کائنات حقیقت ہے یا محض ایک سراب؟
بیسویں صدی کے عظیم سائنسدان، جان وہیلر رقم طراز ہیں:
سوال یہ ہے کہ سوال کیا ہے؟
کیا کائنات ایک جادوئی کرشمہ ہے؟
کیا حقیقت ایک وہم ہے؟
قدرت کے کارخانے کا راز کیا ہے؟
کیا ڈارون کا نظریہ ارتقا ایک حقیقت ہے؟
زماں و مکاں کہاں سے آئے ہیں؟
کیا یہ سب ہمارے شعور کی کرامت ہے؟
کیا اس کائنات کے باہر اور کائناتیں بھی ہیں؟
کیا انسان ایک حقیقت ہے یا ہمارے حواس کی شعبدہ بازی ہے؟
آئن سٹائن نے ایک دفعہ مجھ سے کہا تھا: ”اگر خود سیکھنا ہے تو اوروں کو سکھاؤ!“
بیسویں صدی تکنیکی اور سائنسی ترقی کے لحاظ سے انسانی تاریخ کی سب سے نمایاں اور غیر معمولی صدی تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں، دنیا سو یا ہزار سال پہلے سے بہت زیادہ مختلف نہیں تھی۔ تاہم، بیسویں صدی میں دریافتوں اور ایجادات کے ایک حیرت انگیز سلسلے نے ہماری زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
اس دور میں، حرکت کے قوانین کی جگہ کوانٹم میکانکس کے انتہائی حیرت انگیز لیکن بے حد کامیاب قوانین اور نظریہ اضافیت نے لے لی۔
ایٹم اور مالیکیولز کی ساخت کو کیمسٹری اور فزیکل سائنسز کی ترقی میں دور رس نتائج کے ساتھ سمجھا گیا۔
نفسیاتی تجزیہ اور سائیکو تھراپی کے شعبوں کے ذریعے انسانی رویے کو سمجھا اور ٹھیک کیا گیا۔
زندگی کے بنیادی اسٹرینڈ، ڈی این اے کی ساخت کا تعین کیا گیا، بہت سی بیماریوں کا علاج دریافت کیا گیا، اور پنسلین ایک موثر اینٹی بائیوٹک کے طور پر ایجاد ہوئی۔
یہ وہ صدی ہے جس نے ہوائی جہاز، خلائی جہاز، ریڈار، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سیل فون جیسے تکنیکی کمالات پیدا کیے۔
خلائی سفر، خاص طور پر 1969 میں انسان کا چاند پر اترنا، انسانیت کے لیے قابل فخر لمحات میں سے ایک تھا۔
اور پھر ایٹم بم کی بے مثال تباہی نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے خطرات کو جنم دیا۔
بیسویں صدی کی انسانی اور سائنسی کمالات کی فہرست طویل اور متاثر کن ہے۔
ایک دلچسپ سوال یہ ہے کہ ان دریافتوں اور ایجادات میں سے کس کو بیسویں صدی کی سب سے اہم پیش رفت قرار دیا جائے؟ ہر ایک کی اپنی پسند ہونی چاہیے جو دوسروں سے بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں کہ اپ کا انتخاب کیا ہو گا۔
اس حیرت انگیز سوال کا میرا کیا جواب ہے؟
بحیثیت طبیعیات دان اس سوال کا جواب دینا خاص طور پر مشکل ہے۔ کئی مضبوط امیدوار ہیں۔ لیکن میرا انتخاب یہ حیران کن دریافت ہے کہ حقیقت (reality) اور مقامیت (locality) ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ یہ حیرت انگیز دریافت سائنس اور فلسفے کے درمیان کی سرحدوں پر ہے اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو حیران کن انداز میں بدل دیتی ہے اور یہی موجودہ مضمون کا موضوع ہے۔
حقیقت اور مقامیت کے تصورات ہمارے اندر اس حد تک راسخ ہیں کہ انہیں چیلنج کرنا گویا عقلی صلاحیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن یہ تصورات ہیں کیا؟
کسی چیز کو اس وقت حقیقی سمجھا جا تا ہے جب وہ اس بات سے آزاد ہو کہ ہم اسے دیکھتے ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر، ہم سب مانتے ہیں کہ چاند اس وقت بھی موجود ہے جب ہم میں سے کوئی بھی اسے نہیں دیکھتا۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ چاند جیسی کسی چیز کی حقیقت کا انحصار براہ راست مشاہدہ کرنے پر ہے۔ ہم ایسی دنیا کا تصور بھی نہیں کر سکتے جہاں اشیاء صرف اس وقت موجود ہوتی ہیں جب ہم انہیں دیکھتے ہیں اور جب ہم ان سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر، رات کے وقت، ہم اس یقین کے ساتھ سوتے ہیں کہ سورج موجود ہے اس کے باوجود کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی طرف دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔
ہمارے اپنے دور میں البرٹ آئن سٹائن نے حقیقت کا تصور ان الفاظ میں پیش کیا:
”اگر کسی طور اثر انداز ہوئے بغیر اگر ہم یقین کے ساتھ کسی شے کی موجودگی کی پیش گوئی کر سکتے ہیں، تو اس شے کو ہم حقیقی تصور کریں گے“ ۔
اس تعریف کی روشنی میں چاند حقیقی ہے اگر وہ اس وقت بھی موجود ہو جب ہم اس کو نہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
مقامیت (locality) کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کسی مقام پر اس وقت ہو رہا ہے، اس کا اثر باقی کائنات پر بالکل نہیں پڑتا۔ اور اسی طرح، دور دراز کے ستاروں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس بات پر اثر انداز نہیں ہوتا کہ زمین پرکیا ہو رہا ہے۔ مثلاً مریخ یا عطارد پر ہونے والا کوئی واقعہ اس بات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا کہ زمین پر ہوا میں پھینکی گئی گیند کہاں گرے گی۔ اس بات کا تصور بھی نا ممکن ہے کہ اربوں، کھربوں میل دور ستاروں اور سیاروں پر جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، وہ ہماری موجودہ زندگی پر کسی طور اثر انداز ہو سکے۔ یہ ستارے تو ہم سے اتنی دور ہیں کہ وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں ہزاروں، بلکہ لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔
20 ویں صدی کی سب سے حیران کن دریافت یہ ہے کہ قدرت کے قوانین حقیقت اور مقامیت، میں سے کم از کم کسی ایک سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مطلب یہ کہ اگر کائنات کی ہر چیز حقیقی ہے اور وہ اس وقت بھی موجود ہوتی ہے جب وہ ہماری نگاہوں کے سامنے نہیں ہوتی، تو مقامیت کا تصور ماند پڑ جاتا ہے یعنی کائنات میں ہونے والی ہر حرکت ہماری موجودہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ اور اگر ہم مقامیت کے تصور کو مان لیں تو کائنات کی کوئی چیز حقیقی نہیں ہو گی۔
اگر ایک لمحے کے لئے رک کر اس نتیجے پر غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہ کائنات کس قدر ناقابل فہم ہے۔ حقیقت اور مقامیت میں سے کسی ایک کی غیر موجودگی کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ یہ اس سوال کو اٹھاتی ہے کہ کیا ہمارے ارد گرد کی دنیا کی کوئی حقیقت ہے یا یہ محض ایک سراب ہے؟
کوانٹم میکانکس ان قوانین کو بیان کرتی ہے جن کے مطابق کائنات کی ہر چیز کام کرتی ہے۔ کوانٹم میکانکس کی پیش گوئیاں ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کرتی ہیں جس کا شاید کوئی حقیقی وجود ہی نہیں۔
حقیقت کے تصور کی مزید وضاحت کرنے سے پہلے میں قوانین فطرت کی کچھ نمایاں خصوصیات پیش کرتا ہوں جن کو کوانٹم میکانکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ قوانین اور حقیقت کے سوال پر ان کے مضمرات، ذہن کو ہلانے سے کم نہیں ہیں۔
کیا کائنات، جسے ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں، حقیقی ہے یا یہ ایک وہم ہے؟ پوری تاریخ میں یہ سوال فلسفہ اور مابعدالطبیعات کے دائرے میں رہا ہے۔
سترہویں صدی میں ایک سائنسی انقلاب رونما ہوا۔ گیلیلیو، نیوٹن اور بہت سے دوسرے سائنسدانوں نے وہ قوانین دریافت کیے جن کے تحت یہ دنیا اور کائنات چل رہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی چیز پر طاقت کا استعمال کیا جائے تو وہ چیز حرکت کرے گی اور وہ ایک مخصوص ٹائم کے بعد کس مقام پر ہو گی اور کتنی رفتار سے حرکت کر رہی ہو گی، اس کی پیش گوئی بالکل درست طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے مطابق ہر چیز کی حقیقت ہے چاہے ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ درحقیقت، یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے اور میکانکی قوانین کے مطابق بیرونی قوتوں کے تحت ارتقا پذیر ہے۔ اس طرح حقیقت کا سوال حل ہوتا دکھائی دیا۔
لیکن ایک سائنسی انقلاب کے نتیجے میں، بیسویں صدی کے آغاز میں، فزکس کے قوانین کے بارے میں ہماری سمجھ میں ایک بنیادی تبدیلی آئی۔ یہ احساس کہ بنیادی قوانین غیر متعین اور امکانی ہیں فطرت کے بارے میں ہماری سمجھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ نئے قوانین کے تحت حقیقت کی تفہیم میں ایک بڑی اور اہم نظر ثانی ہوئی ہے۔
حقیقت کے تصور کے بارے میں جدید نظریات پر توجہ دینے سے پہلے، میں فطرت کے موجودہ سمجھے جانے والے قوانین کی نمایاں خصوصیات پیش کرتا ہوں۔ یہ قوانین کوانٹم میکانکس کے قوانین ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے شروع میں نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کی جگہ لی۔
کوانٹم میکینکس کی بنیاد کسی بھی چیز کی صرف قابل مشاہدہ صفات سے متعلق ہے اور جو صفتیں قابل مشاہدہ نہیں ہیں ان کے بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ 1925 کے موسم گرما میں 24 سالہ ورنر ہائزنبرگ کے لکھے گئے کوانٹم میکانکس پر پہلے ہی مقالے کے ابتدائی الفاظ یہ تھے :
”موجودہ مقالے میں نظریاتی کوانٹم میکانکس کی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو خاص طور پران مقداروں کے درمیان تعلقات پر قائم کی گئی ہے جو اصولی طور پر قابل مشاہدہ ہیں“ ۔
کوانٹم میکانکس معروضی حقیقت کے سوال کو چھیڑتی ہے اور صرف پیمائش کے نتائج کی پیشین گوئیوں سے نمٹتی ہے۔
اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے ہم ایک سادہ سی مثال پر غور کرتے ہیں۔ آئیے دیوار پر پھینکی گئی گیند پر غور کریں۔ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے تحت گیند کی ہر لحظہ حرکت کی پیشن گوئی کی جا سکتی ہے۔ یہ بتانا ممکن ہے کہ کسی مخصوص لمحے میں گیند کہاں ہو گی اور کتنی رفتار سے حرکت کر رہی ہو گی۔ ان قوانین کے مطابق گیند اور گیند کی trajectory ایک حقیقت کا درجہ رکھتی ہیں۔
کوانٹم میکینکس کے مطابق صرف اس سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ گیند دیوار پر کہاں ٹکرائے گی اور اس کا جواب دینا ممکن نہیں کہ گیند کی trajectory کیا تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ کوانٹم مکینیکل پیشین گوئی امکانی ہے۔ یہ کوئی قطعی جواب نہیں دیتی کہ گیند دیوار پر کہاں ٹکرائے گی۔ یہ قوانین صرف یہ معلومات فراہم کرتے ہیں کہ دیوار کے کسی مقام پر ٹکرا نے کا کیا امکان ہے۔
تنہا یہ حقیقت بہت پریشان کن ہے۔ نیوٹن کے زمانے سے ہم اس بات پر یقین کرنے لگے کہ ایک کامیاب نظریہ کا کردار کسی تجربے کے نتائج کی قطعی پیشن گوئی کرنا ہے۔ ممکنہ جواب کو تسلی بخش جواب نہیں سمجھا جاسکتا۔ لیکن کوانٹم میکانکس کے قوانین کے مطابق توہم صرف امکانی جواب حاصل کر سکتے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے عظیم ترین سائنس دان جیسے البرٹ آئن سٹائن اور ایرون شروڈنگر، جنہوں نے کوانٹم میکانکس کی بنیاد رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا، ان نتائج سے کافی غیر مطمئن تھے۔
اس سے بھی زیادہ پراسرار بات یہ ہے کہ کوانٹم میکانکس ہمیں ماضی کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اگر پیمائش کے نتیجے میں چیز کسی خاص مقام پر پائی جاتی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیمائش سے پہلے وہ چیز وہاں موجود تھی۔ کوانٹم میکانکس کے مطابق، اس چیز نے پیمائش کے نتیجے میں مخصوص مقام حاصل کیا۔ گویا اس چیز کا کوئی معروضی مقام نہیں تھا، اس کا مقام اور شاید اس کا وجود مشاہدے کے عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
یہ حقیقت کے عام فہم نقطہ نظر سے بری طرح متصادم ہے۔
ابراہم پیس، ایک نامور طبیعیات دان اور البرٹ آئن سٹائن کے سوانح نگار، بیان کرتے ہیں :
”ہم اکثر ان کے (آئن اسٹائن کے ) معروضی حقیقت کے تصورات پر بحث کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک چہل قدمی کے دوران آئن سٹائن اچانک رک گئے، میری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا مجھے واقعی یقین ہے کہ چاند صرف اس وقت موجود ہے جب میں اسے دیکھتا ہوں“ ۔
جب ہم اسے نہیں دیکھتے تو ہمیں کیسے پتہ چلے کہ چاند موجود ہے یا نہیں؟ ہمارے نزدیک حقیقت کی تعریف یہ ہوگی کہ چاند جیسی کوئی چیز اس بات سے آزاد ہے کہ ہم اسے دیکھتے ہیں یا نہیں دیکھتے۔ ہم ایسی دنیا کا تصور نہیں کر سکتے جہاں اشیا صرف اس وقت موجود ہوتی ہوں جب ہم ان کو دیکھتے ہیں اور جب ہم ان کو نہیں دیکھتے تو ان کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ یہ معقول اور مناسب سچائی تھی جس پر آئن سٹائن کا یقین تھا۔ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ یہ نقطہ نظر غلط ہے۔ کوئی شے اس وقت حقیقی ہوتی ہے جب اس کا مشاہدہ کیا جائے یا مشاہدہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
میں اس مضمون کی آئندہ قسط میں ایک سادہ سی مثال کے ذریعے حقیقت کے تصور سے وابستہ اہم سوال کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔
(جاری ہے )


