چیف جسٹس آف پاکستان کے نام


محترم جناب قاضی فائز عیسی صاحب السلام علیکم

سب سے پہلے تو چار سالہ کٹھن مراحل اور مشکل دور کے بعد پاکستان کا سب سے زیادہ قابل عزت و احترام قاضی القضا کا منصب مبارک ہو۔ ساتھ ہی بحیثیت ایک قلم کے مزدور اور عام پاکستانی چند گزارشات پیش خدمت ہے۔

پاکستان کے عدالتی نظام میں 38 سالہ تجربے کے بعد آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اس نظام کی خامیاں کیا ہے اور ان خامیوں کو کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔ مثلا۔ افتخار چوہدری کی جوڈیشل ایکٹیو ازم اور پھر جسٹس ثاقب نثار کی مافوق الفطرت اختیارات کے حصول اور استعمال کے بعد سے سپریم کورٹ آف پاکستان اختیارات کا مرکز و منبع بن گیا ہے۔ حالانکہ جمہوری معاشروں میں پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ سمجھا جاتا ہے اور تمام ریاستی اداروں کو پارلیمنٹ کی حق قانون سازی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آئین پاکستان اعلی عدلیہ کو پارلیمنٹ کی قانون سازی کا جائزہ لینے کا حق دیتا ہے مگر اس حق کو نہایت احتیاط کے ساتھ، محدود پیمانے پر اور انتہائی ناگزیر صورتحال میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرنے کی بجائے آئین کو ری رائٹ کر رہی ہے۔ اور ایسا نہ لگے کہ شاید دونوں آئینی اداروں میں اختیارات اور سپر میسی کی کوئی جنگ جاری ہے۔

جناب چیف جسٹس صاحب، آپ کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت والی صورتحال ہے۔ آپ نے 13 مہینے میں بہت کچھ نہیں بلکہ سب کچھ کرنا ہے۔ کیونکہ قوم نے آپ کی اصول پسندی، دیانت داری، جمہوری سوچ اور مستقل مزاجی سے بہت امیدیں وابستہ کی ہے۔ قوم چاہتی ہے کہ آپ اپنا زیادہ تر وقت سیاسی اور آئینی کیسز سننے کی بجائے عدالتی اصلاحات پر صرف کیجئے۔ آپ نے بحیثیت چیف جسٹس اپنے پہلے ہی روز سپریم کورٹ عملے سے بات چیت کرتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ لوگ یہاں خوشی سے نہیں مجبوری سے آتے ہیں انہیں مہمان سمجھ کر ان کی میزبانی کیجئے۔ اگر آپ اپنے دور میں صرف اس ایک جملے (خوشی نہیں مجبوری سے، مہمان سمجھ کر میزبان بنے ) کو ہائی کورٹس اور ماتحت عدلیہ تک توسیع دینے اور لاگو کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقین جانیے عوام کے 50 فیصد مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔

سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی و آئینی کیسز لینے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ جب رجسٹرار کسی کیس پر اعتراض لگاتا ہے تو با اثر لوگ اپیل کر کے راتوں رات اعتراضات ختم کراتے ہیں اور اگلے دن کیس لگانے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ اس عمل سے معمول کے ہزاروں مقدمات مزید التوا میں چلے جاتے ہیں۔

ملکی اور قومی اہمیت کی ایک آدھ کیس کی ترجیحی بنیاد پر مقرر کرنے کی تو سمجھ آتی ہے مگر ہر سیاسی رہنما کے ہر کیس کو لازما ترجیحی طور پر لگانا اور سننا ان قیدیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جو سالہا سال سے جیلوں میں اس لئے پڑے ہیں کہ سپریم کورٹ میں ان کے کیس کا نمبر نہیں آتا ہے۔ کیا انصاف اور عدالت کے سامنے تمام شہری برابر نہیں؟

جہاں تک پاکستان میں لوئر جوڈیشری کا تعلق ہے یہاں کے انتہائی پیچیدہ طریقہ کار اور وکلا کے غیر ضروری تاخیری حربوں نے عوام کو ماتحت عدلیہ سے متنفر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے برعکس کیسز نمٹانے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مصدقہ سی سی ٹی وی ویڈیو یا تصویری شہادتوں کے بعد مزید شہادتیں مانگی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مصدقہ ٹیلی فونک گفتگو، ویڈیو یا آڈیو کالز کی ریکارڈنگ اور موبائل یا سی سی ٹی وی ویڈیوز کو مکمل شہادت کے طور پر قبول کرنے کے لئے راہ ہموار کی جائے۔ تاکہ جھوٹے انسانی گواہوں اور ان کے پیش ہونے یا نہ ہونے کے تاخیری حربوں کو کم کیا جا سکے۔

مقدمات نمٹانے کے لئے ایک مناسب ٹائم فریم بنانا ناگزیر ہے۔ تاکہ وکلا کے تاخیری حربوں کو محدود کیا جا سکے۔

مقدمہ جھوٹا ثابت ہونے پر متاثرہ فریق یعنی مدعا علیہ کا تمام خرچہ بھی مدعی سے وصول کرنے کا قانون بنایا جائے تاکہ جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

دہشت گردی یا انتہائی خطرناک قتل کے ملزمان کے علاوہ ملزموں کو ضمانتیں دینے کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ جیلوں پر بوجھ، سرکاری خرچہ اور ملزمان کو بے گناہ جیل میں رکھنے کی شرح کو کم کیا جا سکے۔

اگرچہ تفتیش عدلیہ کا نہیں پولیس کا کام ہے، اور پولیس میں بھی تفتیش کا الگ عملہ ہوتا ہے مگر رشوت کی وجہ سے 80 فیصد کیسز کو شروع ہی میں جان بوجھ کر کمزور یا مضبوط بنایا جاتا ہے جس طرف سے زیادہ پیسے ملے۔ تفتیشی افسران کیس کا جھکاؤ اسی طرف کرنے میں اپنی مہارت استعمال کرتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے تجربے اور عوام کے درد کا احساس رکھتے ہوئے اس مسئلے کا بھی کوئی حل نکالے۔ تاکہ عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو پیدا کرنے کی طرف سفر شروع کیا جا سکے۔ ورنہ موجودہ صورتحال اور عوام کی جانب سے پولیس عدالت سیاست اور ریاست سے مایوسی قوم کے مخدوش مستقبل کی نشاندہی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ان تیرہ مہینوں میں قوم کے مستقبل کو مخدوش سے محفوظ بنانے کا وسیلہ بنائے۔ کیونکہ قوم کی امیدیں آپ سے وابستہ اور قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

فقط : شمس مومند پشاور

Facebook Comments HS

One thought on “چیف جسٹس آف پاکستان کے نام

  • 20/09/2023 at 3:21 شام
    Permalink

    عوام نے جس کے ساتھ بھی امیدیں وابسته کئیں اس نے افتخار چوهدری والا رویه اپنایا

    الله خیر کرے هوئی اب بھی نه هو جائے‌

Comments are closed.