پاکستان کا نیا مذہب


ہمارے ہاں یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک آئین ہے جس کی پاسداری کا ہمیشہ بڑا چرچا رہتا ہے۔ 1973 کا آئین پاکستان میں اتنا مقدس سمجھا جاتا ہے کہ مارشل لا کے ادوار میں بھی عدالتیں مارشل ایڈمنسٹریٹر کو آئین میں ترمیم کا اختیار تو بے شک دے دیتی ہیں لیکن ان کو آئین کو ختم کرنے کا اختیار نہیں دیتیں۔ عدالتیں آئین میں ترمیم کا اختیار کس آئین اور قانون کے تحت دیتی ہیں؟ چھوڑیے اس معاملے کو ہم کون سے آئین کے ماہر ہیں اور بہرحال اعلی عدلیہ کے جج صاحبان بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے تو آئین کی پاسداری کا حلف بھی لیا ہوتا ہے۔

آئیے ہم صرف انہی کی بات کریں جن کے متعلق بات کرنے کا ہمیں اختیار ہے۔ آج کل پاکستان پیپلز پارٹی بڑی شد و مد سے آئین میں لکھی مدت یعنی 90 دن میں انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ قریباً ایک ماہ پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے وزیراعلی نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں باقی تمام شرکاء کی آواز سے آواز ملا کر کہا کہ انتخابات سے پہلے نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندی کی جائے۔ اس بات کی منظوری دیتے ہوئے تمام شرکاء یہ جانتے تھے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کا لازمی مطلب یہ ہو گا کہ اب انتخابات اپنی آئینی مدت یعنی 90 روز میں نہیں ہو پائیں گے۔ کیا ہم آج یہ سمجھیں کہ بھٹو کے برانڈ نیم پر چلنے والی یہ پارٹی واقعی دل و جان سے آئین پاکستان کی پاسداری چاہتی ہے؟ یا یہ محض اپنے کسی وقتی فائدے کے لیے آئین پر عمل درآمد چاہتی ہے اور جب وہ مقصد حاصل ہو جائے گا تو پھر وہی مفاد پرستی کی سیاست در آئے گی۔

حال ہی میں مرکز میں چوتھی مرتبہ حکومت کرنے والی مسلم لیگ (ن) آئین میں دی گئی سویلین بالادستی کی بہت بڑی علم بردار سمجھی جاتی ہے۔ جس طرح کیئر ٹیکرز کی تقرری میں سویلین بالادستی کے پرچم کو شہباز شریف صاحب نے بلند رکھا وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس پارٹی کے قائد نواز شریف صاحب نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے ذریعے کافی عرصہ ہماری سیاست میں ہلچل مچائے رکھی۔ لیکن آئندہ الیکشن کے انعقاد کے معاملے میں ان کی پارٹی نے جو رویہ اپنائے رکھا اور جس طرح نیم دلی سے وہ الیکشن کا انعقاد آئین پاکستان کی تمام شقوں کے مطابق چاہتے ہیں اس پر صرف ذہنی طور پر معذور افراد ہی یہ کہہ سکتے ہیں مسلم لیگ (ن) دل و جان سے آئین کی پاسداری چاہتی ہے۔

بیشتر اشاریوں کے مطابق اس وقت عمران خان صاحب ملک کے سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے کہ چند ماہ پہلے ہونے والے ضمنی انتخابات میں تمام سیٹوں پر وہ تحریک انصاف کے واحد امیدوار تھے اور ان تمام نشستوں پر کامیاب بھی رہے۔ عمران خان صاحب بھی آئین کی مکمل پاسداری کے مدعی ہیں لیکن اس کے لیے وہ کسی سیاسی جماعت سے اتحاد، تعاون یا بات چیت کی بجائے آرمی چیف سے مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ آج سے چند ماہ پہلے تک وہ کسی عدالت میں پیش ہونے کے روادار بھی نہ تھے۔ اپنے خلاف فیصلہ کرنے والے ججوں کو نام لے لے کر دھمکیاں دیتے۔ اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں انہوں نے آرمی چیف کو ملکی معیشت سے لے کر ملکی سیاست تک ہر معاملے میں مکمل طور پر ملوث رکھا۔ کس آئین کے تحت؟

ہم اس روش کو چاہے سیاست دانوں کی مجبوری سمجھیں یا مصلحت، حقیقت یہ ہے کہ آئین کی پابندی اور پاسداری کا مطالبہ ان کا ایک اصولی موقف نہیں محض ایک وقتی فائدے کی بات ہے

جہاں تک ہماری عدلیہ کا معاملہ ہے اس پر میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ جسٹس منیر سے لے کر جسٹس ارشاد حسن خان صاحب تک آئین اور قانون کو موم کی ناک سمجھنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ من پسند لوگوں کے لیے من پسند فیصلے کرنے کا یہ سلسلہ تاحال شد و مد سے جاری ہے۔

ہماری افواج آئین پاکستان کی پابندی کا حلف اٹھاتی ہیں اور حکومت پاکستان کی اطاعت کا اعلان کرتی ہیں۔ ملک میں لگنے والے چار مارشل لاء اس حلف اور دعووں کے بارے میں کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ غیر مارشل لائی ادوار میں جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سابق آرمی چیف کا یہ اعلان کہ فوج آئندہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی گویا ماضی میں ہونے والی تمام مداخلتوں کا اعتراف تھا۔ کیا اب سیاست میں مداخلت ختم ہو گئی ہے؟ میں اس سوال کا جواب اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

آئیے اب آخری سوال کی جانب چلتے ہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا اس میں آپ کے لیے کوئی نئی معلومات نہیں تھیں۔ ہمارے ملک کے جھوٹوں اور منافقین سے آپ خود بھی متعارف ہیں۔ اگر ہم ان کے دعووں پر اعتبار کرنے والے ہوتے تو اب تک خوشی سے کئی مرتبہ مر چکے ہوتے۔ لیکن نہیں! ہم سب جھوٹوں اور منافقین سے متعارف نہیں ہیں۔ ہم صرف ان جھوٹوں کو جانتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ لیڈر اور اس کی پارٹی کے مخالف ہیں۔ ہم ذہنی طور پر اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ ہم غور و فکر کی بنیاد پر سچ اور جھوٹ کا تعین نہیں کر سکتے۔ ہم صرف تقلید کے خوگر ہیں۔ ہمیں سچ اور جھوٹ، صادق اور کاذب کا علم اپنے اپنے محبوب رہنماؤں کے ذریعے ہوتا ہے اور یہ لیڈر بھی اب ہمیں اکثر وراثت میں ملتے ہیں۔

وراثت میں ملنے والی یہ مبنی بر تقلید سیاست پاکستان کا نیا مذہب ہے۔

Facebook Comments HS