میں، وہ اور خدا

عمر رواں نے جب کھیل کود کی دہلیز پار کی تو رفتہ رفتہ ادراک ہوا کہ میں ایک نہیں بے شمار ہوں۔ اپنے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو اپنی سمجھ، نا سمجھ کے مطابق نام دیے تو ایک سوال کا شدت سے سامنا کیا کہ میں کون ہوں؟ اور پھر اس سے وابستہ سوالات، کیوں ہوں؟ کب تک ہوں؟

عمر کے جوبن میں یہ سوالات مبہم ہو گئے۔ اور میں اپنی مجموعہ ذات میں بپا شور سے بظاہر بے نیاز زندگی کی رنگینیوں میں کھو گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زندگی میں ”وہ“ داخل ہوئے۔ ”وہ“ کون؟ وہ کبھی محبت کے روپ میں تو کبھی کسی خواب، مقصد، خواہش کے روپ میں۔ میں بھی ذات کی چکوری تھی مجھے چاند چاہیے تھا، محور، سکون اور تکمیل چاہیے تھی۔ چنانچہ میں محو طواف رہی۔ لیکن ایک طویل مستقل اور تھکا دینے والی لا حاصلیت، کرب کے لمحے بن کر میری روح میں رستی رہی، گھلتی ملتی رہی۔

Read more

بند کلیوں میں افسانے مت ڈھونڈو

کھلنے دو کہ کہانی خوشبو کی طرح بکھر جائے گی۔ یہ 1998 کی بات ہے غالباً۔۔۔ جب باؤ صاحب کو ہماری ایک نظم پڑھ لینے کا اتفاق ہوا۔ باؤ صاحب کو میں آج بھی یاد کروں تو ان کی ممتاز مفتیانہ شخصیت یادداشت کے کونوں کھدروں میں محفوظ ہے۔ نجانے ان بے ربط جملوں کا…

Read more