سید خالد جاوید مشہدی- ایک عہد کا نام


سید خالد جاوید مشہدی ہم چار بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کی زندگی کی کہانی مسلسل محنت، کوشش، جستجو، اپنے کام سے محبت اور بھرپور امید سے عبارت ہے۔ آتش جوانی کے دنوں میں غصے اور لا ابالی کے جذبات سے بھرپور شخصیت آج کی ایک ٹھہری اور مستقبل مزاج شخصیت کے درمیان کا سفر، ابا جی مرحوم کے انہیں ڈاکٹر بنانے کے خوابوں سے لے کر نوائے وقت جیسے بڑے اخبار کے نیوز ایڈیٹر تک کا سفر ہے۔ یہ طویل لیکن پر مشقت سفر سائیکل، موٹرسائیکل، میڈیکل پریکٹس، کپڑے کا کاروبار، چھوٹی موٹی زمینداری، نوائے وقت کے 35 سال، اپنے والدین، بھائیوں، رشتہ داروں، اہل علاقہ کی بے لوث خدمت اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا، ملتان میں اپنے گھر کی تعمیر، اپنے دونوں بچوں محسن اور گڑیا کی شادیاں، دو عمرے، بھابھی اور بیٹے محسن کا ایک عمرہ، گاڑی، نوائے وقت کے ادارتی صفحہ پر مضامین اور کالمز جن میں سے کچھ انڈین اخبارات و جرائد میں بھی شائع ہوئے، فیملی میگزین میں سالہا سال سیاسی ڈائری کی اشاعت، کم و بیش دس انگریزی سے اردو کتب کا ترجمہ، سفرنامہ حجاز ( اے اللہ میں حاضر ہوں ) سیاسی کالمز کا مجموعہ (مگر یہ حکم حاکم تھا) ، اپنی خود نوشت (سفر حیات کا ) اور اس طرح کے بے شمار واقعات پر مشتمل ہے۔

بظاہر یہ معمول کے کام ہیں جو ہر کامیاب انسان کو کرنا ہوتے ہیں مگر میں ان سب چیزوں کو غیر معمولی اس لئے سمجھتا ہوں کہ جہانیاں منڈی کی چند گھروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی ظفر آباد سے اٹھ کر شہر میں آ کر اپنا نام بنانا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، جو انہوں نے اللہ کے فضل سے کیا۔ خالد بھائی نے نوائے وقت میں اس وقت ملازمت شروع کی جب نیوز سیکشن کا سارا کام انگریزی زبان سے اردو میں ہوتا تھا۔ ایک بستی سے ملتان آ کر جس مہارت اور خوبصورتی سے انہوں نے یہ کام کیا، سب ان کی تعریف کرتے تھے۔

انہوں نے نوائے وقت میں بطور سب ایڈیٹر، میگزین ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور بوقت ضرورت قائم مقام ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا اور بھر پور کیا۔ نوائے وقت میں بطور ایڈیٹر ان کے کام کی نوعیت مختلف تھی مگر لکھنا لکھانا الحمدللہ ہمارے خاندان کی پہچان ہے جس کو خالد بھائی نے احسن انداز میں نبھایا۔ مشہدی خاندان میں لکھنے لکھانے کا آغاز ہمارے مرحوم مغفور دادا جان سید محمد شریف گھڑیالوی نے تقسیم ہند سے پہلے گھڑیالہ، انڈیا میں رہتے ہوئے کیا تھا۔

دادا جان کے بعد ہمارے مرحومین تایا جان سید عبدالرحمٰن مشہدی، سید اسماعیل مشہدی، ابا جی مرحوم سید ابراہیم مشہدی، ماموں سید عبد الخالق مشہدی، مذہبی سکالر سید محمد اکرم گیلانی، کزنز سید شمس السلام کاظمی (مرحوم) ، سید منیر بخاری، سید اشرف مشہدی، بھائیوں ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی مرحوم، سید محمد اسحاق مشہدی، راقم طارق مشہدی، نئی نسل میں سیدہ راشدہ گیلانی، سیدہ حمیرا خالد مشہدی (خالد بھائی کی بیٹی ) ، سید زاہد مشہدی، سید حسان مشہدی، سید ابتسام مشہدی اور سید اسد مشہدی شامل ہیں۔

ان میں سے کچھ صاحب کتب مصنفین ہیں۔ گویا لکھنا لکھانا خاندان مشہدی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ جناب خالد جاوید مشہدی اس میدان میں نئی نسل کے استاد اور راہنما ہیں۔ ان کی زندگی ان لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی میں کامیابیوں کے لئے اچھا ماحول اور بہت سے وسائل ہوں۔ انہوں نے ان سب کے بغیر یہ سب کچھ حاصل کیا۔ ملتان میں اپنی عملی زندگی کا آغاز جلیل آباد کے ایک کمرے کے چھوٹے سے چوبارے سے کیا۔

اسی جگہ بیٹھ کر نوائے وقت کے ادارتی صفحات کے لئے وہ مضامین لکھے جو غیر ملکی اخبارات و جرائد میں بھی شائع ہوئے۔ میں میٹرک کرنے کے بعد یونیورسٹی اور اپنی پہلی ملازمت سے پہلے تک انہیں کے ساتھ رہا۔ اسحاق مشہدی بھائی بھی کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہے۔ انہوں نے کرائے کے چھوٹے سے گھر میں ہمیں بڑے دل کے ساتھ رکھا۔ ہماری بھابھی نے بھی ہمارا ہر طرح سے خیال رکھا۔

خالد بھائی اپنی ذات میں ایک ادارہ، نئی نسل کے لئے محنت و کامیابیوں کی زندہ مثال ہیں۔ ان کی ان سب کامیابیوں میں اللہ کا کرم، والدین کی دعائیں، ان کی اپنی محنت، ہماری بھابھی کی بہت ساری قربانیوں اور ان کے بچوں کا تعاون شامل ہے۔ ٰ نوائے وقت ملتان کی ملازمت کے آغاز میں انہیں نوائے وقت لاہور کے ادارتی صفحہ پر کام کرنے کی دو بار پیشکش ہوئی جو انہوں نے قبول نہ کی، بس ملتان سے محبت نے انہیں یہیں رکھا۔ اسی میں اللہ کی طرف سے بہتری تھی۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ انہیں صحت کاملہ عطاء فرمائے اور ہم سب کے لئے ان کی راہنمائی کا سایہ تادیر قائم رہے۔ آمین۔

Facebook Comments HS