ایک نیا معاہدہ

جی -20 ممالک کی ایک اہم بیٹھک نئ دہلی میں منعقد ہوئی جس میں آسٹریلیا ، امریکہ ، جرمنی ، فرانس ، روس ، برطانیہ ، افریقی یونین ، اٹلی ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سربراہان حکومت یا ان کے وفود شامل ھوۓ ۔ چین کی نمائندگی ان کے وزیراعظم نے کی ۔ اس کانفرنس میں افریقی یونین کو مکمل ممبر بھی بنایا گیا ھے جسے پہلے صرف مبصر کا درجہ حاصل تھا ۔ اس کانفرنس کے دوران امریکی صدر اور سعودی ولیئعہد محمد بن سلیمان کے درمیان مصافحہ بھی ھوا جس کے دوررس اثرات ھوسکتے ھیں ۔ اب ایک اھم ترین خبر جس نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ھے وہ بھارت سے باقی ان ممالک تک تجارتی راستے کا قیام ھے ۔ اسے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور IMEC کا نام دیا گیا ھے ۔ یہ ایک صرف نظریاتی معائدہ ھے اور مستقبل میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ کسقدر تغیرات ممکن ھوں گے یہ آنے والے وقتوں میں ھی معلوم ھوگا ۔ سعودی عرب نے ابتدائی طور پہ 60 کھرب روپے دینے کا وعدہ کیا ھے ۔اس کے دو اھم حصے ھوں گے اول حصہ ممبئ سے سفر شروع ھوگا جو متحدہ عرب امارات تک جاۓگا اور اس کو مشرقی کوریڈور کہا جاۓگا اور اس سے اگلا حصہ جنوبی کوریڈور کہلاۓگا جو یورپ تک جاۓگا ۔ اس میں بحری راستوں پہ جہاز اور زیر زمین ٹرین چلائی جاۓگی جو ترسیلی کام ترجیح بنیادوں پہ کرے گی۔ اس موقع پہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ دنیا ایک تبدیلی کے دھانے پہ کھڑی ھے اور یہ معائدہ ایک تاریخی عمل ھے ۔ اس سے تین براعظموں ایشیأ ، افریقہ اور یورپ کو بیک وقت فائدہ ھوگا ۔ کیونکہ اس میں شامل ممالک دنیا کی آدھی آبادی اور چالیس فی صد معشیت کو سہارا ملے گا ۔امریکہ کی اس خطے میں برتری قائم ودائم رکھے گی ۔
چین کو بھی متردد ھونے کی چنداں ضرورت نہیں ھوگی کیونکہ یہ اس کے منصوبے سی پیک وغیرہ کو مزید تقویت ملےگی۔
ایک زیر آب پائپ لائن بھی بچھائی جائے گی جس سے ھائیڈروجن کو منتقل کیا جاۓ گا ۔ یہ ایک طول المدت منصوبہ ھے ابھی اس کے اندر ھونے والے اصول و ضوابط طے کئے جائینگے ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دو ماہ بعد پھر ایک اور اجلاس منعقد کیا جاۓگا ۔ سعودی شہزادے کی خواھش تو ھے یہ منصوبہ جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچے ۔ اس کی کامیابی سے ھوسکتا ھے کہ بین الاقوامی سیاسی استحکام بھی قائم کرنے میں مدد مل سکتی ھے جس کے دنیا کے امن وسکون پہ گہرے اثرات مرتب ھوسکتے ھیں ۔
اصل فائدہ عوام کو ملے گا تو ھی اس کے محاسن پہ گفتگو ھوسکتی ھے۔

