لندن مہنگا ہے لیکن۔ ( 2 )
پاکستان اور لندن کے وقت میں چار گھنٹے آگے کا فرق ہے۔ اس لئے ہفتہ، دس کا قیام آپ جیٹ لیگ سہتے گزارتے ہیں۔ وہاں کی شامیں، اپنے ملک کی آدھی رات، وہاں کی صبحیں، یہاں کی دوپہر۔ تو آپ کام کے دوران جاگنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے ہیں اور سونے کے وقت، آنکھیں بند کر کر کے تھکتے ہیں لیکن نیند کوسوں دور بھاگتی ہے اور آپ الو بنے رہتے ہیں۔ اور اسی چوہے، بلی کی دوڑ میں آپ کی واپسی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہوٹل میں ناشتہ کمپلیمنٹری تھا۔ دو تین طرح کے بریڈ، سفید لوبیہ کیچپ کی گریوی کے ساتھ، پورک ساسجز، باربی کیو اسٹیمڈ قسم کے ٹماٹر پورک کے گوشت کے ہمراہ، نمکین سکریمبلڈ ایگز (موٹے موٹے ٹکڑوں میں ٹوٹے انڈے ) ، تازہ پھل (کٹے، بغیر کٹے ) ، دودھ (سویا، کریم، بغیر چکنائی کے ) ، بیکڈ چیزیں (چھوٹے سائز کے کروئسنٹس، سادہ اور میٹھے بھرے ہوئے بھی پیٹیز) ، چار قسم کے دانے دار ڈرائی فروٹس ملے دلیے، مکھن، جیم، نوٹیلا، چیز سلائسز، فریش جوس، اور ہمہ قسم کی کافی روز کا معمول تھا۔
اچھی بات یہ تھی کہ ہر کھانے کے تمام اجزاء کی تفصیل اس کے ایک طرف چسپاں کارڈ پر لگی تھی۔ جس کی بدولت حسب منشا آپ کچھ بھی کھا سکتے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش اتنی اقسام کی کہ مسلم، غیر مسلم، بچے، بوڑھے سب کھا سکتے ہیں۔ ہاں دیسی لوگوں کو پراٹھے، حلوے، مانڈے، حلیم، نہاریاں، روٹی وغیرہ کی عیاشی دستیاب نہیں۔
امریکی طرز کا اوپن باورچی خانہ سب سے نچلی منزل پر ہوٹل کے مرکزی دروازے سے بائیں طرف ایک ٹی کی صورت ہے۔ جس کا ’ٹی‘ ان کھڑکیوں کے متوازی ہے جو دریائے ٹیمز کے اس حصے کی طرف کھلتی ہیں جس کو ایک لکڑی کے چھوٹے پل کے ذریعے پار کر کے ہوٹل کا شیشے کا دروازہ آتا ہے۔ نیچے کا حصہ کھانے، پڑھنے، بیٹھنے کے لئے جدید فرنیچر سے سجا ہے۔ کانفرنس/میٹنگ ہالز بھی کچن سے بائیں ہاتھ ایک راہداری سے گزر کر بنے ہیں۔
ہوٹل میں سب اپنی مدد آپ کے تحت ہے یعنی حرکت میں برکت کا اصول۔ کوئی بیرا نہیں اور نہ ہی سامان اٹھا کر کمرے میں لانے، لے جانے والے ملازم۔ ناشتہ لگ گیا۔ خود ڈالیں اور خود سرو کریں۔ کمروں میں کوئی ’روم سروس‘ ، انٹرکام اور ٹی۔ وی کی عیاشی نہیں۔ لیکن گائیڈ کرنے کو ہر دم عملہ موجود۔ خود کار کافی اور چائے مشین چلانے میں مشکل، وہ حاضر۔ لفٹ اترنے، چڑھنے کا مسئلہ، رہنمائی فوراً آگے۔ خود اٹھ کے ڈال نہیں سکتے، لا کے سامنے رکھنے کو تیار۔ علاوہ ازیں عملے میں ہر طرح کے لوگ موجود۔ جو ٹانگ سے لنگڑے ہوں یا بازو کے بغیر۔ تتلاتے ہوں یا بھینگے ہوں۔ وہ افریقی ہوں یا انگریز، ہندو یا مسلم، چینی ہوں یا افغانی۔ مطلب ہر کوئی کم از کم اپنے لئے کارآمد شہری اور ہر کسی کے لئے مواقع بھی۔
ہوٹل کے اندر داخلی دروازے کے ساتھ دیوار شیشے کی ہے جو کچن، استقبالیہ اور اس سے ملحقہ ’انتظار گاہ کم بیٹھنے کی جگہ‘ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ جس سے ہوٹل کے باہر کے مناظر، مرکزی شاہراہ کے نظارے اور دریائے ٹیمز کا ایک حصہ ہمہ وقت نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ عقبی دیوار بھی شیشے کی ہے جو کہ کھانے اور پڑھنے، کام کرنے، آرام کرنے کی غیر رسمی صوفوں اور کرسیوں سے سجی ہے۔ اور جہاں سے دریائے ٹیمز کا زیادہ وسیع نقش سامنے آتا ہے۔
تیراکی کرتے، ڈبکیاں لگاتے لوگ، کشتی چلاتے شوقین، زپ لائنر پر خطرے مولتے دیوانے۔ دریا کنارے بیٹھے سیاح۔ اس کے پس منظر میں لوہے کا بنا پل اور دریا کے ختم ہوتے کنارے پار سڑک پر چہل قدمی کرتے انسان۔ سکوٹی چلاتے بچے، پرام میں بچہ ڈالے گھومتی خواتین و مرد، ورزش کرتی خلقت۔ اور اس سے آگے وکٹوریہ طرز کے ایک جیسے بنے گھر۔
انھی کشادہ دیواروں کے پار کبھی کبھار آپ کو مرکزی سڑک کے فٹ پاتھ پر لوگوں کا ایک بڑا گروہ ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے چلتے نظر آتا ہے۔ کچھ لمحوں کے بعد اندازہ ہوتا ہے یہ تو احتجاجی ہیں لیکن احتجاج کا طریقہ خاموش ہے۔ کوئی نعرہ بازی نہیں، نہ متحرک ٹریفک میں کوئی رکاوٹ، نہ جھگڑا و دنگا، فساد، نہ گالی گلوچ، نہ بلوے، نہ توڑ پھوڑ۔ بس رواں ٹریفک اور عوام میں، روزمرہ کی زندگی میں چلتے جاتے ہیں۔ جہاں جہاں سے گزرتے ہیں، مرکز نگاہ بنتے ہیں۔ بینرز، کارڈز پر لکھا سب ان کا پیغام دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ راہ میں کوئی اور راہ چلتا شامل ہونا چاہے تو شکر گزار ہوتے ہیں۔ وگرنہ بس چلتے یا کسی ایک مختص جگہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں۔ اور بار بار کرواتے ہیں۔
دریا پر سحر سے شب مصروفیت رہتی ہے۔ گڈ ہوٹل میں مقیم سیاحوں کے علاوہ اور بھی پروانہ فطرت لوگ جو اردگرد کے گھروں اور دوسرے ہوٹلوں کے رہائشی اور مسافر ہوتے ہیں، ادھر آتے ہیں۔ لیکن بلا مبالغہ زیادہ رش اور رونق سہ پہر اور شام کے سائے میں ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی من چلا، عمر اور جنس کے فرق سے بے پرواہ دریا کے پانیوں سے مستیاں کرتا نظر آتا ہے۔ سب سے دلچسپ ’زپ لائنر‘ کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ جس پر بندہ اس طرح کا ہینگر تھامے (جیسے پبلک بسوں میں کھڑے ہونے کے لئے لگے ہوتے ہیں ) فری انداز میں ایک تار پر لٹکتا، پیروں سے پانی کی سطح کو چھوتا دریا سے گزرتا ہے اور پھر جھٹکے سے دھڑام پانی میں تب گرتا ہے، جب وہ ہینگر تیزی میں ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ چلانے والا پھر تیر کر محفوظ جگہ پر پہنچتا ہے اور پھر سے واپس اس ہینگر کو پکڑے اسی تار پر لٹکے کنارے پر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح کے مزے لینے والوں کو تیراک بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹیم بھی مدد کو موجود ہوتی ہے۔
اس پورے منظر میں جو بات سب سے بھلی محسوس ہوتی ہے وہ دریا کے پانی، پل اور کناروں کا صاف ستھرا ہونا ہے۔ جوس کے خالی ڈبے، پولیتھین لفافوں کا ڈھیر، پلاسٹک کی خالی بوتلیں، ڈسپوز ایبل برتن و پیکنگ، استعمال شدہ ٹشوز، حتی کہ گندے پیمپرز جو ایک ترقی پذیر ملک کا باشندہ اکثر ایسی جگہوں پر دیکھنے کا عادی ہوتا ہے، دیکھ نہیں پاتا۔ پانی اتنا شفاف لگتا ہے جیسے دریا کی تہہ تک اپنا عکس، آبی مخلوقات کے ساتھ دیکھ لیں۔ قوانین اور خاص طور سخت اور بھاری جرمانے اور ان کا اطلاق شہریوں کو دائرہ اخلاق میں رکھتا ہے۔ ’رب نیڑے کے گھسن (خدا نزدیک یا مُکا)‘ کا فارمولا حضرت انسان کو حدود میں رکھتا ہے۔


