تھل بنام محسن نقوی وزیراعلٰی پنجاب!


جناب نگران وزیراعلٰی محسن نقوی مظفرگڑھ کا مطلب آپ تھل میں داخل ہوچکے ہیں جو کہ (7) اضلاع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ اور چنیوٹ پر مشتمل ہے۔ اس کو سیاسی اکائی کے طور پر دیکھیں گے تو نقوی صاحب یہ (19) قومی اسمبلی اور (37) صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مشتمل ہے، مطلب یہ ملتان ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن سے بڑی سیاسی اکائی ہے، لیکن اس تھل کے ساتھ قیام پاکستان سے لے کر آج تک سوتیلی ماں کا سلوک یوں ہوتا چلا آ رہا ہے کہ تھل جو کہ (19) قومی اسمبلی کے حلقوں پر پھیلا ہوا ہے، اس تھل میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، زکریا یونیورسٹی ملتان جیسے ایک تعلیمی ادارے کا وجود نہیں ہے۔

اسی طرح پورے تھل میں مطلب 7 اضلاع پر پھیلے تھل میں ایک بھی میڈیکل کالج اور ڈینٹل کالج نہیں ہے، اسی طرح تھل میں نشتر یا پھر بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور جیسا ایک بھی ٹیچنگ ہسپتال نہیں ہے، ادھر پورے تھل میں کوئی ایک بھی زرعی یونیورسٹی نہیں ہے اور نہ ہی انجنیئرنگ یونیورسٹی ہے۔ تھل کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک یوں بھی ہو رہا ہے کہ تھل میں ایک بھی ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی اکائی میں کراچی کے برابر آبادی رکھنے والے تھل کے پاس ہائی کورٹ کا بنچ ہے۔

تھل کی بچیوں کی اعلی تعلیم کے لئے کوئی ایک بھی وویمن یونیورسٹی نہیں ہے۔ تخت لاہور کے وزیر اعلی کی حیثیت میں ایک نظر کرم تھل پر ماریں گے تو آپ کو تھل کے سات اضلاع میں کوئی انٹرنیشنل ائرپورٹ نہیں ملے گا، تھل میں ضلعی ہسپتالوں کی حالات زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لیہ کا ضلعی ہسپتال تحصیل ہیڈ کوارٹر میں کام کر رہا ہے مطلب اونٹ کو خیمے میں ڈال دیا گیا ہے۔ تھل کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کی کہانی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی، لیہ کے دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے انجنیئرنگ کالج کا اعلان اپنے آخری دورے اقتدار میں کیا تھا لیکن آج تک اس پر ٹکہ کی پیشرفت نہیں ہوئی، صوبائی اور وفاقی حکومت خاموش ہیں۔

تھل کو موٹرویز کے حوالے سے بھی محروم رکھا گیا ہے، اس کا مرکزی روڈ مظفرگڑھ میانوالی روڈ اب قاتل روڈ کا نام پا چکا ہے، لیکن مجال ہے کہ اس کو موٹروے میں تبدیل کرنے کی ذرا برابر کاوش دکھائی گئی ہو، حد تو یہ ہے کہ قاتل روڈ کو دو رویہ روڈ بھی نہیں بنایا گیا ہے۔ تھل کا تاریخی ضلع جھنگ تو آپ کا آبائی شہر ہے، اس کے بارے میں کیا عرض کروں جو کہ بدترین استحصال کا شکار ہے۔ محسن پنجاب، آپ کے علم میں ہو گا کہ تھل سنسکرت کا لفظ ہے اور اس کے معنی سونا کے پہاڑ ہیں مطلب اتنے وسائل کا علاقہ ہے۔

تھل کی اہمیت یوں بھی ہے کہ تھل کے ایک طرف دریائے سندھ بہتا ہے تو دوسری طرف آپ کے جھنگ سے دریائے چناب بہتا ہے، اسی طرح تھل ہیڈ پنجند اور دریائے جہلم کے درمیان لیٹا ہوا ہے۔ جناب وزیراعلٰی تھل کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ تھل کے اہم ضلع میانوالی میں کالاباغ کا مقام ہے جو کہ ملک کی لائف لائن کی اہمیت رکھتا ہے۔ ان ساری باتوں کا عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تھل جیسے ملک کے اہم علاقے کو مختلف کی جماعتوں سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

آپ نے بحیثیت وزیراعلٰی اس بات کا اگر فیصلہ کر ہی لیا ہے تو ان باتوں کو ذہن میں رکھ کر تھل کے عوام کے لئے بڑے فیصلے کریں، اس خطے کی خاص اہمیت یوں ہے کہ تھل کی پسماندگی کے اثرات لاہور پر ڈائریکٹ پڑتے ہیں، تھل کی بڑی آبادی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادوں سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے لاہور شفٹ ہو رہی ہے، یوں لاہور کی بڑھتی آبادی لاہور کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ یوں آپ کو ہنگامی بنیادوں پر تھل پر بریفنگ لینی چاہی، تاکہ ایک طرف تھل کے عوام کو میڈیکل کالجز، انجنیئرنگ یونیورسٹیاں، زرعی یونیورسٹی، وویمن یونیورسٹی، کیڈٹ کالج، ہائی کورٹ کا بنچ، ڈویثرنل ہیڈ کوارٹرز، موٹروے، انٹرنیشنل ائرپورٹ سمیت دیگر منصوبوں ملیں اور دوسری طرف لوگوں کا لاہور شفٹ ہونے کا سلسلہ رک سکے!

Facebook Comments HS