چوتھا کونا دھندلا خاکہ اور احمد ہمیش


کئی سال پرانا واقعہ ہے ؛ جون کا مہینہ تھا۔ شاید دوسرا ہفتہ رہا ہو گا میں اندرون سندھ سے گھومتا اور وہاں کی شدید گرمی سے اُکتایا ہوا کراچی پہنچا تھا اور خواہش کرنے لگا تھا کہ کراچی کے کچھ ادبی دوستوں سے ملاقات ہو جائے۔ کیسے؟ کہ میرے پاس کسی کا فون نمبر تھا، نہ اتا پتا۔ خیر اُن دنوں، محمود واجد کا ”آئندہ“ باقاعدگی سے نکل رہا تھا۔ یاد آیا اُن کا ایک پرچہ، میں گھر سے نکلتے ہوئے بیگ میں ڈال لایا تھا ؛اُسے نکالا۔ وہاں محمود واجد کا فون نمبر موجود تھا۔ اُنہیں فون کیا۔ اگلے ایک گھنٹے میں وہ لیاقت آباد چورنگی ڈالمن آرکیڈ میں میرے پاس تھے۔ اور پھر ہم شہر میں جس آدمی کی طرف جا رہے تھے، محمود واجد کا کہنا تھا؛اس نے شہر میں کسی سے بنا کر نہیں رکھی ہوئی تھی۔

ناظم آباد کے علاقے میں سیڑھیاں چڑھ کر ایک چھوٹے سے کمرے میں میری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہونا تھی، جس کے بارے میں میں اب یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے آپ میں کناروں تک بھرا ہوا تھا۔ میں نے اس شخص کے نام کی گونج ادبی دنیا میں سن رکھی تھی اور اب اُسے دیکھنے کے لیے مشتاق تھا۔ میں یاد کرتا ہوں کہ میں کمرے میں گھسا تھا؛ ایک ایسے کمرے میں جس میں کسی بھی اور شخص کے گھس کر بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ وہ سامنے تھا؛ مناسب قامت اور اُلجھے ہوئے بالوں والا۔ بالکل اسی کمرے جیسا تھا جس میں کوشش کر کے میں اندر گھس گیا تھا۔ جی، ایک ایسا کمرہ جس کا اپنا خستہ پن اس کی دیواروں میں، کرسیوں اور میز میں، کتابوں اور رسالوں میں، حتی کہ فرش اور چھت میں بہت شدت سے بھرا ہوا تھا۔ ویسا کمرہ ”تشکیل“ کے دفتر کے سوا کسی کا ہوہی نہیں سکتا تھا اپنے آپ میں بھرا ہوا۔

تب میری احمد ہمیش سے ملاقات نہ ہو پائی تھی یہ تو ایک آدھ سال بعد ہوئی تھی جس میں میرا تخیل ہر بار کاٹ پھانس کر دیتا ہے ؛ یوں جیسے احمد ہمیش وہیں تھے ؛ اس کمرے میں جو تشکیل کا دفتر تھا اسی کا حصہ۔ خیر واقعہ یہ ہے کہ احمد ہمیش وہاں نہیں تھے۔ وہاں تو ایک منحنی سی سانولی سی، چھوٹے قد والی لڑکی تھی انجیلا ؛ اور اس نے بتایا تھا کہ بابا آنے ہی والے تھے۔ اس نے اصرار کیا تھا کہ ہم بیٹھیں وہ آئیں گے تو بہت خوش ہوں گے مگر محمود واجد وہاں رُک جانے کو تیار نہ تھے۔ ہم واپس آ گئے۔ بعد والی ایک ملاقات ہر بار اس میں مدغم ہو جاتی ہے۔ جی احمد ہمیش سے ایک اور ملاقات؛ جو ہمیشت والی ”میں“ سے پوری طرح اور پنجابی محاورے کے مطابق ”لتڑ لتاڑ“ کر بھری ہوئی تھی۔

تو یوں ہے کہ جس احمد ہمیش کو میں جانتا ہوں وہ زہر میں بجھا ہوا نشتر تھا۔ اس کے جریدے ”تشکیل“ کی پیشانی پر ایک اصطلاح لکھی ہوئی ہوتی تھی ”شاک انگیز“ ۔ تو ایسا ہے کہ اُس کی شخصیت بھی شاک انگیز تھی۔ مجھے یاد ہے کہ احمد ہمیش سے بعد والی ملاقات کے بعد میری جو دو ملاقاتیں ہوئی تھیں اُن دونوں میں منشا یاد کا حوالہ آ جاتا ہے۔ ان آخری دو ملاقاتوں میں پہلی ”آدھی ملاقات“ تھی اور اس کا سبب منشا یاد کا ایک ایسا بیان بنا تھا جسے میں وعدہ معاف کی گواہی سے تعبیر دیتا آیا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ منشا یاد نے علامت نگاروں اور تجرید نگاروں کے ساتھ ان جیسا افسانہ بھی لکھا مگر یہ ان کا غالب رجحان نہیں تھا۔ میرے افسانوں کے دوسرے مجموعے ”جنم جہنم“ پر لکھتے ہوئے تو وہ اس علامتی اور تجریدی افسانے پر لگ بھگ برس پڑے تھے۔ منشا یاد نے ستر کی دہائی کو افسانے سے کہانی کے برگشتہ ہونے کا زمانہ قرار دیا تھا کہ بہ قول ان کے اس زمانے میں ’زوال آمادہ لکھنوی شاعری کی یاد پھر سے تازہ ہونے لگی تھی‘ داستانوی صنائع بدائع کی جگہ صفت در صفت اور لفظی بازی گری کا احیاء ہو گیا تھا اور نئے افسانے کے نام پر اتنی لفظی پتنگ بازی ہوئی کہ آسمان ڈھک گیا۔ تب پلٹ کر دیکھا گیا تو وہاں نقاد تھا نہ قاری۔ ’منشا یاد نے تب احمد ہمیش کے ہاں محض ”مکھی“ کے بچ رہنے کی بات کی تھی۔

اس بیان پر مجھے دو شدید ردعمل موصول ہوئے ؛ ایک خالدہ حسین کا کھلا خط جس میں مدلل بات کی گئی تھی اور دوسرا احمد ہمیش کا زہر بند خط۔ خالدہ حسین کا کھلا خط میں نے ”استعارہ“ میں چھاپ دیا تھا۔ اور احمد ہمیش کا زہریلا خط جس میں پنڈی افسانے کے سکول پر شدید حملے کیے گئے تھے اور انہیں حشرات الارض کہہ کر پکارا گیا تھا، میں پی گیا تھا۔ پھر بیچ میں کئی سال بیت گئے اور ہماری آخری ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔ اکادمی ادبیات نے ان سے ادبیات کا نثری نظم ( کہ جسے میں بہ اصرار نثم کہتا ہوں ) پر ایک خاص نمبر مرتب کروایا تھا اور اسی سلسلہ کی ایک تقریب ان کی صدارت میں ہوئی تھی۔ میں اس تقریب میں نہیں گیا تھا تاہم اُسی روز منشا یاد کے ہاں ”افسانہ منزل“ میں ہم اکٹھے ہوئے تھے۔ تب وہ اسی پنڈی سکول اور منشا یاد کے گن گا رہے تھے اور مجھے بھی لائق اعتنا جانا تھا۔ یہ الگ بات کہ میں ہمیشہ ”تشکیل“ میں چھپنے سے مجتنب رہا۔ تشکیل، جس پر میرا خیال ہے ”ہمیشت“ کی ایسی چھاپ تھی کہ کسی اور کا تخلیقی وجود پوری طرح اس کے اوراق میں سانس نہ لے پاتا تھا۔

احمد ہمیش کا نام انور سجاد، رشید امجد سریندر پرکاش اور بل راج مینرا کے ساتھ لیا جاتا رہا مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ بریکٹ ہونے پر چڑتے تھے۔ انہیں اپنی بالکل الگ شناخت پر اصرار تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ، وہ ہجرت کر کے ادھر آئے اور بوجوہ واپس چلے گئے۔ دوبارہ آئے تو کراچی میں بس گئے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”مکھی“ 1966 میں حیدر آباد دکن سے چھپا تھا۔ میں نے تب تک یہ مجموعہ نہیں دیکھا تھا تاہم اس میں شامل افسانہ ”مکھی“ کو اُن کے دوسرے مجموعہ ”کہانی مجھے لکھتی ہے“ میں پڑھا جو 1970 میں چھپی تھی۔ یہ کہانی بھی اس مجموعہ میں بھی شامل کرلی گئی تھی۔ کہتے ہیں افسانہ ”مکھی“ پہلی بار شائع ہوا تو خوب ہنگامہ اُٹھا تھا۔ کہا گیا ایک نیا اسلوب وضع ہو گیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے احمد ہمیش کو کلٹ آف اگلی نیس کا نمائندہ افسانہ نگار کہہ کر سب سے الگ دکھایا تو احمد ہمیش کو اس طرح الگ ہو کر دکھنا اچھا لگا تھا۔ پھر وہ ساری عمر اسی فضا میں رہے۔ افسانہ ”مکھی“ کی فضا کیا تھی ؛تعفن، بدبو، فضلات، غلاظت اور کثافت۔ رذیل جذبوں سے لتھڑے ہوئے آدمی کا ظاہر نامہ۔ خبث، ذلالت اور کمینگی سے بھرا ہوا باطن۔ تو یوں ہے کہ ایک مہذب صاف ستھرے ماحول کی ضد اور صاف ستھرے ماحول کی تکفیر۔

خیر بات ہو رہی تھی احمد ہمیش کے افسانے کے سروکاروں کی تو ایسا ہے کہ انہوں نے ”1970 کے بعد نئی اُردو کہانی“ کا عنوان جما کر لکھا تھا:

”دھیان سے دیکھا جائے تو برصغیر میں بسنے والے باشندوں کو اجتماعی بے گھری کا پہلا تجربہ تو“ ہرش و روہن کی موت کے بعد ہوا تھا۔ دوسرا تجربہ بہادر شاہ کے زوال کے بعد ہوا، تیسرا تجربہ برصغیر کی تقسیم کے سمے ہوا اور چوتھا تجربہ مشرقی پاکستان کے انقطاع کی صورت میں ہوا اس طرح ہجرت کا کشادہ و وسیع کینوس مزید وسیع ہوتا چلا گیا۔ ”

بچھڑنا اور بچھڑتے چلے جانا اور وہ بھی ایک وسعت بھرے تناظر اور پھر ملنا ایک تنگ نائے میں، یا ایک اندھیری کوٹھڑی کی سی ہڈیوں کے اندر یخ کی طرح گھس جانے والی زندگی میں تو یہ احمد ہمیش کا تخلیقی مسئلہ بنا۔ میں نہیں سمجھتا کہ احمد ہمیش کی کہانی اسٹریم آف کانشئس نیس کی کہانی ہے کہ واقعہ اس میں سے منہا نہیں ہوتا۔ ہاں وہ موجود کو بہت پیچھے اور بہت گہرائی میں جا کر دیکھتا۔ جو دیکھتا اس میں اپنا گہرا حزن، شدت بھرا ملال اور تندی والا احتجاج اپنے وجود سے نکال کر بھر دیا کرتا تھا اتنا کہ بسا اوقات پڑھتے ہوئے اُسے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ احمد ہمیش نے ”اپنے افسانے“ پُل اینڈ پش ”آسمان کی طرف حسرت سے دیکھا تھا اور اس پر تعجب کا اظہار کیا تھا کہ ’مملکت میں کوئی آدمی طبعی موت نہیں مر رہا تھا لوگ اچانک غائب ہو جاتے تھے۔ ‘ مرنے والوں، غائب ہونے والوں اور مارنے والوں یا غائب ہونے والوں کا پتہ نہ چلتا تھا ’کہانی میں یہ محمد تغلق کا زمانہ تھا اور اب پڑھتا ہوں تو مجھے آج کا زمانہ لگتا ہے۔ احمد ہمیش کے افسانے کی مملکت“ کرائے کی مملکت ”تھی جس میں قرض پر قرض لیا جا رہا تھا۔ شہریوں کی ریڑھ کی ہڈیوں کا گودا بھی ٹیکس میں جا رہا تھا اور کسر رہ گئی تھی تو یہ کہ پیدا ہونے سے بہت پہلے پیٹ والیوں کے پیٹ سے حمل نکال لیے جائیں ؛ تو یہ تھا تب کا منظر نامہ مگر کیا اس میں ہڈ بیتی اور آج کا منظر نامہ بھی شامل نہیں ہو گیا ہے۔ سو ایسی زمانے میں کہ جب طبعی موت نہ مرنے کا چلن ہو چلا تھا احمد ہمیش طبعی موت مر گئے تھے۔ احمد ہمیش کی موت کا واقعہ 2013 کے ستمبر میں ہوا تھا۔ 2023 کا ستمبر چل رہا ہے اور طبعی موت نہ مرنے کا چلن ابھی تک ویسا ہی شاک انگیز ہے۔

تاہم ماننا ہو گا کہ جدید افسانے کا ایک اہم حوالہ احمد ہمیش بنے اور جب وہ مر گئے تھے تو خبر کی سرخی جمائی گئی تھی ”مکھی کے خالق احمد ہمیش انتقال کر گئے“ ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے ”اُردو افسانے کی روایت“ مرتب کرتے ہوئے، عین اس زمانے میں کہ جب احمد ہمیش کا خوب خوب چرچا تھا، مرزا حامد بیگ کے انتخاب میں اس کی کوئی کہانی جگہ نہ پا سکی تھی تاہم انہوں نے اس کا کفارہ یوں ادا کیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان اپنی چھپنے والی کتاب ”پاکستان میں اُردو افسانہ“ میں ”مکھی“ کو شامل کر لیا ہے۔ ہمارے افسانہ نگار دوست احمد جاوید مرحوم نے جب ”منزل“ کے لیے افسانوں کا ایک انتخاب کیا تھا تو ”مکھی“ یا احمد ہمیش کی کوئی کہانی اس میں بھی نہ تھی۔ تاہم واقعہ یہ ہے کہ ”مکھی“ اُردو افسانے کی تاریخ کا حصہ ہے ؛جی اردو افسانے کی تاریخ اور روایت کا حصہ ؛بالکل ایسے ہی جیسے علامتی اور تجریدی افسانہ لکھنے والے چاہے، جیتے جی مضمحل ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے تھے مگر اُن کا تجربہ تاریخ کا حصہ ہے اور کچھ اخذ بھی کرنے والے اس سے بھی اخذ کر رہے ہیں۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جس طرح علامت لکھنے والوں کی زندگی میں ہم نے علامتی افسانے کو لگ بھگ الگ تھلگ کر دیا ہے احمد ہمیش کو بھی ان کی زندگی میں الگ تھلگ کرنے کا بلکہ سچ کہوں تو بھلا دینے کا سلسلہ آغاز پا چکا تھا۔ مگر کیا مرنے کے بعد یہ افسانہ نگار ققنس کی طرح اپنی ہی راکھ سے پھر سے جی اُٹھنے کی سکت رکھتا ہے یہ سوال اب ہمارے سامنے ہے۔ ”ہمیش نظمیں“ والے احمد ہمیش کی ایک نثری نظم/نثم 1962 ماہنامہ ”نصرت“ لاہور میں چھپی تھی، جو بہ قول ان کے انہوں نے 1961 میں لکھی تھی اور جسے وہ اس دعوی کے ساتھ پیش کرتے رہے کہ یہ اردو میں پہلی نثری نظم تھی اور اسی کی بنیاد پر وہ اس صنف کے بانی ہونے کے مدعی تھے۔ وہ فن پارہ یوں تمام ہوتا تھا:

”سائبان کے تیسرے کونے میں پہلی دھوپ چمکنے لگی
پہلا کونا دوسرے کونے کا دشمن ہے
اور چوتھے کونے میں دھندلے خاکے ہیں ”

اِسی چوتھے کونے میں احمد ہمیش کا دُھندلا خاکہ پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانے ”اگلا جنم“ میں ایک سطحی سورج کی بات کی تھی جو چار ارب آدمیوں، ان کے جانوروں، کیڑے مکوڑوں اور نباتات پر چمکتا ہے انہیں سطحی بنانے کے لیے اور پھر بجھ جاتا ہے، دن کے معنی بدلنے کے لیے۔ احمد ہمیش کا کہنا ہے ”رات کے معنی ان گنت احمقوں کی نیند ہے“ ۔ اس افسانے میں اس نے عمروں کے ختم ہونے کی بات کی اور موت کی ڈپلومیسی کی بھی، پھر افق کا ذکر چھیڑا جسے موٹ کھڈ یعنی کھائی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اور اس کھائی کا بھی ذکر ہوا جو موت کی عطا سے اُفق ہو جاتی ہے۔ مجھے یہ کھائی اسی نظم کا چوتھا کونا لگی تھی۔ احمد ہمیش کی کہانی ”اگلا جنم“ ہمیں ایک کھائی کے کنارے لا کھڑا کرتی ہے۔ ایسی کھائی جس میں بہت شور تھا۔ پھر اُس میں سے شانتی کا ایک چہرہ نکلتا ہے۔ یوں کہ ہم سب اُسے دیکھنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں پھر وہ ہمارے لیے اوجھل ہو جاتا ہے۔ احمد ہمیش نے اس کہانی کے آخر میں ایک جملہ لکھا تھا وہی مقتبس کرنا چاہتا ہوں۔ یاد رکھیے ایک کھڈ؛، شور بھرا۔ ایک چہرہ جسے ہم دیکھنے پر مجبور تھے۔ اور پھر اس چہرے کا نظروں سے اوجھل ہونا۔ افسانے کے عین مین الفاظ یوں ہیں :

”کیا وہ میں تھا یا میرا اگلا جنم“

اُردو کی پہلی نثری نظم/نثم کے چوتھے کونے میں احمد ہمیش کا دُھندلا خاکہ پڑتا ہے اور اس عہد کے افسانے کا قصہ بھی۔ اور ایک فاصلے سے ہی سہی مگر میں اس دھندلے خاکے سے اور دہرائے ہوئے قصے سے خود کو جڑا ہوا پاتا ہوں۔ تجزیہ کرنے والے صاف صاف لفظوں میں کہنے لگے ہیں کہ کہانی کے اس اگلے جنم میں، احمد ہمیش کا خام تجربہ کہانی کا باطن بنانے کے لیے اب تخلیقی سطح پر برتا جانے لگا ہے۔ وارث علوی نے ترقی پسند افسانے کو سات موٹی گایوں کا خواب لکھ رکھا ہے اور علامتی تجریدی جدید افسانے کو سات دُبلی گایوں کا کابوس۔ انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا :جدید افسانے میں کہانی کی دُم غائب، مواد پتلا اور کردار ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو جاتے ہیں۔ جب آج کے افسانے میں کہانی مکمل ہو کر اس عذاب سے نکل آئی اور اس نے ترقی پسندوں کے مرغوب ”موٹاپے“ کو پرے دھکیل کر اپنا بیانیہ چست اور باطن گہرا کر لیا تو ہمارے محترم رشید امجد کہنے لگے : ”افسانے میں کہانی لوٹ آئی ہے“ ۔

افسانے میں کہانی کی واپسی؟ ؛ جی درست، مگر یہ محض کہانی کی واپسی نہیں ہے۔ دیکھیں تو، واپس آنے والی کی رگوں میں تو گہری رمزیت لہو بن کر دوڑ رہی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں یہی رمزیت گزر چکوں کا مسئلہ بھی تو تھی۔ بجا، اُن کا مسئلہ تھی مگر وہ ادبدا کر کہانی کو ٹھکراتے ہوئے اس مسئلے کے مقابل یوں ہوتے تھے کہ کہانی کا اسٹرکچر ریزہ ریزہ ہو جاتا جب کہ آج کا افسانہ نگار کہانی سے جڑتا ہے اور اُسے نہ صرف اسے جوڑے رکھتا ہے، متن کا ڈیپ اسٹرکچر بناتا اور اس میں رمزیت تہ در تہ بچھاتا چلا جاتا ہے۔ تاہم ماننا ہو گا کہ ماقبل افسانے کا تجربہ اس باب میں خوب خوب کام آ رہا ہے۔ سو یوں ہے کہ ”افسانے میں کہانی کی واپسی“ / ”افسانے کا نیا جنم“ ، احمد ہمیش اور اس کے عہد کی کہانی یا ان سے بھی پہلوں کی کہانی کا اگلا جنم تو بالکل نہیں ہے ؛ ہاں افسانے کا ایسا جنم ضرور ہے جو احمد ہمیش، اُن کے ہم عصروں یا پہلے گزر نے والوں کے ذکر کے بغیر بہر حال مکمل نہیں کہا جا سکتا۔

Facebook Comments HS