نیو دہلی جی 20 کانفرنس، ایک آزادانہ جائزہ
پڑوسی ملک بھارت میں جی ٹونٹی گروپ ممالک کے سربراہان کی اٹھارہویں کانفرنس حال ہی میں منعقد ہوئی ہے۔ گروپ کے ممالک میں امریکہ، چین، روس، انڈیا، ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکیہ، برطانیہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ روس چین کے صدور نے شرکت نہیں کی لیکن ان ممالک کی نمائندگی تھی۔ دونوں صدور کی کمی کو کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔
اس گروپ کی خاصیت یہ ہے کہ گروپ کے ممبرز معاشی اور اقتصادی طور پر دنیا کے طاقتور ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا کی کل اقتصادی اور آبادی کا بہت بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ اس گروپ کے ممبرز ممالک دنیا کی پچاسی فیصد اقتصادی جی ڈی پی کے مالک ہیں اور پوری دنیا کی تجارت میں جی ٹونٹی ممالک کا 75 فیصد شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح دنیا کی کل آبادی کا 65 فیصد حصہ اسی گروپ کے ممالک سے تعلق رکھتا ہے۔ لہذا اگر اس گروپ کو ”چوہدریوں کا گروپ“ ’کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔
جب چوہدریوں کی تعداد بڑھ جائے تو وہاں جھگڑے اور اختلافات بھی جنم لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی مناظر عالمی سیاست کے اندر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ روس اور چین کے ساتھ اس گروپ کے عالمی سطح پر تنازعات اور اختلاف رائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ روس اور چین کی اتنی پسلی ہے کہ وہ تن تنہا یا مل کر ان ”عالمی چوہدریوں“ کا مقابلہ کرسکیں۔ لیکن پاکستان ایسا ملک کیا کرے گا؟ اس کا جواب کسی حد تک اس کانفرنس میں ملا ہے کہ کیسے اپنے اتحادی دوستوں نے لنکا ڈھائی ہے۔
پاکستان دہائیوں تک امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ رہا ہے۔ لیکن سی پیک منصوبے کے بعد چین کے ساتھ ڈوری میں بندھا تو کسی کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ روس یوکرائن کی جنگ لگی تو عالمی طاقتیں تقسیم ہوئیں۔ روس چین ایک طرف اور عالمی چوہدری گروپ دوسری طرف اور پاکستان درمیان میں پھنس گیا۔ یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ مرضی کے ساتھ فیصلے کرے لیکن اس کے اس استحقاق کو اندرونی مسائل خصوصاً ریاستی رٹ کی کمزوری، دہائیوں سے جاری مذہبی انتہا پسندی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری نے اتنا نقصان پہنچا یا ہے کہ خارجہ محاذ پر پاکستان کا درست سمت کا فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری طرف بھارت نے طاقتور سیاسی اور معاشی استحکام کی وجہ سے عالمی تقسیم کے دباؤ کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ کچھ پہلوؤں سے عالمی چوہدریوں کو آگے بھی لگایا جس کی کچھ جھلکیاں اس جی ٹونٹی کانفرنس میں دیکھنے کو ملیں جو نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ جی ٹونٹی کانفرنس میں جو کچھ ہوا ہے وہ غیر متوقع نہیں ہے۔ بھارتی سرکار نے اس کانفرنس سے ایک دو نہیں بلکہ متعدد سیاسی، معاشی، سفارتی اور اخلاقی فوائد سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔
ساتھ ساتھ پاکستان کو اس کے دیرینہ اسلامی دوست ممالک سے دور کرنے کی بھی کوشش کی۔ میزبانی کا حق استعمال کرتے ہوئے ”فوڈ ڈپلومیسی“ سے بھی کام لیا ہے۔ بھارتی روایتی دیسی کھانوں اور سٹریٹ فوڈ سمیت چار صد سے زائد پکوانوں سے جی ٹونٹی کے مہمانوں کی سیوا کی۔ سونے چاندی کے برتنوں میں مہمانوں کھانا کھلایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چاندی سونے کے برتنوں میں کھانا کافی دیر تک تروتازہ رہتا ہے۔ سونے چاندی کے یہ برتن جے پور میں خصوصی طور پر تیار کرائے گئے تھے۔
ان میں پلیٹیں، پینے کے لئے گلاس، چمچے، کٹوریاں شامل تھیں جن پر دیدہ ذیب ڈیزائن بنائے تھے۔ راقم الحروف کی رائے میں اس منعقدہ جی ٹونٹی کانفرنس کے دو اہم ترین پہلو ہیں باقی سب کچھ وہی ہے جو ایسی کانفرنسوں میں ہوا کرتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس کانفرنس سے روس یوکرائن جنگ پر ردعمل نہ ہونے کے برابر رہا جو شاید بھارتی خارجہ پالیسی اور تیاری کانفرنس کا حصہ تھی۔ حالانکہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے شہر بالی میں منعقدی کانفرنس میں یوکرائن جنگ کا نمایاں غلبہ دیکھا گیا تھا۔
تاہم اب بھارتی سرکار نے روس پر سفارتی احسان کر کے اس کے ساتھ تعلقات کو مزید استحکام بخشا اور اپنی سرزمین کو روس مخالف اعلامیہ سے بچائے رکھا۔ امریکہ و یورپین یونین سمیت دیگر ممالک کا کانفرنس میں روس یوکرائن لڑائی پر خاموش رہنا، بلاشبہ بھارت کی کامیاب سفارت کاری کہی جا سکتی ہے۔ یہاں پاکستان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر ملک خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی صرف اپنے مفاد کو ہی ترجیح دے گا۔ لہذا پاکستان دوسروں سے خیر اور بھلائی کی توقع رکھنے کی بجائے اپنے اندرونی معاملات کو سیدھا کرے اور عالمی تقاضوں اور ضروریات کے مطابق ریاست کو چلانے کی کوشش کرے۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے اور بے لگام سرکش گروہوں کو لگام دے۔ جو عالمی سطح پر مسائل کے انبار لگانے اور بھارت کو فوائد اٹھانے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ کانفرنس کی دوسری اہم بات میزبان ملک کا اسلامی ممالک پر ”سفارتی خود کش حملہ“ ہے۔ جس کا اول و آخر مقصد پاکستان کو ان اسلامی ممالک سے دور کرنا ہے۔ یہاں پڑوسی ملک نے پاکستان کے اندرونی جھگڑوں اور سول حکومتوں کی خارجہ محاذ پر آزادانہ پالیسی نہ ہونے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
جنوبی ایشیا کے اندر پاکستان کو بطور مہمان مدعو نہ کرنا، نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جس کے کئی معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر ستر سالوں سے قبضہ برقرار رکھنے اور پھر پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت کی عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کانفرنس میں اسلامی ممالک کی پذیرائی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اسلامی بلاک کے اہم ممالک کو سفارتی شکنجے میں جکڑنے کے لئے ایک مہنگا ترین اور اعلیٰ سفارتی جال پھینکا اور متعدد اسلامی ممالک کو بطور مہمان بلا یا ان میں مصر، نائجیریا، متحدہ عرب امارات، عمان شامل تھے۔ جو گروپ کے ممبر نہیں ہیں۔ یہ اسلامی ممالک عالمی چوہدریوں کے ساتھ دو دن کی ملاقاتوں کو کہاں بھول پائیں گے اور شرکت کو بھارت کا سفارتی احسان سمجھیں گے۔
ترکیہ کے صدر نے کانفرنس کے دنوں میں پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ یہ ترکیہ کے لئے باعث فخر ہو گا اگر بھارت سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنتا ہے۔ یہ بھی کانفرنس کی ایک بڑی خبر ہے۔ ترکیہ کے بعد سعودی عرب نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ترکیہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی جارحیت کو پس پشت ڈالا اور پاکستان جن شرائط پر بھارت سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے ان کو کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے عالمی سیاست میں ”مذہب کارڈ“ کی تھیوری کو رد کر کے اس کو منوں مٹی تلے دفن کر دیا ہے اور بھارت کی سر عام کھل کر حمایت کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ عالمی سیاست میں مذہب کارڈ کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی اور ہر ملک اپنے ملکی مفادات کو ہی پیش نظر رکھے گا۔
ان باتوں سے پاکستان چلانے والوں کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ آج کی دنیا میں رہنے کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ نفرت، تنگ نظری، تعصب کی بالکل کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال سعودی عرب کی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جی ٹونٹی کانفرنس میں سعودی عرب کے کردار نے جنوبی ایشیا کے مستقبل کے خدو خال کو کافی حد تک واضح کر دیے ہیں۔ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم کی ”بھارت مڈل ایسٹ اکنامک کوریڈور“ سے متعلق تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں ناقابل یقین تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
ولی عہد کا ویژن 2030 اس تمام منصوبے کا بنیادی محرک ہے جس کی تکمیل کے لئے سعودی عرب تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے کا تہیہ کر چکا ہے۔ سعودی ولی عہد پرنس نے دو دون کی کانفرنس کے بعد تیسرے دن باضابطہ دورہ بھارت کیا اور بڑے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ اس دوران بھارتی صدر کی جانب سے سعودی پرنس کے اعزاز میں غیر معمولی استقبالیہ دیا گیا جس میں وزیر اعظم بھی شریک تھے اور تین دن تک سعودی عرب کے مہمانوں کو غیر معمولی پروٹوکول دے کر اس کو کافی حد تک ”رام“ کر لیا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ مستقبل قریب میں بھارت سعودی عرب کے تعلقات مزید بلندیوں تک پہنچیں گے۔
اسی قسم کے خیالات کا اظہار سعودی ولی عہد نے بھی اپنی تقریر میں کیا تھا۔ بھارتی اور سعودی سرکار دونوں نے اک دوجے کو جس طرح سراہا اور اکنامک کوریڈور میں ایک ساتھ آگے بڑھنے کا جس طرح اظہار کیا ہے اس نے سیاسی عالمی ماہرین اور مدبروں کو حیرت زدہ کر دیا ہے اور وہ سب اب پاکستان اور چین کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔


