مارگلہ کی پہاڑیوں سے


شام کے سائے افق تا افق پھیل رہے تھے۔ آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے یوں پھیلے ہوئے تھے گویا قافلے سے بھٹکے ہوئے کچھ مسافر منزل کی جستجو میں سرگرداں ہوں۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی دھوپ صرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر باقی رہ گئی تھی۔ میں نے اپنے قدموں کی جانب دیکھا تو میرا آدھا دھڑ شام کے سائے میں ڈوبا ہوا تھا اور سینے سے اوپر کے حصے پر سورج کی الوداعی شعاعیں بکھری ہوئی تھیں۔ میں نے سوچا آج میری سوچوں کے دھارے بھی اسی طرح دو سمتوں میں بہہ رہے ہیں جیسا کہ میرا جسم اندھیروں اور اجالوں میں تقسیم ہے۔

رات بارہ بجے اسلام آباد کے ائر پورٹ سے میرا جہاز اڑان بھرنے والا تھا اور میں ملک پاکستان سے ہمیشہ کے لیے چلے جانے یا اسی سرزمین میں مرتے دم تک رہنے کے بیچ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ مارگلہ کی پہاڑی پر کھڑے کھڑے میں نے اپنے وطن عزیز کو تصور کی آنکھ سے دیکھا اگرچہ شام کے گہرے سایوں میں منظر دھندلا رہا تھا مگر دل کی نگاہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے صاحبان اقتدار کو پرلطف زندگی گزارتے صاف دیکھ رہی تھیں۔

ان کے جنت نما مکانوں کے خوبصورت سرسبز باغیچوں پر بہاریں ٹوٹ کر آئی تھیں۔ انہی اشرافیہ کی بیویوں اور بیٹیوں کے زرق برق لباس اور لہراتے آنچل دلوں کے تار چھیڑے دیتے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی جشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں جو رات گئے تک جاری رہنے والا تھا۔ گیراجوں میں کھڑی قیمتی قیمتی گاڑیاں، طرح طرح کے کھانوں سے سجی میزیں، نوکروں چاکروں کی دست بستہ لمبی قطاریں اور دل پذیر بناؤ سنگھار ان کی پرتعیش زندگی کا پتا بتا رہے تھے۔ پنڈی اور اسلام آباد کے صاحبان اقتدار کے احوال دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ میں نے سوچا اس قدر امیر اور آرام دہ ملک کو چھوڑ کر جانا حماقت کے سوا اور کچھ نہیں۔

اچانک میری تصوراتی نگاہوں نے ایک اور منظر دیکھا تھا۔ دور بلوچستان کے صحراؤں میں پیادہ پا چلتے غریب بلوچ کسی گندے پانی سے بھرے تالاب کے کنارے رک گئے تھے پیاس بجھانے کی خاطر اس گدلے پانی کے سوا ان کے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ تھر کے صحراؤں میں کوئی بچہ بھوک سے سسکتا ہوا صاف نظر آ رہا تھا۔ دور کہیں جنوبی پنجاب کے کسی پسماندہ گاؤں میں بوڑھا کسان لرزتے ہاتھوں کے ساتھ مکان کی تعمیر میں مصروف تھا۔ شاید اس کا مکان سیلاب کے منہ زور ریلے بہا لے گئے تھے۔

کوئی شہری گردن جھکائے ایک کاغذ کے ٹکڑے کو بار بار پڑھ رہا تھا یقیناً وہ بجلی کا بل ہو گا جو اس کی بساط سے زیادہ بھیج دیا گیا تھا۔ کم سن بچوں سمیت ایک پورا خاندان بھٹہ خشت پر اینٹیں بنانے میں مصروف تھا مگر میں جانتا تھا کہ دن بھر کی یہ مشقت بھی ان بے چاروں کو دو وقت روٹی دینے سے قاصر رہے گی۔ رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، خوانچہ فروش اور سسکتے روزینہ داروں کی حالتیں دیکھ کر میری آنکھوں سے دو آنسو نہایت خاموشی سے نکل کر چہرے پر بہنے لگے تھے اور میرا دل کسی بڑی عدالت کے قاضی کی طرح فیصلہ سنا رہا تھا کہ اس ملک کو چھوڑ جانا مناسب ہے۔ سورج مکمل غروب ہو گیا تھا میں نے اپنا سفری بیگ کندھے سے لٹکایا اور پہاڑی سے اترتا ہوا ائر پورٹ کی جانب روانہ ہو گیا۔

Facebook Comments HS