حادثے کی منتظر قوم


ہمارے ہاں ایک رواج ہے جب بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو سب سے پہلے ہم باہر نکل کر دیکھتے ہیں کہ پڑوسی کی بجلی آ رہی کہ نہیں اگر تو پڑوسی کی بجلی بھی غائب ہو تو دل کو تسلی ہو جاتی ہے۔ خیر ہے سب کی چلی گئی ہے اور ہنسی خوشی اپنے گھروں میں ہاتھ والے پنکھے لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور اگر خدا ناخواستہ ہماری بجلی نہیں آ رہی اور پڑوسی کی آ رہی ہوتی تو ہم فوراً اپنا مین سوئچ وغیرہ چیک کرتے ہیں اور واپڈا کو کمپلینٹ لکھواتے ہیں۔ یہ بالخصوص پنجاب اور بالعموم پورے پاکستان میں ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر ہم لاپروا اور کاہل قوم ہے اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ ہم دنیا کی سب سے بہترین قوم ہیں جبکہ اگر دنیا سے اپنا مقابلہ کیا جائے تو ہم تقریباً صفر پر کھڑے ہیں کیونکہ نہ تعلیم میں بہتر، نہ اخلاقیات میں اعلیٰ، نہ ہنر میں کسی آگے نہ، ڈسپلن میں کسی کھاتے میں، سوائے اس بات کہ ہم دنیا کی بہترین قوم ہیں۔ یہ سلسلہ انفرادی سے اجتماعی طور پر ہے۔ ایسا نہیں ہمیں اخلاقیات کا علم نہیں، ایسا نہیں ہمیں جرم، گناہ، ثواب کا علم نہیں بلکہ ہماری گفتگو اور بحث مباحثوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ہی سب پتا۔

ہمارے ہاں بہادری اور جواں مردی کی اپنی لغت ہے۔ جو جتنا لاپروا ہو گا وہ اتنا بہادر ہے اور جو جتنا بدمعاش اور لٹیرا ہو گا وہ اتنا بڑا ہیرو۔ جو جتنا جھوٹا ہو گا وہ اتنا سمارٹ اور جو جتنا ہیرا پھیری کرے وہ اچھا کاروباری۔ مطلب ایماندار، قانون کا احترام کرنے والا بے وقوف، احساس، رحم، معاف کرنے والا بزدل اور اصول پرست! کھڑوس۔ انسانی حقوق پر بات کرنے والا مغرب کا ایجنٹ، عورت کی آزادی کا مطلب فحاشی، بے حیائی۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہم بحیثیت قوم اس وقت اٹھتے ہیں جب پانی سر پر سے گزر جائے، ہم تو بجلی کا بل بھی آخری تاریخ دیکھ کر ادا کرتے ہیں۔ ہر سال بارشیں آتی ہیں ہر سال ہمارے شہر اور گاؤں ڈوبتے ہیں، ہر سال زلزلے آتے ہیں ہر سال ہمارے شہر گاؤں گرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اور ہماری سرکار کو اچانک خیال آتا ہے کہ ہم کچھ انتظامات بھی کرنے ہیں۔

پچھلے دو دہائیوں سے ملک کے طول و عرض میں لاکھوں ایکڑ زمین ہاوسنگ سوسائٹیز کی نذر ہو گئی، کھیت کھلیان اور باغ اجڑ گئے، درخت صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے لیکن ہم ہیں کہ اپنے کمشن بنانے میں مصروف رہے۔ ہم نے اس وقت سوچا جب ہمارے پڑوسی کا پلازہ زلزلے سے گرا کہ اپنے والے پلازہ کی سائنٹیفک ایسس منٹ کروانی ہے ورنہ پیسے دیں اور نقشہ پاس کروائیں اللہ اللہ خیری صلہ۔ لاکھوں کیوسک پانی ہر سال سیلاب کی صورت میں سمندر میں چلا جاتا ہے وہ پینے والا پانی ہے لیکن ہم نے کوئی ڈیم نہیں بنائے۔ انڈیا پانی بند کردے تو خشک سالی، پانی چھوڑ دے تو سیلاب اور تباہی۔ لیکن ہم کبھی نہیں سوچتے ہمارا کیا ہو گا۔

دراصل پاکستان ایک بہت بڑا محلہ ہے جیسے محلوں میں کوئی سہولت نہیں ہوتی سب اللہ توکل ہی رہ رہے ہوتے ہیں اور سال میں ایک یا دو دفعہ سیاست دان اپنے لاو لشکر کے ساتھ کالے ویگو ڈالوں میں بیٹھ کر ووٹ مانگنے آتے ہیں اور جیت یا ہا ر جانے کے بعد اگلے پانچ سال کوئی اتا پتہ نہیں لیتے ایسے ہی ہمارے امراء اور شرفاء سارا سال پاکستان سے باہر رہتے ہیں اور چھٹیاں منانے پاکستان آتے ہیں اپنے رشتے داروں سے ملنے جو یا تو بیوروکریسی میں ہوتے یا کسی سیاسی سیٹ پر ۔

ہمیں تب تک ہوش نہیں آتی جب تو ہم پر کوئی حادثہ نہ گز ر جائے۔ دہشت گردی میں جب کوئی بڑا دھماکہ یا پھر بڑی شخصیت اس کے زد میں نہ آ جائے۔ ہم کوئی پالیسی مرتب نہیں کرتے۔ جب تک سیلاب نہ آئے ہم حرکت میں نہیں آتے، جب تک زلزلہ نہ آئے ہمیں ہوش نہیں آتی۔ جیسے آج کل ہمارے پڑوس میں ترقی کا طوفان امڈ آیا ہے اب ہم دو کام کر رہے یا تو حسد یا خود شرمندہ ہو رہے ہیں۔ ترقی اور تنزلی اچانک ایک دن میں نہیں آتی یہ ایک کمپاونڈ افیکٹ ہوتا ہے جو بہت پہلے سے شروع ہوتا ہے اور کچھ دیر بعد دکھائی دیتا ہے۔

جب ہم اپنے بچوں کو مغالطہ پاکستان میں جھوٹی تاریخ پڑھا رہے تھے اور دنیا سے نفرت سکھا رہے تھے تب ہمارے پڑوسی سائنس، فلسفہ اور اخلاقیات پڑھا رہے تھے ظاہر ہے دونوں طرح کی تعلیم کے اپنے اپنے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ دنیا نے اپنے بچوں کو پڑھا یا ہے کہ ہم دنیا میں بہتری کیسے لا سکتے ہیں جبکہ ہمارے نصاب نے ہمیں پڑھایا دنیا باطل ہے اس کو مسمار کیسے کرنا ہے۔ مندروں، گرجوں اور خانقاہوں کو کیسے جلانا ہے۔ ہم نے بچوں کو حسد اور منفیت پڑھائی ہے مسائل کو حل کرنا نہیں سکھایا یہی وجہ ہے کہ ہماری موجودہ نسل زندگی میں آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

سیلاب آنے سے پہلے سوچنا ہو گا۔ زلزلے سے پہلے تعمیرات کو بہتر کرنا ہو گا۔ دہشت گردی سے پہلے امن کو پھیلانا ہو گا۔ دنیا ہماری عزت اس لیے نہیں کرتی کہ ہم دنیا کی عزت نہیں کرتے۔ جس دن ہم نے پہلا قرض لیا وہ الارم تھا کہ برے دن آنے والے ہیں۔ آج اگر ہم نے کوئی مربوط تعلیمی، سماجی اور معاشی پالیسی نہ بنائی تو دنیا بالخصوص ہمارا پڑوسی ہمیں نگل جائے گا۔ گھر میں روٹی نہ ہو تو بندوق کا سالن بنا کر نہیں کھایا جاتا۔ کاش ہم حادثوں سے پہلے سوچ لیں۔

Facebook Comments HS