مال بہت تو پھر امکان بہت


بندہ نا چیز کی نظر میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ پیپلز پارٹی عنقریب چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ پیپلز پارٹی ایسا شاید حب عمران میں نہ کرے بلکہ پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ کپتان کا بہرحال ووٹ بینک تو موجود ہے لیکن فی الحال رہائی کے امکانات معدوم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کر کے پیپلز پارٹی کو ملے گا کیا؟ تو اس سوال کا جواب سیاست کی گائیڈ لائن بکس یا حل شدہ پرچہ جات میں نہیں۔ بلکہ معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایسا کر کے پیپلز پارٹی، چیئرمین پی ٹی آئی کے ووٹرز کی ہمدردی حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو جائے اور شاید صرف ہمدردی ہی نہیں بلکہ آئندہ انتخابات میں کچھ ووٹ بھی پھڑکا لے۔ اس بات کے بھی اشارے ملتے ہیں کہ پیپلز پارٹی باقی ماندہ پی ٹی آئی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اتحاد کر لے۔ ندیم افضل چن صاحب فرما چکے کہ پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی تو نون لیگ نے بنوائی ہے۔ یعنی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ابے باہر نکلو، نون لیگ پیپلز پارٹی پھڑکا رہی ہے۔

فیصل کریم کنڈی صاحب بھی دل کی باتوں کو لب پہ لاتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ سندھ میں ہمارے خلاف اتحاد کرنے والوں کو بتا دیں کہ ہم پھر پنجاب اور کے پی کے میں اتحاد کریں گے۔ فر گلہ نہ کرنا۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ زرداری صاحب کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پی ٹی آئی چھوڑنے والے پنجاب کے رہنما پیپلز پارٹی کو جوائن کریں گے۔ لیکن سب کے ساتھ گیم کرنے والے اور سب پر بھاری کھلاڑی کے ساتھ ہی ہاتھ ہو گیا تھا اور بلاول کے لہجے میں زرداری نہیں بھٹو بولنے لگا۔ مولانا فضل الرحمان سندھ میں جی ڈی اے کے ساتھ مل کر اتحاد کر رہی ہے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی اگر مولانا سے اتحاد نہیں کرے گی تو پھر کس سے کرے گی؟

جن کے بارے میں پی ٹی آئی وکلاء کا کہنا تھا کہ موصوف گنا نہیں توڑ سکتے پی ٹی آئی کو کیا توڑیں گے یعنی کہ سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کا علم نہیں کہ وہ انتخابات میں اپنا دفاع کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی تحریک لبیک سے تو اتحاد کرنے سے رہی۔ ”ویسے پتا پھر بھی کوئی نہیں“ ۔ گلگت بلتستان ویسے ہی بلاول کو بہت عزیز ہے۔ تو بھائی سندھ کے علاوہ بھی سیٹیں نکالنا پیپلز پارٹی کی مجبوری ہے۔ بلاول بھی دل میں کہتے ہوں گے کہ جان من مجبوری ہے، سندھ کے علاوہ بھی سیٹیں نکالنا ضروری ہے۔

بہرحال نون لیگ میں عجب کھچڑی پک رہی ہے۔ چاول تو دیگچی پر رکھ دیے ہیں، لیکن اب پکتا کیا ہے اس کا نام بعد میں رکھا جائے گا۔ یہ انتخابات کے قریب قریب ہی سمجھ آئے گا کہ یہ چھوٹے گوشت کی بریانی تھی یا بڑے گوشت کا پلاؤ تھا یا چار و ناچار پھر کھچڑی۔

بہرحال آزاد بشر کی ناقص رائے میں الیکشن سے پہلے پہلے تک آزاد کہلانے والے اپنے پیروں میں کس کے نام کی بیڑیاں پہنیں گے۔ یہ بہت اہم معاملہ ہے۔ آزاد امیدواروں کی آئندہ انتخابات میں چاندی ہونے جا رہی ہے۔ ان انتخابات میں حکومت کون بنائے گا بھائی لوگوں کے بعد اس کا فیصلہ تو اب آزاد امیدوار ہی کریں گے۔ اور وہ بھی اپنے ضمیر کے عین مطابق۔ حسب ذائقہ و حسب مصالحہ۔ کیا ”زر“ کے کام آئیں گے یا کہیں اور ”نوازے“ جائیں گے؟ پاکستان غریب ملک ہے تو کیا ہوا اس کی سیاسی جماعتیں تو امیر ہیں ناں۔ لہذا مال بہت تو پھر امکان بہت۔

آزاد امیدواروں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ دیکھئیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض۔ اک نہیں بلکہ اب تو کئی برہمنوں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ مسلم لیگ نون کے لیے یہ سال اچھا ہے بشرطیکہ الیکشن سے پہلے ہی میاں نواز شریف دے نعرے نہ وجن۔ ورنہ پھر راوی لکھے گا کہ ”اور نیب آ گئی“ ۔ یا آئینی و قانونی موشگافیاں نواز کے نوازے جانے کا منہ چڑھائیں۔ مجھے ایسا لگتا کہ نواز شریف الیکشن سے پہلے صرف اسی صورت میں ہی واپس آئیں گے کہ یہ فیصلہ ہو گیا ہو کہ وزارت عظمی کا امیدوار نواز شریف کے علاوہ کوئی اور ہے۔

وڈے میاں صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ چھوٹے بھائی نے پروبیشن مکمل کیا ہے اب کم از کم سال ایک تو پرماننٹ جاب کرنے دیں۔ سال ڈیڑھ سال بعد آ جائیے گا ورنہ خان کی طرح آپ مقبول تو ہوں گے قبول نہیں کیے جائیں گے۔ خان کی قبولیت کے امکانات ہیں یا نہیں؟ اس پہ تکے بعد میں ماریں گے، یہ کہانی پھر سہی۔

Facebook Comments HS