غافر شہزاد کا ناول ”مکلی میں مرگ“
”مکلی میں مرگ“ غافر شہزاد کا شاہکار فن پارہ ہے۔
ناول میں سندھ کے قدیم ترین قبرستان مکلی کے بارے میں اور اس کے ساتھ لاہور، کراچی، جھنگ، اچ شریف اور پاکپتن شریف میں موجود صوفیاء کرام کے مزارات کی تعمیرات اور ان کے ڈیزائن کی صوفیا کے چہار سلاسل سے نسبت کو بہت ہی خوبصورت اور معلوماتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر ان مزارات میں دفن بزرگوں کے بارے کم حقیقی اور زیادہ من گھڑت واقعات کا لوگوں کے عقائد کا حصّہ بن جانے کے بارے بھی بحث نہایت ہی دلچسپ ہے۔ اس کے علاوہ ان مزارات سے منسلک کرپشن کے حیرت انگیز انکشافات بھی ناول کا حصہ ہیں۔ ناول نگار غافر شہزاد چوں کہ خود فن تعمیرات سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اس لیے انھوں نے ان تمام واقعات اور معلومات کو کرداروں کے ذریعے فکشن میں ڈھال کر قارئین تک حقائق تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
مکلی کا قبرستان سندھ کے شہر ٹھٹھا میں واقع ہے اس میں قبروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ قبرستان میں موجود بیسیوں سلاطین، امرا، صوفیا اور علما کے مقبرے اور ان میں لوگوں کی ریل پیل انسانی ذہن کو اس الجھن میں ڈال دیتی ہے کہ انسان کی زندگی زیادہ اہم ہے یا موت، اور انسان کے جسم اور روح کا آپسی تعلق اس الجھن میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
ناول کی بالعموم ابتدا اس قسم کے سوالات سے شروع ہوئی ہے۔ ناول نگار لکھتے ہیں، ”روح اور جسم کیا واقعی دو الگ الگ حیثیتیں رکھتے ہیں؟ ، زندگی بھر ساتھ رہنے کے بعد موت ان میں جدائی کیوں لے کر آتی ہے؟ ، جسم کیوں فنا ہو جاتا ہے؟ ، روح کے حصے میں بقا کیوں آتی ہے؟“ ص 11
اس کے بعد دوسرا سوال دنیا سے وفات پا جانے والوں کا لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہنا ہے، اس بارے میں لکھتے ہیں ”سوال یہ ہے کہ عملی طور پر مر جانے کے بعد دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں اس (انسان) کی موت کیوں واقع نہیں ہوتی؟ ، تدفین کے لیے قبرستان بنائے جاتے ہیں مگر ذہنوں میں نقش ایسی شخصیات کے قبرستان کبھی نہیں بنتے، آخر کیوں؟“
ناول کی باقاعدہ ابتدا میں یہ دونوں سوال ذہن میں لے کر ناول کا مرکزی کردار ارسلان آرکیٹیکٹ (جو کہ غیر ملک سے فن تعمیر میں ڈگری لے کر پاکستان آتا ہے) ”عالمی تنظیم برائے عمارات و تعمیرات“ کی دعوت پر مکلی قبرستان میں ہونے والی کانفرنس کے بارے میں معلومات لے کر شرکت کرنے کا سوچتا ہے۔ ارسلان اپنی والدہ کے صوفی نظریات سے متاثر ہو کر تعمیرات میں جدت کے بجائے روایت کی تلاش میں پاکستان آتا ہے اور یہاں لاہور میں موجود قدیم طرزِ روایت کی عکاس درباروں اور مقبروں کے بارے میں معلومات اسے تسکین دیتے ہیں لیکن جدت اور روایت کا جداگانہ تصور اسے الجھن میں ڈالے ہوئے ہے۔ مکلی میں ہونے والی کانفرنس بھی جدت کے بجائے روایت کے پرچار کے لئے منعقد کی گئی ہے تو اس میں شرکت کرنے اور اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی گتھی سلجھانے اور مکلی میں ان مقبروں کو دیکھنے کے لیے ارسلان روانہ ہو جاتا ہے۔
ناول کی کہانی کو بڑھانے کے لیے ارسلان کے ساتھ طارق اسماعیل کے کردار کا اضافہ کیا گیا ہے، جو پیشے کے لحاظ سے صحافی ہے وہ ارسلان کو اس کانفرنس کے درپردہ سرمایہ دارانہ سوچ، مالی فوائد کے بارے آگاہ کرتا ہے اور روایت سے جڑے ارسلان کے سوالات اور عقائد کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ ناول نگار نے اپنے مرکزی کردار کے ذریعے جدت، روایت، ان سے جڑے مختلف لوگوں کے مالی مفادات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کانفرنس جہاں زیرو کاربن عمارات بنانے کی ترغیب دی گئی اور روایت سے جڑنے کے بلند آہنگ دعوے کیے گئے اس کے پیچھے بھی بورژوا طبقے کے لوگ ہیں لیکن اتنے وسیع کینوس کو محض دو کرداروں کے ذریعے بیان کرنا ممکن نہیں اس لیے ارسلان کے ساتھ دوسرے جزوی کرداروں کو بھی کہانی کا حصہ بنانا پڑا ہے۔ جن میں بابا مستان، صائمہ علی، عرفانہ خان، آرکیٹیکٹ آفتاب علی، آرکیٹیکٹ آغا کمال اور ان سے جڑے مزید ذیل کردار ہیں۔
ارسلان جب طارق اسماعیل سے بھی مطمئن نہیں ہو پا رہا ہوتا تو دربار سے جڑے کرپشن کے حیرت انگیز واقعات کو بیان کرنے کے لیے طارق اسماعیل کے معاون اور دلچسپ کہانیوں کا مواد فراہم کرنے والے ایک پر اسرار کردار بابا مستان کو ناول میں متعارف کرایا گیا ہے۔ جو ایک متجسس کردار مگر درباروں سے جڑی تمام کہانیوں کا شاہد ہے اس کی معاونت سے طارق اسماعیل نے ارسلان کی مدد کرنا چاہی مگر ارسلان کے سوالات جوں کے توں پڑے ہیں اور وہ اپنی منزل کا تعین نہیں کر پا رہا۔ اس کے لیے ناول نگار نے ناول کے شروع میں ہی نسوانی مرکزی کردار صائمہ علی کو شامل کیا ہے جس کی کہانی ناول کے بالکل آخر میں ارسلان کی ذہنی آسودگی کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ مگر ارسلان پھر بھی واضح راہ نمائی حاصل نہیں کر پاتا۔
یہاں یہ بجا طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ناول نگار فنی طور پر ناول کو اپنے قابو میں نہیں کر پائے اور مرکزی کردار ارسلان کی ذہنی الجھنوں میں سے کسی کو بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکے۔ لیکن ناول کے دوسرے واقعات اور معلومات آگے بڑھنے میں مدد دیتے رہے ہیں جیسے کہ صائمہ علی جو کہ بچپن سے اپنی دادی کے ساتھ درباروں پر آتی جاتی ہے تو اسے ان سے عقیدت ہو جاتی ہے مگر جیسے وہ بڑی ہوتی جاتی ہے تو اسے صاحبان مزارات کے متعلق حیران کن انکشافات ہوتے ہیں ان میں دو معلومات زیادہ اہم ہیں۔ ایک یہ ہے کہ لاہور میں واقع حضرت پیر مکی کو حضرت داتا علی ہجویری کا استاد مانا جاتا ہے ناول نگار اس بارے لکھتے ہیں ”درگاہ حضرت پیر مکی کے متولیوں کا دعویٰ تھا کہ پیر مکی چوں کہ علی بن عثمان ہجویری کے استاد تھے اس لیے زائرین کو پہلے یہاں حاضری دینا چاہیے۔ حالاں کہ حقیقت یہ تھی حضرت پیر مکی، داتا صاحب کے یوم وصال سے کم و بیش ایک سو تیس سال بعد دنیا میں آئے۔“
دوسرا لاہور میں ہی موجود مزار بی بی پاک کے بارے میں ہے کہ اس مزار میں دفن ہونے والے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہاں کوئی بی بی دفن ہے۔ اس کا پس منظر افغانستان میں قحط کے دوران میں ہجرت کر کے یہاں آنے والے لوگ ہیں جو افغانستان ہی سے آنے والے ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے گئے، مگر وقت گزرنے کے بعد مقامی لوگوں نے اس کو مزار بی بی پاک کا نام دے کر مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔
یہاں سے لوگوں کے عقائد اور اصل حقائق کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ باور کرایا گیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جاتا ہے۔
اسی طرح مزارات کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز میں کیسے کرپشن کی جاتی ہے۔ ناول میں ایسے حقائق اور معلومات قارئین کی دلچسپی کو کم نہیں ہونے دیتے اور ناول کو انجام تک پہنچانے کا جذبہ آخر تک قائم رہتا ہے۔
آخر میں جب کسی بھی طرح سے ارسلان کا کردار نہیں بڑھ پا رہا تو ناول نگار ہاتھ پکڑ اسے چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے اپنے سوالات کے ساتھ ہی آرکیٹیکٹ آغا کمال کے پاس بھیجتے ہیں کہ آغا کمال اسی کیفیت سے گزر کر ایک مرشد کے سہارے ہی اپنی ذہنی تسکین کا سامان کر پائے تھے اور ارسلان بھی لوگوں کی منشا کے مطابق عمارتوں کے جدید مگر بھدے اور غیر دلچسپ ڈیزائن بنانے کے بجائے اپنے ذہن کے مطابق جدت اور روایت کے اشتراک سے تعمیراتی ڈیزائن تیار کرے گا۔ لیکن آغا کمال کے پاس پہنچنے اور آفتاب علی کے توسط سے بی بی پاک کے مزار کا نقشہ بنانے کے لیے اس کا ذہن اب بھی واضح نہیں ہوا۔ ارسلان کے ساتھ چلنے والے کردار جنھوں نے ناول کہانی کو آگے بڑھایا اور ارسلان کو سہارا دیا ان تمام کرداروں کی زندگی کے پہلو بھی تشنہ ہی رہے۔
نہ تو صائمہ علی مزار بی بی پاک کی توسیع کا کیس حل کر پائی نہ، بابا مستان کا پر تجسس کردار واضح ہو سکا، نہ طارق اسماعیل اپنا کردار مکمل کر پایا اور نہ خود آغا کمال کا کردار واضح ہے جس کو ارسلان کا راہنما بنایا گیا ہے۔ جہاں ناول میں زندگی کو تفصیل سے پیش کیے جانے کا تصور موجود ہے وہاں ایک بھی کردار حتی کہ مرکزی کردار بھی کسی پہلو سے انجام کو نہیں پہنچا۔ ناول کے مرکزی کردار کو زیرو پوائنٹ پر رکھ کر ناول آگے بڑھانا شاید کسی کے ہاں فنی خوبی ہو لیکن میری رائے میں یہ ناول نگار کی کمزوری ہی ہے، اسے فنی خوبی تو کسی طور نہیں کہا جا سکتا۔ ناول کے واقعات اگرچہ ایک دوسرے سے جڑے ہیں مگر پلاٹ مضبوط نہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ناول عمومی موضوعات سے ہٹ کر ایک مختلف انوکھے اور عملی موضوع پر لکھا گیا ہے جہاں شاید ناول کے وہ فنی تقاضے پورے نہیں ہو سکتے تھے جو ہونے چاہئیں۔
البتہ فنی خامی پر ناول کے واقعات کی دلچسپی غالب ہے اور ناول نگار نے بظاہر دیدہ زیب پراجیکٹ کی آڑ میں سرمایہ دارانہ فوائد کے حصول کا پردہ چاک کیا ہے اور معلومات کا خزانہ فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جو یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ مجموعی طور پر ناول میں تصوف اور اس میں لوگوں کے عقائد و نظریات، درباروں میں شریعت و طریقت کا اختلاط، طریقت کے مختلف سلسلے اور ان کی اپنی تعمیراتی فن کاری، اس سے آگے بڑھیں تو درگاہوں کے فنڈز میں کرپشن اور فرقہ واریت کا فروغ ان تمام مسائل و موضوعات کو بڑی محنت اور خوبصورتی کے ساتھ فکشن کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

