معیشت کو چمٹی دو جونکیں
پاکستان بد ترین معاشی بحران سے نبرد آزما ہے اور جب تک ہم مسائل کو طے شدہ طریقہ کار کی بجائے اپنی اپنی وضع کردہ حکمت عملی کے تحت حل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اس وقت تک مسائل بتدریج بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ پاکستان کا اول مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ادارے بار بار باہمی ٹکراؤ کا شکار ہوتے رہتے ہیں جب تک پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج کے تصادم کا شائبہ بھی موجود رہے گا اس وقت تک پائیدار ترقی کا حصول دیوانے کا خواب ہی ثابت ہو گا۔
تن تنہا کوئی ایک ادارہ امرت دھارا کا کردار ادا نہیں کر سکتا ہے بلکہ ایسی کوشش کرنے کے جو نتائج ماضی میں ہمیں ڈستے رہیں ہیں وہ ہی نتائج پھر منہ چڑا رہے ہوں گے۔ عدلیہ میں حالیہ تبدیلی سے یہ توقع بجا طور پر قائم کی جا سکتی ہے کہ اب گڈ ٹو سی یو کی ذہنیت صرف ماضی کا ایک تلخ باب ہی رہے گی اور عدالت سب کو ایک نظر سے دیکھیں گی۔ ویسے بھی نئے چیف جسٹس فائز عیسی خود ایک بحران، ایک سازش کا کامیابی سے مقابلہ کر کے اس منصب پر فائز ہوئے ہیں جس میں اس حد تک گھٹیا طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی اہلیہ تک کو اس میں گھسیٹ لیا گیا تھا۔
آج سے کوئی دو ڈھائی ماہ قبل ایک تقریب میں جسٹس قاضی فائز عیسی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ اس لئے سازش سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہے کہ آپ کا تعلق ایک با اثر خاندان سے ہے تو انہوں نے مجھے جواب دیا تھا کہ خدا کی عطاء تو ہر شے پر مقدم ہے لیکن اگر میں کسی کے دنیاوی طور پر حوصلہ دینے، ساتھ دینے کی بنا پر سازش کو ناکام بنا سکا ہوں تو وہ صرف میری اہلیہ ہے۔ ان کی تقرری کو ایک معمول کا واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے کیوں کہ وہ سازش کی ناکامی کے بعد اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے شخص ہے اور اسی سبب سے اس بات کی پذیرائی کی جانی چاہیے کہ جب انہوں نے چیف جسٹس پاکستان کے منصب کا حلف لیا تو ان کی اہلیہ ان کے ساتھ کھڑی تھی تا کہ یہ پیغام ان ماضی کے طاقتوروں تک پہنچ جائیں کہ تمہاری سب سازشوں کے باوجود تم ناکام ہو گئے ہو اور آئین پاکستان کامیاب ہو گیا ہے۔ یہ ان کی جانب سے ان کی اہلیہ کے لئے ایک احسان مندی کا اظہار تھا۔
اب ذمہ داری کا بار نئے چیف جسٹس پر عائد ہو گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو اس تصور سے جو کہ جولائی دو ہزار سترہ سے بری طرح مجروح ہو چکا نجات دلائے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سپریم کورٹ سب کی سپریم کورٹ ہے جو کہ صرف آئین، قانون کی پابند ہے اور اس کو ماضی قریب کی مانند آئین کو کسی کی بھی خواہش کے سبب سے ری رائٹ کرنے کا تصور تک بھی نہیں آ سکتا ہے۔
دوسرا مسئلہ بھی معیشت کو دیمک کی مانند چاٹ رہا ہے اور وہ دہشت گردی اور امن عامہ کی دن بدن بگڑتی ہوئی صورت حال ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ تو بلا شبہ افغانستان کی جانب سے ایک تسلسل کا نام ہے اور پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجائے اس میں مزید شدت لانے کی ذہنیت کا نام ہے۔ جب افغانستان کے حوالے سے تسلسل کا ذکر کیا جاتا ہے تو بہت سارے ”دانشور“ فوری طور پر دانشوری بگھارتے ہوئے اس صورت حال کا مورد الزام پاکستان کو، فوج کو ٹھہرانے لگتے ہیں کہ نا تو روسی مداخلت کے وقت پاکستان اپنا کردار ادا کرتا اور نہ ہی پاکستان کو افغانستان کی جانب سے مسائل کا مستقل طور پر سامنا کرنا پڑتا۔
حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی آزادی کے پہلے دن سے افغانستان کی جانب سے سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا رہا اور پاکستان سے دشمنی کا چورن وہاں ایسے بکتا رہا کہ یہ سب ہی وہاں بیچتے رہیں۔ جب انیس سو اڑتالیس میں افغانستان ”قبائل“ کے نام سے نئی وزارت قائم کر رہا تھا یا انیس سو اننچاس میں افغان فضائیہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں پاکستان کے خلاف پمفلٹ گرا رہی تھی یا انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے وقت مہمند ایجنسی کی جانب سے افغانستان نے مسلح مداخلت شروع کردی تھی جس کو مہمند کے غیور پٹھانوں نے ناکام بنایا تھا یا ظاہر شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد جب سردار داؤد نے ریڈیو پر اپنی پہلی تقریر میں پاکستان کے خلاف زہر اگلا تھا اور صورت حال اس حد تک خراب ہو گئی تھی کہ بھٹو اپنا انگلینڈ کا دورہ مختصر کر کے ہنگامی طور پر پاکستان لوٹ آئے تھے۔
یہ صرف دیگ کے چند دانے ہیں ورنہ ایسے اقدامات کی ایک لمبی چوڑی فہرست موجود ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی جانب سے ان تمام اقدامات کے باوجود کوشش کی کہ اس کے تعلقات اپنے ہمسایہ کے ساتھ معمول پر آ جائیں۔ ان کوششوں میں ذوالفقار بھٹو کے اس اقدام کو معروف سفارتی پہل سمجھی جاتی ہے کہ جب انہوں نے نومبر انیس سو تہتر میں انہوں نے افغان سفیر ڈاکٹر پوپل کو ایک سفارتی تقریب میں گرم جوشی سے گلے لگاتے ہوئے پھول پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”لٹ اس اینڈ دی وار آف دی روزیز“ مگر افغانستان کی جانب سے جواب میں ٹھینگا دکھا دیا گیا تھا۔
اس سب کو دوہرانے کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کوئی نئی نہیں ہے بلکہ افغانستان میں ایک ذہنیت موجود ہے اور اس ذہنیت سے نہ تو ماضی کی افغان حکومتیں دور تھی اور نہ ہی افغان طالبان کی حکومت کی کوئی اور سوچ ہے۔ اسی سبب سے بار بار مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جب تک یہ ذہنیت برقرار رہیں گی کابل سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نہیں چل سکیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو ان کی اس صلاحیت سے فی الفور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے مگر اس میں حقیقی معنوں میں کامیابی صرف اس وقت حاصل ہوگی جب افغان طالبان کی حکومت ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر کے اس کے احترام پر راضی ہو جائے گی کیوں کہ یہ ٹی ٹی پی کو کبھی کھل کر کھیلنے دینا کبھی کچھ اور حکمت عملی اختیار کرنا در حقیقت اس بات کی غماز ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد کا احترام نہیں کرتے ہیں اور اس حوالے سے ان کی سوچ بھی ماضی کی افغان حکومتوں کی مانند ہے۔

