ایشین گیمز کی تاریخ (دوسرا اور آخری حصہ )


ایشین گیمز کا 12 واں ایڈیشن اکتوبر 1994 میں ہیروشیما میں منعقد ہوا تھا۔ ان کھیلوں کا بنیادی موضوع ایشیائی ممالک کے درمیان امن اور ہم آہنگی کا فروغ تھا۔ یہ مقام جوہری بم دھماکوں کا مقام تھا۔ 1994 میں ہیروشیما میں منعقدہ ایشین گیمز میں تائیوان کی واپسی ہوئی اور سابق سوویت یونین سے آزاد ہونے والے پانچ وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کا اضافہ ہوا۔ یہ کھیلوں کا پہلا ایڈیشن تھا جو کسی غیر دارالحکومت شہر میں منعقد ہوا تھا۔

پہلی خلیجی جنگ کی وجہ سے عراق کو کھیلوں سے معطل کر دیا گیا تھا۔ سرکاری ماسکٹ سفید کبوتر، پوپو اور کوکو کا ایک جوڑا تھا، جو امن اور ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا تھا۔ 42 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس کی کل تعداد 6,828 تھی۔ ان گیمز میں چونتیس کھیلوں کا انعقاد کیا گیا جن میں بیس بال، کراٹے اور جدید پینٹاتھلون شامل تھے۔ چین 125 گولڈ، 83 سلور اور 58 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر لگاتار چوتھی بار سرفہرست رہا۔ اور گیمز میں مجموعی طور پر 1,081 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا 13 واں ایڈیشن دسمبر 1998 میں بینکاک میں منعقد ہوا۔ یہ ایونٹ کا پہلا ایڈیشن تھا جس کے لئے بولی لگانے کا عمل منعقد کیا گیا تھا۔ بینکاک نے تائی پے اور جکارتہ کو شکست دے کر میزبانی کے حقوق حاصل کیے۔ یہ چوتھا موقع تھا جب تھائی لینڈ کے دارالحکومت نے میزبانی کی تھی۔ ان کھیلوں میں 41 قومی اولمپک کمیٹیوں کے مجموعی طور پر 6,554 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ چین اس بار بھی 129 طلائی، 78 چاندی اور 67 کانسی کے تمغوں کے ساتھ سرفہرست رہا اور مجموعی طور پر 1223 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا 14 واں ایڈیشن ستمبر اور اکتوبر 2002 میں بوسان میں منعقد ہوا تھا۔ یوں بوسان 1986 کے میزبان سیول کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کھیلوں کی میزبانی کرنے والا دوسرا جنوبی کوریائی شہر بن گیا۔ 38 کھیلوں میں 44 ممالک کے 6,572 ایتھلیٹس نے ان گیمز میں حصہ لیا۔ ایشین گیمز کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ اولمپک کونسل آف ایشیا کے تمام 44 رکن ممالک نے شرکت کی۔ شمالی کوریا نے ایک بے مثال وفد جنوبی کوریا بھیجا تھا اور 1996 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان ایشین گیمز میں واپس آیا تھا۔ باڈی بلڈنگ نے ان گیمز میں اپنا آغاز کیا۔ چین ایک بار پھر 150 طلائی، 84 چاندی اور 74 کانسی کے تمغوں کے ساتھ تمغوں کی فہرست میں سرفہرست رہا۔ اور مجموعی طور پر 1350 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا 15 واں ایڈیشن دسمبر 2006 میں دوحہ میں منعقد ہوا۔ قطر کا دارالحکومت 1974 میں تہران کے بعد کھیلوں کی میزبانی کرنے والا مغربی ایشیا کا دوسرا شہر بن گیا۔ اولمپک کونسل آف ایشیا کے تمام 45 رکن ممالک نے اس ایونٹ میں حصہ لیا۔ پہلی بار ایونٹ کو یورپ میں نشر کیا گیا۔

ایشین گیمز کا 16 واں ایڈیشن نومبر 2010 میں گوانگچو میں منعقد ہوا۔ اس طرح گوانگچو 1990 کے میزبان بیجنگ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کھیلوں کی میزبانی کرنے والا چین کا دوسرا شہر بن گیا۔ 45 قومی اولمپک کمیٹیوں کے کل 9,704 کھلاڑیوں نے 42 کھیلوں میں حصہ لیا۔ ماسکٹ کو اے ژیانگ، اے ہی، اے رو، اے یی اور لی یانگ یانگ کا نام دیا گیا تھا۔ چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ نے گوانگ ڈونگ اولمپک اسٹیڈیم میں گوانگچو 2010 ایشین گیمز کا باضابطہ افتتاح کیا۔ میزبان چین نے 199 طلائی، 119 چاندی اور 98 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر اپنی حکمرانی قائم رکھی۔ اس ایونٹ میں مجموعی طور پر 1,577 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا 17 واں ایڈیشن ستمبر اور اکتوبر 2014 میں انچیون میں منعقد ہوا۔ جنوبی کوریا نے 1986 کے میزبان سیول اور 2002 کے میزبان بوسان کے بعد انچیون میں ایشین گیمز منعقد کر کے تیسری بار اولمپک کونسل آف ایشیا کے شو پیس ایونٹ کا انعقاد کیا تھا۔ 45 قومی اولمپک کمیٹیوں کے کل 9,501 کھلاڑیوں نے 36 کھیلوں میں حصہ لیا۔ تین سیل بہن بھائی کھیلوں کے سرکاری ماسکٹ تھے۔ انہیں بارامے، چومورو اور ویچوون کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب، رقص اور روشنی ہے، ان کا انتخاب شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان مستقبل کے امن کی علامت کے طور پر کیا گیا تھا۔ ایک بار پھر چین 151 طلائی، 109 چاندی اور 85 کانسی کے تمغوں کے ساتھ تمغوں کی فہرست میں سرفہرست رہا۔ اور مجموعی طور پر 1,454 تمغے دیے گئے۔

18 ویں ایشین گیمز انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں 18 اگست سے 2 ستمبر 2018 تک 16 روز تک جاری رہے۔ جکارتہ بینکاک اور نئی دہلی کے بعد دوسرے ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کا حق حاصل کرنے والا تیسرا دارالحکومت تھا۔ پالیم بانگ 2018 کے ایشیائی کھیلوں کا شریک میزبان شہر تھا۔ اس میں کل 40 کھیل تھے، جن میں 32 اولمپک کھیل اور 8 غیر اولمپک کھیل شامل تھے۔ کھیلوں میں 45 ممالک اور خطوں نے حصہ لیا۔ اس کا نعرہ تھا ”ایشیا کی توانائی“ ۔

19 ویں ایشین گیمز 23 ستمبر سے 8 اکتوبر تک مشرقی چین کے صوبہ جے جانگ کے صدر مقام ہانگ چو اور پانچ مشترکہ میزبان شہروں ننگبو، وینژو، جنہوا، شاؤسنگ اور ہوژو میں منعقد ہوں گے۔ ہانگ چو ایشین گیمز کے تمام 40 بڑے ایونٹس، 61 ذیلی ایونٹس اور 483 سب ایونٹس کا تعین کیا جا چکا ہے۔ تمام 56 وینیوز اور 31 تربیتی مقامات تیار ہیں، اور ایشین گیمز ولیج اور ذیلی ولیج بھی استعمال کے لئے تیار ہیں۔ اس بار ان گیزم کی خاصیت ان کا ماحول دوست ہونا ہے کیوں کہ چین کے ترقیاتی اہداف میں شامل ماحول کے اعداد و شمار کے حصول میں چین میں سبز توانائی کے استعمال کو عام بنایا جا رہا ہے۔ ہانگ چو گیمز کو ماحول دوست قرار دینا اور اس سلسلے میں تمام کوششیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

Facebook Comments HS