بھوک اور خوف کا عذاب


ابتدائے آفرینش سے انسان جن مسائل سے نبرد آزما چلا آ رہا ہے ان میں بھوک اور خوف سر فہرست ہیں۔ یہی وہ بنیادی محرکات ہیں جو نظم انسانی کی داغ بیل ڈالنے کا سبب بنے اور یہیں سے انسان کے تہذیبی سفر کا آغاز ہوا۔ خاندانی و قبائلی ڈھانچوں سے لے کر ریاست کی تشکیل تک کا سفر طے کرنے میں ان دو عناصر نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

نعمتوں میں رزق کی کشادگی اور امن کی دستیابی سب سے بڑی نعمتیں جب کہ عذابوں میں بھوک اور خوف سب سے بڑے عذاب کے طور پر گنوائے گئے ہیں۔

عرب کی قبائلی معاشرت میں جن دو عفریتوں کا ذکر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے وہ بھوک اور خوف ہی ہیں۔ قریش مکہ کو رب کعبہ کا خطاب یاد دہانی کراتا ہے کہ وہی اللہ ہے جس نے انہیں ’بھوک میں کھانا اور خوف میں امن‘ جیسی عظیم نعمتوں سے سرفراز کیا اور تحدیث نعمت میں انہیں خدائے واحد کی عبادت کی تعلیم و تلقین کی گئی۔

سورۃ النحل میں ایک تاریخی مثال دی گئی ہے جہاں ایک خوش حال و مطمئن بستی کے مکینوں کو بوجہ کفران نعمت اور برے کرتوتوں کے باعث بھوک اور خوف کے عذاب میں لباس کی طرح ملبوس کر دیا گیا۔

مومنین کو ان کے اعمال صالحہ کے بدلے جنت کی جن نعمتوں کی بشارت اور نوید سنائی گئی ہے ان میں خوف و حزن کی عدم موجودگی اور انواع و اقسام کی ضیافتوں کا ذکر نمایاں ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے انتہائی درجے کے فقر و فاقے سے پناہ مانگتے ہوئے اسے گمراہی اور کفر تک لے جانے کا سبب قرار دیا۔ گناہوں کے کفارے کی سبیل بھی غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا، بتائی گئی ہے۔

انسان کا تحقیقی و علمی سفر بھی تاریخ کے حرکیات کو کریدتا اور حال کی پیچیدگیوں کو کھوجتا ہوا اسی منزل پر پہنچا ہے کہ خواہش نفسی کی تکمیل اور امن کی آرزو ایسی جبلتیں ہیں جو تمدن انسانی کی عمارت کا سنگ بنیاد بنیں۔

اشتراکیت کے باوا آدم نے تو یہاں تک نشاندہی کی کہ معاشی قدر ہی تمام اقدار کا ماخذ و منبع ہے۔ معاشرت، ثقافت، سیاست، مذہب، غرض زندگی کا ہر پہلو معیشت کے دائرے میں سرگرداں ہے۔ طبقات کا وجود اور ان کے مابین کشا کشی و رسہ کشی کی وجہ نزاع بھی معاش سے پھوٹتی اور معاش ہی کے گرد گھومتی ہے۔ تاریخ کے حرکیات میں بھی دولت اور پیداواری عوامل کار فرما ہیں۔

جن معاشروں میں بھوک و افلاس اور خوف و حزن اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں وہاں سماجی، سیاسی معاشی، مذہبی و ثقافتی ڈھانچے لرزہ براندام ہیں۔ مفلوک الحالی اور امن و امان کی مخدوش و غیر یقینی صورتحال عدم استحکام کو جنم دیتی ہے اور ترقی و خوشحالی کے خواب کو دائم شرمندگی کا سامنا رہتا ہے۔

انسان کا تہذیبی و تمدنی سفر پرامن بقائے باہمی کے مثالی خیال سے شروع ہوا تھا جسے مہذب اور ترقی یافتہ اقوام حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ جہاں ارتقا کے اس عمل میں پیشرفت بوجوہ، سست روی یا تعطل کا شکار ہے وہاں بھوک، افلاس، مفلوک الحالی و بدحالی کے ڈیرے ہیں ؛ سکون محال ہے، امن مخدوش ہے، دو وقت کی روٹی معدوم ہے۔ غریب کے آسودہ حالی و خوش حالی کے خواب، یاس و حسرت کی نذر ہیں۔ آدمی کو آدمی سے خطرہ اور انسان انسان کا بیری ہے۔

تنگدستی کا سامنا نہ ہو تو ہی تندرستی ہزار نعمت
ہے وگرنہ زندگی از خود اک آزمائش، امتحان اور زحمت کا روپ دھار لیتی ہے۔ بقول شاعر؛
زندگی آ تجھے قاتل کے حوالے کر دوں
مجھ سے اب یہ خون تمنا نہیں دیکھا جاتا

جنگل کی فضا میں بھی کچھ قاعدے و ضابطے دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ہم جنسوں میں آپس کی مفارقت مثالی ہوتی ہے۔ دوسری طرف معاشی طور پر پسماندہ و درماندہ انسانی سماج ایک بھیانک تصویر پیش کرتا ہے جہاں انسان، انسان سے زندگی کی بھیک مانگتا ہے۔

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بلکہ ظالمانہ و جابرانہ قبضہ و ارتکاز، محرومیوں اور محروموں میں اضافے کا سبب بنتا چلا جاتا ہے۔ غالب اور وسائل پر قابض طبقات دن بدن آسودہ حال جب کہ مغلوب، مجبور و محروم عوام کی حالت زار بد سے بد ترین ہوتی چلی جاتی ہے۔

بھوک کے مارے، فنا کے خوف کے شکار، بقاء کی جبلت کے مجبور، انسان نما حیوانات معاشرتی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ ریاست و حکومت کے وجود سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ قوانین اپنی قوت نافذہ کھو دیتے ہیں۔ نظم اجتماعی کی فصیلوں میں نقب زنی عروج پر ہوتی ہے اور انجام کار انسانی سماج اپنی معنویت و مقصدیت کھو دیتا ہے۔ ایسے میں انسانی ہجوم حشرات الارض کا سماں باندھ دیتا ہے۔ یہ انسانوں کا مقام اسفل السافلین ہوتا ہے جن کے بارے اشرف المخلوقات کا الہامی خطاب بے معنی و بے سود ہو جاتا ہے۔

دور حاضر میں وطن عزیز کے عوام کو کڑے وقت کا سامنا ہے۔ غربت، افلاس، بھوک، خوف اور سراسیمگی کے بادل چھائے ہی نہیں ہوئے، چھما چھم برس رہے ہیں۔ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس میں غربائے وطن خس و خاشاک کی طرح بہہ رہے ہیں۔

زندگی ہے یا کوئی طوفاں ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

حالات میں بہتری کے امکانات مخدوش ہیں کیوں کہ حکومت کے تو جیسے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہیں۔ ریاست اور سول سوسائٹی کے بیچ تعلق میں دراڑیں پڑتی چلی جا رہی ہیں۔ معاشی سامراجیت کے ساہو کار اور گماشتے غریب کھال ادھیڑنے اور خون نچوڑنے میں مقابلے کا سماں باندھے ہوئے ہیں۔ ابن الوقت سرمایہ دار مافیا موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھو رہی بلکہ اشنان کر رہی ہے۔

بھوک اور خوف کا ایک عذاب ہے جو عوام الناس پر مسلط کر دیا گیا ہے جس کی شدت میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ درد دل رکھنے والے تمام آسودہ حال افراد کے لیے یہ وقت آزمائش اور امتحان کی گھڑی ثابت ہو رہا ہے۔

Facebook Comments HS