چیف جسٹس محترم قاضی فائز عیسٰی کے نام خط
محترم چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسٰی صاحب
اسلام علیکم۔
امید ہے آپ رب العزت کے شکر گزار ہوں گے کہ جس نے آپ کو اس ملک کے اک اہم ادارے کے سربراہ کے طور پر اس ملک میں عدل اور حاکمیت کی حامل پوزیشن عطا کی۔
آج بطور چیف جسٹس آف پاکستان آپ کا پہلا دن ہے۔ میرے طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔ میرا آپ کے ساتھ کوئی تعارف نہیں ہے، میں قانون اور قلم کا طالب علم ہوں، قانون کا اس طور پر کہ خطہ پھوٹھو ہار میں پیشہ وکالت سے منسلک ہوں اور میرا ذاتی خیال ہے کہ جس ادارے کی سربراہی اللہ تعالی نے آپ کو عنایت کی ہے میں اس کی بنیادی اکائی ہوں کہ میں وہ وکیل ہوں جو تحصیل کی سطح پر بنیادی مسائل کے حل کے لیے ابتدائی اختیار سماعت رکھنے والی عدالتوں میں پیش ہوتا ہے۔
اس طور پر آپ کے ہر دو فیصلے، انتظامی اور عدالتی، مجھے براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک میں رواج نہیں ہے کہ اس درجہ کا کوئی اہلکار یا شخص اپنے ادارے کے سربراہ کو براہ راست مخاطب کرے اس لیے میں نے قانون کے ساتھ ساتھ از خود ہی اپنے آپ کو قلم کا طالب علم بھی ڈکلیر کر دیا ہے اگرچہ میری لکھی ہوئی تحاریر صرف میری اپنی فیس بک پر ہی شائع ہوتی ہے، یہ اس طرز کی ہی دلیل ہے جو ہم وکیل ہارے ہوئے کیس میں اپنے آپ کو اور اپنے موکل کو مطمئن کرنے کے لیے دیتے ہیں۔ بنیادی مقصد جناب ولا سے مخاطب ہونے کی جسارت تھی۔
جناب من!
ملک کی گزشتہ کئی ماہ کئی سیاسی سماجی معاشرتی اور معاشی حالت ایسی ہے بلکہ میں بصد احترام اس میں عدالتی معاملات کو بھی شامل کروں گا کہ آپ کی تقرری کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور سنا جا رہا ہے۔ یہ سب انگلش کے محاورہ کے مطابق میرے پے سکیل سے اوپر کی باتیں ہیں اس لیے میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہوں گا۔
جناب عالی مقام میں تو عرض کروں گا جو میں، مجھ جیسے، عام دیہاڑی دار وکیل اور لوگ سوچتے اور چاہتے ہیں۔ معذرت اگر آپ کو وکیل کے ساتھ دیہاڑی دار کا لفظ برا لگا لیکن جناب والا ملک کے جو حالات ہیں دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرح ہم وکیلوں کی اکثریت بھی معاشی تنگدستی کا شکار ہے اور زیادہ تر وکیل روز کماتے ہیں تو خرچ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ میرا آپ کو خط لکھنے کا مقصد وکلاء کی حالت زار بیان کرنا نہیں ہے اگرچہ ضمناً اس کا ذکر آ گیا ہے۔
جناب والا، میں اک پر امید شخص ہوں جو اچھے کی امید رکھتا ہے اس لیے جب اک شخص نے چند دن پہلے مجھ سے آپ کی تقرری کے حوالے سے سوال کیا تو میں نے عرض کی کہ میں پر امید ہوں کہ جناب والا کی تقرری کے بعد ملک کی اعلی عدلیہ کے ساتھ ساتھ بنیادی عدالتوں میں بھی بہتری آئے گئی اور عدلیہ کا بطور ادارہ وقار بلند ہو گا، جس پر اس شخص نے کہا کہ تم وکیل تو جناب افتخار حسین چوہدری صاحب کے وقت بھی یہ ہی خواب دیکھتے تھے اور تب سے ہی یہ خواب لیے پھرتے ہیں۔ جناب والا اس شخص کی اس بات نے اس قدر تکلیف دی کہ یہ خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
جناب والا جیسے کہ جناب نے خود ارشاد فرمایا تھا کہ جج کی زبان نہیں فیصلہ بولتا ہے تو میری بھی یہ ہی گزارش ہے کہ جناب والا اپنی یہ روش قائم رکھیں۔ عوام میں یہ تاثر اب عام پایا جاتا ہے کہ جو بھی چیف جسٹس صاحب اس معزز عہدہ پر براجمان ہوتے ہیں وہ آہستہ آہستہ اپنی ذاتی پروجیکشن کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ ایسے معاملات میں الجھ جاتے ہیں جو ان کی بنیادی ذمہ داری میں نہیں آتے جس کی وجہ سے وہ بنیادی کام نظر انداز ہو جاتے ہیں جن پر توجہ ان کی پوزیشن کا بنیادی تقاضا ہوتی ہے۔
جناب عالی! بطور عام شہری اور بطور قانون کے طالب علم، میری آپ سے دست بستہ گزارش ہے کہ آپ اس ملک کو اور اس کے دیگر اداروں کو درست کرنے کا بیڑا مت اٹھائیے گا، آپ کی حیثیت عدلیہ کے سربراہ کی ہے اور ماتحت عدالتیں، ان کا عملہ، وکیل حضرات اور لیٹی گینٹس آپ کی رعیت میں آتے ہیں اور قیامت والے دن ہر شخص سے اس کی اپنی رعیت کی بابت پوچھا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ یہاں پر بہت کچھ غلط ہو چکا ہے جس کو درست کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگر آپ نے سابقہ چیف جسٹس صاحبان کی طرح دیگرے اداروں کی صلاح کا بیڑا اٹھا لیا تو آپ کا اپنا ادارہ اک بار پھر نظر انداز ہو جائے گا۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ بس اپنے ادارے، میرے ادارے کو درست سمت مہیا کر دیں۔
جناب والا اس حوالے کچھ اور بھی کہنے کی جرت کرنے لگا ہوں امید ہے آپ اس گستاخی کو بھی نظر انداز کر کے اس کے مثبت پہلو پر غور کریں گے۔
ماتحت عدلیہ خاص طور پر ضلع اور تحصیل کی سطح پر جو عدالتیں ہیں ان کی بہتری کے لیے بہت سارے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں نئی عدالتوں کا قیام، نئے ججز کی تقرری، ان کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ لیکن کوئی ایسا طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا جس سے یہ معلوم ہو کہ ججز اور وکلاء کو اک اکائی سمجھ کر پالیسی بنائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وکلاء اور ججز کی انٹریکشن اس طرز پر نہیں جیسے ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں اک اور گزارش ہے کہ بنیادی عدالتوں کے ججز صاحبان کو ادارے کی طرف سے یہ اعتماد بھی دیا جانا چاہیے کہ وہ جرم کی نوعیت دیکھ کر نہیں قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔
دفعہ 302 کے کیس میں بہت ہی کم چانس ہے کہ ضلع سطح پر آپ کی بعد از گرفتاری کی درخواست ضمانت منظور ہو جائے گئی اس لیے حالات یہ ہیں کہ ضلعی سطح پر درخواست دینے سے پہلے عدالت عالیہ کے لیے وکیل پہلے تلاش کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سول سائیڈ پر آئیں تو ضلعی سطح پر 80 فیصد تک نیچے والا فیصلہ بحال رکھا جاتا ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے کوئی مصدقہ فیکٹس نہیں۔ میری درخواست ہے کہ ججز صاحبان کو نہ صرف اختیار دیے جائیں بلکہ ان کو یہ اختیار استعمال کرنے کی جرت بھی محکمہ کی طرف سے دی جائے تاکہ ان کو یہ ڈر نہ ہو کہ کل اس بات پر انکوائری آ جائے گئی۔
اس لے علاوہ ججز صاحبان کی سالانہ کارگردگی بابت معیار کو جانچنے کا کوئی معیار نہیں، کیس ڈسپوزل کسی معزز جج کی قابلیت کو جانچنے کا کوئی معیار نہیں بعض اوقات اس دوڑ میں بھی انصاف نہیں ہو پاتا۔ میرا خیال ہے کہ اے سی آر کی بنیاد پر تمام ججز اپنے وقت پر ترقی پا جاتے ہیں اور ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا کسی جگہ ان کے سنائے گئے فیصلہ بھی زر بحث آتے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی ترقی کی جا سکے؟
جناب عالی اس حوالے سے اگر آپ نے کوئی تجاویز لینی ہوں تو تحصیل سطح پر کام کرنے والے چھوٹے وکیلوں سے تجاویز حاصل کی جائیں۔ میریٹ یا سرینا میں ہونے والی کانفرنس میں ان لوگوں کے مسائل تو سامنے آ سکتے ہیں جو کروڑوں روپے لگا کر پنجاب بارکونسل، ہائی کورٹ بار، سپریم کورٹ بار وغیرہ کے ممبر بن سکتے ہیں ان کے مسائل نہیں جو سال بعد اچھے کھانے کے لالچ میں، بجلی کے بل جمع کروانے کے لالچ میں، دو ماہ کے راشن، لوکل کمیشن کے لیے جاری ہونے والی لسٹ میں نام اور اس جیسے مفادات کے لیے ووٹ دیتے ہیں، لفظ چھوٹے چھوٹے مفادات کو کاٹ کر صرف مفادات لکھا ہے کیونکہ جناب والا ان کے لیے یہ چھوٹے چھوٹے مفادات لائف لائن کا کام کرتے ہیں۔
جناب والا! کوئی بھی کام کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھانا مشکل ہوتا ہے اور میں نے یہ چند سطور لکھ کر یہ پہلا قدم اٹھا لیا ہے اس لیے اب بہت سی باتیں ذہن میں ہیں لیکن خط کی طوالت کے خوف سے آخر میں بس اتنی سے گزارش ہے کہ میں را آپ کے بارے میں حسن زن ہے کہ آپ شاید اس ادارے میں بہتری لا سکیں اس لیے یہ خط لکھنے کی جرت کر رہا ہوں مقصد اک عام شہری اور بنیادی لیول کے وکیل کی حالات زار آپ کے گوش گزار کرنی تھی، امید کرتا ہوں کہ اس جرت کو گستاخی نہیں سمجھا جائے گا اور رحم کا معاملہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا جائے گا۔ اللہ تعالی آپ کا اقبال بلند کرے۔
دعا گو
جہانگیر محمود بیگ ایڈووکیٹ


