جی 20 اور انڈیا :آرزو حسرت ناکام سے آگے نہ بڑھی
بھارت میں جی 20 کانفرنس سے امید کی جا رہی تھی کہ یہ سفارتی اعتبار سے نریندر مودی کی بہت بڑی کامیابی ہوگی اور بھارت بڑی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔ اپنے ملک کی آبادی، وسائل اور امکانات کی بدولت مودی خود کو عالمی فیصلہ سازوں میں شامل ہوتے دیکھ رہے تھے۔ دنیا کو یہ خواب بھی دکھایا گیا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک کو جوڑنے والا ایک کوریڈور تعمیر کرے گا۔ جو چین کے ون بیلٹ ون روڈ والے منصوبے کو گہنا دے گا۔ لیکن کینیڈا کے ساتھ قضیے کے باعث تاریخ بھارتی منشا کے مطابق بنتی نظر نہیں آ رہی۔ گویا:
آرزو حسرت ناکام سے آگے نہ بڑھی
کینیڈا امریکہ کا ہمسایہ اور قدرتی وسائل کا حامل ملک اور نیٹو اتحادی ہے۔ چین کے مقابلے کی قوت بننے کے جنون میں مبتلا بھارت کو منطقی اعتبار سے اس ملک سے تعلقات بہتر رکھنے چاہئیں۔ مگر بھارت کا کینیڈا سے رویہ مخاصمانہ ہے۔ کانفرنس میں کینیڈین وزیراعظم کے ساتھ سردمہری کا برتاؤ کرنے کے ساتھ کانفرنس کے اختتام پر جہاز کی خرابی کے باعث ٹروڈو کی بھارت سے روانگی میں تاخیر کا سوشل میڈیا پربھی مذاق اڑایا گیا۔
کولمبیا کینیڈا کا مغربی صوبہ ہے، اس کا دارالحکومت وینکوور دنیا کے چند خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ وین کوور سے 30 کلومیٹر دور ایک شہر ”سرے“ ہے جس کی ساڑھے پانچ لاکھ آبادی میں 27 فیصد سکھ ہیں۔ کینیڈا میں پندرہ سولہ لاکھ سکھ آباد ہیں۔ ان کے اجداد 1870 ءمیں امریکی ریاست کیلی فورنیا سے منتقل ہونا شروع ہوئے۔ عددی قوت کی وجہ سے سیاسی طور پر بھی ایکٹو ہیں، اس لئے سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے لئے انہیں نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ایشیائی آبادی کے خاصے قریب اور تارکین وطن کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
1947 ءکے بعد ان سکھوں کی اکثریت اپنی شناخت اجاگر کرنے کے لیے خالصتان کے خواب دیکھنا شروع ہوئی۔ بھارت کی فکر مندی کا آغاز 1980 ءکی دہائی سے ہوا جب کینیڈا میں مقیم کئی متمول سکھ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی خالصتان تحریک کی حمایت میں سامنے آئے۔
پانچ سال قبل جسٹن ٹروڈو بھارت آئے تو بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے انہیں ان کینیڈین سکھوں کی فہرست پیش کی جو بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کر رہے ہیں، ان میں ہردیپ سنگھ نِجر کا نام سرفہرست تھا۔ کینیڈا نے تفتیش کی، مگر ہردیپ سنگھ کے بارے میں کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ہردیپ سنگھ نجر کے پاس کینیڈین شہریت تھی 1997 سے ایک پلمبر کی حیثیت سے کینیڈا میں کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے سیاسی نظریات اور آرا کے پرامن اظہار کا حق حاصل ہے۔ کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کا ڈول بھی انہوں نے ڈالا۔ اس سرگرمی سے بھارتی حکومت، خصوصاً نریندر مودی بری طرح جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ریفرنڈم سے بھارتی حکومت نالاں ہے۔ اس لیے اس کے خفیہ اداروں نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی جو انہی کے لئے تباہ کن اور خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
18 جون 2023، کو سکھ عبادت گاہ گوردوارہ نانک صاحب کے پاس دو نقاب پوشوں نے فائرنگ کر کے گوردوارہ کے صدر ہردیپ سنگھ نِجر کو قتل کر دیا۔ نِجر معروف سکھ ایکٹوسٹ رہنما تھے۔ ان کا تعلق بھارتی شہر جالندھر سے تھا، ۔ ہردیپ سنگھ نجر آزاد خالصتان تحریک کے زبردست حامی تھے۔ عوامی اجتماعات اور ریلیز کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم رہتے۔ بھارتی حکومت کے بقول ہردیپ علیحدگی پسند تنظیم خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ تھے۔ چند سال پہلے انڈیا نے ان کے لئے دس لاکھ روپے انعامی رقم بھی رکھی ہردیپ سنگھ نِجر کے قتل نے کینیڈین حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ 65 اس قتل کے بعد کینیڈا پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے طویل تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ مذکورہ قتل اوٹاوہ میں متعین بھارتی سفارت کار، کارپن کمار کی نگرانی میں ہوا۔ کینیڈین وزیرخارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ سفارت کار کینیڈا میں را کا سٹیشن چیف تھا۔ جسے کینیڈا سے نکال دیا گیا۔ کسی مغربی ملک میں را کے مقامی سربراہ کو بے عزت کر کے نکالا جانا بھارت کے لئے بڑے دھچکے سے کم نہیں۔ بھارت نے بھی جوابی طور پر ایک کینیڈین سفارت کار کو نکال دیا۔
دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے کئی پراسرار واقعات میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث رہے ہیں۔ پاکستان عرصے سے کہہ رہا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں پراکسی وار کر رہی ہیں اور پاکستان میں کئی خوفناک واقعات کر اچکی ہیں۔ سنسنی خیزی کے بجائے کینیڈین حکومت نے ”ثبوت“ بھارتی ہم منصبوں تک پہنچائے۔ جنہیں قابل اعتناء ہی نہ سمجھا گیا۔ کینیڈا اس کے باوجود خاموش رہا اور ٹروڈو، مودی ملاقات میں نجر کا قتل زیر بحث آیا۔ بھارتی وزیر اعظم نے اس شکایت کو حسب معمول کوئی اہمیت نہ دی۔ کینیڈا ایک ایسی تنظیم کا رکن بھی ہے جسے فائیو آئی کہا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ”دہشت گردی“ سے متعلق معلومات آپس میں برق رفتاری سے شیئر کرتی ہیں۔
ٹروڈو کو امید تھی کہ کانفرنس میں امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ مگر بوجوہ ایسا نہ ہوا تو ٹروڈو پارلیمان میں اس قضیے کو بے نقاب کرنے پر مجبور ہوئے۔ مودی اور تمام بھارتی صحافی اس امر پر مصر ہیں کہ کینیڈا کے پاس نجر کے قتل میں بھارتی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمان میں الزامات ٹھوس ثبوتوں کے بغیر کیسے لگائے جا سکتے ہیں؟ کینیڈین وزیر اعظم اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے لئے دشوار ہو جائے گا کہ محض بھارت کو راضی رکھنے کے لیے اپنے دیرینہ اتحادی کو نظرانداز کریں۔
بھارت کے حالیہ طرزِ عمل سے مغربی دنیا بھی اس طرف کان دھرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ کینیڈا میں پچھلے سال بھی ایک پرو خالصتان سکھ لیڈر 75 سالہ رپودن ملک کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں بھی سرے شہر ہی میں قتل کیا گیا۔ چند ماہ قبل لاہور میں بھی ایک ممتاز خالصتانی لیڈر کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی تھی۔ یہ واقعات اب بھارت کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں ممالک میں آزاد تجارت کے معاہدے پر ہونے والی بات چیت معطل ہو گئی ہے۔ کینیڈا کا کہنا ہے کہ ان کے ایک شہری کو نشانہ بنانا ان کی خودمختاری اور ان کے وقار پر وار ہے۔ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے برطانوی وزیراعظم اور امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی فون پر گفتگو کی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں کے بھارت سے خاصے قریبی تعلقات ہیں۔ امریکہ، برطانیہ کے ساتھ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی ہردیپ سنگھ نجر کیس میں کینیڈا کی جانب سے تحقیقات کی مطالبے کی حمایت کر دی ہے۔ بلاشبہ بھارت کی لابی مضبوط اور طاقتور ہے، اور ان ممالک کے مفادات اور بھارت سے منسلک ہیں، مگر بہرحال بھارت بیک فٹ پر چلا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ اطمینان بخش ہے کہ جو باتیں وہ عرصے سے کہتا آیا ہے، مغربی دنیا اسے قبول کرنے میں متامل تھی، اب خود ان ممالک میں دہشتگردی اور جارحانہ بھارتی طرزعمل بہرحال قابل قبول نہیں ہو گا کہ بھارتی خفیہ ایجنٹ وہاں کارروائی کریں۔ لگتا ہے بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ”اجیت دوول“ کی جارحانہ ڈاکٹرائن بیک فائر کر گئی ہے اور آگ کے شعلے واپس بھارت میں جا گرے ہیں۔
بھارتی انتہا پسند ہندو اب بھی نئی دہلی میں کینیڈین سفارت کاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کے بعد کینیڈین ہائی کمیشن نے تھریٹ الرٹ جاری کر دیا گیا۔ تھریٹ الرٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارتی حکومت ویانا کنونشن کے تحت سفارت کاروں کی سیکیورٹی یقینی بنائے بھارتی حکومت ماضی میں بھی اختلافی آوازیں بند کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے۔ مودی سرکار نے ایسے ہی حربوں سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ مودی کے خلاف ڈاکومینٹری نشر کرنے پر بھارتی حکومت نے بی بی سی کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے تھے۔
فی الوقت بھارت کی پالیسی الٹی زقند والی ہے وہ اپنے طور پر جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی پیچھے چلا جاتا ہے۔ علیحدگی پسند تحریکوں کی پذیرائی بدستور بڑھتی جا رہی ہیں۔ خالصتان تحریک کے ایک سرگرم رکن کے کینیڈا میں قتل میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے الزامات ’جو براہِ راست کینیڈا کے وزیر اعظم کی طرف سے لگائے گئے ہیں‘
بھارت پر خالصتانی لیڈروں کے قتل کے الزامات میں صرف کینیڈا ہی پیش پیش نہیں ہے بلکہ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کی آوازوں کی بھی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ کینیڈا میں بھارتی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ مغرب کی ایما پر ایشیا میں کشیدگی ’تنازعات اور شورشوں کو ہوا دینے والا بھارت شاید، مکافات عمل کو بھلائے ہوئے ہے۔ اب بھی موقع ہے کہ وہ کینیڈین حکام کے تحفظات کو دور کرے۔ کیونکہ:
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے


