کائنات حقیقت ہے یا محض ایک سراب؟ قسط دوم
اس مضمون کی پہلی قسط میں، میں نے یہ بات کی تھی کہ کوانٹم میکانکس کے قوانین کے تحت صرف امکانی جوابات حاصل کیے جا سکتے ہیں، قطعی جواب نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چیز دیوار پر پھینکی جائے، تو کوانٹم میکانکس صرف یہ بتا سکتی ہے کہ اس چیز کے دیوار پر کسی خاص مقام پر ہٹ کرنے کا کیا امکان ہے۔ کوانٹم میکانکس کے قوانین کے تحت، جب تک پیمائش کے نتیجے میں چیز کسی خاص مقام پر پائی جاتی ہے، اس وقت تک اس چیز کی لوکیشن اور خود اس چیز کی حقیقت کے بارے میں بات نہیں کی جا سکتی۔ اس طور اس کا مقام اور اس کا وجود مشاہدے کے عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ مشاہدے سے قبل حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت کے بارے میں کوئی واضح بیان دینے سے قاصر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مشاہدے سے وابستہ ہمارے آلات آئیڈیل نہیں ہیں، یا یہ حقیقت کی نوعیت کے بارے میں زیادہ بنیادی سوال سے متعلق ہے۔ یہ سوال حقیقت کے بارے میں ہمارے ادراک سے وابستہ ہے۔
معروضی حقیقت کی غیر موجودگی کو واضح طور پر ظاہر کرنے کے لیے، ہم ایک ایسے تجربے پر غور کرتے ہیں جس میں دو امکانات کے درمیان فیصلہ کرنا شامل ہے۔ یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔
تاہم، اس تجربے سے جڑے اسرار کو سمجھنے کے لیے، ہم پہلے کوانٹم میکانکس کے ایک اور نئے پہلو، ویو پارٹیکل ڈوئلٹی (wave particle duality) پر غور کرتے ہیں۔ اس بارے میں کچھ تفصیل پچھلے مضامین میں دی جا چکی ہے۔
ہمارا واسطہ دو قسم کی چیزوں سے پڑتا ہے۔ ذرہ اور لہر۔
ہر ذرہ کی پہچان اس کے مقام، رفتار اور وزن جیسی خصوصیات سے ہوتی ہے۔ ذرہ بڑا بھی ہوتا ہے، جیسے گیند، پھول اور انسان، اور چھوٹا بھی، جیسے ایٹم، مالیکیول اور الیکٹران۔
لہر کی خصوصیات میں طول موج (wavelength) اور تعدد (frequency) شامل ہیں۔ روشنی اور آواز، لہر کی مثالیں ہیں۔ ہمارے عام مشاہدے کے مطابق ایک ذرہ کبھی لہر کی طرح کام نہیں کر سکتا اور لہر کبھی ذرہ کی طرح نہیں نظر اتی۔ روشنی ذرہ کی طرح نہیں بن سکتی اور ایٹم کبھی لہر کی طرح نہیں نظر اتا۔ لہروں کی خاصیت ہے کہ جب دو لہریں آپس میں مل جاتی ہیں تو وہ ایک اونچ نیچ جیسا نمونہ پیدا کرتی ہیں۔
کوانٹم میکانکس کی سب سے بنیادی اور حیران کن پیشن گوئیوں میں سے ایک یہ ہے کہ لہریں، روشنی کی طرح، کچھ تجربات میں تو لہروں کے طور پر عمل کرتی ہیں، لیکن کچھ دوسرے تجربات میں فوٹون جیسے ذرات کی طرح عمل کرتی ہیں۔ اسی طرح، ایک ایٹم کچھ تجربات میں تو گیند کی طرح ایک ذرہ کی طرح برتاؤ کرتا ہے مگر چند دوسرے تجربات میں، روشنی کی لہر کی طرح نظر اتا ہے۔
سب سے زیادہ پراسرار بات یہ ہے کہ روشنی یا ایٹم کس طرح اور کب ایک لہر یا ذرہ کی طرح برتاؤ کریں گے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کون سا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ گویا روشنی لہروں کا مجموعہ ہے یا فوٹون جیسے ذرات کا مجموعہ، اس کا سارا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ہم کون سا تجربہ کرتے ہیں۔
معروضی حقیقت کے سوال کو حل کرنے سے پہلے، ہم سب سے پہلے ایک تاریخی تجربے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس نے ثابت کیا تھا کہ روشنی کی نوعیت ایک لہر کی سی ہے۔ اس کی تفصیل میں روشنی کی حقیقت سے وابستہ مضمون میں بیان کر چکا ہوں۔
یہ تجربہ تھامس ینگ نے 1807 میں کیا تھا۔ ذرا تصور کریں کہ ایک اسکرین میں قریب قریب دو ننھے منے سے سوراخ ہیں۔ اس اسکرین پر روشنی کی شعاعیں بھیجی جاتی ہیں۔ یہ شعاعیں ان دو سوراخوں سے گزر کر ایک دیوار پر پڑتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ دیوار پر ہم کیا دیکھیں گے؟
دیوار کے ہر پوائنٹ پر روشنی اسکرین کے دونوں سوراخوں سے گزر کر پہنچ رہی ہے۔ ہم دیوار پر روشن اور تاریک پوائنٹس کا ایک پیٹرن دیکھیں گے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ان دو سوراخوں سے نکلنے والی لہریں دیوار پر کچھ مقامات پرایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، یہ مقامات روشن ہو جاتے ہیں اور دوسرے مقامات پر ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں، یہ جگہیں تاریک ہو جاتی ہیں۔ یہ صورت حال ایسی ہے جیسے جھیل کے ساکن پانی میں دو کنکریاں گرا دی جائیں۔ توہم لہروں کے اتار چڑھاؤ کا ایک نمونہ دیکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر یہی تجربہ ذرات کے ساتھ کیا جائے تو روشنی اور تاریکی کا یہ نمونہ نہیں حاصل ہو سکتا۔ اس صورت میں، کچھ ذرات ایک اور کچھ ذرات دوسرے سوراخ سے گزریں گے۔ نتیجہ یہ ہے کہ روشنی دیوار پر یا ایک سوراخ سے گزر کر پہنچتی ہے یا دوسرے سوراخ سے۔ اس معاملے میں لہروں کے مل جانے جیسا عمل نظر نہیں اتا۔
اس طرح، روشنی اور تاریکی کا نمونہ اس بات کی علامت ہے کہ روشنی ایک لہر کی طرح ہے۔
اب تک تو بات سمجھ میں اتی ہے۔ اب اگر ہم روشنی کو فوٹون قسم کے ذرات پر مشتمل سمجھتے ہوئے تھامس ینگ سے منسوب اس تجربے کا تجزیہ کریں تو روشن اور تاریک پیٹرن کی وضاحت صرف یہ فرض کر کے کی جا سکتی ہے کہ ہر فوٹون دونوں سوراخوں سے بیک وقت گزرتا ہے۔ یہ ایک عجیب تصویر ہے! یہ اتنی عجیب بات ہے کہ اس نےآئن سٹائن جیسے عظیم سائنسدان تک کو چکرا کے رکھ دیا۔
اس کے بعد ہم تھوڑے فرق کے ساتھ اسی تجربے پر دوبارہ غور کرتے ہیں۔ روشنی کو دیوار پر بھیجنے کے بجائے، ہم ہر سوراخ کے پیچھے ایک فوٹون ڈیٹیکٹر (detector) لگا دیتے ہیں۔ اگر اوپری ڈٹیکٹر کلک کرتا ہے، تو ہم اس بات کا یقین کر لیں گے کہ فوٹون اوپری سوراخ سے گزرا ہے اور اگر نچلا ڈیٹیکٹر کلک کرتا ہے تو فوٹون نچلے سوراخ سے گزرا ہے۔
اب معروضی حقیقت کے سوال کی طرف آتے ہیں۔ اور ایک تجربہ کے ذریعے اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا یہ کائنات حقیقی ہے یا محض ایک سراب؟
آئیے سورج کے پیچھے ایک ستارے پر غور کریں۔ پہلے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ستارے کی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرتی ہے، تو، کشش ثقل کے اثرات کی وجہ سے سورج کی طرف جھکتی ہے، جیسا کہ آئن سٹائن نے اپنے مشہور نظریہ اضافیت میں دکھایا ہے۔ اس طرح سورج کا رول ایک محدب عدسے کا سا ہو گاْ۔ اس تجربے میں سورج کی روشنی کھربوں میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کئی سال میں زمین تک پہنچے گی۔
فرض کریں کہ ہم کئی سال پہلے ستارے سے نکلنے والی روشنی کو دیکھنے کے لیے زمین پر دو ممکنہ تجربات کرتے ہیں۔
ایک تھامس ینگ کا دہرے سوراخوں کا تجربہ ہو سکتا ہے جس میں ستارے کی روشنی کا ہر فوٹون دو راستوں سے گزرتا ہے، ایک سورج کے بائیں طرف سے اور دوسرا سورج کے دائیں طرف سے اور تاریک اور روشن مقامات کا ایک نمونہ بناتا ہے۔ اس طرح کا تجربہ روشنی کی لہر کی نوعیت کو ظاہر کرے گا۔
دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم دو ڈٹیکٹرز اس طرح رکھیں کہ اگر روشنی سورج کے بائیں جانب سے گزرے تو پہلا ڈیٹیکٹر کلک کرے گا اور اگر روشنی دائیں جانب سے گزرے تو دوسرا ڈیٹیکٹر کلک کرے گا۔ اس طرح، دونوں میں سے کسی ایک کا پتہ لگانے والے کلکس روشنی کے ذرہ کی نوعیت کو ظاہر کرے گا اور اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ روشنی سورج کے بائیں جانب سے گزری ہے یا دائیں جانب سے۔
اب ہم ایک ایسے تجربے کا تجزیہ کرتے ہیں جس کے مضمر ات انتہائی پر اسرار اور حیران کن ہیں۔
تصور کریں کہ ستارے سے روشنی سورج کے پاس سے ہوتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے۔ زمین پر اگر ہم ڈبل سلٹ تجربے کے لیے سیٹ اپ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی، جو سورج کی طرف جھکی ہوئی ہے، ایک نمونہ دکھائے گی جس میں روشن اور تاریک مقامات ہوں گے۔ اس صورت حال میں روشنی کا ہر فوٹون سورج کے بائیں اور دائیں، دونوں طرف سفر کرتا ہے۔
تاہم، ہمارا دوسرا انتخاب یہ ہو سکتا ہے کہ فوٹون کا پتہ لگانے کے سیٹ اپ میں دو ڈٹیکٹرز اس طرح رکھیں کہ اگر روشنی سورج کے بائیں جانب سے گزرے تو پہلا ڈیٹیکٹر کلک کرے گا اور اگر روشنی دائیں جانب سے گزرے تو دوسرا ڈیٹیکٹر کلک کرے گا۔ اس طرح ہم ہر فوٹون کے بارے میں معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ سورج کے دائیں طرف سے آیا ہے یا بائیں طرف سے۔ اگر فوٹون کا پتہ لگانے والا ڈٹیکٹر بائیں طرف اشارہ کرتا ہے، تو ہم یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ فوٹون زمین پر آنے سے پہلے اتنے سالوں تک سورج کے بائیں جانب سفر کرتا رہا۔ اسی طرح، اگر فوٹون کا پتہ لگانے والا ڈٹیکٹر دائیں طرف اشارہ کرتا ہے، تو فوٹون نے ان تمام سالوں میں دائیں جانب سفر کیا ہو گا۔
اس طرح ہمارے پاس ایک متضاد صورتحال ہے۔ کئی سال پہلے ستارے کے ذریعہ تیار کردہ فوٹون یا تو سورج کے دونوں طرف یا صرف ایک ہی طرف سفر کرتا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اب زمین پر کیا تجربہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم انتخاب کر سکتے ہیں کہ آیا روشنی پیدا ہونے کے کئی سال بعد لہر کی طرح برتاؤ کرتی ہے یا ذرہ کی طرح۔
یہ ایک حیرت انگیز نتیجہ ہے۔ اس کی وضاحت کیسے کی جائے؟
اس معمے سے نکلنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم تصور کریں کہ ہمارے حال نے ماضی کو بدل دیا۔ ہمارا حال میں کیا گیا فیصلہ کہ زمین پر کون سا تجرباتی سیٹ اپ رکھا جائے، ماضی کو بدل سکتا ہے۔ اگر ہمارے پاس فوٹونز کے راستے کا پتہ چلانے کا سیٹ اپ ہے تو فوٹون اپنا ماضی بدل لے گا اور دائیں یا بائیں راستے پر سفر کرے گا۔ اور اگر ہم ڈبل سلٹ سیٹ اپ رکھتے ہیں تو فوٹون کئی سال پہلے اس لمحے میں چلا جائے گا جب وہ ستارے سے نکلا تھا اور ان تمام سالوں میں دونوں راستوں سے گزرے گا۔ لیکن یہ تصور کہ ہمارا حال میں کیا گیا فیصلہ سالوں پرانے ماضی کو تبدیل کر دے گا، انتہائی حیرت ناک اور ناقابل یقین ہے۔
ایک اور توجیہہ جو زیادہ معقول معلوم ہوتی ہے (لیکن یہ بھی انتہائی پراسرار ہے ) یہ کہنا ہے کہ فوٹون کے راستے بلکہ فوٹون کی کوئی حقیقت نہیں ہے جب تک کہ ہم ان کی پیمائش کرنے کا فیصلہ نہ کریں۔ یہ کہنا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ روشنی کے فوٹون نے کون سا راستہ اختیار کیا جب تک کہ ہم ان کو دیکھنے کے لیے کوئی تجربہ ترتیب نہ دیں۔ یہ توجیہہ کہ فوٹون کی اس وقت تک کوئی حقیقت نہیں جب تک اس کا مشاہدہ نہ کر لیں، بیشتر سائنسدانوں کے لیے قابل قبول ہے۔
یہ سادہ لیکن پراسرار مثال ایک زبردست انداز میں اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ حقیقت کا ہمارا روایتی تصور انتہائی ناقص ہے۔ حقیقت تب ہی وجود میں آتی ہے جب ہم مشاہدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشاہدے کے بغیر کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب ہم چاند کو نہیں دیکھتے ہیں تو چاند واقعی موجود نہیں ہو تا ہے۔
لیکن یہ بہت سے پریشان کن سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس وقت کیا ہوا ہو گا جب زمین پر زندگی کا وجود نہیں تھا؟ کیا کائنات اسی وقت وجود میں آئی جب پہلی زندگی یا پہلے انسان نے آنکھیں کھول کر اوپر دیکھا؟ کیا کائنات کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ محض ایک وہم ہے؟
ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ان سوالوں کا قطعی جواب نہ حاصل کر سکیں گے۔ لیکن امید ہے کہ ہماری نسلیں کسی دن ٹھوس سائنسی علم کی بنیاد پر حتمی حقیقت کی نوعیت تلاش کر لیں گی۔ (ختم شد)
(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ )


