’غروب شہر کا وقت‘ فکشن، سوانحی ناول، خودنوشت یا مضامین کا مجموعہ؟
پچھلے دنوں اسامہ صدیق کے نئے ناول کی تقریب رونمائی کی تصویری جھلکیاں آنکھوں سے گزریں تو جستجو ہوئی کیوں نہ اس بار ”غروب شہر کا وقت“ منگوا کر مطالع کر لیا جائے۔ ان کے پہلے ناول ”Snuffing out the Moon“ کے اردو ترجمہ ”چاند کو گل کریں تو جانیں“ کو نہ پڑھ پانے پر افسوس ہے حالاں کہ اس ناول نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی شہرت پائی تھی۔ خیر! ناول گراں قیمت ہونے کے باوجود منگوا لیا گیا، اب ہم اس کا مطالعہ بھی کر چکے اور اس پر تبصرہ بھی لکھ چکے ہیں۔ تبصرہ لکھتے وقت ہم نے انصاف کا دامن تھامے رکھا اور پوری ایمان داری سے رائے کا حق استعمال کیا۔ آپ بھی قیمتی وقت سے کچھ لمحات نکالیے اور اس تبصرہ پر نظر ڈالیے اور اسامہ صدیق کے ناول ’غروب شہر کا وقت‘ کے بارے میں جانیے۔
’غروب شہر کا وقت‘ ضخیم کتاب ہے جو 576 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے انیس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو ننانوے ابواب پر مشتمل ہیں۔ اس میں دس جگہوں پر کلاسیکی نثر سے لیے گئے اقتباسات شامل کیے گئے ہیں جن کا رسم الخط مختلف رکھا گیا ہے تاکہ پہچان میں آسانی ہو۔ میر امن دہلوی کے ’قصہ چہار درویش‘ سے اقتباسات کا آغاز ہوتا ہے اور حیدر بخش حیدری کی ’آرائش محفل‘ پر تمام ہوتا ہے۔ مصنف نے کئی موقعوں پر مناسبت سے ’مجید امجد‘ ، ’ن م راشد‘ ، ’محمد سلیم الرحمن‘ اور ’وحیدہ واحد‘ کی شاعری سے بھی زیبائش کی ہے۔ باب ’جبر کے دنوں میں محبت‘ میں مصنف نے مرحومہ نازیہ حسن کے شہرہ آفاق گیت ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘ اور ’ڈسکو دیوانے‘ بھی شامل کیے ہیں۔
ناول کو لاہور جیسے تاریخی شہر کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے جہاں مصنف نے زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے۔ اسے بہت ہی عمدہ طریقے سے تحریر کیا گیا ہے۔ تحریر کہیں مزاح سے سرشار رہتی ہے تو کہیں سنجیدگی کی راہ پر گامزن ہے۔ مرکزی کردار خالد ہے جو اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کر رہا ہے۔ بات لڑکپن سے شروع ہوتی ہے اور سکول کی زندگی سے ہوتی ہوئی اعلی تعلیم کے واقعات تک جا پہنچتی ہے۔ تعلیم کے بعد وہ پروفیشنل زندگی کے واقعات بیان کرتا ہے۔
مرکزی کردار آوارہ مزاج بھی ہے جو جنگلوں، ویرانوں یا گلیوں میں بے مقصد گھومتا بھی ہے اور وہ تنہائی پسند بھی ہے۔ اس کردار کی سب سے اچھی بات اس کا ماحول دوست ہونا اور قدرت سے لگاؤ ہے جس کی وجہ سے جہاں وہ جمالیات کی باتیں کرتا نظر آتا ہے تو وہیں کراہ ارض پر پائی جانے والی دیگر مخلوقات کے لیے بھی نرم گوشہ رکھتا ہے۔
اسے پڑھ کر مجھ پر مصنف کے بارے میں جو تاثر قائم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ وہ نفیس اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے عالمی اور اردو ادب کا عمیق مطالعہ بھی کر رکھا ہے اور وہ حالات حاضرہ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ سیاست میں بھی دلچسپی لیے ہوئے ہیں اور وہ سیاست میں مذہب کے استعمال کے مخالف بھی ہیں۔ ان کا انداز قلم بتلاتا ہے کہ ان کی تحریریں تحقیق کا وزن بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ ناقد بھی ہیں۔
وہ رائج نظام تعلیم سے بھی خائف ہیں اور نظام عدل پر بھی گریہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں نہ تو کبھی ان سے ملا ہوں اور نہ ہی ان کی پہلے کوئی تحریر پڑھ چکا ہوں تو میں ان کے بارے میں کیسے جان گیا ہوں تو اس کا سادا سا جواب یہ ہے کہ میں نے یہ سب کچھ اس ناول سے جانا۔ اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں بجائے ناول پر بات کرنے کے مصنف کے بارے میں کیوں بات کر رہا ہوں تو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ناول پر مصنف کی شخصیت اول تا آخر چھائی رہی ہے۔
مصنف نے اسے لکھتے وقت جو تکنیک استعمال کی ہے وہ ضمیر واحد متکلم ہے۔ یعنی قاری مرکزی کردار ہی کی زبان سے کہانی سن رہا ہوتا ہے۔ اس انداز تحریر کے ساتھ مصنف کا انصاف کیا جانا فکشن کو پختگی بخشتا ہے۔ لیکن اگر فکشن میں مصنف کی اپنی جھلک نظر آنے لگے تو پھر کہیں کردار بحث کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کہیں تبصرہ نگار بن جاتا ہے تو کئی جگہوں پر فیصلہ کن حیثیت بھی اختیار کر جاتا ہے۔ حالانکہ وہ کردار نہیں بلکہ خود مصنف ہی ہے جو سب کچھ کر رہا ہے۔ اس ناول میں بھی بہت سی جگہوں پر مصنف کی طرف سے تکرار، تجزیہ اور تنقید موجود ہے۔
ناول یا افسانے میں پلاٹ بہت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پلاٹ کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ کینوس کو پینٹر مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور مختلف جگہوں پر مختلف چیزیں پینٹ کرتا ہے۔ ان چیزوں میں آپسی تال میل پیدا کرتا ہے اور کون سا رنگ کہاں بھرنا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ یا یوں سمجھیے کہ پلاٹ کا تعلق مینجمنٹ سے ہے۔ پلاٹ کے ذریعے کہانی کو ترتیب دیا جاتا ہے۔ ماہر ادیب واقعات کو اس ترتیب سے بیان کرتا ہے کہ ان میں منطقی تسلسل قائم کر دیتا ہے۔
واقعات ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں اور کہانی روانی سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یاسر جواد نے اسے سوانحی ناول قرار دیا ہے لیکن میں ان کی اس رائے سے متفق نہیں ہوں کیونکہ سوانحی ناول میں بھی پلاٹ موجود ہوتا ہے اور کہانی ربط میں آگے بڑھتی رہتی ہے لیکن یہاں صورت حال مختلف ہے اور ننانوے ابواب میں ہی تال میل کا فقدان ہے۔ ناول کا اسلوب بھی مختلف ہے، ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایسے اسلوب کو کسی شناخت سے نوازا جا سکے لیکن فی الحال مصنف نے قارئین کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔
اگر کہانی کی طرف توجہ مبذول کروائی جائے تو یہاں بھی صورت حال پیچیدہ ہے۔ کہانی سرے سے موجود ہی نہیں۔ بہرحال آپ اسے فکشن سمجھیں، سوانحی ناول سمجھیں یا خودنوشت یہ آپ پر منحصر ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں بڑی محنت سے تحریر کیا گیا ہے۔ طباعت بہترین ہے، سرورق نفیس ہے اور اوراق عمدہ ہیں۔ آپ بھی اس قیمتی ناول کو منگوا کر پڑھیے اور اسامہ صدیق کو داد دیجیے کہ انہوں نے اس پر جو محنت کی ہے وہ رائیگاں نہ جائے۔


