گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں

ن م راشد کی نظم ”گماں کا ممکن : جو تو ہے میں ہوں“ میرے لیے یوں اہم ہو گئی ہے کہ اس کے وسیلے سے اگر کوئی چاہے تو ان سارے مخمصوں کی بنیاد کو تلاش کر سکتا ہے جو راشد کی شاعری میں یہاں وہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ یہی مخمصے اس کے زندہ وجود ہونے پر دال بھی ہیں جو سوچتا ہے، کئی سوالات اٹھاتا ہے اور اپنے تئیں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے جتن کرتا ہے۔ اچھا، خود راشد کا اس نظم کے بارے میں یہ کہنا کہ اس میں اس نے چند ذاتی اور اجتماعی یادوں کو آپس گوندھنے کے جتن کیے ہیں، اور ہمیں یہ سمجھانا چاہا ہے کہ انسان مسلسل گمانوں کا شکار ہے۔ صرف اس حد تک[حقیقت تک] پہنچ سکتا ہے جہاں تک یہ گمان اجازت دیں ؛ یہیں راشد نے ”یعنی“ کے اضافے کے ساتھ ایک اور بات بھی کہنا چاہی ہے، خود راشد کے الفاظ میں یہ بات (کہ جسے میں نے شاعر کے ہاں ایک الجھن کے طور پر شناخت کیا ہے ) یوں ہے :
”گماں کے ممکن اور حقیقت کا دراصل کوئی وجود نہیں ہے، ہے تو محض سیمیائی وجود ہے جو محض گمان کے ساتھ اضافی حیثیت رکھتا ہے۔“
ایک گفتگو کے دوران ہمارے دوست ظفر سید نے راشد کا اس ضمن میں ایک اور بیان بھی ہمیں فراہم کر دیا ہے ؛میں وہ بھی ہو بہ ہو نقل کر دیتا ہوں :
”ہم انسان اور انسانوں کے رشتے گمان پر قائم ہیں اور اس میں جو جو ممکن ہوتا ہے وہ لے لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں، نہ ہم لے سکتے ہیں نہ ہمیں ملتا ہے۔“
لیجیے، اب میں ان بیانات کو قریب قریب رکھ کر دہرا رہا ہوں۔
بیان نمبر 1۔ انسان مسلسل گمانوں کا شکار ہے۔
بیان نمبر 2۔ صرف اس حد تک[حقیقت تک] پہنچ سکتا ہے جہاں تک یہ گمان اجازت دیں۔
بیان نمبر 3۔ گمان کے ممکن اور حقیقت کا دراصل کوئی وجود نہیں ہے۔
بیان نمبر 4۔ اگر[حقیقت کا وجود ]ہے تو فقط سیمیائی وجود ہے جو محض گمان کے ساتھ اضافی حیثیت رکھتا ہے۔
بیان نمبر 5۔ ہم انسان اور انسانوں کے رشتے گمان پر قائم ہیں۔
بیان نمبر 6۔ اس میں [ گمان کی حد تک] جو جو ممکن ہوتا ہے وہ لے لیتے ہیں۔
بیان نمبر 7۔ اس [گمان ]سے زیادہ نہیں، نہ ہم لے سکتے ہیں نہ ہمیں ملتا ہے۔
صاحب، بیان نمبر 1 میں راشد انسان کی بے بسی کو نشان زد کر رہا ہے کہ اس کے پاس یقین کی دولت نہیں فقط گمان ہیں۔ دوسرے معنوں میں وہ گمان کو حقیقت کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ اس دوسرے بیان میں اس حقیقت کے وجود کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے جسے گمان کے ذریعے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ یوں گمان کے ذریعے شناخت ہونے والی حقیقت کے جزوی وجود کو ، جو بہ ہر حال ایک مطلق حقیقت کے مظہر کے طور پر سامنے آ رہی ہے، اس بیان میں تسلیم کر لیا گیا ہے، تو میرا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔
اب آئیے بیان نمبر 4 کی جانب، راشد نے اس حقیقت کو بھی جس میں اس کے گمان نے تسلیم کر لیا تھا محض سیمیائی وجود قرار دیا ہے جو گمان کے ساتھ اضافیت کے رشتے سے قائم ہے۔ گویا حقیقت کا وجود اتنا بھی نہیں ہے، جتنا گمان نے دریافت کیا تھا کہ جسے گمان نشان زد کر رہا ہے وہ محض سیمیائی ہے۔ سیمیا، یعنی روح کو ایک وجود سے دوسرے وجود میں داخل کرنے کا عمل، یہاں گمان انجام دے رہا ہے اور شے موہوم کو یہاں حقیقت کے طور پر گمان نے تسلیم کیا وہ کچھ نہیں ہے۔
پانچویں سوال میں راشد نے انسان اور انسان کے بیچ اور انسان اور کائنات کے مابین رشتے کو نشان زد کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ سب گمان کا شاخسانہ ہے ؛ حقیقت کچھ بھی نہیں ہے بس سب گمان ہی گمان ہے۔ میں بھی تو بھی، یہ کائنات بھی، اس کا آغاز اور انجام بھی، انسان کا ان سے تعلق اور رشتہ بھی سب گمان ہے۔ گویا انسان بھی ایک گمان ہے، سوال یہ ہے کہ کس کا ۔ انسان کا ؟ گویا گمان کا گمان۔ میں الجھتا جا رہا ہوں اور ادبدا کر چھٹے بیان کی طرف دیکھنے لگتا ہوں جس کے مطابق گمان کی حد تک کچھ کچھ ممکن ہوجاتا ہے۔
اتنا کہ ہم اس میں سے وہ (گماں |حقیقت) لے سکتے ہیں۔ اوہ تو یوں ہے کہ اب پھر سیمیائی حقیقت گمان کی حد تک نہ صرف ممکن ہو گئی ہے وہاں سے ہمیں کچھ کچھ عطا بھی ہونے لگا ہے۔ آخری بیان میں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہمارا گمان محدود ہے اور حقیقت کا کچھ حصہ ہی پا سکتا ہے۔ گو یا پھر وہی بات کہ حقیقت لا محدود ہے اور گمان کی نارسائی؛ کہ وہ اسے ایک حد تک ہی شناخت کر سکتا ہے۔ راشد کو آپ نے خود اس کے اپنے بیانات کی روشنی میں دیکھ لیا اور جان لیا کہ وہ حقیقت، جسے راشد نے سیمیائی کہا ہے، وہ اتنی بھی سیمیائی نہیں رہتی کہ وہ لا محدود ہے اور اس کا کچھ حصہ ہی گمان میں آ سکتا ہے گویا اتنا ہی ممکن ہے جو گمان میں آیا۔
راشد کو اس روایتی موضوع کی طرف کیوں لپکنا پڑا، اس کو آنکنا میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ مجھے تو یہاں یہ یاد دلانا ہے کہ اس طرح کے موضوعات کو شاعری میں برتنا راشد کو بہت کھلتا رہا ہے۔ اس نے ایک مصاحبہ (لا= انسان والے ) میں میر اور غالب کو دنیا کے عظیم ترین معلموں میں شمار کیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ میر اور غالب کے ہاں محبوب ہونے والے جن موضوعات کو کھوکھلے ستون کا سا قرار دیا ان میں ایک یہ موضوع بھی شامل ہے، جو اس نظم میں برتا گیا ہے۔ میر اور غالب کا ذکر آ گیا ہے تو ساتھ ہی اس موضوع کو برتنے والے اشعار بھی ذہن میں گونجنے لگے ہیں۔ ایک شعر ہے میر کا ، یہاں درج کیے دیتا ہوں :
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
غالب کا شعر جو مجھے یاد آتا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کے ذہن میں پہلے سے حاضر ہو گا:
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دام خیال ہے
یا پھر نوشہ جی کا ہی ایک اور شعر:
ہاں کھائیو مت فریب ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
صاحب! عنوان کے حوالے سے اوپر والے نکات ذہن میں تازہ رکھ کر راشد کی نظم کے متن میں اترتے ہیں تو یوں دکھتا ہے کہ شاعر انسانی باطن کے تناؤ اور ایک بنیادی سوال کو نشان زد کر رہا ہے یہی کہ کائنات کے مقابلے میں اور اس کائنات کے اندر آدمی کی حقیقت کیا ہے؟ نظم کے اندر یہ تناؤ اور تلاش پوری طرح نشان زد ہو رہے ہیں۔ انسانی باطن پر ایک دریچہ طبیعیاتی کائنات کا کھل رہا ہے اور دوسرا مابعد الطبیعیاتی کائنات کا ۔ اچھا یہ یاد دلا دوں کہ راشد نے اپنے بیانات میں ہی نہیں اپنی متعدد نظموں میں موخر الذکر طرز احساس کی نفی کی ہے۔ جس نئے انسان کا تصور راشد کے ہاں بہ اصرار ملتا ہے وہ تو دیوار کے اس طرف والی کائنات کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہتا مگر یوں ہے کہ اس نے اس نظم میں دیکھا ہے۔
نظم طبیعیات کے سب سے نمایاں، کریم اور روشن مظہر سورج کے ذکر سے شروع ہوتی ہے۔ وہ کریم سورج جو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائی اور ہمواری دیتا ہے۔ بہتے پانیوں کی سرشاری ہو یا زمانے کی جھیل کا مانوس کنارا، مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ یہ سب مظاہر انسانی شناخت کو اعتبار نہیں بخش رہے ہیں۔ یہیں اس گماں کا ذکر ہوتا ہے جس کے مطابق انسان یہ سمجھے بیٹھا کہ وہ اپنا ثبوت آپ ہے۔ حتی کہ اسے زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے سے اپنی ہی دھیمی صدا کی جانب متوجہ ہونا پڑتا ہے۔
چوں کہ یہ زمانے کی جھیل ہے لہذا نظم یہ بھی نشان زد کر رہی ہے کہ اس کے اوپر ہزاروں انسان افق کے متوازی چل رہے ہیں ؛اس تمنا کو لیے کہ وقت لہریں اچھال کر دوسرے کنارے پر اتار دیں۔ اس مرحلے پر نظم ان انسانوں کی بات کرتی ہے جنہیں سماوی خرام کی تمنا ہے اور جنہیں پاتال سے زمزموں کی صدا سنائی دے جاتی ہے۔ انسان آگے بڑھتا ہے اور آگے، وقت لہریں اسے اچھال کر دوسرے کنارے تک نہیں پہنچاتیں ؛بل کہ بار بار ڈبو دیتی ہیں۔ تو یوں ہے کہ محض فزکس یا پھر میٹا فزکس انسان کو دوسرے کنارے تک لے جانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی اور یہ میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا راشد کی نظم یہ کہنے پر اکسا رہی ہے۔
”جنہیں تمنا، مگر ، سماوی خرام کی ہو
انہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہے
وقت لہریں
انہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں! ”
نظم کے اگلے ٹکڑے میں راشد ان ملاحوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جو زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے سے آنے والی انسان کی اپنی صدا سے سدا ہراساں اور گریزاں رہتے ہیں۔ راشد کے ہاں آپ محسوس کریں گے کہ مناظر اپنی ایک الگ دھج سے سامنے آتے ہیں۔ اس نظم کے انوکھے اور پرلطف منظر کا حصہ ہو جانے والی جھیل میں ایک عمود کا چور چھپ کر بیٹھا ہے۔ اب آپ یوں کیجیے کہ جھیل کو اوندھا دیجیے، جیسے آپ کے ہاتھ میں ایک پیالہ ہے اور آپ اس کا پیندا جھٹ سے ہاتھ گھما کر اوپر کر دیتے ہیں۔
آپ ایسا کریں گے تو کشش ثقل سے آپ کے پیالے کی گرفت مات کھا جائے گی، جو کچھ اس کے اندر ہو گا اس سے نکل کر پیالہ خالی ہو جائے گا مگر راشد نے زمانے کے جس جھیل پیالے کو اوندھایا ہے اس کا پانی اور لہریں اسی طرح اپنا خرام جاری رکھتی ہیں۔ اب آئیے اس عمود کے چور کی جانب جس کے گیسو افق کی چھت سے لٹکتے دکھائے گئے ہیں۔ اور جو مسلسل پکار رہا ہے :
آؤ، آؤ
ازل سے میں منتظر تمہارا
۔
میں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوں
درخت، مینار، برج، زینے مرے ہی ساتھی
مرے ہی متوازی چل رہے ہیں
میں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیرا
سمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارا
اب آؤ، آؤ
تمہارے جیسے کئی افسانوں کو میں نے ان کے
ابد کے آغوش میں اتارا۔
تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاں
افق کی شاہراہ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماں۔
راشد جس افقی اور عمودی کشمکش کو انسانی حیات کے بنیادی مسئلے کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ عین اسی کے مرتبے کا اس نے منظر بنایا اور اس میں ایک اسی دھج کی تمثیل رواں کر دی ہے۔ نظم کے اس حصہ میں ایک بار پھر سماوی خرام والوں کا ذکر ہوتا ہے جو پست و بالا کے آستاں پر جمے عمود کے طناب کو تھامے ہوئے بلندی پر چڑھ رہے ہیں۔ نظم وقت اور ماورا وقت کی بات کر کے انسانی وجود کی شناخت کے سوال کو بھی نشان زد کر رہی ہے جو محض اور صرف عمود سے جڑی ہوئی نہیں ہے۔
عمود کے طناب کو تھام کر چلنے اور بلندی کی طرف سفر کرنے والا انسان اسی نظم میں آگے چل کر ہانپتا اور مات کھاتا ہوا دکھایا گیا ہے تاہم نظم کے جس منظر کی یہاں بات ہو رہی ہے اس میں عمود کا یہ چور گنبدوں کے سارے راز جانتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ حیات کے سارے مظاہر اسی کے متوازی چل رہے ہیں اور دوسرے کنارے پر ، کہ جہاں آخری بسیرا ہو سکتا ہے اور جسے نظم میں ابد کی آغوش کہا گیا ہے، اسے بھی اسی عمود سے شناخت کیا جا سکتا ہے اور بامعنی بھی بنایا جاسکتا ہے۔ نظم کے اسی حصے میں راشد نے ایک بار پھر ان ملاحوں کا ذکر کیا ہے جو پست و بالا کے آستاں سے جمے ہوئے ہیں اور ایک خوف اور سہم کو دل میں پالتے ہوئے عمود کے طناب کو تھامے بلندیاں چڑھنا چاہتے ہیں۔
یوں جیسے ایک کہانی لکھنے والا پہلے ایک ماحول بناتا ہے ؛ کہانی کا لوکیل واضح کرتا ہے، اس کے زمانے کا تعین کرتا ہے، بالکل اسی طرح یہ نظم بھی اپنا آغاز یہاں مکمل کر لیتی ہے۔ لہذا اسی مقام سے نظم کا واحد متکلم نظم کہانی میں نمودار ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس گروہ کے ساتھ نشان زد کرتا ہے جو عمود کے طناب کو تھامے پار اترنے کے جتن کرر ہا ہے۔
”۔ اسی طرح میں بھی ساتھ ان کے اتر گیا ہوں۔“
تو یوں ہے کہ راشد کا انسان جس خدا سے دامن کشاں ہو کر عمود کے طناب کے سہارے دوسرے کنارے پہنچنا چاہتا تھا، وہ ادھر پہنچا بھی مگر کیا دیکھتا ہے کہ قدیم خدا کے نشان پا وہاں بھی موجود تھے اور اس کی ضعیف آنکھیں سلامت تھیں۔ ایسے میں نظم کا متکلم اپنے آپ سے سوال کرتا ہے :
”۔ یہی سماوی خرام میرا نصیب نکلا
یہی سماوی خرام جو میری آرزو تھا۔ ”
راشد کی اس طویل مختصر نظم میں اب وہ مرحلہ آ جاتا ہے کہ عمودی طناب سے جڑے سفر کا پچھتاوا ہر لائن سے چھلکنے لگتا ہے۔
”مگر نجانے
وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے
کہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟
وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے
جو رک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے
وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکن
جو تو ہے میں ہوں! ”
نظم کا متکلم یہاں ایک بار پھرسے اپنی منزل کی تعیین کرتا ہے۔ وہ اپنے باطن میں موجزن تمنا کے سچ کو کھنگالتا ہے اور خود کو یقین دلاتا ہے کہ:
”مگر یہ سچ ہے،
میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی) آرزو میں
نکل پڑا تھا
اس ایک ممکن کی جستجو میں
جو تو ہے میں ہوں
میں ایسے چہرے کو ڈھونڈتا تھا
جو تو ہے میں ہوں
میں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھا
جو تو ہے میں ہوں! ”
اچھا، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس نے اپنا گزشتہ سفر ناکارہ جان کر پھر سے آغاز لینے کا فیصلہ کیا ہو، نظم بتاتی ہے کہ ایسا بار بار ہوتا رہا ہے۔ اپنی حقیقت کو پانے کے تعاقب میں جتنے بھی آغاز اب تک گنے جا چکے ہیں ان سب سے رستا ہوا ناکامی کا خوف شاعر کے بطن میں جھیل سا بنا گیا ہے۔ اب وہ جس گلی سے اور جس چوک سے گزرتا ہے اس خوف اور سہم کو لے کر گزرتا ہے۔ جن گونگے مجسموں کو دیکھتا یا جن باغوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے، شراب راتوں میں جن بانہوں کا آسرا لیتا ہے یا جن چاہت کے بپھرے سمندروں سے گزر گیا ہے ، نارسائی اور ناکامی کا خوف اس کے قلب میں ہمیشہ رہتا ہے۔ جی، اور اس کا سبب اب تک کی مشقتوں کاوہ نتیجہ ہے جو نظم کی کھول کھول کر بیان کر رہی ہے :
”میں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے
کتنے ایماں کے گنبدوں سے
گزر گیا ہوں
میں اس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوں۔
اب اس تعاقب میں کوئی در ہے
نہ کوئی آتا ہوا زمانہ
ہر ایک منزل جو رہ گئی ہے
فقط گزرتا ہوا زمانہ
۔ تمام رستے، تمام بوجھے سوال، بے وزن ہو چکے ہیں
جواب، تاریخ روپ دھارے
بس اپنی تکرار کر رہے ہیں ”
گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں کی طرف نظم سہج سہج چلتی آ رہی تھی مگر یہاں پہنچتے ہی، نظم یوں فیصلے سناتی ہے جیسے منزل سامنے آ گئی ہو یا جیسے بند غار پر دہانہ کھل کر پورا آسمان روشن کر رہا ہو۔
”جواب ہم ہیں۔ جواب ہم ہیں۔
ہمیں یقیں ہے جواب ہم ہیں۔ ”
خیر، ایسا ہے نہیں، کہ یہ تو اس نظم کا قرینہ ہے، انسان کے یقین کو جس طرح یہاں نظم کا حصہ بنایا گیا ہے وہ ایک ڈرامے کا سا لطف دیتا ہے اور قاری کو بھی ایک جوش بھرے یقین کے مقابل کر دیتا ہے۔ تاہم اگلی ہی سطروں میں وہی مخمصہ، جو راشد نے اس نظم کا بنیادی تنازع بنایا ہے پھر سے راہ روک کر آ موجود ہوتا ہے۔
”یقیں کو کیسے یقیں سے دہرا رہے ہیں کیسے
مگر وہ سب آپ اپنی ضد ہیں
تمام، جیسے گماں کا ممکن
جو تو ہے میں ہوں! ”
یہیں اس سوال کا جواب پانے کے لیے نظم ایک تمثیل کی صورت ایک اور سوال یا مخمصہ اچھالتی ہے ؛سامنے وقت کا دریا بہہ رہا ہے جس میں درختوں کے کندے تیر رہے ہیں۔ ازل سے بہتے اس دریا کے ابد تک جاتے اس نامعلوم کنارے کا سفر ہونی شدنی سے بندھا ہوا ہے (نظم کے متکلم ہی کے الفاظ میں ) نہ ان کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا۔ اچھا نظم یہاں یہ بھی بتا رہی ہے :
”تمام کندوں کے سامنے بند واپسی کی
تمام راہیں
وہ سطح دریا پہ جبر سے تیرتے ہیں
اب ان کا انجام گھاٹ ہیں جو
سدا سے آغوش وا کیے ہیں ”
راشد کا معاملہ اپنے مثالی انسان سے ہے جسے بہ ہر حال اس طرح تقدیر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا لہذا نظم کا متکلم یہاں ایک اور حیلہ کرتا ہے اور ان کندوں کو بہتے پانیوں سے اچک کر سفینہ گر کے قیاس کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ مگر میں نے کہا نا، راشد کو اس باب میں قلب مطمئن عطا نہیں ہوا:
”اب ان کا انجام وہ سفینے
ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی
اب ان کا انجام
ایسے اوراق جن پہ حرف سیہ چھپے گا
اب ان کا انجام وہ کتابیں۔
کہ جن کے قاری نہیں، نہ ہوں گے
اب ان کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے
ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے
کہ ان پہ آنسو کے رنگ اتریں،
اور ان میں آئندہ
ان کے رویا کے نقش بھر دے! ”
صاحب، نظم فیصلہ سنا رہی ہے کہ غریب کندوں کے سامنے واپسی کی تمام راہیں بہرحال بندہیں اور بقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہوئے ہیں ان کے ہر سنگ میل پر بس یہی لکھا ہوا ملتا ہے
”گماں کا ممکن، جو تو ہے میں ہوں!
جو تو ہے میں ہوں! ”
تو یوں ہے کہ بہ ظاہر اس نظم میں جس افق اور عمود کی کشمکش کو لایعنی بتایا گیا ہے وہی میٹا فزکس کو نظم کے حاشیہ سے اٹھا کر اس کے مرکز میں لے آتی ہے۔ جی ہاں وہی راشد کی متروک اور دھتکاری ہوئی میٹا فزکس اب فزکس کے ساتھ جڑ کر اس گونج کی طرف بڑھ رہی ہے :
”گماں کا ممکن، جو تو ہے میں ہوں!“
جو تو ہے میں ہوں! ”
×:×:×

