اِس کا تالہ توڑیں گے

اس گلی کی عمر اس کی دو آنکھوں جتنی ہے، اور اس کی لمبائی اس کے قد برابر۔ نجانے وہ گلی میں رہتی ہے یا گلی اس میں۔ شام رات میں گھل رہی ہے اور وہ منڈیر پر کھڑی ہے۔ اپریل کی ہوا اس کے گالوں کو چھو رہی ہے۔ اور اس کے نیم گھنگھریالے بالوں میں کچھ نیم خوابیدہ خواب الجھے ہیں۔ آنکھیں گلی میں لٹکتی، بکھرتی، بہت سی تاروں میں الجھی ہیں۔ ’نظر‘ ان بے سری تاروں میں

Read more

بھیڑیا سی

”میں تمہیں کیسی لگی“ ؟ اس نے مسکرا کر اس سے پوچھا۔ ”کانچ کی گڑیا ہو جیسے“ وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔ غیر محسوس طریقے سے وہ تھوڑا دور کھسک گئی۔ ”کیا چاہتی ہو؟ اس نے کچھ الجھ کہ سوال کیا۔“ چاہتی ہوں کہ تم مجھے ایک ابدی لمحے کی طرح مناؤ ”۔ پاس آ نے دو مجھے، میں اپنی وحشت کا قطرہ قطرہ انڈیل کر تم میں ایک ابدی لمحہ بوووں گا“ ۔ ”نہیں، وصل تمام نہ

Read more

کھل جا سم سم

کھل جا سم سم، کھل جا سم سم، اور دروازہ نہ کھلا وہ دستک دیتی رہی، وہ بڑا آ ہنی تالہ کھلتا ہی نہ تھا۔ روز رات کو جب روح بوکھلا کر رقص ہجراں پر اترتی ہے، بھٹکتی ٹھوکریں کھاتی پھر اس بند دروازے پر جاتی ہے۔ کون سا طلسم ہے آ خر جو اس دروازے کو کھلنے نہیں دیتا؟ کون سا منتر ہے جس کو پڑھنے سے یہ دروازہ کھل جائے؟ آج پھر مکالمہ شروع ہوا۔ ’لیکن تم اس

Read more

کاکروچ ہی بہتر ہے

عدالت کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا، جج کے آتے ہی شور اچانک بلند ہو کر وہیں رک گیا، جیسے کسی نے آہستہ آہستہ ریموٹ کا بٹن دبا کے ٹی وی کی آواز بند کی ہو۔ جج نے اپنی کرسی سنبھالی اور اردگرد دیکھا۔ کالا کوٹ سنبھالتا ہوا ایک وکیل اٹھ کھڑا ہوا۔ ’جناب عالی اگر آپ اجازت دیں تو عدالت کی کارروائی شروع کی جائے‘ ۔ ’ہاں اجازت ہے، لیکن ملزم کدھر ہے‘ ؟ جج نے سوالیہ نظروں

Read more

لاملبوس

سحری۔ ’کیا یہ بھیجے جانے کے لیے تیار ہے‘ ؟ ایک نے دوسرے سے سوال کیا۔ ’ہاں تقریبا‘ دوسرے نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ ’غور سے دیکھ لو کچھ رہ نہ گیا ہو‘ ۔ ہم ان کو سن رہے تھے، پھر اچانک ہمارے چہرے پہ لگے دو موتی روشن ہو گئے اور اچانک ہم دیکھنا بھی شروع ہو گئے۔ یہ دیکھ اور سن رہے ہیں، کام پورا ہو چکا ہے۔ پہلے نے دوسرے کو بتایا۔ ’سمجھ رہے ہیں‘ ؟ دوسرے

Read more

ٹوٹا ہوا تسلسل،وہ بھی مسلسل

میں حوا کا پرتو ہوں۔ ہم دونوں آ منے سامنے کھڑی تھیں۔ میں نے اس کو دیکھا اس کے مدھر وجود سے محبت ناز، تخیل، فرصت، رنگ، موسیقی سب پھوٹے پڑتے تھے۔ وہ جنت کے حسین پھولوں سے لدے، دودھ اور شہد کی آبشاروں، جھرنوں اور ندیوں والے باغ کی مکیں تھی۔ اپنی حیران ہوتی صندلی آنکھوں سے وہ اس حسن کو دن رات گھونٹ گھونٹ پیتی تھی۔ وہ حوا تھی، خالق کے حسن و جمال کی انتہا۔ جب آدم

Read more

کثرت خوشی کشید نہ کر پائی

وہ اپنی گاڑی پر روزانہ ادھر سے گزرتی تھی۔ آج ادھر کھڑی پھولوں والی لڑکی کو دیکھ کر اس نے گاڑی روکی۔ اس کو شروع سے پھول بہت پسند تھے۔ لڑکی کے نزدیک آنے پر اس نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا۔ ایک لمحے کے لیے وہ اس کے معصوم حسن سے مرعوب ہو گئی۔ اس نے اپنے سر کے گرد پھولوں کا ہالہ جڑا تھا اور ہاتھوں میں گجرے اٹھا رکھے تھے۔ بھوری آنکھوں والی یہ پھولوں والی لڑکی ان پھولوں سے وابستہ نہ تھی۔ اس کو تو چند روپے چاہیے تھے تا کہ وہ وہ رات کی روکھی سوکھی روٹی لے کر جائے، خود سے بھی چھوٹے تین بہن بھائیوں کے لیے۔

وہ میڈم تھی بہت بڑی کالی کار میں جس نے اس کے پاس آ کر گاڑی روکی، پھول خریدنے کو ۔ پھول تو لے لیے لیکن ایک خواہش اس لمحے میں اس کے لیے پھانس بن گئی۔ دل کی اداسی اور بڑھ گئی۔ اس کو اپنے آباد دل کی یاد آئی۔ وہ اپنا شاداب وقت خریدنا چاہتی تھی۔ پھول تو خرید لیے لیکن دل کی ویرانی کا کیا کرے؟

Read more

زمانہ گواہ ہے

زمانہ ازل سے ابد تک مقرر کیا جا چکا ہے ایک پیمانے کی طرح، اور انسان اس غلط فہمی میں رہا کہ وقت گزر رہا ہے۔ غور کریں وقت کا کوئی بچپن نہیں کوئی جوانی نہیں کوئی بڑھاپا نہیں، تو کون گزر رہا ہے؟ وقت یا خود انسان؟ کیونکہ یہ مراحل انسان پر آتے ہیں، وقت پر نہیں۔ وقت کے پیمانے پر چلتے چلتے ہر انسان اپنی باری پر اتر جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ وقت نہیں گزرتا ہم

Read more

قحطِ جناح میں مبتلا

آج مجھے مسز سیال کو کتابیں واپس دینے جانا تھا جب میں گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو وہ بالوں میں کوئی غیر معروف سا پھول سجائے پودوں کی آبیاری کر رہی تھی۔ دن ڈھلنے کو تھا لیکن تپش کا احساس برقرار تھا۔ ان کے نزدیک ہی ان کا آٹھ سالہ نواسہ ویل چیئر پر بیٹھا تھا جبکہ ایک نوعمر لڑکی اس کے سامنے بیٹھی جھاگ کے بلبلے بنا رہی تھی جن کو ہوا میں اڑتے گھومتے دیکھ کر وہ مبہم آوازیں نکالتا اور ہاتھوں سے تالیاں بجانے کی کوشش کرتا تھا۔

میرے جانے پر مسز سیال میری جانب پلٹیں اور مسکرائیں۔ وہ ایک عہد کا چہرہ تھا جو نجانے کیا کیا دکھ جھیل چکا تھا۔ سلام دعا کے بعد ہم ان کے گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل دیے۔ میں نے ان سے کتابیں دیر سے لوٹانے پر معذرت کی اور انہیں بتایا کہ جون میں کرونا وائرس کے بہت زیادہ پھیلاؤ کے سبب میں نے خود کو بالکل گھر تک محدود کر لیا تھا لیکن آج آپ سے ملنے کو بہت دل چاہ رہا تھا اس لیے آ گئی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولیں، ’احتیاط اچھی ہے اور ویسے بھی آپ اس قوم کا حصہ ہیں جو لاوارث ہے۔

Read more

طلبا: انہیں اہم جانیے

انسان تمام عمر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ترجیحات کی صورت بٹا رہتا ہے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ معاشرے میں معاشی اور معاشرتی مقام حاصل کرنا ہے۔ عورت ہو یا مرد، چند کو چھوڑ کر زیادہ تر کے تخیل و مقاصد کی پرواز ایک دن ہی ہوتا ہے۔ اور ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے، انسان اپنی بے پایاں توانائی کا اندازہ نہیں کر پاتا اور یوں اپنے کردار کا مناسب تعین کیے بنا زندگی کی سٹیج سے اتر جاتا ہے۔

اور ہمارے بہت سے المیوں میں سے ایک المیہ اپنے کردار کو معمولی سمجھنا ہی ہے۔ حالانکہ خالق کے وسیع کینوس پر ہم بہت ہی چھوٹا ٹکڑا کیوں نہ ہوں آخر اس کی شاہکار تصویر کا حصہ ہیں۔ یہ عموماً اس لیے ہوتا ہے کہ ہم معاشرے کی عینک اپنی آنکھوں سے نہیں اتار پاتے جبکہ انسان بہت حد تک اپنے معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے۔

Read more

میں، وہ اور خدا

عمر رواں نے جب کھیل کود کی دہلیز پار کی تو رفتہ رفتہ ادراک ہوا کہ میں ایک نہیں بے شمار ہوں۔ اپنے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو اپنی سمجھ، نا سمجھ کے مطابق نام دیے تو ایک سوال کا شدت سے سامنا کیا کہ میں کون ہوں؟ اور پھر اس سے وابستہ سوالات، کیوں ہوں؟ کب تک ہوں؟

عمر کے جوبن میں یہ سوالات مبہم ہو گئے۔ اور میں اپنی مجموعہ ذات میں بپا شور سے بظاہر بے نیاز زندگی کی رنگینیوں میں کھو گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زندگی میں ”وہ“ داخل ہوئے۔ ”وہ“ کون؟ وہ کبھی محبت کے روپ میں تو کبھی کسی خواب، مقصد، خواہش کے روپ میں۔ میں بھی ذات کی چکوری تھی مجھے چاند چاہیے تھا، محور، سکون اور تکمیل چاہیے تھی۔ چنانچہ میں محو طواف رہی۔ لیکن ایک طویل مستقل اور تھکا دینے والی لا حاصلیت، کرب کے لمحے بن کر میری روح میں رستی رہی، گھلتی ملتی رہی۔

Read more

بند کلیوں میں افسانے مت ڈھونڈو

کھلنے دو کہ کہانی خوشبو کی طرح بکھر جائے گی۔ یہ 1998 کی بات ہے غالباً۔۔۔ جب باؤ صاحب کو ہماری ایک نظم پڑھ لینے کا اتفاق ہوا۔ باؤ صاحب کو میں آج بھی یاد کروں تو ان کی ممتاز مفتیانہ شخصیت یادداشت کے کونوں کھدروں میں محفوظ ہے۔ نجانے ان بے ربط جملوں کا ان کے دل پر کیا اثر ہوا کہ وہ میرے اس سو ڈگری کے جذباتی ابال کو شہر کے ایک معروف شاعر کو پڑھوانے پر

Read more