آج مجھے مسز سیال کو کتابیں واپس دینے جانا تھا جب میں گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو وہ بالوں میں کوئی غیر معروف سا پھول سجائے پودوں کی آبیاری کر رہی تھی۔ دن ڈھلنے کو تھا لیکن تپش کا احساس برقرار تھا۔ ان کے نزدیک ہی ان کا آٹھ سالہ نواسہ ویل چیئر پر بیٹھا تھا جبکہ ایک نوعمر لڑکی اس کے سامنے بیٹھی جھاگ کے بلبلے بنا رہی تھی جن کو ہوا میں اڑتے گھومتے دیکھ کر وہ مبہم آوازیں نکالتا اور ہاتھوں سے تالیاں بجانے کی کوشش کرتا تھا۔
میرے جانے پر مسز سیال میری جانب پلٹیں اور مسکرائیں۔ وہ ایک عہد کا چہرہ تھا جو نجانے کیا کیا دکھ جھیل چکا تھا۔ سلام دعا کے بعد ہم ان کے گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل دیے۔ میں نے ان سے کتابیں دیر سے لوٹانے پر معذرت کی اور انہیں بتایا کہ جون میں کرونا وائرس کے بہت زیادہ پھیلاؤ کے سبب میں نے خود کو بالکل گھر تک محدود کر لیا تھا لیکن آج آپ سے ملنے کو بہت دل چاہ رہا تھا اس لیے آ گئی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولیں، ’احتیاط اچھی ہے اور ویسے بھی آپ اس قوم کا حصہ ہیں جو لاوارث ہے۔
Read more