مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ”پرانے چراغ“
مولانا ابوالحسن علی ندوی کو اس کتاب سے پہلے پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا، اور نہ اتنا خاص تعارف تھا۔ جب بھی آپ کسی مصنف کو پہلی بار پڑھتے ہیں تو اس کی وہ کتاب یا مضمون ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کر دیتا ہے کہ آئندہ ان صاحب کو مزید پڑھنا ہے یا نہیں، بعض ایسے مصنف بھی ہوتے ہیں جنہیں پڑھنا آپ کی غرض پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن بعض ایسے صاحب کمال لوگ بھی ہیں جن سے موتی تو آپ سمیٹتے ہیں ہی، ساتھ میں ہیرے جواہرات بھی پا لیتے ہیں۔ یعنی ان کو پڑھنا کسی دلچسپی سے خالی نہیں ہوتا۔ مولانا ندوی ایسے ہی اکابرین میں سے ہیں۔ جن کی تصانیف کا مطالعہ کرنا بہت اہم اور تاثراتی ہے۔ زیر بحث کتاب ان کے خاکوں کے مجموعے کی دوسری جلد ہے۔ جس کا نام ”پرانے چراغ“ ہے۔ یہ پرانے چراغ وہ ہیں جو نئے چراغوں کو اپنی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ مولانا ندوی نے تمام شخصیات کی خامیوں کی نسبت خوبیوں کو زیادہ اجاگر کیا، اور اردو خاکہ نویسی کے میدان میں کمال جوہر دکھایا۔ مولانا نے جن حضرات پر خاکے لکھے ان کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت کو بھی درج کیا۔ جس سے ان صاحبان کی شخصیت کو سمجھنے میں مزید آسانی پیدا ہوتی ہے۔ پہلا خاکہ مولانا محمد علی جوہر کے متعلق ہے۔ جو اتنا پرتاثیر ہے کہ اس پر اس خاکے ہی کے ذریعے مضامین لکھے جا سکتے ہیں۔ اس خاکے کا احاطہ دو تین جملوں میں ممکن نہیں، لہٰذا ہم آگے بڑھتے ہیں۔
دوسرا خاکہ ”نواب صدر یا جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی پر ہے۔ نواب صاحب بڑے پائے کے خطیب اور کتب کے مصنف تھے۔ وہ مورخ بھی تھے۔ المختصر نواب صاحب کثیر الجہت شخصیت کے حامل تھے۔
وہ ہندوستان کے آخری فارسی دان ادیبوں میں سے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ”غبار خاطر“ میں جو خطوط لکھے ہیں، ان کے مخاطب بھی نواب صاحب ہی تھے۔ تیسرا خاکہ مولانا ابوالکلام آزاد پر ہے۔ مولانا ندوی لکھتے ہیں کہ میرے ذہنی شعور اور پڑھنے لکھنے کا آغاز کا زمانہ وہ ہے جب مولانا ابوالکلام آزاد کا ہندوستان میں طوطی بولتا تھا۔ ”مولانا شبلی نعمانی اپنے ارشد تلامذہ سے کسی موضوع پر لکھنے کی فرمائش کرتے، تو ان کے بعض لائق ترین تلامذہ مضامین لکھ کر پیش کرتے۔ لیکن وہ اس سے مطمئن نہ ہوتے۔ لیکن جس موضوع پر مولانا آزاد کچھ لکھ دیتے تو مولانا شبلی کی ایک طرح سے تسلی ہو جاتی، گویا فرمائش کا حق ادا ہو جاتا۔ لیکن مولانا ندوی آگے اس خاکے میں مولانا ابوالکلام پر اپنی مایوسی کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ مولانا نے“ الہلال ”کے اجراء کے آغاز سے مسلمانوں میں فکر و سیاسی بیداری کا کام شروع کیا۔ کئی لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امام الہند بھی مان لیا گیا۔ مختلف تحریکیں سنبھالیں، لیکن ان سب کو مولانا آزاد نے آگے جا کر ایک جگہ روک دیا اور اپنی تمام تر توانائیوں کا مرکز انڈین نیشنل کانگریس کو بنا لیا۔ جس کی وجہ سے مولانا آزاد کا“ مسلم عوام سے تعلق چھوٹتا گیا، بلکہ ٹوٹتا گیا ”۔ چوتھا خاکہ ڈاکٹر ذاکر حسین پر ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین بھی اپنے وقت کی ایک بہت بڑی علمی شخصیت کے حامل تھے۔ وہ علی گڑھ کے وائس چانسلر بھی رہے، بعد میں وہ کئی حکومتی لیول کے عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔ پانچواں خاکہ مفتی امین الحسینی پر ہے۔ مفتی صاحب مسئلہ بیت المقدس پر بہت سرگرم تھے۔ وہ دوسری جنگ عظیم میں انگریزوں کے خلاف لڑے، اور پھر فلسطین نکل گئے۔ وہ ترکوں کے ساتھ جنگ میں بھی شریک رہے، بعد میں جب عربوں نے اسرائیل سے جنگ ختم کر دی تو وہ اس بات کو اسرائیل کے تسلیم کرنے کے مترادف سمجھنے لگے۔ چھٹا خاکہ مولانا مسعود ندوی پر ہے۔ مولانا نے تحریک خلافت میں قائدانہ حصہ لیا۔ تنہا اعظم گڑھ سے جہاں وہ دارالمصنفین کے ناظم کی حیثیت سے مقیم تھے۔ انہوں نے تحریک خلافت کے ضمن میں نوے ہزار سے زیادہ چندہ جمع کر کے بھیجا تھا۔ آپ کے نہرو خاندان کے ساتھ بھی اچھے مراسم رہے۔ پنڈت موتی لال کے بعد جواہر لال نہرو بھی ان تعلقات کو نبھاتے رہے اور ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے رہے، ہنسی مذاق بھی بے تکلفانہ رہا۔
مولانا مسعود پر خلافت کے باب میں چندہ کھانے کا الزام بھی لگا۔ مولانا پر جن جن لوگوں نے الزام لگایا تھا۔ مولانا فرداً فرداً ان کے پاس گئے اور ہر کوئی یہ کہ کر ٹال دیتا کہ میں نے تو فلاں سے سنا اور مولانا پھر اس فلاں کے پاس پہنچ جاتے۔ آخرکار سب کو شرمندگی ہوئی اور یہ الزام ”الزام“ ہی رہ گیا۔ ساتواں خاکہ مولانا عبد الباری ندوی پر ہے۔ انہوں نے مذہب و عقلیات پر ایک کتاب لکھی۔ جو مولانا ندوی کے لیے بھی محسن کتابوں میں سے ہے۔ اگلا یعنی آٹھواں خاکہ مولانا محمد سلیم کیروانی مکی پر ہے، اور اس سے اگلا خاکہ مولانا عبد الماجد دریا بادی پر ہے۔ اردو جاننے والے بھلا مولانا دریا بادی کی شخصیت سے ناواقف ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں! مولانا کے جو چند خطوط خاکہ میں درج ہوئے، انہیں پڑھ کر اندازہ ہوا کے کمال مطالعہ تھا مولانا دریا بادی کا۔ اس زمانے میں جب کتابوں تک رسائی مشکل تھی اور نقل و حرکت کا عمل بھی بہت سست تھا۔ آپ نے تقریباً تمام بڑے مغربی ادباء و فلاسفہ کو پڑھ رکھا تھا۔ مولانا فلسفہ و نفسیات کے ماہر تھے۔ لیکن ان پر اچھی خاصی جذباتیت بھی حاوی تھی۔ نواں خاکہ پروفیسر رشید احمد صدیقی پر ہے۔ آپ ایک طنز نگار ادیب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے پرانے چراغ کی پہلی جلد کے بعد خاکہ نگاری پر بھی مولانا ندوی کی کافی رہنمائی کی، جو کہ اس حوالے سے بہت اہم تھی۔ اگلا یعنی دسواں خاکہ چوہدری غلام رسول مہر پر ہے۔ وہ صحافی ہونے کے ساتھ مصنف بھی تھے۔ اس سے اگلا خاکہ ماہر القادری صاحب پر ہے، جن کا نام بھی ہم نے ضرور کئی حوالوں سے سن رکھا ہے۔ آپ نے کتب لکھیں اور اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔ مولانا مودودی کے ساتھ آپ کے کافی جذبات وابستہ تھے۔ جب مولانا محمد زکریا نے ”فتنہ مودودیت“ نامی کتاب لکھی تو انہوں نے مولانا زکریا پر بعض ایسے جملے کہے جو مولانا زکریا کے معترفین کے لیے تکلیف کو باعث تھے۔ وہ جملے اس خاکے میں درج نہیں بس اتنی سی بات درج ہے کہ ایسا ہوا تھا۔ اب اس سے آگے چند خاکے ان کے زمانے کے علماء کبار کے ہیں۔ ظاہر ہے اب مضمون کی طوالت کے ڈر سے ہر ایک کو موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔ اب ان سب کو چھوڑ کے ایک خاکہ مولانا مودودی پر ہے۔ مولانا ندوی بھی اس بات کا ذکر ”افسوس“ اور پر امیدی کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر مولانا مودودی کو مزید مہلت ملتی تو وہ جماعت کے فکر و نظام میں ”اسلامی حکومت“ کے بجائے ”اسلامی معاشرہ“ پر اپنی توجہ مرکوز کرتے، اور یہ بات وہ اس بنیاد پر کہ رہے تھے کہ ان کے آخری ملاقات جب جولائی 1978 کے آخری ہفتے میں مولانا مودودی سے ہوئی۔ جس میں معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور زبوں حالی پر ان دونوں صاحبان کے درمیان بات ہوئی۔ مولانا مودودی کے چند خط درج کیے انہوں نے، جن میں سے ایک قابل ذکر ہے۔ یہ خط لکھنؤ میں ندوۃ العلماء میں منعقد ہونے والی ایک کمیٹی کے دعوت نامے کے جواب میں ہے۔ مولانا انہیں اپنی تشریف آوری کی اطلاع دیتے ہیں اور لکھتے ہیں ”میرے قیام کے لیے کوئی مناسب انتظام کرنا آپ کا ذمہ ہے، میں کسی ایسی جگہ ٹھہرنا چاہتا ہوں جہاں ہر قسم کے لوگ مجھ سے مل سکیں اور آزادی کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔ علی گڑھ میں میں نے اولڈ بوائز لاج کو پسند کیا۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ ہر خیال اور ہر گروہ کے آدمی مجھ سے بے تکلف ملے ایسی ہی کوئی جگہ میں لکھنو میں چاہتا ہوں۔ میں چونکہ بے ہمہ ہوں اس لیے خدا نے مجھے باہمہ بھی بنا دیا ہے، سخت قسم کے دہریہ اور کمیونسٹ بھی مجھ سے اسی طرح ملتے ہیں جس طرح مومنین صادقین ’اور ان لوگوں سے بات چیت کرنے میں ایسی جگہ آسانی ہوتی ہے جہاں وہ شخصیتیں نہ ہوں جن سے یہ تکلف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔“ بہرحال یہ خاکہ جماعت اسلامی والوں کو تو ضرور ہی پڑھنا چاہیے۔ اب اس سے آگے انہوں نے اپنے چند عزیزوں پر خاکے لکھے ہیں۔ جن میں ان کی بہن بھی شامل ہے۔ بہرحال یہ کتاب اپنی صنف میں بہت اہم ہے۔ میں نے یہاں شخصیات کو بہت اجمال میں بیان کیا ہے۔ کیونکہ کتابی تبصرہ کتاب کا ایک تعارف ہوتا ہے، اور تعارف مختصر ہی ہونا چاہیے۔ قاری کے اندر بس وہ کتاب پڑھنے کی تمنا اٹھنی چاہیے۔


