افغانستان میں معاشی استحکام کے محرکات


افغانستان اسی کی دہائی سے جنگوں اور شورشوں کی آماج گاہ ہے۔ جہاں روس امریکہ سرد جنگ کے خاتمے کے لیے پراکسی وار لڑی گئی۔ جس سے وہاں کی معاشرتی اور معاشی زندگی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اس سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں مسلسل خانہ جنگی رہی اور پھر امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر باقاعدہ فوج کشی کی، یہاں مقامی جنگجو اور امریکیوں کے مابین بھی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ دو برس پہلے امریکہ بھی افغانستان کی سرزمین چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر طالبان افغانستان میں برسراقتدار آ گئے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے میں افغانستان میں تعلیم کا کوئی مربوط سلسلہ نہیں تھا اور نہ ہی وہاں کسی معاشی اور ترقیاتی روڈ میپ کا کہیں نام و نشان ملتا ہے۔ بدعنوانی اپنے عروج پر تھی۔ لیکن آج اگر دیکھا جائے تو اس خطے میں امن بھی ہے اور معاشی استحکام بھی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں بدترین معاشی عدم استحکام ہے۔

افغانستان جس کی کل آبادی چار کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ جو پینسٹھ ہزار سکوائر کلومیٹر میں رہتے ہیں۔ انتظامی لحاظ سے یہ علاقہ 34 صوبوں اور 398 ضلعوں پر مشتمل ہے۔ آبادی کا زیادہ تر دار و مدار زراعت و باغات کی آمدنی پر ہے دوسرا بڑا ذریعہ معدنیات ہیں جس کو بیچ کر یہ زرمبادلہ کماتے ہیں۔ لیکن زراعت اور معدنیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن اتنی نہیں ہے جس سے افغانستان کی معیشت کو سنبھالا جا سکے۔ تو پھر کیسے آج کل افغانستان اتنا خوشحال ہے۔ اس کے پیچھے ایسی کیا کہانی ہے۔ آئیے اس کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ نے افغانستان میں 2.313 ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔ اس میں زیادہ رقم تو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوئی لیکن ایک بہت ہی خطیر رقم افغان حکومت اور وہاں موجود افغانوں کو بھی دی گئی تھی یہ رقم افغانستان کی اصل آمدن سے ہزار گنا زیادہ تھی۔ گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت نے بھی تین ارب ڈالر کی امداد مختلف مدوں میں افغانستان کو دی۔ دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کی امداد اس کے علاوہ تھی یوں اس خطے میں جہاں کوئی انڈسٹری نہیں ہے۔ وہاں اتنا زیادہ پیسہ کا جمع ہوجانا اور پھر اس پیسے میں زیادہ پیسے کا مخصوص جنگی اور علاقائی سرداروں اور گروہوں کے پاس جانا اور پھر اچانک جب کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ امریکہ اپنے سارا ساز و سامان اور اثاثے افغانستان کے حوالے کرے گا اور یہاں سے رخصت ہو گا۔ جو تین لاکھ کی فوج بنائی گئی تھی اس کا چند لمحوں میں سرنڈر کرنا اور لوگوں اور خصوصاً جنگی اور سیاسی سرداروں کو اپنا پیسہ افغانستان سے نکالنا کا موقع نہ ملنا۔

یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے اربوں ڈالر وہاں کی حکومت کے ہاتھ لگے۔ جو ڈالر ان کے ہاتھ ابھی تک نہیں لگے وہ اس کی کھوج میں ہیں اور روز کہیں نہ کہیں سے وہ لاکھوں کروڑوں ڈالر برآمد کر کے اپنے پاس جمع کر رہے ہیں۔ ایران اور دیگر ممالک کی طرح امریکہ نے افغانستان کی موجودہ حکومت پر اقتصادی پابندیاں بھی نہیں لگائیں۔ یہ ایک وجہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں بہت زیادہ مقدار میں امریکی ڈالرز موجود ہیں اور اس کے ذخیرے میں اضافہ ہو رہا ہے جو افغان طالبان کے خوف سے پاکستان منتقل ہو گئے تھے وہ اپنے ساتھ کچھ پیسے اور سونا لے کر وہاں سے نکل سکے تھے۔ یہ سونا انہوں نے پاکستان خصوصاً پشاور کے بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے اس کے عوض ڈالر خریدے اور اس کو محفوظ کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں ڈالر پر دباؤ ہے اور اس کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ یہ ایک وجہ نہیں ہے پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی۔ دوسری وجہ افغانستان میں منشیات کا کاروبار ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے اپنے عروج پر ہے جہاں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق تین ارب ڈالر سے زیادہ کی منشیات سالانہ افغانستان سے خریدی جاتی ہے اصل رقم اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے اس لیے کہ اس کاروبار کا کوئی ڈیجیٹل حساب نہیں رکھا جاتا۔

منشیات کا یہ کاروبار اب بھی زوروں پر ہے اور یہ ہمیشہ حکومت کی سرپرستی میں ہوتا رہا ہے۔ حامد کرزئی کے بھائی کا قصہ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ پاکستان سے افغانستان ڈالروں کی اسمگلنگ کی ایک بڑی وجہ منشیات کی خریداری کے لیے ڈالروں کا استعمال بھی ہے۔ طالبان کی حکومت سے پہلے یہ کاروبار پاکستانی روپیوں میں ہوتا تھا جس پر طالبان نے مکمل پابندی لگا دی ہے۔ حالیہ دنوں میں طالبان نے ملک میں چینی حکومت کی سرمایہ کاری کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بھی اس وقت ان کے پاس ڈالرز آرہے ہیں۔ افغانستان چونکہ دنیا میں سمگلنگ کے لیے ایک جنت تصور کیا جاتا ہے طالبان کی موجودہ حکومت نے اس اسمگلنگ کو روکنے کی جگہ اس پر ٹیکس لگا دیا ہے۔ جس سے ان کو اربوں ڈالروں کا فائدہ ہو رہا ہے۔

تیسری وجہ اسلحہ کا کاروبار ہے گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دنیا کی بہت سی اسلحہ ساز فیکٹریاں افغانستان میں جنگ کے لیے اسلحہ بنا رہی تھیں۔ اور یہ سارا اسلحہ وہاں موجود ہے اور امریکی فوج بھی جاتے جاتے اپنا سارا اسلحہ وہاں چھوڑ گئی ہے۔ اب یہ اسلحہ افغانستان کے اندر اور دیگر ممالک کو بیچا جا رہا ہے۔ یہ کام طالبان بھی کر رہے ہیں اور اسلحہ کے کاروبار سے وابستہ دیگر افغان بھی۔ افغانستان کے چار شہروں میں اسلحہ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور دنیا بھر سے اسلحہ کے ضرورت مند ان سے اسلحہ خرید رہے ہیں۔ اس کاروبار کو بھی ڈالروں میں چلایا جا رہا ہے جس کے لیے ڈالر پاکستان کی مارکیٹ سے خرید کر افغانستان پہنچائے جاتے ہیں۔

افغانستان کے باشندوں نے پاکستان میں اپنے پیسے رکھے تھے تاکہ ضرورت کے وقت اس کو افغانستان یا کسی دوسرے ملک منتقل کیا جا سکے۔ اس کام میں طالبان کی افغانستان میں جب سے حکومت آئی ہے تو بہت تیزی آ گئی ہے۔ اس لیے پاکستان میں موجود افغان سمگلرز اور دیگر افغان بلیک مارکیٹ سے ڈالر اٹھا رہے ہیں اور ہنڈی حوالہ کے ذریعہ متحدہ عرب امارت اور دیگر ملکوں میں بھیج رہے ہیں۔ لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو یہ پیسہ افغانستان بھی بھیج رہے ہیں اس لیے کہ اس وقت وہاں طالبان حکومت نے ان کو سرمایہ کاری کی کھلی اجازت دی ہے۔ اور چین کی پشت پناہی کی وجہ سے اب زیادہ لوگ اپنا پیسہ افغانستان بھی منتقل کر رہے ہیں۔ چونکہ وہاں پاکستانی پیسوں میں کاروبار اور لین دین پر پابندی ہے اس لیے اس مقصد کے لیے بھی ڈالروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

افغانستان کو بھارتی حکومت مسلسل امداد دے رہی ہے اور وہاں جو سرمایہ کاری اس نے کی ہے اس میں بھی اب اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس مدد اور تعاون سے بھی افغانستان کو اپنی معیشت برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کرپٹ اور بڑے جنگجووں کا افغانستان سے فرار ہونا بھی ہے۔ یہ جنگجو سردار اور کرپٹ لوگ دولت کو چند ہاتھوں میں جمع کرنے کا سبب بن رہے تھے۔ ان کے فرار ہونے سے ان کی جمع کی ہوئی دولت بھی طالبان کے ہاتھ لگی اور ان کے نہ ہونے سے دیگر لوگوں کو کاروبار کرنے کی آزادی مل گئی۔ جس سے افغانستان میں دولت کی گردش فطری انداز میں ہونے لگی ہے اور پھر طالبان کا حکومتی اور شخصی کنٹرول اتنا زیادہ ہے کہ غیر قانونی زر کی ترسیل ممکن ہی نہیں رہی اور حکومتی اخراجات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکمران عیاشی کی جگہ سادگی کو رواج دے رہے ہیں۔ تمام غیر ضروری اخراجات ختم کر دیے گئے ہیں۔ اپنے آبی وسائل کا بہترین استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ اپنے قیمتی معدنیات کے لیے چین اور دیگر متبادل منڈیاں تلاش کی گئی ہیں۔ اپنے میوہ جات براہ راست بھارت اور دیگر خلیجی ملکوں کو بھیجنے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ اپنے سفارتی عملے کو بے جا اخراجات سے منع کر دیا گیا ہے۔ محصولات کا انتظام براہ راست قومی بنک کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ اور بنکوں کو کام کی آزادی دی گئی ہے۔ مال خانہ کا ریکارڈ ڈیجیٹیلائز کر دیا گیا ہے۔ ٹمبر مافیا کو کنٹرول کیا گیا ہے اور اب اس کا براہ راست فائدہ وہاں کی حکومت کو ہو رہا ہے۔ پاکستان کو کوئلہ کی برآمد کو ٹیکس کے دائرے میں لے کر آئے ہیں جس سے ان کو بہت زیادہ آمدنی ہونے لگی ہے۔

اس وقت ان کے حکومتی اخراجات اشرف غنی دور کے اخراجات سے سات سو گنا کم ہیں اور آمدن تین سو گنا زیادہ ہے۔ جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کرپشن کے بغیر افغانستان بھی ترقی کر سکتا ہے وہاں بھی معاشی استحکام آ سکتا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے جو فارمولہ انہوں نے دریافت کیا ہے وہ یہ ہے کہ پابندیاں نہ لگاؤ اور سہولیات فراہم کرو، آسانی فراہم کرو، کاروبار کی ترغیب دو اور اس کو تحفظ دو۔ اس فارمولے پر عمل کر کے چار دہائیوں کے تباہ حال افغانستان کو آج دنیا ایک مستحکم معاشی ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ افغانستان میں معدنیات کے بہت زیادہ اور قیمتی ذخائر ہیں اور اب وہاں تیل اور گیس کی تلاش بھی شروع کردی گئی ہے۔ افغانستان نے خطے کی سب سے سستے نرخوں پر تیل کی مصنوعات اور دیگر اشیاء ایران سے خریدنے کا عمل شروع کر دیا ہے جس سے ان کو ماہانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہو رہی ہے۔

اگرچہ افغانستان کو درپیش مسائل بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا ترقی کی راہ پر گامزن ہونا اس خطے کے لیے ایک نیک شگون ہے۔ اگر وہ جنگوں اور قتل و غارت گری سے تجارت کی طرف آرہے ہیں تو اس سے اس خطے میں استحکام آئے گا۔ یہ وہ مناسب وقت ہے جب پاکستان میں آباد چالیس لاکھ سے زیادہ افغانستانیوں کو ان کے ملک بھیج دیا جائے تاکہ وہاں کی ترقی میں یہ اپنا حصہ ڈال سکیں۔ اور پاکستان کی تباہ حال معیشت پر بوجھ کم ہو سکے۔ اس لیے کہ افغانستان اس وقت دنیا میں سستا ترین ملک ہے اور پاکستان مہنگا ترین ملک۔

Facebook Comments HS