کھلی آنکھوں کا خواب (ساتواں حصہ)
سوئے نجف:
رات ڈیڑھ بجے واپس آئے تو سوتے سوتے دو بج گئے۔ اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی اور دوبارہ لیٹ گئے۔ عائشہ نے رات کو ہی بتا دیا تھا کہ دس بجے ناشتہ کرنے چلیں گے، اس سے پہلے میں نہیں اٹھ سکتی۔ میری آنکھ تو نو بجے ہی کھل گئی۔ اٹھ کر پردے سرکائے۔ دریچے کے شفاف شیشے سے نیچے وادیٔ کربلا نظر آ رہی تھی اور 9 جولائی کی گرم سرخ دھوپ اس پر یوں پھیلی تھی کہ آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔
آج ہمیں نجف اشرف جانا تھا مگر طے پایا کہ 5 بجے تک نکلیں گے تاکہ دھوپ ڈھل جائے اور گرمی کی شدت بھی کچھ کم ہو جائے۔ جانے کے لئے کپڑے نکالے۔ تیاری کی اور پھر ناشتہ کے لئے چلے گئے۔
ناشتے میں بھی خشک وتر پھل، مٹھائیاں، قسم قسم کے بن، کیک، پیسٹری، پنیر، اچار، سلاد، مربے، فروٹ چارٹ، دلیے، سوپ اور بہت سی نمکین ڈشز شامل تھیں جنہیں دیکھے بغیر کہ نمکین سے زیادہ ہمیں پھل اور میٹھا پسند ہے، انجیر کا مربہ لیا۔ ویٹر تازہ اورنج جوس لایا۔ کربلا میں اس بیرن ہوٹل کا مالک پاکستانی ہے اور منیجر احمد کا دوست ہے تو ہمارے لئے الگ سے گرما گرم پوریاں اور حلوہ بہت سے لوازمات کے ساتھ آیا۔ پوریاں نرم گرم اور خشک سی تھیں تو بڑے عرصے بعد شوق سے کھائیں۔
اپنا دیسی ناشتہ کر کے سواد آ گیا۔ چکن سے بنی چائنیز اور اٹالین ڈشز مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ ویسے بوفے میں چیزوں کی کثرت اور اقسام دیکھ کر ہی طبیعت سیر ہو جاتی ہے۔ اللہ بخشے میری ساس کو جب ان کے سامنے دوچار کھانے پینے کی چیزیں آتیں تو وہ چکھ کر ایک چیز کا انتخاب کر کے باقی چیزیں واپس کر دیتیں کہ بہت سے کھانوں میں کسی ایک کا بھی مزا نہیں آتا۔ پھر وہ ایک کھانے کو سکون سے کھا لیتیں۔ خیر ہم نے بھی سکون سے پاکستانی ناشتہ کیا جو اتنا بھاری تھا کہ سوائے نسیم کے کسی نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا۔
سو کچھ آرام کیا۔ نمازیں ادا کیں۔ تیار ہو کر نیچے آئے۔ گاڑیاں تیار تھیں۔ میں اور نسیم اپنی مخصوص گاڑی میں، عائشہ اپنی جب کہ آگے دو پروٹوکول کی گاڑیاں تھیں، یوں ہم سوئے نجف روانہ ہوئے۔ کل سہ پہر نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ آئے تھے اور آج پھر کربلائے معلیٰ سے نجف اشرف جا رہے تھے۔ سفر کی دعائیں، درود شریف کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کی دعا رب انی لما انذلت الی من خیر فقیر اے اللہ تو جو بھی خیر اتار میں اس کا محتاج ہوں کا ورد کرتی رہی۔ سفر کرتے ہوئے یہ دعا اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی دعا کا ورد کرنا میرا معمول ہے۔ اس دعا کی برکت سے سفر ہمیشہ وسیلۂ ظفر اور باعث خیر و برکت رہتا ہے۔
کل آتے ہوئے زائرین کے لئے بنے گھر اور اقامت گاہیں دیکھی تھیں۔ آج ہم کچھ اور مناظر دیکھ رہے تھے۔ ہمارے ڈرائیور قادر نے حسب معمول گائیڈ کے فرائض سنبھال لئے اور ساتھ ساتھ بتاتے رہے جو نسیم تو بخوبی سن رہے تھے مگر میں کچھ تو سماعت کی خرابی کی بنا پر اور کچھ بار بار آنکھیں مند جاتیں، اس لئے ان کی باتوں پر توجہ نہیں دے سکی۔ بس مشکل سے آنکھیں کھول کر کسی چیز کے بارے میں پوچھتی اور پھر ایک میٹھی سی نیند کی جھپکی لے لیتی۔ نیند اللہ کی خاص نعمت ہے۔ میٹھی اور پرسکون۔ پر سفر کی نیند کی مٹھاس کے کیا کہنے۔ الحمدللہ
سوتے جاگتے سفر کٹا اور نجف میں داخل ہوئے۔ نجف اشرف اور دنیا کے اس سب سے بڑے قبرستان کے بارے میں پڑھی ہوئی باتیں ذہن میں گردش کرتی رہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ ایسا کوئی قبرستان ہو گا جہاں اتر کر فاتحہ پڑھیں گے۔ دیکھیں گے، خاص طور پر اس حصے کو ، جہاں بارش برستی ہے تو اس مخصوص حصے میں در نجف ملتا ہے۔ لوگ اس کو تلاش کرتے ہیں۔ یہ پرل کی طرح ایک قدرتی پتھر ہے جسے بہت مبارک سمجھا جاتا ہے۔ میں یہ سب باتیں سوچے جا رہی تھی کہ سب گاڑیاں رک گئیں۔
احمد نے اشارے سے بتایا، وہ سامنے سمندر ہے جو خشک ہو گیا ہے۔ پھر احمد نے کہا دعا کر لیتے ہیں۔ میں حیران ہوئی کہ اندر نہیں جائیں گے۔ عائشہ نے کہا امی یہ بہت بڑا قبرستان ہے۔ میلوں پر پھیلا ہوا کہ اس کو ایک پورے دن میں بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔ یونیسکو نے اسے ورلڈ ہیریٹیج سائٹس کی لسٹ میں شامل کیا ہے۔ ستر ہزار پیغمبر اس میں مدفون ہیں مگر سوائے ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام کی قبروں کے باقی پیغمبروں کی قبروں کا کسی کو علم نہیں۔ صدیوں سے اس میں ستر ہزار پیغمبر، اولیاء، شہدا، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور بے شمار لوگ دفن ہوتے آئے ہیں۔
ہم سب نے گاڑیوں سے نکل کر فاتحہ پڑھی، دعائیں کیں اور واپس گاڑی میں آ بیٹھے کہ باہر غضب کی گرمی اور لو چل رہی تھی۔ اب گاڑی آہستہ آہستہ چل رہی تھی تاکہ ہم گاڑی میں بیٹھے بیٹھے وادیٔ سلام کے اس قبرستان کو بخوبی دیکھ سکیں۔ یہ قبرستان بالکل مختلف اور منفرد تھا۔ قبریں بہت اونچی بنی ہوئی تھیں۔ پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی اور قبروں کے اوپر مرحومین کی بڑی بڑی پوسٹر نما تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ شاید اس لئے کہ اتنے بڑے قبرستان میں قبر کی شناخت ہو سکے۔
بڑی بڑی مسکراتی زندگی سے بھرپور تصاویر کو قبرستان میں لگے دیکھ کر دل اداس ہوا۔ کیسے کیسے لوگ یہاں دفن ہیں۔ زندگی کی بے ثباتی نے رنجیدہ کیا۔ وادیٔ سلام جس کا مطلب ہی سکون کی وادی ہے، ایک دنیا یہاں ابدی سکون کی نیند سو رہی ہے۔ نسیم چلتی گاڑی سے ہی قبرستان کی ویڈیو بناتے رہے۔ جب کہ مجھے بے اختیار یہ شعر یاد آیا:
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
(جاری ہے )

