معصوم عمار اور سیاسی گدھ
پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی رہنما عباد فاروق کے دو بیٹے کافی وائرل ہوئے اور ان میں ایک بچہ کافی بیمار نظر آ رہا ہے۔ میاں عباد فاروق سانحہ نو مئی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے گرفتار ہیں۔ سوشل میڈیا پر بار بار ایک ہی آواز اٹھائی جاتی رہی کہ میاں عباد کو اپنے بیمار بچے سے ملنے دیا جائے۔ سوشل میڈیا چونکہ ایک بے لگام میڈیا ہے اس لئے ہر کسی نے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق ننھے عمار کی فوٹوز اور ویڈیوز لگائیں۔
ایک طرف عمار کی بیماری کی پوسٹیں لگ رہی تھیں تو دوسری طرف میاں عباد فاروق کی ویڈیوز لگائی جا رہی تھیں جس میں وہ پولیس وین اور مختلف سرکاری املاک کو ڈنڈے سوٹوں سے نقصان پہنچا رہا تھا۔ عمار کی بیماری کو گندی سیاست میں لپیٹا گیا اور اس کی مختلف زاویوں سے تصاویر لگا کر اس بچے کا ایک بنیادی حق چھینا گیا کہ بغیر اجازت اس کی تصویروں پر طرح طرح کی سیاسی تحریریں لکھ کر وائرل کی جاتی رہیں۔ ایک جھوٹ اور پھر مسلسل جھوٹ یہ گھڑا گیا کہ ایک ہنستا کھیلتا بچہ باپ کی جدائی برداشت نہ کر سکا اور اس کے دماغ پر اس کا اثر ہوا جس کی وجہ سے وہ اچانک ایک انتہائی دردناک بیماری میں چلا گیا۔
مومنہ وحید جو کہ پچھلے دور میں پی ٹی آئی کی رکن صوبائی اسمبلی رہی ہیں۔ انہوں نے رات اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ عباد فاروق میرے یونیورسٹی فیلو ہیں اور وہ صرف الفاظ کی حد تک میرے بھائی نہیں تھے بلکہ انہوں نے کئی مواقع پر بھائی بن کر دکھایا۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ننھا عمار ایک بہادر بچہ تھا اور کافی عرصے سے مرگی کی مرض میں مبتلا تھا۔ عباد فاروق نے کافی عرصہ پہلے عمار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لگائی جس میں عمار کہہ رہا ہے کہ میرے پاپا کہتے ہیں میں بیمار ہوں جبکہ میں بیمار نہیں ہوں۔
سوشل میڈیا پر مسلسل ایک جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے کہ عمار کو کسی ہسپتال والے نے داخل نہیں کیا جبکہ مومنہ لکھتی ہیں کہ عمار کی حالت اس قدر سیریس ہو گئی تھی کہ ڈاکٹرز بے بس ہو گئے تھے۔ گرفتاری کے بعد عباد فاروق کی اپنے بیٹے سے دو ملاقاتیں کرائی گئی تھیں۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ میاں عباد کو وقت کی نزاکت کے پیش نظر سیاست اور خاندان میں سے خاندان کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔
عمار اگر پہلے بیمار نہ بھی ہوتا تو باپ کی جدائی بچوں پر کبھی بھی اچھا اثر نہیں ڈالتی اور بچوں کا اداس ہوجانا فطری ہے لیکن یہاں جھوٹ کا ایسا تڑکا لگایا گیا کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمدردی عمار یا عماد سے نہیں ہے بلکہ معصوم عمار کی بیماری سے انتقال تک ہر ہر موقع پر ایک ہی بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ ریاست نے بڑا ظلم کر دیا ہے اور عباد فاروق کی ناحق گرفتاری کی وجہ سے عمار بیمار ہو گیا ہے۔ عباد فاروق کی طرح ہزاروں لوگ جیلوں میں بند ہیں اور ان کے پیچھے ان کے پیارے روزانہ بیمار ہوتے ہیں، انتقال کر جاتے ہیں لیکن کسی کو اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ جنازے میں شریک ہو سکے۔
کل حکومت نے بہت اچھا اقدام کیا اور میاں عباد کو بیٹے کی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت دی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جنازے کے بعد ایک دو دن مزید دے دیے جاتے تاکہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ اپنے غم بانٹ سکتا، یہ مشکل ترین وقت کسی بھی ماں باپ کے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتا جب اپنے ہاتھوں سے اپنے جگر کے ٹکڑے کو قبر میں اتارا جائے۔
عمار کے انتقال کی خبر سے پورا پاکستان افسردہ ہوا لیکن سوشل میڈیا پر اپنی سیاست کو چمکانے والے عناصر کی عجیب و غریب پوسٹوں نے عمار کی موت کے دکھ سے زیادہ معاشرے کی بے حسی نمایاں کردی کہ کس طرح ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عمار کی بیماری سے لحد میں اتارنے تک گندی سیاست کی گئی۔ اس قدر جھوٹ پھیلایا گیا کہ ایک موقع پر سچ لگنے لگا۔ ہر گھر میں خاص طور پر خواتین اور بچے کل بار بار عمار کی بیماری و کفن میں لپٹی تصویریں دیکھ دیکھ کر کافی ڈسٹرب ہیں۔
میرا بیٹا آٹھ سال کا ہے اور مجھ سے بہت ہی زیادہ اٹیچ ہے۔ رات میری بیوی نے اسے میرے پاس نہیں سونے دیا اور کہا کہ میں اکثر کام کے سلسلے میں ایک ایک ہفتہ گھر سے دور ہوتا ہوں اور یہ بہت زیادہ اداس ہو جاتا ہے۔ اسے خود سے دور رہنے کی عادت ڈالو کیونکہ عمار کو دیکھ کر میں ڈر گئی ہوں۔ یہ سچ ہے کہ ہر بچہ اپنے والدین سے اسی طرح پیار کرتا ہے لیکن اس کو سیاست کے ساتھ جوڑنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ مجھے کل ایک میسج آیا کہ میں عمار کی وفات پر اس لئے نہیں لکھ رہا کیونکہ وہ میرا سیاسی مخالف تھا۔ ظالموں کو معصوم بچے کی میت سے اپنی سیاست چمکانی ہے جبکہ وہ بچہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں تھا وہ صرف اپنے ماں باپ کا بیٹا تھا اور اس کی موت سیاست سے کہیں دور ایک دکھ کی گھڑی ہے۔
کل نماز جنازہ کے موقع پر میت پر سیاست کرنے والے سیاسی گدھ عباد فاروق کے اپنے مرحوم بیٹے سے ملنے کے مناظر ریکارڈ کر رہے تھے تو فیملی کے لوگ منت سماجت کر کے کیمرے بند کرا رہے تھے کہ خدارا بس کرو۔


