اِس کا تالہ توڑیں گے


اس گلی کی عمر اس کی دو آنکھوں جتنی ہے، اور اس کی لمبائی اس کے قد برابر۔ نجانے وہ گلی میں رہتی ہے یا گلی اس میں۔ شام رات میں گھل رہی ہے اور وہ منڈیر پر کھڑی ہے۔ اپریل کی ہوا اس کے گالوں کو چھو رہی ہے۔ اور اس کے نیم گھنگھریالے بالوں میں کچھ نیم خوابیدہ خواب الجھے ہیں۔ آنکھیں گلی میں لٹکتی، بکھرتی، بہت سی تاروں میں الجھی ہیں۔ ’نظر‘ ان بے سری تاروں میں اٹکتی آ گے نکلنے کی جدوجہد میں ہے۔ لیکن پتلی پتلی ٹانگوں والے بچے، اور یہ کیا لمبی لمبی سیاہ خوفناک پیلی روشنی والی گاڑیاں بھی اسی گلی میں۔

اب ’نظر‘ یہ گلی کس طرح پار کرے آ خر؟ یہ کیسی عجیب گلی ہے، ’نظر‘ جھنجھلا اٹھی۔ امارت و غربت آ خر کس طرح ان الجھی لٹکتی تاروں کی طرح آ پس میں الجھ کر اکٹھی رہ رہی ہیں۔ اس کی کنپٹی سے بہت اونچا زہرہ جگر جگر کرتا اس بے چین سے بولا، ”تمہارا وطن بھی تو ایسا ہے جیسی یہ گلی ہے۔ تعیش اور افلاس کا بیاہ ہوا اور پھر ایک طرف ننگ دھڑنگ پتلی ٹانگوں والے پچوں کا ڈھیر اور ان کے اندر ہی یہ خوفناک پیلی روشنی والی گاڑیاں اڑانے والوں نے جنم لیا، اور تمہاری پوری دنیا بھی تو ایسی ہی ہے۔“

زہرہ کی کائناتی باتیں اس وقت کون سنے۔ ’نظر‘ تو تڑپ رہی ہے محض اس ایک گلی سے نکلنے کو٫ منصوبہ فرار کا ہے۔ وہ گلی کی نکڑ پر ایک دائرہ گھومتا سنتی ہے، اور دیکھتی بھی ہے۔ چند سانولے، گندمی بچے، اپریل کی ہوا میں شوخے ہوئے کھیلتے ہیں۔ ایک بچہ دائرے کے درمیان میں ہے۔ باقی اس کی گرد گھیرا ڈالے کھڑے ہیں۔ درمیان والا بچہ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر دائرے کی ایک جگہ پر رکھ کر کہتا ہے، ”اِس کا تالہ توڑیں گے“ ۔ دائرے والے بچے زور سے یک زبان ہو کر چلاتے ہیں، ”سپاہی کو بلائیں گے“ ۔

’نظر‘ یہ سب دلچسپی سے سنتی ہے اور سوچتی ہے، منڈیر پر کوئی بے جان دیوی کھڑی ہے جس کی ’نظر‘ گلی کا جائزہ لینے گئی ہے۔ خاموش! منصوبہ فرار کا ہے۔ وہ محض گھنگھریالے بالوں میں اٹکے خواب لے کر ’نظر‘ کے لوٹنے کی منتظر ہے۔ زہرہ مزے دار ہلکورے کھاتا اس کو دیکھتا ہے، مسکراتا ہے۔ آواز پھر سے آئی، اب کی بار پہلے سے زیادہ تنبیہ کرتی ہوئی، ایک کانپتی، پُرجوش، للکارتی آ واز۔ ”اِس کا تالہ توڑیں گے“ ۔ اب کے جواب میں پوری گلی اپنی مفلسی اور امارت سمیت چلائی، ”سپاہی کو بلائیں گے“ ۔

’نظر‘ نے زہرہ کے طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تو وہ جگر جگر بولا ”سپاہی خود چوری کرنے گیا ہے، تم تالہ توڑو“ ۔ ’نظر‘ نے منڈیر پر کھڑی بت کو دیکھا، اور پھر سے سنا ”اِس کا تالہ توڑیں گے“ اور اس بچے نے جھٹکے سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر باقی بچوں کے ہاتھوں سے بنائے دائرے پر ایک جگہ پوری قوت سے دے مارے، اور دائرہ توڑ ڈالہ۔ بچہ بھاگا، باقی بچے وحشت میں مبتلا قہقہے لگاتے اس کے پیچھے دوڑے۔ ’نظر‘ واپس دوڑی، ”چل چل بھاگ، بھاگ، ٹوٹ گیا تالہ، نکل، گلی سے“ ۔

وہ بال، آنکھیں، خواب، وہ نظر سب مل کر بھاگے، آ خر اتنی محنت سے تالہ توڑا تھا۔ لیکن۔ اچانک ساری الجھی، کھمبوں سے لٹکتی تاریں، کالی خوفناک گاڑیاں، مفلس امارت، مریل مسکراہٹیں، دھول مٹی میں گم گشتہ مردہ، بدبو دار جھلسی محبتیں، اتنے سپاہی اتنے۔ ہائے، اور تو اور ایک سانڈ سا داروغہ بھی۔ پل بھر میں ’نظر‘ اپنے پورے پنڈے سمیت دھر لی گئی۔ زہرہ ٹم ٹم کرتا دیکھتا رہا بس۔ یہ گلی نہیں پاتال تھا اور لہو لہان ’نظر‘ نے گھنگھریالے بالوں میں اٹکے خوابوں سے آ خری سرگوشی کی، ”اتنا بڑا دھوکہ، بتایا تو ہوتا، عمر گزاری فرار کے منصوبے بناتے، تالہ بھی توڑا، بھاگے بھی، لیکن داروغہ تو تمہارے اپنے اندر تھا“ ۔