انتخابی دنگل شروع


بالآخر الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا کہ انتخابات اگلے سال جنوری کے آخر میں سرد موسم میں ہونے قرار پائے ہیں اور اس طرح جو سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں میں الیکشن کو لے کر بے چینی یا اضطراب تھا وہ یقیناً کم ہوا ہے باقی معاملات جن میں سر فہرست ایک دوسرے پر الزام تراشیاں، چور ڈاکو کی صدائیں، معیشت کو پروان چڑھانے کے کھوکھلے دعوے سیاسی چیرہ دستیاں اور لوٹے باریاں چناؤ کی تاریخ کے اعلان کے بعد شروع ہوں گے۔ اب ہو گا کچھ ایسا کہ اربوں روپے اس غریب، مقروض عوام کے خرچ کر کے ایک حکومت جو شاید دو تین یا متعدد جماعتوں کے اتحاد سے وجود میں آئے گی اور اس کے پاس عوام کے لئے سوائے رونے گانے کے کچھ نہیں ہو گا۔

آج جو اقتدار کے متمنی ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک اور عوام کی معاشی زبوں حالی جس قدر تباہ حال ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور ان حالات کا علاج سب کے پاس صرف مظلوم، لاچار عوام کا ٹیکسز نفاذ کے ذریعے خون نچوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سیاستدان اپنی مستی میں مست ہونے کو تیار ہیں عوام کو پرانا چورن نئی پیکنگ میں ملنے کو ہے۔ ہر ذی شعور عقل رکھنے والا اپنے برے حالات یا مشکل وقت کی پلاننگ اچھے دنوں کے رہتے ضرور کرتا ہے تاکہ مشکل وقت میں اسے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے مگر یہ ایسا ملک ہے جہاں سیاستدانوں، سرکاری ملازمتوں پر بیٹھے افسران اور اعلی عہدوں پر فائز اشرافیہ پر کبھی برا وقت آتا ہی نہیں اس لئے انہیں کبھی بے چارے کی بیچارگی اور غریب کی مشکلات کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ نہ انہیں اغیار کے آگے ہاتھ پھیلا کر مانگنے میں شرم محسوس ہوتی ہے نہ دوسروں کو چور، ڈاکو کہتے وقت اپنا کردار دکھائی دیتا ہے صرف اور صرف اقتدار کا حصول اور وہ بھی جنون کی حد تک ان کا مشن ہوتا ہے۔

اس وقت ملک میں نگراں حکومت براجمان ہے مگر مجال ہے کہ نگران رکھوالے سہولتوں اور مراعات میں کسی سے پیچھے دکھائی دیں۔ محدود مدتی وزیر اعظم کاکڑ صاحب آئے روز ٹیلیویژن پر جلوہ افروز ہو کر عوام کو اعتدال پسندی کا درس اور اپنے مجبور ہونے کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ میں بھی وقتی منصب پر ہوں اس لئے میں اور میری پوری نگراں ٹیم بھی ہر طرح کی مراعات کو اپنے اوپر ممنوع قرار دے کر ایک مثال قائم کرے گی۔ اس کے برخلاف وہی مراعات وہی جاہ و جلال وہی وعدے اور عوام کے حصے میں بے روزگاری، بجلی، پٹرول گیس مہنگی ترین، اشیائے خورونوش و ضروریہ مہنگائی کے سبب غریب کی پہنچ سے ہی دور۔

مثبت بات یہ ہے کہ بجلی چوروں اور ڈالر، چینی، آٹا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں سمیت پٹرول، ڈالر اور تمام اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام ایک انتہائی احسن عمل ہے یہ کام اگر ایک دہائی پہلے سے شروع ہوتے تو آج بہت کچھ بہتر ہوتا۔ مگر دیر آید درست آید۔ ان تمام اقدامات کے ثمرات سے عوام ابھی تک محروم ہی ہیں۔ ڈالر کم ہوا مگر پٹرول اسی تناسب سے بڑھ گیا ڈالر سے زیادہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے غریب پر مہنگائی کا بوجھ پڑتا ہے۔ نہ جانے کب اس ملک کا غریب اور مہنگائی سے پسا طبقہ ٹیکس کی مد میں خطیر جرمانہ ادا کرنے کے باوجود سکھ کا سانس لے سکے گا کیا واقعی آئندہ ہونے والے انتخابات عوام کی تقدیر بدل دیں گے یا وہی انتقام سیاست اور مجبوریوں کے ستائے حکمران عوام کا بچا کچا خون نچوڑنے کا بندو بست کر کے آئیں گے اور آپسی لڑائیوں کو جمہوریت کا حسن قرار دے کر عوام کو مزید مہنگائی کی چکی میں پیس کر اگلے پانچ سال گزار دیں گے

Facebook Comments HS