سندھ کی مظلوم ہندو برادری اور اقلیتی نمائندوں کی وڈیرہ ذہنیت
سندھی میں کہاوت ہے۔ ”بھری کشتی میں ایک بنیا بھاری“ یہ بات صرف کہاوت تک ہی محدود نہیں، سندھ میں آپ کو اس کی عملی صورت نظر آئے گی۔ ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں کہ سندھ کے حقیقی مالک یہاں کی ہندو کمیونٹی ہے، جب ہم کراچی سے کشمور اور کیٹی بندر سے کارونجھر جاتے ہیں تو جگہ جگہ ہمیں اس بات کے آثار بھی نظر آتے ہیں، آپ کراچی کے قدیمی علاقوں میں جاکر وہاں قائم تاریخی عمارتیں دیکھیں تو آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ پاکستان قائم ہونے سے پہلے ہندو کمیونٹی کی سندھ کی تعمیر و ترقی میں بڑی خدمات شامل تھیں، پاکستان آزاد ہونے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اس کو مدنظر رکھتے ہیں سندھ سے بڑی تعداد میں ہندو کمیونٹی نے ہندستان ہجرت کرلی، لیکن اپنے سارے اثاثے یہاں چھوڑ کر چلے گئے، جو آج بھی اسی شان و شوکت سے ان کی طرف سے کی گئی خدمات کی گواہی پیش کر رے ہیں۔
سندھ میں ہندو کمیونٹی بھی طبقات میں تقسیم ہے، کوئی اپر تو کوئی لوئر ہے۔ اپر والے سارے کاروباری لوگ ہیں، ان کی پہنچ بھی بہت اوپر تک ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو کھیتی باڑی کرتا ہے، شہروں میں ٹھیلوں پر سبزیاں فروخت کرتا ہے، چھوٹے چھوٹے کاروبار کر کے اپنا گزر بسر کرتا ہے، جن کی پہنچ اپنے علاقے کے کونسلر تک بھی نہیں، جن کو ہم عام الفاظ میں مظلوم ہندو کہتے ہیں۔ ان مظلوم ہندؤوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین پاکستان میں ہر چیز واضح کی گئی ہے، ان کی آواز بننے کے لیے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص سیٹیں رکھیں گئیں ہیں تاکہ ان مخصوص نشستوں پر مظلوم ہندو کمیونٹی سے لوگ ایوانوں تک پہنچیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں، لیکن پیارے یہ پاکستان ہے، یہاں مظلم کا کوئی نہیں، اس لیے جو سیٹیں مظلوموں کے لیے رکھیں گئیں ہیں وہاں طاقتور ہندؤوں براجمان ہو جاتے ہیں، سندھ سے منتخب ایک بھی منارٹی ایم این اے یا ایم پی اے آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا مظلوم طبقے سے تعلق رکھتا ہو، گزشتہ حکومتی دور میں سندھ بھر سے 9 لوگوں کو منارٹی کوٹہ پر صوبائی اسمبلی کا ممبر بنایا گیا۔
جن میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مکیش کمار چاولہ، رانا ہمیر سنگھ، سدھو مل سریندر ولاسائی، ڈاکٹر لال چند اکرانی، انتھونی نوید، پی ٹی آئی کی جانب سے سچانند لاکھوانی سچل، ڈاکٹر سنجے گنگوانی، ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سنجے پر وانی اور جی ڈی اے کی جانب سے ڈاکٹر نند کمار شامل ہیں، دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صرف ایک رکن اسمبلی گیان چند ایسرانی واحد ایم پی اے تھے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر سندھ اسمبلی پہنچے تھے۔
اسی طرح قومی اسمبلی میں منارٹی کوٹہ پر سندھ سے ڈاکٹر درشن لعل، جے پرکاش، کھیل داس کوہستانی، لال چند، رمیش کمار وانکوانی اور رمیش لعل شامل ہیں۔ ان دونوں کیٹیگری میں شامل بہت سے ارکان تو دوسری یا تیسری بار اسمبلی کے رکن بنے ہیں، اگر ان کی کارکردگی پر نظر 2008 سے ڈالیں تو شاید کتاب لکھی جا سکتی ہے، لیکن ہم صرف 2018 سے 2023 تک ہی ان کی کارکردگی جائزہ لیں تو ناقص کارکردگی پر ایک نہیں دس کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، کیونکہ یہ سارے لوگ اپر کلاس کے ہندو رہنما ہیں، جن کا نچلی سطح والی ہندو کمیونٹی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
پورے سندھ صوبے میں ہندو کمیونٹی کو کئی مسائل کا سامنا ہے، لیکن اہم مسئلہ امن سے زندگی کا قیام ہے، جو دن بدن ان کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے۔ آئے دن سندھ کے کسی نہ کسی شہر سے کسی ہندو کو اغوا کر لیا جاتا ہے، پھر تاوان طلب کرنے کے لیے ان پر تشدد کی ویڈیو ان کے ورثا تک پہنچائی جاتی ہے، یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے اور ایک محفوظ کاروبار بن گیا ہے، اس کاروبار کی روک تھام کے لیے منارٹی کوٹہ پر منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچنے والے وڈیرہ مائنڈ نمائندوں کی کارکردگی بالکل صفر رہی ہے، ایک عام سا تاثر یہی ہے کہ یہ وڈیرہ مائنڈ ہندو لیڈر سیاسی پارٹیوں کو بڑی رشوت جس کو قانونی زبان میں چندہ کہا جاتا ہے دے کر یہ مخصوص کوٹہ کی سیٹیں خریدتے ہیں، لازمی ہے اگر آپ کسی بھی چیز پر انویسٹ کریں گے تو سب سے پہلے آپ کا ٹارگٹ اس انویسٹ کو سود سمیت واپس لینا ہوتا ہے، تو ملک میں منارٹی کوٹہ پر ایم این اے اور ایم پی اے بننا بھی بالکل اسی طرح ہے، یہ لوگ اپنے کاروبار کو توسیع دینے اور ایوان کو اپنی تعلقات کو بڑھانے کے لیے ہی استعمال کرتے ہیں، سندھ کی مظلوم ہندو کمیونٹی کس اذیت سے گزر رہی ہے، ان کے مسائل کیا ہے، ان سے ان کا دور دور تک تعلق نہیں، اگر آپ ان میں سے کسی کو اسمبلی میں تقریر کرتے سن بھی لیں گے تو وہ وہاں پر اپنے مظلوم ہندو برادری کی آواز نہیں بنیں گے، بلکہ اپنی پارٹی قیادت کی واہ واہ کرتے ہی نظر آئیں گے۔
ایک آف دی ریکارڈ بیان شیئر کرتا چلوں منارٹی کوٹہ پر منتخب ہونے والے ایک اسمبلی رکن کو سندھ کابینہ کا حصہ بنایا گیا تو ایک دن ایک نجی محفل میں اس نے بتایا میں اسمبلی رکن بھی پیسے دے کر بنا ہوں تو وزارت لینے کے لیے آٹھ بھی کروڑ روپے کیش دیے ہیں تب جاکر مجھے یہ قلمدان ملا ہے، تو سوچنے کی بات ہے پہلے میں اپنی لگائی ہوئی رقم نکالوں گا پھر وقت ملا تو عوام کی سوچیں گے۔ یہ ایک قصہ نہیں ہے، سندھ میں منارٹی کوٹہ کس طرح فروخت ہوتا ہے اب یہ ہر زبان کی کہانی بنی ہوئی ہے۔ اقتدار کے مرکز میں موجود لوگوں کو اچھی طرح پتہ ہے جتنا آپ کا بریف کیس بھاری ہو گا اتنی ہی آپ کو پارٹی میں عزت ملے گی۔
ہم زیادہ دور نہیں جاتے، اب چند روز قبل سندھ کے ڈسٹرکٹ کندھ کوٹ ایٹ کشمور میں ہندو نوجوانوں کی اغوا کے خلاف ایک دھرنا دیا گیا، ایک چھوٹے سے دھرنے نے پورے سندھ میں انقلاب کی چنگاری والا کام سرانجام دیا، پورے سندھ میں ہلچل مچ گئی، سندھ کے لوگ بغیر کسی کال کے میدان میں اتر آئے۔ یہ واحد احتجاج تھا جس کی قیادت عوام نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی، کسی سیاسی یا قومپرست پارٹی کو اس احتجاج پر قبضہ کرنے نہیں دیا گیا، البتہ عوام کی طاقت کے آگے سیاسی پارٹی کے رہنما بھی مجبور ہوئے اور انہوں نے بھی خیرسگالی کے طور پر ان احتجاج میں شرکت کی۔
کندھ کوٹ دھرنا ایک ہفتے تک عالمی، قومی اور مقامی میڈیا پر چھایا رہا، اس احتجاج میں آپ ہر طبقے کا بندہ نظر آیا ہو گا اگر کوئی نظر نہیں آیا تو وہ وڈیرہ اقلیتی رہنما تھا، وڈیرہ مائنڈ اقلیتی نمائندوں میں سے ایک یا دو لوگوں نے سوشل میڈیا پر مذمتی پوسٹ رکھ کر دھرنے میں اپنا حصہ ڈالا، باقی لوگوں سے تو یہ بھی نہیں ہوا کہ دھرنے کی حمایت میں ایک بیان ہی جاری کر دیں۔ منارٹی ونگ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سابق ایم پی اے ڈاکٹر لال چند اکرانی پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد تو ایسے منظر عام سے غائب ہوئے ہیں جیسے نو مئی کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن غائب ہو گئے ہیں، اس جناب سے ایک بیان دینے کی بھی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ پتہ ہے کہ اگر بیان دیا تو سارا ملبہ پارٹی پر ہی آنا ہے، کیونکہ پندرہ سال سے حکومت تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی ہے، جس کی ناقص پالیسیوں کے باعث سندھ میں اغوا برائے تاوان کے کاروبار نے بڑی ترقی پائی ہے۔
مظلوم اقلیتی برادری کی کوٹہ پر منتخب ہونے والے سریندر ولاسائی کو پیپلز پارٹی میڈیا سیل کی ائرکنڈیشن باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتی اس لیے وہ حضرت بھی کہیں نظر نہیں آئے، انقلابی بہن بھائی ویرجی کولہی اور سینیٹر کرشنا کولہی نے اب اقتدار کے مزے لے کر دیکھ لیے ہیں، ان کو بھی فرصت نہیں اپنوں کے دکھ سکھ میں شرکت کرنے کی، ویسے اگر آپ ان دونوں بہن بھائی سے ملاقات کریں گے تو آپ کو یسا محسوس ہو گا جیسے پوری سندھ کی اقلیتی برادری کا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے، لیکن عملی میدان میں آپ کو کہیں بھی نظر نہیں آئیں گے۔
مکیش کمار چاولہ تو سبحان اللہ، وہ خود کو وزیراعلیٰ سندھ سمجھتے تھے اور اب حکومت جانے کے بعد ان کے سارے کارنامے سامنے آرہے ہیں کو موصوف کو اپنا کاروبار اور بینک بیلنس بنانے سے فرصت نہیں تھی، اس لیے وہ بھی مظلوم اقلیتی برادری کو اپنے سے دور رکھتے تھے، جیسے دوائیوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے کھیل داس کوہستانی سوشل میڈیا پر بہت سرگرم نظر آتے ہیں، کندھ کوٹ دھرنے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر بہت پوسٹس شیئر کیں، لیکن ان کو بھی اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ کندھ کوٹ جاکر دھرنے میں شامل ہو۔
پی ٹی آئی کے اقلیتی نمائندے جب پارٹی میں تھے تو ٹھیک، جیسے ہی نو مئی کا واقعہ پیش آیا اور انہوں نے اپنی پارٹی سے راہیں جدا کر لیں تو عوام سے بھی تعلق کیسے قائم رکھ سکتے تھے، سچانند لاکھوانی سچل، جے پرکاش اور رمیش لعل اب کہیں بھی نظر نہیں آتے، شاید اگلے سیٹ اپ میں سیٹ مل گئی تو پھر ٹی وی چینلز پر آپ کو بڑی بڑی باتیں کرتے نظر آئیں گے۔ رمیش کمار وانکوانی جو خود کو پاکستان میں اقلیتی برادری کا قائد اعظم سمجھتے ہیں، جنہوں نے پاکستان ہندو کونسل کے نام سے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے اور جناب اس ادارے کے پلیٹ فارم کو استعمال کر کے اتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں کہ کسی کی سوچ ہو۔
جناب کو بڑے بڑے سیمینار کرانے اور پاک، ہند دوستی کرانے کا جنون ہے، لیکن اپنے صوبے سندھ میں اپنی ہی برادری سے ہونے والے ظلم پر ایسے منہ بند رکھتے ہیں جیسے منہ میں مونگ پڑے ہوئے ہو، کشمور دھرنے پر جناب کا ایک بھی بیان نظر نہیں آیا اور نہ ہی خود کہیں نظر آئے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سنجے پر وانی اور جی ڈی اے کے ڈاکٹر نند کمار بھی آرام کر رہے ہیں، اب اگلے الیکشن کے بعد آپ کو بڑی بڑی تقریریں کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
یہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر موہن لال کوہستانی اور پیسومل اکرانی کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی، یہ دو واحد پیپلز پارٹی کے منارٹی رہنما تھے جن سے متعلق مشہور کہ یہ عوامی لوگ ہیں، موہن لال کوہستانی دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت میں صوبائی وزیر رہے، انہوں نے پورے سندھ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے اور بڑے پیمانے پر نوکریاں بھی دیں، یہ واحد پیپلز پارٹی کے منارٹی رہنما ہیں جن کو آج بھی مظلوم اقلیتی برادری اور پارٹی کارکن یاد کرتے ہیں، اسی طرح پیسو مل اکرانی نے دو ہزار آٹھ میں تھرپارکر میں اس وقت سندھ کے طاقتور ترین سیاستدان ارباب غلام رحیم کے سامنے عام انتخابات میں حصہ لیا اور ریکارڈ ووٹ حاصل کیے، پھر دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نے ان کو منارٹی کوٹہ پر ایم پی اے بنایا، پیسو مل نے ایک الگ ہی روایت قائم کی، وہ تھرپارکر کو نہیں بھولے اور پورے دور میں ان کو اپنے پرانے حلقے میں دیکھا گیا، دکھ سکھ میں وہ اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ رہے، آج بھی اگر کوئی تھرپارکر جائے گا تو وہاں کی مظلوم اقلیتی برادری کی زباں پر پیسو مل اکرانی کے عوام دوست منصوبوں کے چرچے سننے کو ملیں گے، اگر ایسے لوگوں کو اسمبلی میں پہنچایا جائے تو شاید سندھ کی یہ مظلوم ہندو برادری کے سامنے سے مظلوم لفظ مٹ جائے گا۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں پیپلز پارٹی کی سندھ میں پندرہ سال سے حکومت رہی ہے، اور پورے سندھ کا شاید کوئی ایسا علاقہ اب بچا ہو جس کا جاگیردار یا وڈیرہ پیپلز پارٹی میں شامل نہ ہو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی ساری مخالفت ختم کردی ہے، سندھ کے سارے جاگیرداروں اور وڈیروں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت یقینی بنا دی گئی ہے، پندرہ سال کے دور اقتدار میں یہ جاگیردار اب اتنے با اثر ہو گئے ہیں کہ ان کے علاقے میں ان کی اجازت کے سوا کوئی پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا، جاگیرداروں اور وڈیروں کی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سندھ سے اغوا برائے تاوان کے واقعات میں کمی ہونی چاہیے تھی، لیکن پندرہ سال کے اندر اس کاروبار میں جو جدت اور ترقی آئی وہ سب کے لیے حیران اور پریشان کن ثابت ہوئی ہے، سندھ کے جس علاقے سے بھی بندہ اغوا ہوتا ہے تو اس کے تانے بانے انہی وڈیروں سے جاکر ملتے ہیں۔

