بالی وڈ ایکٹر نوازالدین صدیقی کو بہاول پور کا میئر بنایا جائے
راقم کی نظر میں بالی وڈ کے جاری دور کا سب سے بڑا اداکار نوازالدین صدیقی ہے، شاہ رخ خان سے بھی بڑا اداکار۔ سلمان خان، عامر خان اور رجنی کانت اس کے مقابلے میں چھوٹے اداکار ہیں۔
مجھے اندازہ ہے کئی قارئین غصے میں آ گئے ہوں گے۔ اگر آپ اداکاری کے دوران چہرے پہ اظہار کے ”نیچرل پن“ اور مصنوعی پن کے درمیان فرق کو سامنے رکھ کر سوچیں تو بات سمجھ آ جائے گی۔
چندی پور گاؤں میں رہائش پذیر میرے والد کے پسندیدہ اداکار امجد خان تھے۔ وہ اس کی فلمیں بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ تاہم راقم کی فلم بینی لائف میں تین اداکار دل کو زیادہ بھائے۔ امیتابھ بچن، اکشے کمار اور حالیہ دور میں جس اداکار کی اداکاری نے دل کے تاروں کو چھوا وہ ہے نوازالدین صدیقی۔ میرا خیال ہے اسے میرے شہر بہاول پور کا میئر بنوا دیا جائے۔ کیوں؟ آگے چل کر بتاتا ہوں۔ آپ کہیں تو کراچی کا مئیر بنوا دیتے ہیں۔ اور نہیں تو وہاں دہائیوں سے پڑے گندگی کے ڈھیر ہی صاف کرا دے گا۔ اچھا، آپ ضد کرتے ہیں تو لاہور کا میئر بنوا دیتے ہیں۔ اربوں کھربوں روپے وہاں کی سٹرکچر ترقی پہ لگا کے ہر طرف ڈھنڈورے پیٹ دیے جاتے ہیں اور ایک تیز بارش آتی ہے اور لاہور ڈوبا پڑا ہوتا ہے۔
احباب! ہومیو پیتھی کا ایک سبجیکٹ ہے ”انسانی مزاجوں اور شخصیات کا مطالعہ“ ۔ اس کے تحت ایک مزاج کا نام ہے ”تھوجا“ ۔ ہومیوپیتھی کہتی ہے کہ ایسے لوگ جو منافقانہ طبیعت رکھتے ہوں۔ چغل خوری اور غیبت کی عادت ہو۔ خوشامدی مزاج ہوں۔ اوپر سے ہر فرد کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوں لیکن دل ہی دل میں چھریاں تیز کر کے بیٹھے ہوں۔ احساس کمتری کے مارے ہوں۔ انتہائی بزدل ہوں۔ حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں تاہم اپنا مطلب نکالنے کا فن جانتے ہوں۔ دوسروں کو پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے ہوں۔ مختصر یہ کہ ان کی شخصیت کے اوپر کئی ماسک چڑھے ہوں تو ان کو تھوجا مزاج کہا جائے گا اور بیماری چاہے انھیں کالے یرقان کی ہو، کینسر کی ہو یا سادہ بخار اور سرد رد ہو ان کے علاج کا آغاز تھوجا نامی دوا سے شروع کیا جائے گا تو انھیں باقی دواؤں سے بھی فائدہ ہو گا۔ ہومیوپیتھی یہ بھی کہتی ہے کہ ایسے لوگوں کے نفسیاتی امراض اور بری عادتوں کا علاج بھی تھوجا دوا سے ہی کیا جائے گا۔ خیر۔
اچھا ہومیوپیتھک دو اؤں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ مریض پہ کام کرتے کرتے بعض اوقات اثر کرنا چھوڑ جاتی ہیں۔ جیسے ایک دوا ایک ماہ سے فائدہ دے رہی ہے لیکن اچانک کام کرنا چھوڑ جاتی ہے حالانکہ دوا تو وہی ہے یعنی اوریجنل ہی ہے تو تاریخ میں گزرے نامور جرمن اور امریکن ہومیوپیتھ ریسرچرز نے اس کا توڑ یہ نکالا تھا کہ جب ہومیو پیتھک دوائیں کسی مریض پہ کام کرنا چھوڑ جائیں تو سلفر نامی دوا کی ایک آدھ ڈوز دینے سے پہلے والی دوائیں دوبارہ سے کام کرنے لگ جائیں گی۔ ہومیوپیتھی میں یہ پریکٹس پوری دنیا میں گزشتہ دو سو سال سے زیادہ عرصہ سے چلی آ رہی ہے۔
اب دلچسپ پہلو دیکھیں۔ گزشتہ چند سالوں میں راولپنڈی اسلام آباد، دہلی، کراچی، لاہور، بمبئی اور کولکتہ کے معروف اور نامور ہومیوپیتھس کے تجربہ میں یہ بات آئی کہ جب مریضوں کی ایک بڑی تعداد پہ ہومیوپیتھک دوائیں اثر کرنا چھوڑ جاتی ہیں تو جیسے ہی انھیں تھوجا نامی دوا کی ایک آدھ ڈوز دی جاتی ہے وہ دوائیں دوبارہ سے کام کرنے لگ جاتی ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہوا کہ آیا جنوبی ایشیائی معاشرہ اپنا مزاج بدل چکا ہے؟ نہیں، نہیں ہمیں مثبت سوچ اپنانا ہو گی۔ جنوبی ایشیائی معاشرہ اچھا اور اس میں رہنے والے لوگ بھی اچھے۔ تھوجا دوا کے استعمال کا جو نیا پہلو سامنے آیا ہے یقیناً اس کی کوئی اور وجہ ہو گی۔ کوئی میڈیکل کاز ہو سکتی ہے۔
نواز الدین صدیقی آج کے دور کا سب سے بڑا ور سٹائل اداکار ہے لیکن آپ اسے تھوجا مزاج شخصیت نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کی شخصیت کا تھوجا پن بس فلم میں اس کی اداکاری کی حد تک ہے تاہم آرٹ موویز میں اس کے مختلف کریکٹرز تھوجا شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے رہتے ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ راقم نواز الدین صدیقی کو بہاول پور کا میئر اس لیے بنوانا چاہتا ہے کہ وہ آ کر کہے گا یار اکبر! ایسا کرتے ہیں چولستان میں ایک بالکل نئے اور مختلف ڈیزائن کا شہر بناتے ہیں جہاں سارک تنظیم کا مستقل ہیڈ کوارٹرز بنا دیں گے۔ پھر نواز الدین صدیقی دعوٰی کرے گا کہ دیکھو معیشت کے بین الاقوامی بحران کے دباؤ کے تحت جنوبی ایشیائی ممالک اپنی معاشی بقا کے لیے کچھ لو کچھ دو کے اصول کے تحت سال 2050 تک یورپی یونین جیسی یونین بنانے پہ مجبور ہو جائیں گے جس میں تمام ممالک کی جغرافیائی سرحدیں تو موجود رہیں گی تاہم ایک مشترکہ کرنسی وجود میں آ جائے گی اور ویزے کی پابندیاں بہت زیادہ نرم ہو جائیں گی اور ساؤتھ ایشیا یونین کے تمام ممالک ایک دوسرے کی کنزیومر مارکیٹ بغیر کسی روک ٹوک کے استعمال کر رہے ہوں گے تو احباب! ہمیں اس کے اس دعوے پہ رقص کناں ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔
اچھا وہ یہ کہے گا کہ اکبر! دیکھو، بہاول پور میں آرٹ موویز کے انٹرنیشنل معیار کے اسٹوڈیوز بنا دیتے ہیں جہاں میں (نوازالدین صدیقی) مقامی اداکاروں کو فنی تربیت دوں گا اور بہاول پور میں بنائی گئی آرٹ موویز کانز (فرانس) ، لاس اینجلس، نیوریارک، جنیوا اور دیگر کئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیولز میں بین الاقوامی انعامات اور میڈلز حاصل کر رہی ہوں گی۔ نہیں، نہیں ہم نے اس کی یہ بات تو بالکل نہیں ماننی۔ اس کی یہ تجویز مان لی تو ہمارا معاشرہ بگڑ جائے گا۔
اچھا ایک ہوتا ہے قانون اور ایک اور چیز ہوتی ہے جو قانون سے بھی برتر اور اعلٰی ہوتی ہے۔ وہ نہ تحریری ہوتی ہے نہ آئینی لیکن عملاً معاشرے میں وہی نافذ ہوتی ہے اسے کہتے ہیں ”قانون“ ۔ اب اگر کوئی فرد بہاول پور شہر میں بھاری ٹریفک کے دوران سڑکوں پہ چیلوں کو گوشت کے ٹکڑے پھینکے گا تاکہ اس کے کاروبار میں برکت ہو اور روپے پیسے کی آمد بڑھے چاہے ان ٹکڑوں کو جھپٹنے کے لیے چیلیں موٹر سائیکل سواروں کے سروں سے ٹکرا کر روڈ حادثات کا سبب بنتی ہوں تو نوازالدین صدیقی کو بطور میئر اس پریکٹس کو روکنے کے لیے بھاری جرمانے لگانے اور تھانہ میں ایف آئی آر درج کرانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور نہ ہی ہم اسے ایسا کرنے دیں گے کیونکہ ”قانون“ اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔
شہر میں سڑکوں پہ بھرپور تجاوزات ہوں۔ لوگ گھروں کا کوڑا گلیوں میں بکھیر دیتے ہوں۔ بغیر کسی اجازت کے سڑکوں کی توڑ پھوڑ کرتے ہوں۔ شہروں کے درمیان چلنے والی جدید بسیں بہاول پور شہر کے اندر انتہائی تیز رفتاری سے گزرتی ہوں۔ گٹروں پر سے ڈھکن غائب یا آدھے ٹوٹے ہوئے ہوں۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ہو۔ چھوٹے چھوٹے بچے موٹر سائیکلز اور کاریں تیز رفتاری سے دوڑاتے پھررہے ہوں تاہم نوازالدین صدیقی کو ان معاملات میں دخل دے کر شہریوں کے حقوق پہ ڈاکا ڈالنے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی۔
یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب یہ سب کچھ نہیں ہو گا تو پھر راقم کس مقصد کے لیے اسے بہاول پور کا میئر بنوانا چاہتا ہے۔ آپس کی بات ہے کسی اور کو نہ بتائیے گا ایسے مذاق بن جائے گا۔ راقم کے ذہن میں ایک بات بیٹھی ہوئی ہے کہ خواجہ سراؤں کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اب اسے کوئی خواجہ سرا نظر آتا ہے تو وہ اسے دس بیس روپے دے دیتا ہے۔
گزشتہ چھ ماہ سے بہاول پور شہر میں خواجہ سراؤں کی ایک نئی قسم سامنے آ رہی ہے۔ ہوتے تو وہ مرد ہیں۔ ان کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ہیں لیکن وہ ہیجڑوں کا روپ دھارے شہر میں جابجا بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ غلطی سے انھیں دس روپے دے بیٹھے تو ساری رات نیند نہ آئی کہ وہ تو اصلی خواجہ سرا تھا ہی نہیں تو دس روپے ضائع ہو گئے۔
ان سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ بجلی گیس اور پٹرول کے ہوش اڑا دینے والے بلوں اور بے لگام مہنگائی کے ہاتھوں وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے خواجہ سرا کا روپ دھارنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔
عرض ہے کہ نوازالدین صدیقی نے ایک آرٹ مووی میں خواجہ سرا کا روپ دھارا تھا اور اس کی اداکاری اپنے جوبن پہ تھی تاہم وہ خواجہ سرا ہی نہ رہا بلکہ حقیقی زندگی میں واپس ایک مرد کے طور پہ آ گیا۔ اکبر شیخ اکبر چاہتا ہے کہ نوازالدین صدیقی بطور میئر بہاول پور ان مصنوعی خواجہ سراؤں کو سمجھائے کہ ”او، ڈھکنو! حالات کا مقابلہ کرنا سیکھو۔ مصنوعی خواجہ سرا کا روپ دھار کر کسی کی جیب سے دس بیس روپے نکال کر تمہیں کیا ملتا ہے؟ نارمل انسان بن کر زندگی گزارو۔ خود بھی چین سے سوؤ اور دوسروں کو بھی سونے دو ۔ ساری رات ارمان رہتا ہے کہ دعا تو اصلی والے خواجہ سرا سے لینا تھی اور دس روپے دے بیٹھے نقلی والے کو “ ۔


