ذہنیت ہی ہماری شخصیت کی معمار ہے
ذہنیت یعنی مائنڈ سیٹ ہی وہ ڈھانچہ یا فریم ورک ہے جس کے مطابق ہم سوچتے ہیں۔ پھر اُسی سوچ کی بدولت ہم محسوس کرتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔ اُسی اعتقاد (ذہنیت) کی بنیاد پر کسی بھی معاملے ’بات یا واقع کے بارے میں ہم اپنی رائے قائم کرتے ہیں‘ اچھے اور بُرے کا تعین کرتے ہیں اور مختلف حالات و واقعات کے دوران ہمارا ردِعمل بھی اسی سوچ کے مطابق ہوتا ہے۔ سوچ اب مثبت ہو یا منفی ’اس کے پیچھے ہماری ذہنیت ہوتی ہے جو ہم خود وقت کے ساتھ بناتے ہیں یا پھر بنا دی جاتی ہے۔
عموماً لوگ اس ذہنیت کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ اپنی فرسودہ سوچ کے مطابق ہی چلتے ہیں اور دوسروں کی زندگیوں میں اپنی باتوں اور عمل سے زہر گھولتے ہیں۔
کیرل ویک جو ایک مشہور سائیکالوجسٹ ہیں لکھتے ہیں کہ ”ہماری کامیابی اور ناکامی ہمارے یقین ’اعتقاد یعنی مائنڈ سیٹ پر منحصر ہے“ ۔
جب ہم روزمرہ زندگی میں مختلف حالات و واقعات سے گزرتے ہیں تو ان کی وجہ سے ایک مخصوص رائے قائم کرتے ہیں۔ پھر وہی ذہنیت ہمیں بناتی اور سنوارتی ہے مزید یہ کہ ہم درپیش مسائل کا سامنا کیسے کرتے ہیں یا ان کو دیکھنے کے لیے کون سا زاویہ استعمال کرتے ہیں یہ سب ہماری سوچ پر منحصر ہوتا ہے اور سوچ کو ہماری ذہنیت ’گمان‘ خیال ہی اپنے زیرِ اثر رکھتی ہے۔
ہم اپنے تجربات ’مشاہدات‘ دوسروں کے تجربات ’باتوں سے اپنی ایک رائے بنا لیتے ہیں جو ہمارے دماغ کو جکڑ لیتی ہے اور ہماری سوچ‘ عمل ’رویے اور برتاؤ کو قابو کر لیتی ہے‘ پھر ہم اس کو بدلنے کی کوشش بھی نہیں کرتے کیوں کہ اس کی جڑیں انتہائی مضبوط ہوتی ہیں اور ہم اس کو ہر لحاظ سے صحیح سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کا تجربہ برا رہا تو اس تجربے کی بنیادیں اتنی گہری ہوں گی کہ وہ دماغ کو اپنے شکنجے میں دبوچ لے گی اور ہم اس کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتے یا ہماری سوچ اسی کے گرد گھومتی رہتی ہے۔
اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ ہم سوچ لیتے ہیں کہ ہم یہ کام کر ہی نہیں سکتے کیونکہ مجھ میں اس کو کرنے صلاحیت یا ذہانت موجود نہیں ہے تو ہم ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا ہمارا گمان ہے۔ یہ سوچ ’لوگ بھی ہم میں ڈالتے ہیں اور ہم خود بھی اپنے کسی برے تجربے کی بنیاد پر بنا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم سوچیں کہ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ کیوں نہ محنت کی جائے اور مستقل مزاجی سے درست سمت میں کوشش کرنے سے وہ اپنا مقصد حاصل بھی کر لیتے ہیں۔ اگر نہیں بھی حاصل ہوتا تب بھی کچھ نہ کچھ نتائج ضرور حاصل ہوتے ہیں۔
اگر ہم پہلے ہی یہ سوچ لیں کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا/سکتی تو پھر آپ کی سوچ آپ کو قید کر لے گی۔ ہم خود کو ’اپنی سوچ کو تھوڑی سی محنت کر کے تبدیل کر سکتے ہیں یا درست سمت میں چلا سکتے ہیں۔ صرف اس امر کی طرف غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم کوئی بھی چیلنج نہیں لیں گے اُس وقت تک ہم رائے نہیں بنا سکتے یا کسی بھی چیز کے ہونے‘ نا ہونے کا تعین صرف ذہنیت کی بنیاد پر نہیں کر سکتے۔
جب ہم ناکام ہوتے ہیں تبھی کامیابی کی طرف بڑھتے ہیں۔ کیونکہ خود میں تبدیلی لانا ’پہلا قدم اٹھانا‘ اپنے تجربات سے سیکھنا ’مستقل مزاجی سے محنت کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جو ہمیں دھیرے دھیرے ہمارے مقصد کے حصول کی طرف لے جاتی ہے۔
دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ لوگوں کو اپنی اِس فرسودہ ذہنیت کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا اور نہ ہی اس کو بدلنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں وہ بالکل درست ہیں کیونکہ ان کی عمر اور تجربہ بہت زیادہ ہے۔ بے شک ایسا ہی ہے لیکن اپنی ذہنیت کو وقت کے ساتھ تبدیل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بدلتا وقت ’بہت بدلاؤ لاتا ہے ہم اپنی صدیوں پرانی ذہنیت کے ساتھ نئے ٹیکنالوجی کے دور میں نہیں رہ سکتے۔ بے شک وہ ایک سنہرا دور تھا لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے ذرائع ابلاغ‘ تعلیم و تربیت کے انداز سب کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ ہمیں بھی تبدیلی پسند ہونا چاہیے اور خود میں لچک رکھنی چاہیے کہ اُس تبدیلی کو جذب کر سکیں۔
آج کے دور کی سب سے مثبت تبدیلی جو دیکھنے میں آ رہی ہے وہ یہ کہ لڑکیاں خود مختار ہو رہی ہیں۔ موٹر سائیکل چلا رہی ہیں بلکہ ہر اُس شعبے میں اپنے قدم مضبوطی سے جما رہی ہیں جہاں ہم کچھ عرصہ پہلے ان کو کام کرتا نہیں دیکھ سکتے تھے یا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اِس شعبے میں بھی خواتین اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔ عورت کو ہمیشہ صنفِ نازک سمجھا گیا ہے لیکن آج کی صنفِ نازک صنفِ آہن بن کر اُبھر رہی ہے۔ اب کچھ لوگ اپنی فرسودہ ذہنیت کی وجہ سے اس تبدیلی کو ہضم نہیں پا رہے اور طرح طرح کی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جبکہ یہ ایک مثبت اور بروقت تبدیلی ہے کہ بچیاں جو کام اُس وجہ سے نہیں کر پاتی تھیں کہ ان کو گھر میں سے کون اپنے ساتھ لے جائے اور کون واپس لے کر آئے حل ہو گیا ہے ’گھر کے مرد اپنے کام پر جائیں یا ان کی ڈیوٹیاں دیں۔ دوسری طرف مہنگائی کے اس دور میں جہاں پٹرول اور روزمرہ اشیاء کی قیمت بہت بڑھ چکی ہیں وہاں یہ اقدام انتہائی مناسب ہے اور سلام ہے ان والدین کو جنہوں نے اتنی بہادر اور مضبوط اعصاب کی بیٹیاں پیدا کی اور ان کی تربیت کی جو اس معاشرے میں اپنے لیے خود آسانیاں پیدا کرنے نکل پڑیں ہیں۔ کسی وین‘ رکشہ ’بس میں دھکے کھانے‘ کنڈیکٹروں اور ڈرائیوروں کی غلیظ نظروں اور جملوں کو برداشت کرنے سے یہ حل کہیں بہتر ہے۔ ہمیں اپنی ذہنیت کے فتور کو ایک طرف رکھ کر ان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بلکہ اگر راہ چلتے دیکھیں کہ اِن کو کسی مدد کی ضرورت ہے تو وہ بھی مہیا کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنا اعتماد بحال رکھ سکیں اور اپنی اور اپنے گھر کی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں۔ اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کی اُڑان بھر سکیں۔
ذہنیت کو ہم تبدیل کر سکتے ہیں یہ ایسا کوئی ناممکن کام نہیں ہے جس کو ہم نہ کر سکیں۔ صرف کوشش کی ضرورت ہے اور وہ کوشش جو مستقل بنیاد پر کی جائے۔ جب اپنے ذہن کی آبیاری اچھی کریں گے تو پھل بھی عمدہ ہی آئے گا۔ اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے خود کے ساتھ وقت گزارنا بہت ضروری ہے۔ خود کو مثبت رکھیں اور ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھائیں جن کی سوچ مثبت ہو اور وہ تبدیلی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کوئی بھی جدت ایک رات میں نہیں آ جاتی اس کے لیے ہمیں کافی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے لہذا جلدبازی نہ کریں نئے دوست بنائیں ’اپنے اہداف سیٹ کریں پھر ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھائیں اور اپنی ہر سرگرمی کو لکھتے جائیں اور دیکھیں کہ آپ نے جو ہدف رکھا تھا وہ کہاں تک حاصل ہوا اور ان میں وقت کے حساب سے تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔
اپنے خدشات ختم کریں جو ناپسندیدہ تجربات آپ کے ساتھ جڑے ہیں ان کو باہر نکال پھینکیں اور ضرورت سے زیادہ نہ سوچیں۔ ہمیں زندگی کو اپنی مرضی سے قابو نہیں کرنا چاہیے نہ ہم وقت کی لگامیں کھینچ سکتے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ وقت کے دھارے کے ساتھ بہتے جائیں۔ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں خدشات اور منفی سوچوں کو کھرچ کر ذہن کو صاف کر لیں اس میں نہ صرف ہماری کامیابی چھپی ہے بلکہ ذہنی سکون بھی پوشیدہ ہے۔


