سید مودودی ؒسے سراج الحق تک۔ پارٹ 2۔


(گزشتہ سے پیوستہ)
14 اگست کو قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی تقسیم ہو گئی پاکستان اور بھارت میں جماعت اسلامی کا الگ الگ نظم قائم ہو گیا دونوں ملکوں میں جماعت اسلامی کی قیادت نے نظم سنبھال لیا اگرچہ پاکستان اور بھارت دو مملکتوں کا وجود عمل میں آ گیا لیکن دونوں ملکوں جماعت اسلامی کے نام سے ہی کام جاری رکھا گیا اس وقت پاکستان کے علاوہ جماعت اسلامی بھارت، بنگلہ دیش (حکومت بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی ہے) سری لنکا، آزاد و مقبوضہ کشمیر اور نیپال میں قائم ہے۔ 1971 ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان دولخت ہو گیا تو بنگلہ دیش میں پروفیسر غلام اعظمؒ کی سربراہی میں جماعت اسلامی ایک تیسری قوت کے طور پر ابھری لیکن شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کو 1971 ء میں متحدہ پاکستان کی جنگ لڑنے کی سزا دی اور جماعت اسلامی پر دیگر پاکستان دوست جماعتوں کی طرح پابندی عائد کر دی بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔

وہاں جماعت اسلامی دوسرے نام سے پوری قوت سے کام کر رہی ہے اگرچہ پاکستان میں جماعت اسلامی بڑی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے لیکن بنگلہ دیش میں بر سر اقتدار جماعت عوامی لیگ جماعت اسلامی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی تیسری بڑی قوت ہے۔ اس لئے اسے جماعت اسلامی کے نام سے کام نہیں کرنے دیا جا رہا آئے روز بنگلہ دیش سے شہدائے پاکستان کے پھانسی کے تختہ پر جھولنے کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ ان تمام ممالک میں جماعت اسلامی کے وابستگان کی تعداد اڑھائی کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے لیکن اس کی پارلیمانی قوت میں کما حقہ اضافہ نہیں ہو سکا۔

جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس میں موروثی سیاست کی نفی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی میں میں ایک عام کارکن امارت کے منصب تک پہنچ پاتا ہے۔ سراج الحق کا تعلق پاکستان کے دور افتادہ علاقہ ثمر باغ سے ہے۔ کوئی تصور نہیں کر سکتا کہ ننگے پاؤں سکول جانے والا یہ طالبعلم ایک دن جماعت اسلامی پاکستان کا امیر منتخب ہو جائے گا جب نوجوان سراج الحق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لینے آیا تو اس کے پاس رات بسر کرنے کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ آج امیر جماعت اسلامی کو ہر کوئی اپنے ہاں ٹھہرانے کو اعزاز سمجھتا ہے۔ پانامہ کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس نے سراج الحق کو ”صادق و امین“ کا خطاب دیا میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی حیثیت سے مری گئے تو ان کو شفا الحق کی رہائش گاہ پر ٹھہرایا گیا امیر جماعت اسلامی کی شیروانی میں پیوند دیکھ کر آزاد منش شفا الحق کی زندگی میں انقلاب برپا ہو گیا انہوں نے اسی روز اپنے آپ جماعت اسلامی سے وابستہ کر لیا لیاقت بلوچ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل تھے تو جماعت اسلامی اسلام آباد کے دفتر میں ہی قیام کرتے تھے۔ میاں اسلم کے اصرار پر ان کے ہاں ٹھہر جاتے ان کا نام جماعت اسلامی کے امیر کے انتخاب کے لئے تجویز کردہ پینل میں رہا لیکن ان میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

چکوال سے مولانا فتح محمد نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ایک عام کارکن کے طور پر کیا مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کے باہر سید مودودی ؒ کی کتب کا سٹال لگایا کرتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر کے منصب پر فائز ہوئے سید منور حسن درویش صفت لیڈر تھے۔ انہوں نے امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں کبھی رہائش کا تقاضا نہیں کیا بلکہ امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے ”مہمان خانہ“ کو ہی اپنی قیام گاہ بنایا انہوں نے اپنی صاحبزادی کی شادی پر ملنے والے تمام تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرا دیے جنہیں نیلام کر کے تمام رقم بیت المال میں جمع کرا دی گئی جس جماعت کا امیر تین مرلے کے مکان میں رہتا ہو راولپنڈی شاخ کا قیم تندور سے رات کی باسی روٹی لے کر گھر جاتا ہو حیران کن بات ہے کہ عوام اسے ووٹ نہیں دیتے جماعت اسلامی کا ایک بھرم تھا لیکن جماعت اسلامی نے ”سولو فلائٹ“ سے یہ بھرم ختم کر دیا اس کے بڑے بڑے لیڈروں کا ووٹ بینک مایوس کن حد تک گر گیا

اس ایک وجہ تو جماعت اسلامی اور اس کی قدرتی اتحادی جماعت کے درمیان ختم نہ ہونے والے فاصلے پیدا ہونا ہے۔ سوال یہ ہے۔ کیا جماعت اسلامی کی پالیسیوں کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیں رہی یا اب انتخابی معرکہ دولت والوں کا کھیل رہ گیا ہے۔ جماعت اسلامی میری پہلی محبت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ میں بلاوجہ اس کی کارکردگی پر تنقید کر رہا ہوں جماعت اسلامی پاکستان کی واحد جماعت ہے جس پر کسی مسلک کا لیبل نہیں لیکن اس کے سیاسی مخالفین اس پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کی واحد جماعت ہے جو 70 کے عشرے میں پاکستان میں سوشلزم و کمیونزم کی یلغار کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گئی قرارداد مقاصد ہو یا تحریک نظام مصطفیﷺ، تحریک ختم نبوت، بنگلہ دیش نامنظور تحریک ہو یا کشمیریوں کی آزادی کے لئے لانگ مارچ جماعت اسلامی تمام تحاریک میں پیش پیش رہی ہے۔ جماعت اسلامی میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ہوں میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد ہوں یا سید منور حسن ہو کسی کے خاندان کے کسی فرد نے جماعت اسلامی کا امیر بننے کی خواہش کا بھی اظہار نہیں کیا لیاقت بلوچ کو راولپنڈی میں اسلامی جمعیت طلبہ منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تو راولپنڈی میں قیام کے دوران ان کی قربت سے جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

جماعت اسلامی کے کل ممبرز کی تعداد 42 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ خواتین ارکان کی تعداد 5 ہزار ہے۔ جماعت اسلامی کے فعال کارکنوں کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ شاید ہی کسی سیاسی جماعت کے ارکان کے پاس اس قدر سرمایہ ہو جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی نے پاکستان کے جید علما ء کرام علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی ابو الحسنات قادری، علامہ جعفر حسین اور دیگر علما ء کرام سے مل کر قرار داد مقاصد منظور کرائی جو آج 1973 ء کے آئین کا حصہ ہے۔ 31 علما ء کرام نے 22 نکاتی مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے۔ 1963 ء میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام منعقدہ بیرون بھاٹی گیٹ پر گولی چلائی گئی جس سے جماعت اسلامی کا ایک رکن اللہ بخش شہید ہو گیا 1964 ء میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی۔ جماعت اسلامی نے تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفی، ملی یک جہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر موثر کردار ادا کیا ہے اگرچہ جماعت اسلامی نے اتحادوں کی سیاست کی بجائے ”سولو فلائٹ“ کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے جماعت اسلامی میں ٹکٹ ہولڈرز کی تعداد تو بڑھ گئی ہے لیکن اس سے جماعت اسلامی کی پارلیمنٹ نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ جماعت اسلامی نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والی جماعت سے اتحاد کر کر کے پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی بڑھا سکتی ہے۔ بصورت اسے پارلیمنٹ میں خاطر خواہ نمائندگی کے لئے سالہاسال جد و جہد کرنا پڑے گی۔ (ختم شد) ۔

Facebook Comments HS