثر لامحالہ دبئی پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے ولی عہد ایم بی ایس جدید ٹیکنالوجی کے متعدد مراکز قائم کر کے ملک میں زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کر کے اور لاجسٹک مراکز تیار کر کے متحدہ عرب امارات کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں، جو اب تک اس خطے کا سب سے اہم تجارتی مرکز ہے۔

رواں مارچ میں محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ وہ ایک دیگر قومی ائر لائن کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا مقابلہ متحدہ عرب امارات کی معروف فضائی کمپنیوں جیسا کہ“ ایمریٹس ”اور“ اتحاد ائرویز ”سے ہونا چاہیے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین مسابقت جلد ہی ان تمام اور دیگر شعبوں میں نمایاں نظر آنے لگے گی۔“

مصنف نے خوبی سے سیاسی، معاشی اور سفارتی تعلقات کا بھرپور جائزہ لیا لیکن وہ عربوں کے سماجی پہلو کو کلی طور پر یکسر نظر انداز کر گئے اور یہ سمجھنا بھول گئے کہ اگر اختلافات جنم لے رہے ہیں تو آخر کیوں؟ دراصل معاملہ یہ ہے کہ ان اختلافات کے پیچھے وہ صدیوں پرانی قبائلی رنجشیں ہیں جو ”مفادات کی یکسانیت“ کے وقت تو نرم اور دھیمی پڑ جاتیں ہیں لیکن جیسے ہی ”مفادات کا ٹکراؤ“ ہوتا ہے تو چھوٹی سی چھوٹی چیز کسی عظیم جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

بعض کے نزدیک ”قبائلی عصبیت“ ماضی کا غبار ہوگی لیکن معذرت کے ساتھ عرب دنیا میں ایسا نہیں ہے، آج بھی عرب دنیا انہیں فرسودہ تصورات اور توہمات کی عادی ہے جسے جدید دنیا کے مفکرین انسانی سوچ کی ترقی اور ارتقاء کے لیے انتہائی مضر سمجھتے ہیں۔ بہرحال، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عرب دنیا کو سمجھنے کے لیے اور مشرق وسطیٰ کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں صرف سیاست ’معیشت اور سفارت کاری کے میدانات کو ہی نہیں کھنگالنا چاہیے بلکہ عرب سماج کا بھی طائرانہ جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ ایک مشہور کہاوت ہے کہ اکثر عظیم واقعات کے رونما ہونے کے پیچھے انتہائی دقیق خیالات اور جذبات کا ہی عمل دخل ہوتا ہے۔ ایسے میں عرب سماج کو نظر انداز کردینے کا مطلب یہی ہو گا کہ ہمارا تجزیہ انتہائی سرسری اور سطحی سا ہو کر رہ جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مستقبل میں دلچسپی رکھنے والے عربوں کی صورتحال سے مکمل طور پر گمراہ ہوجائیں۔

Facebook Comments HS