6 ستمبر کا طغرا اور دوسری عالمی جنگ کی ایک تصویر


گوگل پر انگریزی میں ورلڈ وار ٹو امیج لکھ کر تلاش کریں تو جو سب سے نمایاں تصویر سامنے آتی ہے وہ چند سپاہیوں کی ایک امریکی جھنڈا ایستادہ کرتے ہوئے کھنچی گئی ایک تصویر ہے۔

یہ تصویر 23 فروری 1945 کو پیش آنے والے ایک واقعے کی تصویر ہے، جس میں کئی دنوں کی گھمسان کی جنگ کے بعد امریکی میرین فوجی جاپان کے ایک جزیرے آیوو جیما کی ایک چوٹی ماؤنٹ سوریباچی پر قبضے کے بعد فتح کی علامت کے طور پر امریکی جھنڈا لہرا رہے ہیں

یہ تصویر ایک جنگی فوٹو گرافر ”جو روزینتھال“ نے کھینچی اور اپنی پریس ایجنسی کو بھجوائی، چند ہفتوں کے اندر اندر یہ تصویر امریکی جنگی بالا دستی کی علامت بن گئی اور میرین افواج کے دستوں کے حوصلے اور جذبے آسمانوں تک پہنچ گئے۔ اس تصویر کو صحافت کے معتبر ایوارڈ پولٹزر کے لئے منتخب کیا گیا۔ اس تصویر کے عکس سے مزین ڈاک ٹکٹ جاری ہوئے، اس کے مجسمے بنے اور امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی پر نمایاں مقام پر آویزاں ہوئے۔ کئی فلموں میں اس تصویر پر مبنی واقعے کی عکس بندی کی گئی، اور آج تک یہ دوسری عالمگیر جنگ میں امریکہ کی فتح اور جنگی بالا دستی کی علامت کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے۔

آج تقریباَ آٹھ دہائیوں بعد بھی اس تصویر کی علامتی قیمت کم نہیں ہوئی۔ لیکن اس تصویر سے جڑا ایک تنازعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تصویر اصل واقعے کی حقیقی تصویر نہیں ہے۔ فوٹوگرافر جو روزینتھال جزیرے پر پہنچا تو میرین جھنڈا لہرا چکے تھے۔ اس جھنڈا لہرانے کی تصویر ملٹری فوٹوگرافر سارجنٹ لوئی لوئری نے کھینچی تھی، لیکن جھنڈا لہرانے کے فوراً بعد ایک ہوائی حملے سے بچنے کے لئے آڑ لیتے ہوئے لوئی لوئری کا کیمرہ گر کر ٹوٹ گیا اور وہ اصل تصویر ڈیویلپ ہونے سے پہلے ہی ضائع ہو گئی۔ اگلے دن، مقامی فوجی کمانڈر کے کہنے پر کچھ میرین ایک دوسرا بڑا جھنڈا اصل جھنڈے کی جگہ نصب کر رہے تھے، تاکہ وہ دور سے نظر آ سکے۔ فوٹوگرافر جو روزینتھال نے اس دوسرے جھنڈے کی تنصیب کے دوران تصویر کھینچی تھی۔ ملٹری فوٹو گرافر لوئی لوئری کئی سال تک اس تصویر کو نقلی قرار دیتا رہا۔ لیکن اس ساری بحث اور تنازعے کے باوجود اس تصویر کی علامتی حیثیت آج بھی مسلمہ ہے۔ آج بھی انٹرنیٹ پر تلاش کریں تو دوسری عالمگیر جنگ کی سب سے موثر تصویروں میں یہ تصویر سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔

اس تصویر کی تاریخ اور اس سے جڑے تنازعے کی تفصیلات نیشنل جیوگرافک کے 20 فروری 2020 کے شائع شدہ ”بل نیوکوٹ“ کے ایک مضمون میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ امسال 6 ستمبر کی تقریبات مناتے ہوئے میرے ذہن میں اس تصویر اور اس سے جڑے تنازعوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ 6 ستمبر کے حوالے سے پچھلے کئی سالوں سے ہمارے ہاں بھی بہت سے تنازعے اور بحثیں جاری ہیں۔

کیا واقعی بزدل دشمن نے رات کے اندھیرے میں ہم پر حملہ کر دیا تھا؟
کیا واقعی یہ جنگ دشمن نے شروع کی تھی
کیا واقعی اس جنگ میں ہمیں فتح نصیب ہوئی تھی
کیا ہم اپنے دفاع میں بھی کامیاب رہے یا نہیں؟
کیا سن 71 اور پھر کارگل کی ہزیمت کے بعد ہمیں 6 ستمبر کو منانا بھی چاہیے یا نہیں؟

میں ہمیشہ سے یہ سمجھتا ہوں کہ دشمن کے حوصلے پست کرنے اور اپنے عوام کا مورال بلند کرنے کی خاطر کیے جانے والا پروپیگنڈا اتنا شدید نہیں ہوجانا چاہیے کہ ہمارے اپنے ریسرچ سینٹرز اور تھنک ٹینکس (اگر کہیں ہیں تو) کی سوچ پر حاوی ہو جائے۔ پروپیگنڈے کو پروپیگنڈا ہی رہنا چاہیے اور زمینی حقائق سے آنکھیں نہیں چرائی جانی چاہئیں۔ لیکن اس کے باوجود، قوموں کی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے علامات اور استعارے بن جاتے ہیں کہ پھر ان کی سچائی اور ان کا مبنی بر حقیقت ہونا غیر اہم ہو جاتا ہے۔ ان واقعات کو ان علامتوں کے طور پر ہی یاد رکھنا چاہیے۔ بالکل ویسے ہی جیسے امریکہ کے فوجیوں کی جھنڈا لہرانے والی تصویر حقیقت میں متنازعہ ہو جانے کے بعد بھی اس کی حیثیت بطور ایک استعارہ، ایک علامت کم نہیں ہوئی۔ نہ کسی نے اس کے مجسموں پر حملہ کیا، نہ ان کی ڈاک ٹکٹوں کو پاؤں تلے روندا۔ یاد رہے امریکہ دوسری عالمی جنگ کے کچھ عرصہ بعد ہی ویتنام کی جنگ میں ہتک آمیز شکست کا سامنا بھی کر چکا ہے۔

میری نظر میں 6 ستمبر کا دن بھی ہماری فوجی تاریخ میں ایک ایسے ہی استعارے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اوپر مذکورہ ساری بحثوں کے باوجود، فوج کی ملکی سیاسی اور حکومتی معاملات میں قابلِ مذمت مداخلت کے باوجود، ہر طرح کی اعتماد کے خسارے کے باوجود، 6 ستمبر پچھلے 58 سالوں سے ہمارے قومی وقار اور فوج کے مورال کا بنیادی محور بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک دن نہیں بلکہ پاکستان کی پوری تاریخ میں 1965 سے پہلے اور بعد میں جہاں جہاں اور جس جس محاذ پر قوم نے جنگیں لڑیں، قربانیاں دیں، معرکے مارے یا زخم جھیلے، دشمن کا گلا کاٹا یا اپنا خونِ فاسد تلف کیا، ان سب کا ایک یادگاری طغرا ہے۔ سچا ہے یا جھوٹا اب یہی ہمارا افتخار ہے۔

Facebook Comments HS