”سیرت النبی ﷺ“ اور ہم


فرقان حمید میں رب لم یزل نے فرمایا ”اور ہم نے آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا ہے“ (سورۃ الانشرح 4 ) ۔ اس آیت مبارکہ میں چودہ سو سال پہلے مہر تصدیق ثبت کردی کہ عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے نبیٔ مکرم ﷺ کا ذکر تاقیامت بلند رہے گا۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت و عقیدت ہر مسلمان کا سرمایۂ زیست ہے جو دم واپسیں تک جاری رہتا ہے۔ یہ معجزہ ہے نبیٔ مکرم ﷺ کا کہ جونہی کوئی شخص کلمہ طیبہ سے پیمان وفا باندھتا ہے اس کے دل میں خود بخود آپ ﷺ سے الفت و محبت اور عقیدت کے سوتے پھوٹنے لگتے ہیں اور وہ ناموس رسالت ﷺ پر ہمہ وقت کٹ مرنے کو تیار رہتا ہے۔

ترکھان کے بیٹے، بنوں کے فرنیچر ساز غازی علم الدین شہید کی مثال تاریخ کے صفحات میں روز روشن کی طرح عیاں۔ غازی علم الدین کا دل حب رسول ﷺ سے معمور تھا۔ وہ عالم و فاضل تھا نہ حضور اکرم ﷺ کے دور کا باسی پھر بھی اس عاشق صادق نے 29 اپریل 1929 ء کو شاتم رسول راج پال کو اس کی دکان کے اندر جہنم واصل کیا اور خود پھانسی کا پھندا چوم لیا۔ غازی علم الدین شہید کو لحد میں اتارتے وقت علامہ اقبالؒ نے فرمایا ”ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا“ ۔

شیخ سعدی نے فرمایا ”ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ“ (جب تک عطا کرنے والا خدا کسی کو مرتبہ و عزت عطا نہ کرے یہ سعادت بزور بازو حاصل نہیں ہوتی) ۔ میرے سامنے وزیراعلیٰ پنجاب کی معائنہ ٹیم میں تعینات اور خاتم النبیینﷺ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رائے منظور ناصر کی کتاب ”سیرت النبی ﷺ“ موجود ہے اور میں ورطۂ حیرت میں کہ کیا نفسانفسی کے اس دور جدید میں کسی کے پاس اتنا وقت بھی ہو سکتا ہے کہ وہ چودہ سو سال پہلے کی ایسی مستند تاریخ رقم کردے جس کا ہر گوشہ عشق رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا بھی ہو۔

یہ کتاب ایسی مستند تاریخ ہے جس میں قرآن و حدیث کے علاوہ نقشوں اور مثالوں سے سمجھایا گیا ہے کہ دور نبوی ﷺ کے مسلمان (صحابی) کیا تھے اور آج ہم کیا ہیں۔ عشق رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا رائے منظور ناصر کا قلم انتہائی سادگی سے محض چند جملوں میں وہ کچھ لکھ جاتا ہے جس کے لیے کتابیں درکار ہیں۔ تعلیم و تربیت سے لے کر اخلاقیات و عبادات تک کیا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ اس کتاب میں حقوق اللہ اور حقوق العباد بھی ہیں اور امر بالمعروف، نہی عن المنکر بھی۔

جہاد کے احکامات بھی اور غیرمسلموں کے ساتھ سلوک بھی۔ مجھے سورۃ ال عمران کی آیت مبارکہ 104 یاد آئی جس میں فرمایا گیا ”تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“ ۔ سیرت النبی کے مطالعے کے بعد مجھے یقین ہو چلا کہ ”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں“ ۔

رائے منظور ناصر نے اس کتاب کا مقصد تصنیف بتاتے ہوئے لکھا ”مجھ پر بچپن سے ہی آقا کریم ﷺکی خصوصی نظر کرم رہی۔ میں نے بہت چھوٹی عمر سے ہی حضورﷺ کی سنتوں پر عمل شروع کر دیا تھا۔ زمانۂ طالب علمی میں حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ کی درجنوں کتابیں پڑھیں۔ پھر جب مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کی تو اسلامی تاریخ کو بطور اختیاری مضمون چنا۔ یوں سیرت النبی ﷺ کو ایک بار پھر بہت گہرائی سے پڑھنے کا موقع ملا اور میری حضور ﷺ سے محبت و عقیدت میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا“ ۔

رائے صاحب کی زیست کا سفر ارتقائی منازل طے کرتا ہوا سکول سے کالج اور کالج سے مقابلے کے امتحان تک پہنچا۔ یہ ارتقاء صرف حصول علم کا نہیں بلکہ حب رسول ﷺ کا بھی تھا۔ یہ اسی آتش شوق کی کرشمہ سازیاں ہیں کہ ”سیرت النبیﷺ“ جیسی کتاب معرض وجود میں آئی جو نہ صرف آقاﷺ سے عقیدت و محبت کا برملا اظہار ہے بلکہ اس دور کی مستند تاریخ اسلام بھی۔

”سیرت النبیﷺ“ کے مطالعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی معاشی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، مذہبی اور اخلاقی زندگی کے ہر گوشے پر محیط ہے۔ انہوں نے انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں ہماری زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ فی زمانہ رسول ہاشمی ﷺکے امتی کیا ہیں اور انہیں کیا ہونا چاہیے۔ سادہ اور عام فہم زبان میں بھی روانی اور جذبات کی رو کا یہ عالم کہ انسان اس میں بہتا چلا جائے۔ رائے منظور ناصر انسانی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دین مبیں کا تقاضا کیا ہے۔ ایسا لکھتے ہوئے وہ نہ صرف قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں بلکہ ایسے واقعات بھی بیان کرتے ہیں جن سے بات سمجھنے میں نہ صرف آسانی ہوتی ہے بلکہ وہ بات دل میں گھر بھی کر جاتی ہے۔

رائے منظور ناصر نے مسلکی نکتہ نظر سے صرف نظر کرتے ہوئے وہی کچھ پیش کیا ہے جس کی تصدیق قرآن و حدیث سے ہوتی ہے۔ انہوں نے احادیث کی مستند ترین 6 کتابوں یعنی صحاح ستہ کے حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ قرآن کریم کے بعد اہم ترین کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے محدثین کے بارے میں وہ لکھتے ہیں ”یہ سارے حضرات نہ تو صحابی ہیں اور نہ ہی مکہ/ مدینہ میں پیدا ہوئے۔ حتیٰ کہ یہ کسی عرب ملک میں بھی پیدا نہیں ہوئے مگر انہوں نے حدیث کی 6 مستند ترین اور مشہور ترین کتابیں تالیف کر دیں۔

ذرا سوچیں! یہ کیسے ہو گیا؟ اس کے پیچھے ان حضرات کا حضور ﷺ سے سچا عشق، خالص نیت اور بھرپور محنت تھی۔ اگر ہم بھی حضور ﷺ سے سچا عشق کریں اور اپنی زندگی میں کوئی بڑا مقصد طے کر لیں تو اسے حاصل کیا جا سکتا ہے ”۔ الحمدللہ ہم بھی وقتاً فوقتاً احادیث کی ان مستند ترین کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت یہی کہ رائے صاحب نے ان آئمہ کرام کے بارے میں جو مہین نکتہ پیش کیا ہے اس پر ہماری نظر کبھی نہیں گئی۔ انہوں نے ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کے ان آئمہ کرام کی حضور اکرم ﷺ سے محبت کا جو حوالہ دیا ہے وہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ حضور ﷺ سے محبت رنگ و نسل اور جغرافیائی حدوں سے بے نیاز ہے۔

رائے صاحب نے لوگوں کو سیرت النبی سے روشناس کروانے کے لیے ایک آسان حل تلاش کیا۔ 2021 ء میں جب وہ TEVTA میں بطور سیکرٹری تعینات ہوئے تو انہوں نے ربیع الاول کی تقریبات کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی میٹنگ طلب کی جس میں ان کی تجویز پر یہ طے پایا کہ سکولوں اور کالجوں میں سیرت النبی پر کوئز پروگرام کروائے جائیں۔ اس مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو 5 لاکھ اور دوم سوم آنے والوں کو بھی لاکھوں روپے کے انعامات دیے گئے۔

اول انعام کی رقم رائے صاحب نے اپنی جیب سے ادا کی۔ اب انہوں نے سیرت النبی ﷺ پر کوئز پروگراموں کے لیے 50 لاکھ روپے کے انعامات کا اعلان کیا ہے جس میں اول انعام 20 لاکھ روپے ہو گا۔ پہلا مقابلہ اکتوبر 23 ء میں ہو گا جس کے بعد پورے پاکستان میں مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ رائے صاحب ان پروگراموں یا انعامی رقم کے لیے کوئی چندہ یا عطیہ لینے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ رب کریم رائے صاحب کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔

Facebook Comments HS