ایک نئی کہانی کی شروعات


کہانی یہیں تک ہی پہنچی ہے کہ جہاز ٹیک آف کر چکا ہے۔ زمین سے بلندی کی جانب اٹھتے ہوئے جہاز کا زاویہ اس وقت ترچھا ہے۔ میری نمناک نظر کھڑکی سے باہر کے منظر نامے پہ مرکوز ہے۔ اس وقت صبح کے دس بجے ہیں اور چمکیلی دھوپ میں نیچے پھیلے ہوئے شہر کے خد و خال اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت ایک بڑے سے کینوس پہ نقطوں کی مانند بکھرے پڑے ہیں۔ دن تابناک ضرور ہے مگر ایک ان دیکھی دھند میں لپٹا یہ منظر تو کہیں سے تابناک نہیں بلکہ اندوہناک ہے کیوں کہ اسے دیکھتے ہی دل میں اک ٹیس سی اٹھی ہے؟

یہ منظر تو پچھلے پونے دو سال سے نظر کے سامنے تھا تو میں نے اس سے صرف نظر کیوں کیا؟ نظر دھندلا گئی تھی یا آج عینک کا عدسہ بدل گیا ہے؟ اب سے پہلے میں نے اس کے بارے ایسے کیوں نہیں سوچا تھا؟ اوور ویو منظر کو بالکل الگ زاویئے سے دکھاتا ہے۔ نظر کا زاویہ بدل جائے تو وہ سب کچھ نظر آتا ہے جو پہلے عیاں نہیں ہوتا۔ کہیں یہ ایک نئی کہانی کی شروعات تو نہیں۔

جہاز کے کپتان نے اناؤنس کیا کہ پرواز اب اپنی منزل پہ آدھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے گی گویا ابھی میرے پاس پورے پندرہ گھنٹے اور پینتالیس منٹ اور ہیں۔ اس دورانیہ میں سوچ کا پنچھی شعور اور لاشعور کی کن ان دیکھی اور انجانی منزلوں کی جانب پرواز کرے گا اور کیا کیا کھوج کر لائے گا، میں نہیں جانتی۔ شاید ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا۔ اس آزاد پنچھی کے پیروں میں کوئی ایسی زنجیر نہیں ہے جو اس کی پرواز میں کوتاہی کا سبب بن سکے۔

انسان کے لبوں پہ خاموشی کی مہر ثبت کی جا سکتی ہے مگر سوچ کی اڑان کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ تو کیا یہ مسافر کا آخری سفر ہے؟ کیا جانے والے نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب لوٹ کر نہیں آئے گا؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو میں اتنا آگے کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں یہ جانتے ہوئے بھی کہ فیصلہ ہم نہیں وقت کرتا ہے۔

سر دست تو مجھے سری لنکا کے ایک بدھسٹ ٹمپل کے آنگن کے ایک دور افتادہ کونے میں سفید پھولوں سے لدی بوگن ویلیا کے کنج تلے بیٹھا گیروئے لباس میں ملبوس وہ بھکشو یاد آ رہا ہے جس سے میں نے پوچھا تھا کہ زندگی کیا ہے؟ نجانے کیوں یہ سوال اکثر ہی نوک زبان رہتا ہے۔ جواباً اس نے وہی بات کہی جو میں بہت پہلے پڑھ چکی تھی۔ وہ بولا کہ زندگی دکھ ہے ایک نا ختم ہونے والی اذیت ہے۔ میں جھلا کے بے اختیار بولی کہ اگر ایسا ہے تو پھر تمہارے چہرے پہ اتنا اطمینان کیوں ہے؟

میرے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ اس نے گھبرا کے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ جب ہم سوالوں کے جواب نہیں دے پاتے ہیں تو خاموشی کی بکل میں اپنا چہرہ چھپا لیتے ہیں۔ میں اپنا چہرہ نہیں چھپاتی حالاں کہ سوالوں کے جواب تو میرے پاس بھی نہیں ہیں۔ جب کھلی فضا میں سانس لینے کی عادت ہو جائے تو نقابوں اور حجابوں کے خیال سے ہی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔

کنٹرولڈ انفارمیشن کے دور میں اطمینان سے وہی رہتا ہے جو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ میں کیا جانتی ہوں اور کیا نہیں اس سے قطع نظر ایک بات طے ہے کہ لکھے ہوئے سکرپٹ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تو کیا میں ضرورت سے زیادہ جانتی ہوں یا ضرورت سے زیادہ جذباتی ہوں۔ موخر الذکر شاید زیادہ درست ہے۔ یا پھر محبوب سے بچھڑنے کا غم ہر انسان کو جذباتی بنا دیتا ہے۔ محبوب! میں نے دو تین بار اس لفظ کو دہرایا۔

کیا شہروں کی محبت بھی انسانوں کی محبت جیسی ہوتی ہے؟ سیاست، انسانی مسائل اور غم دوراں مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ کیا یہ وہی انسان ہے، کیا انسان اتنا کمینہ اور طوطا چشم ہوتا ہے کہ ایک پل میں سب کچھ بھول جائے؟ مگر مجھے ان کی سوچ کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ اس وقت مجھے کچھ یاد نہیں کوئی غم لاحق نہیں اور ناسٹیلجیا پورے منظر نامے پہ حاوی ہو چکا ہے۔ یہ سچ ہے کہ غم جاناں کے آگے سب کچھ ہیچ ہوتا ہے مگر لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے۔ جو وہ نہیں سمجھ رہے تھے وہ صرف اتنا تھا کہ ہر غم کی بنیاد ہی محبت ہوتی ہے

کھڑکی سے نیچے تا حد نظر ہر سمت عمارتوں کا جنگل ہے اور میں حیران و پریشان یہ سوچ رہی ہوں کہ زہریلی کھمبیوں پہ مشتمل یہ جنگل کب اگا؟ کیا اس زمین کا کوئی والی وارث نہیں تھا؟ اگر تھا تو اس کی آنکھوں پہ بے حسی کا آہنی پردہ کیوں پڑا رہا؟ آج سے کوئی پندرہ بیس سال پہلے تک جب جہاز اس زاویہ پہ ہوتا تھا تو کہیں مٹیالی اور کہیں کہیں ہرے رنگ کی باریک سی چنریا اوڑھے شرماتی لجاتی زمین نظر آ جاتی تھی جو برسات کے موسم میں نئی نویلی دلہن کی طرح اور بھی نکھر جایا کرتی تھی۔

اب ہر سمت اونچی نیچی سیاہ اور سرمئی عمارتوں کا بے مہار جنگل جو کہیں عمودی اور کہیں افقی رخ پہ پھیلا ہوا ہے وہ مٹیالی زمین کو اس کی ہری چنریا سمیت ہڑپ گیا ہے۔ اس شہر میں عمر کے ان گنت ماہ و سال گزرے ہیں اتنا پھیلا ہوا تو کبھی نہ تھا۔ کیا یہ محبت کا پھیلاؤ ہے؟ نہیں نہیں محبت کا پھیلاؤ اتنا بے ڈھب اور بد صورت تو نہیں ہوتا۔ یہ سب حضرت انسان کی کارستانی ہے۔

سفری تجربے نے نہایت بیزار کن لہجے میں مطلع کیا کہ یہ نظارہ فقط چند منٹوں کا مہمان ہے بہتر ہے کہ شانت ہو جاؤ کیوں کہ جہاز اب بائیں جانب مڑے گا اور نیچے صرف نیلگوں سمندر ہی ہو گا وہی سمندر جس کی ہلکورے لیتی لہریں روز اول سے عاشقوں کو پاگل بناتی آئی ہیں۔ سائیں لطیف کہتا ہے کہ عورت عاشق ہے تو کیا میں بھی عاشق ہوں؟ میں نے خود سے یہ سوال کیا مگر یہ کیا کہ عمارتوں کی ایک لکیر سمندر کے اندر تک گھس آئی ہے تو گویا انسان کی حرص و طمع زمین کے چپے چپے پہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد اب سمندر کو تسخیر کرنے چلی ہے۔ یہ سوچ کر ہی جھرجھری کی ایک لہر رگ و پہ میں دوڑ گئی۔ شاید حملہ آور فطرت کے قہر سے ناواقف ہے کہ جب وہ اپنے غیض و غضب پہ آ جائے تو سب کچھ تہس نہس کر ڈالتی ہے۔ اونچی اونچی عمارتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہے۔

مجھے اس وقت ایک چھوٹے سے شہر کی رہنے والی اٹھارہ برس کی وہ لڑکی یاد آ رہی ہے جو اپنے دکھ کی بھاری گٹھریاں کمر پہ لادے برسوں پہلے یہاں آئی تھی اور یہیں کی ہو رہی۔ وہ جہاں سے آئی تھی وہاں اس کے لیے قبروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ عورتوں کے لیے روایتیں بھی تو قبریں ہی ہوتی ہیں جن میں ایک نا ایک دن انہیں دفن ہونا پڑتا ہے۔ وہ کم سن لڑکی جسے یہ علم تک نہ تھا کہ زندگی کی سڑک کتنی کٹھن اور طویل ہے مگر وہ ایک بات جانتی تھی کہ اسے کسی ایسی قبر کا ایندھن نہیں بننا۔ وہ شہر جہاں اس نے عمر کے سترہ برس اور گیارہ مہینے گزارے تھے اسے چھوڑنے کا فیصلہ تین دن میں کر لیا، بنا یہ سوچے کہ وقت اسے کس راہ پہ لے جا رہا ہے۔ کیا اس کا کوئی انت ہے بھی یا نہیں؟

کیسے رکتی کہ وہ تو امین تھی اس وراثت کی جسے دنیا ہجرت کے نام سے جانتی ہے۔ بس ایک دن اس نے ٹھان لی کہ مجھے ان قبروں کی مجاوری نہیں کرنی اور چل پڑی۔ یہ اداس نسلوں کی اگلی پیڑھی کی پہلی بغاوت اور ایک چھوٹی سی ہجرت تھی۔ میں آج تک سمجھ نہیں پائی کہ اس میں اتنے بڑے فیصلے کی ہمت کہاں سے آئی تھی۔ وہ تمام لوگ جو اٹھارہ برس تک اس کی زندگی کے ہر سیاہ و سفید کے مالک تھے اسے کسی طور روک نہ پائے۔ ہر دھونس دھمکی اور آنسوؤں کا سیلاب سب رائگاں گئے۔ وہ بھی ایک جہاز ہی تھا جو اسے ایک چھوٹے شہر سے بڑے شہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ نسبتاً ایک چھوٹا جہاز تھا اور کھڑکی سے دکھائی دینے والا شہر ہمیشہ کی طرح سویا پڑا تھا اور نواحی ٹیلے اونگ رہے تھے۔

فرق تو محسوسات میں ہوتا ہے، کیفیات میں ہوتا ہے۔ ناسٹیلجیا تو جب بھی تھا، نیند سے نجات کا اور آزادی کا ناسٹیلجیا۔ بیڑیاں توڑ ڈالنے کا زعم، منظرنامے سے خود کو کاٹ دینے کی خوش فہمی۔ کم سنی کب جانتی ہے کہ نادیدہ بیڑیاں تو ہمیشہ پیروں میں رہتی ہیں فقط وقتی طور پہ نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں منظر نامہ تو ہمارا پیچھا کرتا رہتا ہے اور پھر ایک شہر سے دوسرے شہر تک فاصلہ ہی کتنا ہوتا ہے؟ حد سے حد گیارہ سو میل۔ اگر وہ پیچھا نہ بھی کرے تو ہم بھاگ بھاگ کر اس میں دوبارہ گھسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور مایوس لوٹ آتے ہیں کہ وقت خالی جگہ کو پر کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ پل کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا ہے یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا۔

شاید میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ وہ لڑکی اس نئے شہر کراچی کی محبت میں اس بری طرح گرفتار ہوئی کہ بچپن کی ان اندھیاری گلیوں میں واپس جانے کا سوچا ہی نہیں۔ ہڑک ایک آدھ بار لے بھی گئی تو بے مزا ہی لوٹی کہ اب وہاں اس کا کوئی نہیں تھا۔ گھر تو انسانوں سے ہوتے ہیں اور وہاں تو ایک خالی ڈھنڈار مکان تھا جس کی چار دیواری میں گونجتی ہوئی وہ آوازیں تھیں جنہیں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں سن سکتا تھا۔ کبھی کبھی تو یہ آوازیں اتنی بلند ہو جاتیں کہ دل کی دھڑکن پسلیاں توڑ کر باہر آنے پہ کمر بستہ ہو جاتی۔

وہ ڈر گئی اپنے آپ سے اور اس خالی مکان میں گونجتی آوازوں سے۔ بھکشو نے ٹھیک کہا تھا کہ زندگی ایک اذیت ہے۔ جب وہ اذیت حد سے سوا ہوئی تو اس کے کانپتے ہاتھوں نے اس خالی آبائی مکان کو فروخت کر دیا۔ وہ اب بھی کبھی کبھار سیاح کی حیثیت سے وہاں جاتی ہے۔ مگر اب کوئی بھی آواز اس کا پیچھا نہیں کرتی۔ گلیاں اور راستے جانے والوں کے قدموں کے نشان یاد نہیں رکھتے۔

جس طرح سے محبتیں مہربان نہیں ہوتیں ٹھیک اسی طرح بڑے شہر بھی مہربان نہیں ہوتے۔ اس شہر میں اس پہ کیا کیا نہ گزری مگر جب کشتیاں جل چکی ہوں تو واپسی کی سوچ ہی عبث ہے۔ وہ جب بھی جانے کا سوچتی تو یہ کبھی محبت سے اور کبھی دھونس سے دامن سے لپٹ جاتا کہ ہر ارادہ اور ہر سوچ مانو پانی ہو جاتی۔ یوں اس نے نئے گلی کوچوں کو دل میں بسا لیا۔ محبت انسان کو کمزور کر دیتی ہے اس کے پیروں میں زنجیر ڈال دیتی ہے۔ یہ اذیت تو اس نے خود چنی تھی اور جو اذیت ہم خود چنتے ہیں اس سے تا عمر چھٹکارا نہیں ملتا۔

ابھی تو فقط دس منٹ ہی گزرے ہیں پندرہ گھنٹے اور پینتیس منٹ باقی ہیں اور میں آنکھیں موندے سوچ رہی ہوں کہ اس دورانیے میں سوچ کا آوارہ پنچھی اور کہاں کہاں کی خاک چھانے گا۔

Facebook Comments HS