میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں نقل کے لیے خاص بلو ٹوتھ ڈیوائس
ہمارے معاشرے میں بچے کی پیدائشی دنوں سے ہی والدین اس کے مستقبل کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ بچے نے ابھی سمجھنا، چلنا یا بولنا یعنی بچہ ابھی نشوونما پا رہا ہوتا ہے یعنی مائل سٹون حاصل کر رہا ہے (یہ ایک میڈیکل اصطلاح ہے جس کا مطلب بچے کا خاص عمر کے ساتھ ایک ایک سیڑھی پار کرنا یا مخصوص صلاحیت آجانا جیسے بچے ایک سال کی عمر میں چلنا شروع کرنا مائل سٹون ہے ) اور والدین اس کے مستقبل کے مختلف پہلوؤں کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
چند سال بعد بچے کا سکول کے دروازے پر پہلا قدم رکھتے ہی والدین اس کے تعلیمی مستقبل کے خواب دیکھنا شروع کرتے ہیں اور سوچ بنا لیتے ہیں کہ ان کا بچہ کیا بنے گا۔ ہمارے ہاں بچے سکول جانے لگتے ہیں تو گھر میں سب سے معقول پٹی میڈیکل ڈاکٹر بننے کی پڑھائی اور سنائی جاتی ہے کہ بیٹا تم بڑا ہو کر ڈاکٹر بنو گے۔ ڈاکٹر نہیں تو انجنیئر بنو گے گویا دنیا میں اس کے علاوہ کوئی تیسرا فیلڈ یا پروفیشن وجود نہیں رکھتا۔ بچے کے ذہن میں میٹرک تک یہی ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد بس ڈاکٹر یا انجنیئر بننا ہی ہے اور اسی سوچ کو لے کر انٹر میں وہ پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ میں داخلہ لیتا ہے یا اکثر والدین کے مرضی سے دونوں میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
انٹر کی پڑھائی کے دوران بچہ کالج میں کلاسز کے بعد کسی اکیڈمی میں یا ٹیوٹر ٹیوشن پڑھنے جاتا ہے اور اس طرح پورا دن پڑھائی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے شام تھکا ہوا گھر لوٹتا ہے۔ گھر جاکر دن کا پڑھایا ہوا دوبارہ پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح رات سو کر اگلی صبح اسی روٹین سے دن کا آغاز کرتے ہوئے دو سال میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان دے کر ہائر ایجوکیشن کے لئے میڈیکل کی انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ ٹیسٹ کی تیاری کے لئے اکیڈمی میں داخلہ لیتا ہے جہاں دو تین مہینوں کا پچاس ساٹھ ہزار دے کر کوچنگ کلاسز لینے کے بعد انٹری ٹیسٹ میں بیٹھ جاتا ہے۔
یہاں تک کا سفر بچہ والدین کی پرورش اور تربیت سے کرتا ہے۔ اب وہ بچہ 18 سال کا ہے اور اب اسے بچہ نہیں بلکہ جوان کہلاتا ہے اور زندگی کی سیڑھی پر اب اسے خود چڑھنا ہوتا ہے اور زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ معاشرہ کا اچھا اور ذمہ دار فرد بننا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا جس کی وجہ اس نظام میں اوپر سے نیچے تک بے ایمانی، جھوٹ، دھوکہ اور کرپشن ہے جو والدین سے شروع ہو کر معاشرے کے دیگر افراد تک پھیل جاتا ہے۔ اس کا عملی نمونہ 10 ستمبر 2023 کو ہونے والے میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں ہوئے بے ایمانی اور میگا سکینڈل سے لگایا جاسکتا ہے۔
حالیہ ہوئے میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے لئے پختونخوا میں قائم 44 ٹیسٹ سنٹرز میں تقریباً 46 ہزار طلبہ و طالبات نے ڈاکٹر بننے کے خواب لے کر حصہ لیا۔ آج کل سب سے اہم مسئلہ ٹیسٹنگ ایجنسی کے شفافیت کا ہے۔ پچھلے سالوں خیبر پختونخوا کے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں این ٹی ایس کے ذریعے لیے جانے والے ٹیسٹ کے 100 میں سے 98 مارکس لینے پر اس کی شفافیت پر کافی سوال اٹھ رہے تھے جس کے ثبوت ویڈیو کی شکل میں بھی وائرل ہوئے۔
صوبائی حکومت سے بار بار مطالبے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ تیمرگرہ میڈیکل کالج لوئر دیر میں ایک سال پہلے ٹیسٹ میں واضح گھپلوں اور کرپشن کے ثبوتوں کے ساتھ کورٹ کیس، مختلف اداروں کو ثبوت کے ساتھ درخواستیں دینے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور اسی طرح بدعنوانی سے بھرتی لوگ میڈیکل کالج کے انتظامی امور کی کرسیوں تک پہنچ گئے۔ جب ایسے لوگ میرٹ کے برخلاف دوسرے ذرائع سے بڑے بڑے عہدوں پر بھرتی ہو تو ایسے میں کسی ٹیسٹ کا آؤٹ ہونا عام ہو گا۔ میڈیکل انٹری ٹیسٹ پچھلے چند سالوں سے متنازعہ رہا مطلب ہر بار کسی نے ٹیسٹ کی شفافیت پر کسی نہ کسی طریقے سے سوال اٹھائے لیکن کوئی خاطر خواہ پیروی اور کارروائی نا ہو سکی۔
اس بار ایک منظم طریقے سے لاکھوں پیسوں سے ٹیسٹ آؤٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی جس میں بعض کوچنگ اکیڈمیز اور ٹیسٹ انتظامیہ کے ساتھ بعض والدین نے مل کر ٹیسٹ آؤٹ کر کے مرضی کے رزلٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جس سے ٹیسٹ کی شفافیت پر سالوں سے اٹھنے والے خدشات اور الزامات کو فوقیت بخشی اور پھر پورے ملک نے دیکھا کہ کس طرح بدعنوانی کے لئے ایک سپیشل ڈیوائس کا استعمال دیکھنے کو ملا۔ یہ ڈیوائس بلوٹوتھ، چپ اور پین پر پر مشتمل ہے جس میں امیدواروں کو متعلقہ کوڈ کے پیپر کے ہر سوال کا جواب بذریعہ بلوٹوتھ بتایا جاتا رہا۔ حالیہ ٹیسٹ میں 213 طلبہ و طالبات سے یہ ڈیوائس برآمد ہوئی۔
ان بچوں کو ڈیوائس کا آئیڈیا دینے والے بھی وہی اکیڈمیز ہیں جو ٹیوشن اور کوچنگ کے نام پر ہزاروں روپے لے چکے۔ ٹیسٹ کے لئے ڈیوائس دے کر پیپر آؤٹ کرنے والے ٹیسٹ لینے والے ادارے کے اپنے لوگ ہیں اور اپنے بچوں کو لاکھوں روپے کے ٹیوشن اور کوچنگ کروانے والے والدین ملوث ہیں۔ ان تینوں کے الگ الگ کردار ہیں لیکن ان سب کا کام دھوکہ، فراڈ، بے ایمانی، کرپشن، چوری اور دوسروں کے حقوق پر ڈھاکہ ہیں جو کسی بھی معاشرے کو برباد کرنے کے لئے کافی ہے۔
اکیڈمی جس نے بچے کو پڑھا کر قابلیت پر ٹیسٹ پاس کروانے کا پیسہ لیا وہ ان بچوں کو پڑھانے کے بعد آخر میں ڈیوائس متعارف کروا رہے تو اس کا مطلب اکیڈمی تعلیم کم اور فراڈ زیادہ دیتے ہے۔ جنھوں نے پڑھانا تھا وہ 80 ہزار لے کر اپنے سٹوڈنٹس کو ڈیوائس فراہم کر رہے۔
دوسرے نمبر پر ٹیسٹ لینے والے ٹیسٹنگ ایجنسی کا والدین سے 35 لاکھ روپے لے کر ان کے بچوں کو 180 سے اوپر مارکس دینے کے لئے ڈیوائس سسٹم کو فعال کرنے کے لئے 10 منٹ میں ٹیسٹ آؤٹ کروانا بے ایمانی اور غیر شفافیت کا اعلی درجہ ہے جو کسی بھی صورت ناقابل معافی ہے۔
تیسرے نمبر پر وہ والدین جنھوں نے پیسے دے کر دو نمبر طریقے سے اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کا خواب تعبیر کرنا تھا وہ سب سے بڑے چور، بے ایمان، کرپٹ اور گرے ہوئے لوگ ہیں جو ہزاروں سٹوڈنٹس کے حقوق پر پیسوں کے ذریعے ڈھاکہ ڈال کر میڈیکل جیسے معزز پیشے میں اپنے بے ایمان اور نالائق بچوں کو لانے کی کوشش کر رہے اور معاشرے کے ہزاروں غریب اور قابل سٹوڈنٹس کے حق کھا رہے۔
حکومت وقت نے ایکشن لیا ہے لیکن وہ کافی نہیں جلد از جلد تمام مافیاز کے خلاف گرینڈ آپریشن کر کے ان کا صفایا کیا جائے۔ ٹیسٹ کو کینسل کر کے شفاف طریقے سے دوسرے ادارے کے ذریعے لیا جائے اور قوم کے بچوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

