بد نما داغ


روبیلہ، شفاف نیلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی، وہ بچپن سے ہی آسمانی رنگت کے سحر میں مبتلا تھی، اسے آسمان پہ کبھی کوئی دھبہ دکھائی نہیں دیا تھا۔ وہ ایک افق سے دوسرے افق تک کئی کئی بار آسمان کا جائزہ لیتی اور ہر بار اسے آسمان کی رنگت پہلے سے زیادہ نکھری ہوئی دکھائی دیتی۔ روبیلہ آسمان پہ رنگ برنگے اڑان بھرتے پرندوں کو بھی توجہ نہیں دیتی تھی، اسے صرف شفاف چہرے پسند تھے، جن میں کوئی داغ دھبہ نہ ہو۔

آج وہ ندی کنارے بیٹھے سوچ رہی تھی کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اس کی زندگی بھی ایسی شفاف اور بے داغ ہو، جس میں کوئی بدنمائی ڈھونڈے سے بھی تلاش نہ کر پائے، اس خیال کے آتے ہی وہ اپنے ماضی میں کھو گئی، اس نے اپنے پاؤں بہتی ندی سے نکال کر شفاف سیاہ پتھر پہ دھر لیے اور اپنی ہتھیلیوں میں پانی بھر بھر پیروں کی انگلیاں بھگونے لگی مگر اس کی نظریں شفاف سیاہ پتھر پہ جمی رہیں۔ صاف شفاف گہرا سیاہ پتھر۔

روبیلہ رواں دواں ندی کو غور سے دیکھنے لگی اور بدلتے وقت کے بارے سوچ کر اداس ہونے لگی، جو ندی کے رواں پانی سے بھی زیادہ تیزی سے گزر رہا تھا۔ ایک خاص ردھم سے بہتا، شفاف سفید رنگ کا پانی روبیلہ کو بہت بھاتا اور وہ تنہائی کے کئی کئی گھنٹے اس ندی کے کنارے گزار دیتی۔

اب وہ اپنے شفاف رنگ چہرے کے بارے میں سوچ کر مسکرانے لگی، آسمان جیسی شفاف سپید رنگت، سیاہ پتھر جیسے کالے شمور بال اور ندی سی گہری آنکھیں۔

مگر اپنے چہرے پہ نیلے داغ کا خیال آتے ہی وہ ایک دم تڑپ اٹھی، جس کی وجہ سے صرف چند روز پہلے ہی اس کے چہرے کی شفافیت بری طرح مجروح ہو چکی تھی، داہنی آنکھ کے عین نیچے یہ نیلا زخم اس کے شوہر افضال کے تشدد کی داستان سنا رہا تھا۔

اس نے اپنا چہرہ دیکھنے کے لیے گود میں رکھے آئینے کو اٹھایا مگر وہ اس شفاف آئینے میں دیر تک رشک سے آسمان کا عکس دیکھتی رہی۔ کافی دیر کے بعد روبیلہ نے عجب بے بسی اور بے دلی کے ساتھ آئینے کو اپنے چہرے کے روبرو کر لیا، وہی شفاف سپید رنگت، وہی کالی شمور زلفیں، وہی جھیل سی گہری آنکھیں مگر داہنی آنکھ کے عین نیچے نیلے رنگ کا داغ۔

چہرے کے داغ پہ نظر پڑتے ہی گویا اس کے دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا، روبیلہ نے ایک نگاہ شفاف نیلے آسمان پر ڈالی اور ایک نگاہ اپنے سراپا پر، وہ اپنے چہرے کے داغ پہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔ اس نے آئینہ سیاہ پتھر پہ رکھ دیا اور ندی کے صاف پانی کو تکتے ہوئے نہایت فکر مندی سے سوچنے لگی کہ ”اس کا چہرہ تو ازل سے معصوم اور شفاف ہے اور یہ داغ؟ یہ داغ اس کے چہرے پہ تھوڑی ہے، یہ بدنما داغ تو افضال کے چہرے پہ ہے۔“

Facebook Comments HS