یوکرائن کے محاذ کی تازہ پیشرفت
یوکرائن کے خلاف روسی کارروائی فروری 2022 میں شروع ہوئی اب تک 19 ماہ ہوچکے ہیں۔ عوام کی زندگی خراب ہو گئی اور قومی ترقی میں جو مشکلات داخل ہوئیں ہیں وہ بھی ناقابل بیان ہیں مگر جس پامردی اور حوصلہ سے اس ننھی سی مملکت نے ایک بھیڑیے کا اب تک سامنا کیا ہے وہ قابل رشک بھی ہے اور قابل ستائش بھی ہے۔ انہوں نے قوم کے کمزور طبقات کو پہلے ملک سے انخلاء کروایا اور نوجوانوں نے اپنے وطن کے دفاع کا بیڑا اٹھایا۔ یونین کونسل کے لیول پہ انہوں نے اپنے فوجیوں کے ساتھ مل کر جتھا بندی کی اور اب تک شجاعت و عزم و بہادری کے جوہر دکھائے ہیں وہ واقعی قابل داد ہیں۔ ادھر روسی حملہ آوروں کے ہاں جنگی ماحول غالباً صحیح طور سمایا نہیں کہ وہ اپنے حجم اور گولہ و بارود کے زور پہ کوئی فیصلہ ساز کامیابی حاصل کرتے۔ محدود چند کامیابیاں ملی تو ہیں مگر دنیا کا چین و قرار چھن سا گیا ہے۔ زیادہ پریشانیاں اس وقت بڑھیں جب گندم اور دیگر اجناس کی ترسیل رک گئی اور وہ ممالک جو روسی اور بالخصوص یوکرائنی اشیائے خورد و نوش پہ انحصار کرتے ہیں وہ شدید متاثر ہوئے اور خوراک اور گیس کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ البتہ قطر کی گیس کا اب ہر کوئی خریدار بن چکا ہے کیونکہ یورپ کو زیادہ تر سپلائی روسی اور یوکرینی گیس سپلائی کی جاتی تھی اور سردیوں کا سوائے گیس کے اور کوئی متبادل نہیں ہے۔ یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے رواں ہفتے کے دوران امریکہ کا دورہ بھی کیا ہے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور امریکی صدر و دیگر اہم عہدیداران سے ملاقاتیں کیں جس میں انہوں نے دور مار والے ہتھیاروں کی بات کی۔ جنگ کے اس موڑ پہ، جہاں صورتحال محاذ جنگ پہ انتہائی خطرناک ہے، یہ دورہ انتہائی اہم ہے۔
اولاً، یوکرائن جوابی حملے کر رہا ہے جہاں اسے دور مار ہتھیاروں کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ اس لمحے کوئی مدد دینے کو تیار نہیں۔ دوئم، موسم سرما آنے کو ہے اور زیلینسکی کی خواہش تھی کہ دور مار ہتھیاروں کی امداد مل جاتی تو وہ بہتر طور پہ اپنا دفاع کر لیتے مگر فی الحال امریکی اس کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ یہی تبدیلی صدر زیلینسکی چاہتے ہیں۔ سوئم، امریکی کانگریس کے اندر شدید اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے کہ ہمیں یوکرائن کی فوجی امداد کرنا بھی چاہیے یا نہیں۔ اب زیلینسکی ان کو رام کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہ پہلی مرتبہ وہ بذات خود امریکہ میں جاکر براہ راست ان سے ملاقاتیں کر رہا ہے اور ان کو بتا رہا ہے کہ دیکھو روسیوں نے بہت زیادتی کی ہے ہمارے ساتھ تو ہمارا ساتھ دو اور امداد بھی دو۔ کیونکہ اب تک جو فوجی اسلحہ و گولہ بارود اور دیگر امدادی سامان امریکہ نے یوکرائن کو دیا ہے وہ مونگ پھلی کے دانے برابر بھی نہیں کیونکہ اس کا حجم محض قومی مجموعی پیداوار GDP کا 0.04 فیصد ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ پینٹاگان کے ذمہ داران کو یہی بات باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہماری جلد از جلد مدد کرو تاکہ ہم روس کو مار بھگائیں۔ اگلے برس امریکی صدارتی انتخابات منعقد ہونا ہیں اس لئے سب پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے عوام کو کسی صورت تناؤ نہیں دینا چاہتے۔ ادھر یورپی ساتھی اور ہمدرد چاہتے تو ہیں کہ روسی مہم جوئی کا سدباب کیا جائے مگر کھل کر اتنی امداد دینے سے گریزاں ہیں کہ کل کلاں روس ناراض ہو کر براہ راست ان کے خلاف اقدام نہ اٹھائے۔ یہ صورت حال خاصی گمبھیر ہے۔


