مراد بن یوسف المعروف ماسٹر مراد سے ایک گفتگو
ظفر اقبال اور شاہد لطیف
24 مئی 2022 کو دن ساڑھے گیارہ بجے ایور نیو فلم اسٹوڈیو پہنچا۔ سیدھا زلفی صاحب کے دفتر میں گیا۔ ان کا عید سے کچھ دن پہلے موٹر سائیکل پر حادثہ ہو گیا۔ دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اب بھی منہ پر سوجن تھی۔ شکر ہے زیادہ ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی۔ فلمی صحافی ظفر اقبال بھی وہیں آ گئے۔ ان کے ساتھ مراد بن یوسف المعروف ماسٹر مراد کا انٹرویو کرنا تھا۔ انہوں نے چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ پھر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہوئے دو فلمیں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیں۔ اب ”مٹی کے باوے“ کی ہے۔
ماسٹر مراد کی کہانی:
” میں 1957 میں انڈسٹری میں آیا۔ اس وقت میں تقریباً چھ ماہ کا تھا۔ میری نومبر کی پیدائش ہے۔ اس کے بعد 1958 آ گیا۔ اس زمانے میں ڈائریکٹر لقمان صاحب کی شاہ نور اسٹوڈیو میں فلم“ آدمی ”بن رہی تھی۔ جس میں اس وقت کے نامور فنکار حبیب صاحب، میڈم یاسمین، آغا طالش صاحب کام کر رہے تھے۔ ان کو ایک بچے کی ضرورت تھی۔ چونکہ میرے والد صاحب کو بھی فلم میں کام کرنے کا شوق تھا اور خود بھی چھوٹے موٹے رول یوسف پردیسی کے نام سے کرتے تھے۔ کہیں پردیسی کہیں یوسف تو کہیں محمد یوسف کا نام کریڈٹ پر چلتا تھا۔ پہلے کی فلموں کا تو مجھے علم نہیں لیکن میرے سامنے انہوں نے فلم“ لاکھوں میں ایک ” ( 1967 ) ،“ دلہن ایک رات کی ” ( 1975 ) وغیرہ کیں“ ۔
” میں چھ ماہ کا تھا تو مجھے میرے والد صاحب بیبیاں پاک اور اس کے بعد داتا حضور لے کر گئے۔ وہاں سلام کر کے واپس قلعہ گجر سنگھ اپنے گھر کی طرف آ رہے تھے کہ میکلوڈ روڈ پر گزرتے ہوئے فلم ڈائریکٹر لقمان صاحب مل گئے جو میرے والد صاحب کے دوست تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر لقمان صاحب کو سلام کروایا۔ لقمان صاحب نے پوچھا کہ پردیسی کدھر؟ کہا کہ گھر جا رہا ہوں۔ مجھے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ والد صاحب نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔
اس پر لقمان صاحب نے بے ساختہ کہا کہ ہمیں بھی ایک بچے کی ضرورت ہے! کیا اس سے کام کر واؤ گے؟ میرے والد صاحب نے کہا کہ میں نے اسے اللہ سے اسی لئے تو مانگا ہے! تو وہ میری پہلی فلم تھی۔ میں اس میں میڈم یاسمین اور حبیب صاحب کا بیٹا بنا ہوں۔ جو تقریباً جھولے اور گود میں ہے۔ اس فلم میں ایک لوری بھی فلم بند ہوئی تھی: ’تو جاگ میں تقدیر کو جگا لوں گی‘ ۔ مجھے لگتا نہیں تھا کہ میں نے اتنی کم عمری میں فلم میں کام کیا۔
پھر جب میں بڑا ہوا تو میں نے لقمان صاحب سے پوچھا کہ جناب میں نے سنا ہے کہ آپ نے فلم“ آدمی ”بنائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بنائی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ میں نے بھی اس میں کام کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم یوسف کے بیٹے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے کہا ہاں! تم نے اس فلم میں کام کیا ہے۔ تم پر لوری پکچرائز ہوئی ہے۔ انگلی پکڑنے کے شاٹ کا مسئلہ بن گیا تھا سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے ہو گا۔ پھر ہم نے تمہاری والدہ کو بلایا۔ تم رو رہے تھے پھر انہوں نے تمہیں چپ کرایا۔ پھر تمہارے والد نے پتا نہیں ایسا کیا کیا کہ تم نے انگلی پکڑ لی اور جو شاٹ درکار تھے وہ لے لئے گئے۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے واقعی فلم میں کام کیا ہے“ ۔
اداکار اکمل خان:
” ڈائریکٹر لقمان صاحب سے بات کر کے اپنے گھر قلعہ گوجر سنگھ گیا۔ وہاں اسلم پہلوان عرف اچھا شکر والے صاحب کا دفتر تھا۔ والد صاحب مجھے وہاں لے گئے۔ دفتر میں اوروں کے علاوہ اکمل صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بھی میرے والد کے دوست تھے۔ میرے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ جب والد صاحب نے بتایا تو بولے کہ میرے لئے بھی بیٹے کی دعا کرنا۔ اس پر میرے والد صاحب نے مجھے ان کی گود میں ڈال دیا۔ کہنے لگے نہیں مجھے اپنا بیٹا چاہیے!
والد صاحب کہنے لگے تمہاری جھولی میں اس لئے ڈالا کہ اس کو اپنا شاگرد بناؤ! اسی سے اللہ تعالیٰ تمہیں بھی انشاء اللہ بیٹا عطا فرمائے گا۔ میرے والد درویش صفت آدمی تھے۔ وہ جو کہتے ہو جاتا تھا! اس بات کا ہمیں بعد میں احساس ہوا۔ جب بندہ چلا جاتا ہے تب پتا چلتا ہے۔ تو میرے والد صاحب نے کہا کہ اللہ تمہیں بیٹا دے گا۔ اس پر پوری محفل ہنسی کہ پردیسی (والد صاحب) ایسے ہی بولتا رہتا ہے۔ اس پر والد صاحب نے کہا کہ کبھی حاضرین محفل کو میری بات یاد آئے گی۔ پھر اکمل صاحب کے ہاں ایک بیٹی کے بعد شہباز پیدا ہوا“ ۔
” والد صاحب بتاتے ہیں کہ پھر میں نے بڑا ہونے تک مزید کئی فلموں میں کام کیا جیسے :“ دربار ” ( 1958 ) ،“ سلطنت ” ( 1960 ) ،“ اولاد ” ( 1962 ) وغیرہ۔ اس کے بعد جب مجھے کچھ کچھ ہوش آیا تو میں بولنے لگا۔ تب کیمرہ مین اور ڈائریکٹر ریاض احمد صاحب کی فلم“ قبیلہ ” ( 1966 ) میں لالہ سدھیر صاحب ہیرو تھے۔ ایک کردار جوانی اور ایک بڑھاپے کا کر رہے تھے۔ فلم میں خود ہی باپ خود ہی بیٹے تھے۔ میں نے ان کے بچپن کا کردار ادا کیا۔
میں نے زندگی کا پہلا مکالمہ خنجر پکڑے ہوئے :“ تم نے میرے بابا کا خون کیا ہے میں تمہیں جان سے مار دوں گا! ”اپنے وقت کے نامور اداکار آغا طالش صاحب کے سامنے، ان کو مخاطب کر کے ادا کیا۔ اسی زمانے کی مزید فلمیں یہ ہیں :“ انسان ” ( 1966 ) ،“ باغی سردار ” ( 1966 ) ،“ یتیم ” ( 1967 ) ، وغیرہ۔ فلم“ قبیلہ ”کے بعد میری بڑی فلم“ عادل ” ( 1966 ) تھی۔ اس وقت میری عمر سات سال تھی۔ میں ادیب صاحب اور صابرہ سلطانہ صاحبہ کا بیٹا ہوں اور محمد علی صاحب میرے منہ بولے ماموں! مذکورہ فلم میں میرا کردار آخر تک تھا“ ۔
اداکار محمد علی کی بیٹا بنانے کی پیشکش:
” اسی فلم کی عکس بندی کے دوران محمد علی صاحب کی خواہش تھی کہ وہ مجھے اپنا بیٹا بنا لیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں کوشش بھی کی۔ میرے والد صاحب سے بات چیت بھی ہوئی۔ والد صاحب نے کہا کہ یہ بیٹا آپ کا ہے۔ اس پر محمد علی صاحب نے کہا کہ اس (یعنی میں ) کی والدہ اور ننھیال ددھیال سے پوچھ لیجیے گا بعد میں کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں باپ ہوں، میں کہہ رہا ہوں تو بس سب ٹھیک ہے! یہ بیٹا آپ کا ہے۔
محمد علی صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ آپ اتوار ( یا جمعہ) کو آئیں تو میں آپ کو گھر لے کر جاؤں گا۔ تو جب ہم آئے تو انہوں نے کہا کہ یوسف میاں! بات یہ ہے کہ اس کو میں بیٹا بنا لیتا ہوں اور اس کی پڑھائی، شادی، کاروبار، اس کا مستقبل سب میں جانوں میرا کام! بس شرط صرف یہ ہے کہ آپ نے یہاں آ کر اسے ملنا نہیں ہے! کیوں کہ جب یہ آپ سے ملے گا تو پھر وہ ذہنی کھچاؤ کی وجہ سے ڈبل مائنڈڈ ہو سکتا ہے۔ پھر محمد علی صاحب نے میرے والد صاحب کو کچھ رقم پیش کی جو اس وقت کے تقریباً پچاس ہزار روپے تھے۔
اس کے علاوہ پانچ سو روپے فی ہفتہ یا مہینہ دینے کی بھی بات ہوئی۔ اس پر میرے والد صاحب نے کہا کہ علی بھائی میں بیٹا دان تو کر سکتا ہوں بیچتا نہیں ہوں! والد صاحب نے کہا کہ تاش کے چاروں یکے میرے پاس ہیں اور آپ کے پاس ایک بھی نہیں! میں آپ کو حکم کا یکہ دے رہا ہوں اور آپ مجھے اس کی قیمت دے رہے ہیں! میں نہیں بیچتا۔ تو پھر معاملہ خراب ہو گیا“ ۔
” اس حوالے سے مجھے فلمیں بھی کم ملنے لگیں۔ تب کسی بچے کو تو جگہ پر کرنا تھی۔ ایسے میں ایک بڑی اچھی آرٹسٹ بے بی جگنو کراچی سے آ گئی اس کا بڑا نام ہوا۔ ادھر ماسٹر جمی میری ساتھی تھی۔ وہ بھی نام والی اچھی آرٹسٹ تھی۔ اس وقت بس ہم دو تین ہی اداکار بچے تھے“ ۔
” اور ماسٹر روفی؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” ماسٹر روفی میرے بعد آئے۔ میرے ساتھ آنے والوں میں ماسٹر مشتاق، ماسٹر جمی، بے بی جگنو تھے“ ۔
” بہر حال فلموں میں میرے کام کا سلسلہ چلتا رہا۔ میں نے بچپن میں“ مرزا جٹ ”( 1967 ) ،“ ماں پتر ” ( 1970 ) سے لے کر “ سلطانہ ڈاکو ” ( 1975 ) تک تقریباً 103 فلموں میں کام کیا۔ کسی میں ایک تو کسی میں دو سین بھی تھے۔ میری فلموں اور میرے کرداروں کو تفصیل کے ساتھ والد صاحب نے ڈائریوں میں لکھ رکھا تھا مگر اب نہ جانے وہ کہاں چلی گئیں! مجھے ملنے والی توصیفی اسناد اور ایوارڈ بھی غائب ہو گئے۔ اس زمانے میں پروڈیوسر حضرات اپنے آرٹسٹوں اور تکنیک کاروں کو اپنی ہٹ ہونے والی فلموں پر ایوارڈ دیتے تھے۔
مجھے بھی اپنی ہٹ فلموں پر ایوارڈ ملے۔ ویسے مجھے کراچی سے کوئی ایوارڈ ملا نہ ہی حکومت کی جانب سے! حتیٰ کہ اس زمانے سے لے کر اب تک مجھے کبھی کسی روزنامے نے پذیرائی تک نہیں بخشی۔ ہاں ایک مرتبہ میں نے عاشق چودھری صاحب کو کہا کہ آپ اتنے لوگوں کے انٹرویو کرتے ہیں کبھی میرا بھی کوئی انٹرویو کر لیں! تو انہوں نے کہا کہ اب تو نے کیا کرنا ہے اب تو تیرا وقت گزر گیا! میں نے کہا جی بہتر! وہ دن اور آج کا دن میں نے پھر کبھی کسی صحافی سے نہیں کہا۔ ہاں ایک صاحب آئے تھے جنہوں نے ’مصور‘ میں میرا انٹرویو شائع کیا۔ اس وقت فلم“ میری بھابھی ”( 1969 ) بن رہی تھی۔ سیٹ پر میری تصویر بھی بنا کر اس پرچے میں انٹرویو کے ساتھ لگائیں“ ۔
” جب میں نے اپنی آخری فلم“ سلطانہ ڈاکو ” ( 1975 ) بحیثیت اداکار بچے کے کی تو اس وقت میں ساڑھے پندرہ سال کا ہو گیا تھا۔ میری ریش یعنی داڑھی نکلنی شروع ہو گئی تھی۔ اب نہ میں بڑوں میں تھا اور نہ چھوٹوں میں! مجھے کوئی کردار بھی نہیں مل رہا تھا۔ اکثر پرانے ڈائریکٹر میرے والد صاحب کے دوست تھے۔ ڈائریکٹر مظفر طاہر صاحب نے کہا کہ یوسف تم اب اس کو لے جاؤ اور اس کو خوب کھلاؤ پلاؤ اور مکمل ہیرو بنا کر لے کے آؤ۔
میرا تم سے وعدہ ہے کہ میں اس کو اپنی فلم میں ہیرو لوں گا۔ تم نے اسے سیدھا میرے ہی پاس لانا ہے۔ وہ مظفر طاہر صاحب جنہوں نے زیادہ فلمیں انگریز کے خلاف بنائیں وہ دراصل ان کے خلاف نہیں تھیں بلکہ وہ ان کے ڈسپلن، طریقوں وغیرہ پر فلمیں بناتے تھے۔ ہماری عوام کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ خیر میرے والد صاحب نے کہا کہ مراد کے ننھیال والے خاصے مذہبی لوگ ہیں وہ اسے فلم کے شعبے میں نہیں جانے دیں گے۔ یہ بچہ بچپن سے ننھیال اور ددھیال سے بچھڑا ہوا ہے۔ تو اب یہ واپس جائے گا تو وہ لوگ اسے کبھی واپس نہیں آنے دیں گے۔ میں آپ سے یہ کہہ رہا ہوں اس نے جینا بھی یہیں اور مرنا بھی یہیں ہے۔ کیوں کہ اس نے کچھ کرنا ہے“ ۔
بھٹو صاحب، ماسٹر مراد اور باری اسٹوڈیو:
” کچھ کرنے سے مجھے ایک دلچسپ بات یاد آئی! اس دور میں باری اسٹوڈیو میں ایک فلم“ ہم لوگ ” ( 1970 ) بن رہی تھی۔ اس وقت بھٹو صاحب باری اسٹوڈیو میں آئے۔ ان کے ساتھ باری ملک صاحب، الیاس کاشمیری صاحب، احد ملک صاحب اور کئی ایک نامور افراد آئے۔ یہ لوگ سیر کرتے ہوئے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ریکارڈنگ اسٹوڈیو ہال نمبر اے پر یہ قافلہ آفس سے اتر کر آیا ہی تھا کہ گاؤں کی طرف سے میں تباہ حال حلیہ ا ور پھٹے ہوئے کپڑے پہنے آ رہا تھا۔
بھٹو صاحب نے سوال کیا کہ آپ کے اسٹوڈیو میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں“ ۔ ظفر اقبال میرا اور خود مراد بن یوسف کا مشترکہ زور دار قہقہہ۔ ”انہیں بتایا گیا کہ یہ بھکاری نہیں یہ تو ایکٹر ہے! اس پر بھٹو صاحب نے مجھے پاس بلایا کہ ادھر آؤ۔ مجھے اس وقت پتا نہیں تھا کہ یہ کون ہیں! وہ سردیوں کا زمانہ تھا اور انہوں نے لکیروں والا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ مجھ سے ہاتھ ملانے کے لئے تھوڑے سے جھکے بھی۔ میری عادت تھی میں بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملاتا تھا۔
اس پر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑے رکھا۔ انہوں نے پوچھا کیا حال ہے بیٹے؟ کیا کرتے ہو؟ کیا نام ہے؟ پھر محمد علی صاحب سے بات کی کہ یہ بچہ فلم کی سیاست کرے گا! اس بات پر سب ہنس پڑے۔ پھر بھٹو صاحب کو بتایا گیا کہ اس نے کیا کرنا ہے اس کا تو باپ ایسے اور ایسے ہے۔ پھر میرے والد صاحب کی برائیاں کی گئیں۔ بہرحال بات آئی گئی ہو گئی اور بھٹو صاحب گاؤں دیکھنے چلے گئے۔ اس گاؤں کی زمین دراصل بھٹو صاحب نے اسٹوڈیو اسٹاف کو ٹھہرانے کے لئے دی تھی۔ وہ باری اسٹوڈیو کی ملکیت نہیں ہے۔ جب میں اس پر بات کرتا ہوں تو یہ لوگ میرے گلے پڑ جاتے ہیں! “ ۔
میرے والد اور فلمسازی :
میرے والد صاحب کو ایکٹر بننے کا شوق تھا اس لئے انہوں نے انڈیا میں ایک فلم پروڈیوس کی۔ نام یاد نہیں لیکن وہ بادشاہوں والی فلم تھی۔ اس میں شہزادے کا کردار والد صاحب خود کر رہے تھے۔ ہیروئن اس زمانے کی نادرہ بیگم تھیں۔ یہ بات مجھے والد صاحب کے دوست گلزار صاحب نے بتائی جو ایکسٹرا سپلائر تھے۔ یہ میرے والد کی شادی میں بھی شریک تھے۔ پتہ نہیں کیا حالات ہوئے کہ وہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ پھر والد صاحب نے پاکستان میں فلم ”دارا“ ( 1968 ) بنائی اس کے بعد ”پرنس آف جنگل“ شروع کی جس میں مجھے پرنس بنایا تھا۔ لیکن وہ فلم اسکرپٹ اور میوزک تک محدود رہی اور اس وقت تک کا میرا کمایا ہوا تمام اثاثہ اس فلم کی نذر ہو گیا ”۔

اداکار اجمل خان:
” جب میں فلم“ جگری یار ” ( 1967 ) میں اکمل صاحب کا بچپن کر رہا تھا۔ ان کے بڑے بھائی اجمل خان صاحب کا باری اسٹوڈیو کے شروع میں پیلی عمارت میں دفتر ہوتا تھا۔ وہ بوسکی کا پاجامہ کرتا اور پیروں میں کولہا پوری چپل پہنے باہر کرسیاں ڈالے بیٹھا کرتے تھے۔ راستہ ہی وہ تھا لہٰذا سب ہی وہاں سے گزرتے تھے۔ میں جب آتا تو وہ گلے لگا کر ملتے۔ وہاں بیٹھے اکمل خان صاحب نے مجھے اس دن پانچ روپے کا نوٹ دیا۔ پھر تو یہ ان کا معمول ہو گیا کہ میں جب یہاں آتا وہ مجھے پانچ روپے کا نوٹ دیتے اور کافی دیر تک گلے سے لگائے رکھتے (یہاں مراد بن یوسف صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں ) ۔ مجھے کہتے کہ تم تو میرے بیٹے ہو البتہ ایکٹنگ کے بارے میں تم اجمل بھائی سے گائیڈ لائن لیا کرو۔ ایک دن کہنے لگے :
” ابھی تو تم ان کا بچپن کر رہے ہو لیکن کبھی اگر اکمل کے ساتھ کام کرنے کا موقع آیا تو ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنا۔
کردار کوئی بھی ہو ڈائریکٹر کی بات کو سمجھنا ہے۔ نہیں سمجھ آئے تو بلا جھجک دوبارہ پوچھنا ہے۔ کردار کے اندر رہ کر ہی سب کچھ کرنا۔ جو وقت دیں اس پر آنا۔ سارا دن بٹھائے رکھیں تو تم نے منہ سے کچھ نہیں کہنا۔ شام چھ بجے جب تمہارا وقت ختم ہو جائے تو ڈائریکٹر سے پوچھنا کہ میں جاؤں؟ کیا کل آؤں؟ شوٹنگ کے دوران ڈائریکٹر سے نہیں پوچھنا کہ میرا کام کب ہو گا؟ ”۔
میں بھی آنے والے آرٹسٹوں کی یہی رہنمائی کرتا ہوں۔ نامور فنکارہ صائمہ بیگم کو بھی میں نے یہی کہا تھا۔ نرما بیگم کو بھی یہی بریف کیا تھا۔ جو مجھے بڑوں نے دیا میں نے بلا امتیاز سب ہی کو منتقل کیا ”۔
” بہرحال ایک روز میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ اب تو یہ بڑا ہو گیا ہے اس کو اپنی شاگردی میں لو تا کہ میں بھی کہہ سکوں کہ مراد فلانے کا شاگرد ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ اگر اس نے اسٹوڈیو میں رہنا ہے تو اسے فوٹوگرافی، ایڈیٹنگ یا لیبارٹری کا کام سکھاؤ۔ سب کام اس کے سامنے ہیں اب اس کا جو دل کرے وہ کر لے۔ پھر کہنے لگے کہ بہتر ہو گا اسے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کروا دو ۔ کیوں کہ یہ ایکٹنگ کر کے بتا بھی سکتا ہے باقی شعبے یہ خود ہی سیکھ لے گا! پھر مجھ سے کہا کہ جہاں تمہارا دل لگے تم وہی کام کرنا“ ۔
آنکھ کا راز:
” میرا شوق فوٹوگرافی تھا لہٰذا میں نے سب سے پہلے اس کا انتخاب کیا۔ یہ بات میں آج پہلی دفعہ بتلا رہا ہوں کہ جب میں نے کیمرے کو آنکھ لگائی، کیوں کہ کیمرے میں دائیں آنکھ ہی لگائی جاتی ہے تو مجھے اس سے نظر نہیں آیا۔ تب مجھے علم ہوا کہ میری تو یہ آنکھ آؤٹ آف فوکس ہے۔ گویا 15 سال تک مجھے اس بات کا پتا ہی نہیں چلا! جب دوسری آنکھ لگائی تو وہ ٹھیک تھی۔ لہٰذا طے ہوا کہ یہ کام نہیں سیکھا جا سکتا۔ پھر ایڈیٹنگ کی طرف میں آیا تو اس میں بھی آنکھوں ہی کا کام تھا اس لئے اس کو بھی خیرباد کہنا پڑا“ ۔
بننا اسسٹنٹ ڈائریکٹر:
” قصہ مختصر یہ کہ جیسا کہ مجھے پہلے ہی کہا گیا تھا میں ڈائریکشن کی طرف آ گیا۔ والد صاحب سے مشورہ کیا تو انہوں نے مخالفت کی کہ تو اسسٹنٹ بنے گا؟ اور تنبیہ کی کہ اسسٹنٹ کو جھاڑو دینے سے قالین بچھانے اور کرسیاں لگانے تک سارے کام کرنا پڑتے ہیں۔ فلمسازوں اور ڈائریکٹروں اور پروڈکشن والوں کی سخت سست اور بدزبانی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ یہ وار انہیں کھاتا۔ یہ کام نہیں کرو۔ ٹھیک ہے کبھی کوئی کردار کرنے کو ملا تو کر لینا! لیکن اس دوران میرے والد صاحب بیمار ہو گئے اور خاندانی مسائل کی وجہ
سے ہمارا قلعہ گوجر سنگھ والا مکان بک گیا۔ ہم کرایہ کے مکان میں منتقل ہو گئے۔ بتدریج پریشانیاں بڑھنے لگیں۔ میری عمر بھی کچھ ایسی تھی کہ نہ میں ادھر کا نہ میں ادھر کا ۔ پھر گھر میں بڑا بھی اب میں ہی تھا۔ میرے تین اور بھائی بھی تھے۔ جب میرے والد صاحب کی محمد علی صاحب سے چار یکوں کی بات ہوئی تھی تو اس وقت یہ بھائی موجود نہ تھے میرے والد صاحب کو آنے والوں کا علم تھا۔ میری بہنیں بھی تھیں۔ پھر میں نے سوچا کہ میں اسسٹنٹ ہی بن جاتا ہوں۔
وہاں سے کچھ پیسے تو ملیں گے اور گھر کا نظام تو چلے گا! تو میں مظفر صاحب کے پاس آ گیا۔ میں نے ان کو اپنی آنکھ کا نقص نہیں بتایا اور یہ کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میں وہی کام کروں جو آپ کرتے ہیں۔ پھر اسسٹنٹ بننے کی وجہ بھی تھی کہ اس زمانے کا ڈائریکٹر بھی ایسا ہوتا تھا کہ جب وہ سیٹ پر آتا تو یوں لگتا جیسا سانپ سونگھ گیا ہو! اس کی اتنی اہمیت ہوتی کہ کوئی اس کے سامنے بول نہیں سکتا تھا ”۔
” خیر مظفر صاحب نے ملک ریاض صاحب کو بلایا اور کہا کہ آج سے یہ بھی اسسٹنٹ ہے۔ ڈائریکٹر مظفر طاہر صاحب کے تقریباً چھ سات اسسٹنٹ ہوتے تھے۔ ان میں میرا آٹھواں یعنی آخری نمبر تھا۔ میرا کام ان کے لئے پان، چائے اور جو کچھ ضرورت ہوتی اس کا لانا تھا۔ میری کوشش ہوتی کہ وہ مجھے کلیپ بورڈ، بک کیپپنگ جیسی کوئی ذمہ داری دیں۔ اس کا مجھے موقع نہیں ملتا تھا۔ میں بیزار سا ہو گیا کہ کس کام میں پڑ گیا ہوں! کوئی ان کاموں کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتا تھا۔ بلکہ مجھے وہاں سے دور کر دیا جاتا تھا“ ۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایسوسی ایشن:
” بھٹو صاحب کی اسٹوڈیو کی سیاست کرنے والی پیش گوئی کیا ہوئی؟“ ۔ ظفر اقبال صاحب نے سوال کیا۔
” میں نے کیا سیاست کرنا تھی! البتہ میں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایسوسی ایشن بنائی تھی اس کے پیچھے میری سیاست چمکانے والی کوئی بات نہیں۔ ایسوسی ایشن بنانے کا اولین مقصد یہ تھا کہ کچھ ڈائریکٹر اپنے اسسٹنٹ لڑکوں سے گالم گلوچ کرتے تھے خصوصاً ایسوسی ایٹ سے۔ میں نے ’اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایسوسی ایشن‘ کے انتخابات پہلے 1980 میں کروائے پھر 1990 میں۔ میں نے خود ہی دو پینل بنائے۔ سب کو کہا کہ پینل دو ہیں لیکن ووٹ ’الطاف قمر‘ ہی کو دینا ہے۔
اس نے بھاگ دوڑ والے کام کیے بھی اور کروائے بھی تھے۔ میں ان کو کہتا تھا کہ دفتر لیں! وہ پس و پیش کرتے کہ ہم سب کے بیٹھنے کے ٹھکانے تو ہیں ہی! میں نے کیمرہ مین نبی احمد صاحب کو کہا کہ آپ نے میرے اسسٹنٹ بھائیوں کو کیمرے کے لیکچر دینا ہیں۔ تمام صحافیوں سے کہا کہ آپ اپنے اخبارات ایسوسی ایشن کے دفتر میں بھجوائیے۔ پھر ایک پروفیسر عارف ہوتے تھے۔ سید اکبر اور سید اصغر حسین رضوی ان کے شاگرد تھے۔ انہیں اسسٹنٹ بھائیوں کو انگریزی بولنے کی کلاسیں لینے پر راضی کیا۔
اسی طرح سے میں نے تقریباً ہر ایک ٹیکنیکل شعبے کے ماہرین سے بات کر لی تھی۔ اب چونکہ انہوں نے دفتر نہیں بنایا لہٰذا یہ سب نہیں ہو سکا۔ 2000 میں پھر الیکشن کروایا تو میں نے ان کو کہا کہ جو ہمارے اسسٹنٹ لڑکے ٹیلی وژن میں چلے گئے ہیں میں ان سے رابطہ کرتا ہوں۔ ان کا ووٹ بھی شامل کریں۔ اس بات کی مخالفت کی گئی تب میں نے کہا کہ آج انہیں ووٹ کا حق دو تو کل جب تم لوگ ٹی وی میں جانا چاہو گے تو وہ تمہاری مدد کریں گے۔ پھر ادھر کے پڑھے لکھے لڑکے ادھر کا رخ
کریں گے۔ میں کل کا دیکھ رہا ہوں تم لوگ آج کی بات کر رہے ہو ”!
باتوں باتوں میں مراد صاحب نے بتایا کہ پہلے پروڈیوسر ایسوسی ایشن بنی۔ اس کے بعد اسٹوڈیوز میں سب سے پہلے ہماری ایسوسی ایشن بنی پھر اس کے بعد دوسرے شعبوں کی ایسوسی ایشنیں بنیں جیسے کیمرہ مین، ڈائریکٹرز وغیرہ۔
میرے اساتذہ:
” میرے والد صاحب نے کہا تھا کوئی بھی کام بغیر استاد کے نہیں کرنا۔ تو ایکٹنگ میں اگر دیکھا جائے تو میرے والد صاحب ہی میرے ٹیچر ہیں۔ کیوں کہ وہ مجھے سکھاتے اور میرے ساتھ بولتے تھے لیکن روحانی استاد اجمل خان صاحب ہیں جن سے میں اکمل خان کی معرفت ملا تھا! ویسے میں نے سب ہی سے سیکھا بلکہ میرے اصل استاد اس وقت کے ڈائریکٹر تھے۔ جن میں وحید ڈار صاحب،
رضا میر صاحب، حسن طارق صاحب اور خلیل قیصر صاحب۔ یہ چار ایسے نام تھے جو خود کر کے بتاتے تھے کہ ایسے نہیں ایسے! ! ”
” کن ڈائریکٹروں کی فلموں میں آپ نے اداکاری کی؟“ ۔
” الحمدللہ میں نے تمام ہی نامور فلم ڈائریکٹروں کے ساتھ جو حیات ہیں یا گزر گئے کام کیا۔ ان میں مظفر طاہر صاحب، خواجہ سرفراز صاحب، ایم جے رانا صاحب، رضا میر صاحب، اکبر علی اکو صاحب، حسن طارق صاحب، افتخار خان صاحب، لقمان صاحب، ایس سلیمان صاحب، رنگیلا صاحب، عظمت نواز صاحب، اخلاق صاحب، ظہور راجہ صاحب، خلیل
قیصر صاحب وغیرہ ”۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مراد صاحب نے کہا : ”ڈائریکٹروں کو اسسٹ کرتے وقت میں نے کبھی نہیں سوچا کہ کون بڑا اور کون چھوٹا ہے۔ کیوں کہ اس وقت تو زیادہ سے زیادہ کام سیکھنے پر زور تھا! جہاں مجھے کچھ کرنے کا موقع ملتا وہاں میں ضرور جاتا خواہ فلم کا ڈائریکٹر نام والا ہو یا بے نام! نئے ڈائریکٹر کے ساتھ سیکھنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ کیمرہ مین سجاد رضوی صاحب جہاں کام کرتے تھے وہاں اگر اسسٹنٹ کی ضرورت ہوتی تو وہ مجھے بلوا بھیجتے تھے۔ میں نے اسلم ایرانی صاحب کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔ ان کی مشہور فلم“ مقابلہ ”( 1967 ) اور“ کسان ”، ( 1970 ) دونوں میں اکمل خان صاحب کا بچپن کیا“ ۔

وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنہوں نے آگے چل کر نام کمایا:
” جب میرا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے مظفر طاہر صاحب کے ساتھ آغاز ہوا توان کے ایک اسسٹنٹ ریاض ملک صاحب تھے۔ انہوں نے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایک فلم“ خاندان ” ( 1964 ) بنائی تھی۔ پھر مظفر صاحب کے ایک اسسٹنٹ محمود بٹ صاحب تھے۔ انہوں نے تاریخ اسلام پر ایک بڑا بین الاقوامی نوعیت کا اسکرپٹ لکھ رکھا ہے۔ انہیں موقع نہیں مل سکا! وہ آج بھی کوشش میں ہے جب کہ میری طرح بوڑھے ہو گئے ہیں! تھوڑے نظریاتی بھی واقع ہوئے ہیں۔
پھر زکی جرال صاحب نے بھی ڈائریکٹر بن کر مقبول فلمیں بنائیں۔ وہ ماشاء اللہ تیز تھے اور کچھ کرنا چاہتے تھے۔ وہ آج کل پاکستان میں نہیں ہیں غالباً ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کہیں ہیں۔ ایس اے حافظ، جو نامور فنکار کمار صاحب کے بیٹے تھے۔ ان کی سپر ہٹ فلم“ توبہ ” ( 1964 ) پھر فلم“ میری بھابھی ” ( 1969 ) میں میرا اور نیر بھابھی کا ٹائٹل رول تھا۔ ان کے علاوہ ان کی فلمیں“ سجدہ ”( 1967 )“ اور ”اک نگینہ“ ( 1969 ) بھی ہیں ”۔
اداکارہ ماسٹر جمی :
” میری ایک ساتھی ہوتی تھیں ماسٹر جمی اللہ انہیں صحت اور زندگی دے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مراد! پڑھا کرو کیوں کہ اب تک تو میرے پاس پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔ میں نے کہا کہ فرصت ملے تو پڑھوں بھی! اس پر ماسٹر جمی نے کہا کہ انہوں نے تو وقت دینا ہی نہیں! میں نے اس سے پوچھا کہ آخر پھر تم کس طرح سے وقت نکال لیتی ہو؟ اس نے کہا جب جب فرصت ملتی ہے کچھ پڑھ ہی لیتی ہوں۔ میں نے کہا کہ بھلا یہ بھی کوئی پڑھائی ہوئی! تب اس نے کہا کہ میں تمہیں پڑھ کر بتاؤں گی۔ یہ بات چیت میرے والد صاحب نے بھی سن لی۔ وہ مجھے ’بچوں کی دنیا‘ ، ’نونہال‘ اور دیگر باتصویر بچوں کے رسالے پڑھنے کے لئے دینے لگے“ ۔
میری پڑھائی اور باسط صاحب:
” ہمارے قلعہ گوجر سنگھ میں ایک تحصیل دار ہوتے تھے ان میاں صاحب کے بیٹے باسط صاحب تھے۔ انہوں نے مجھے تیسری جماعت کی کتاب پڑھائی جو آج تک میرے کام آ رہی ہے۔ اگر وہ مجھے لکھنا بھی سکھا دیتے اور انگریزی بھی تو شاید میں وہ بھی سیکھ جاتا“ ۔
اپنے شعبے میں خود جگہ بنانا:
” وہ میرے اسسٹنٹ بھائی جو میری اداکاری کے زمانے میں پانی، چائے اور کرسیاں پیش کرتے تھے اب انہوں نے مجھ سے نہ جانے کس چیز کا انتقام لینا شروع کر دیا۔ اب وہ مجھے حکم دیتے کہ جاؤ فلاں چیز اٹھا کر لے آؤ۔ وہاں جھاڑ و دو ۔ یہ سب میں کرتا تھا۔ میں نے یہ تصور بھی کرنا چھوڑ دیا کہ میں کبھی ایکٹر ہوتا تھا۔ طے کر لیا کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں نے یہ کام سیکھنا ہے۔ چوں کہ بنیادی طور پر تو مجھے کیمرہ مین بننے کا شوق تھا تو میں ’ٹرک ورک‘ کرنے والے کیمرہ مین رشید چوہدری، اقبال چو دھری، ابراہیم باجوہ صاحبان کی جہاں شوٹ ہوتی، لازمی چلا جاتا۔ ان کے کام کو غور سے دیکھتا کہ یہ کیسے کرتے ہیں۔ اب تو خیر کمپیوٹر آ گیا اور یہ کام آسان ہو گیا لیکن اس وقت یہ کرنا بڑا مشکل تھا۔ جیسے ایک کردار کے پیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہ جل رہا ہے۔ دیکھ دیکھ کر اتنا سیکھ گیا کہ میں خود بھی کر سکتا تھا۔ میں نے ایک دو جگہوں پر ایسے ٹرک استعمال بھی کیے“ ۔
” جب ڈائریکٹر مظفر طاہر صاحب کی فلم“ سکندرا ” ( 1974 ) بنی تو اس میں میرا حاجی اقبال حسن صاحب کے بچپن کا کردار تھا۔ اب میرا قد بڑھ چکا اور داڑھی بھی آ چکی تھی۔ وہ فلم ذرا نرم گئی تو حاجی اقبال صاحب مجھے پیار سے کہنے لگے کہ تو نے میری فلم فیل کرائی! انہوں نے فلمساز کی حیثیت سے ایک فلم شروع کی جس کے ڈائریکٹر مظفر طاہر صاحب تھے اس میں اسسٹنٹ کے طور پہلی دفعہ میری تنخواہ 75 روپے لگی۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ مظفر صاحب کی چار پانچ پروڈکشن چل رہی تھیں سب ہی جگہ میری یہی 75 روپے تنخواہ شروع ہو گئی“ ۔
فلم میں پہلا کلیپ دینا:
” خواجہ سرفراز صاحب کی فلم“ شیفا ”بن رہی تھی (جو ریلیز نہ ہو سکی) نازش کاشمیری صاحب اس کے فلمساز تھے یہ راشد محمود صاحب کے والد ہیں۔ ان کی ریکارڈنگ میں ان کے ایسوسی ایٹ کسی وجہ سے نہ آ سکے تھے۔ البتہ سیکنڈ ایسوسی ایٹ شاد صاحب موجود تھے۔ ان کو ایک کلیپر کی ضرورت تھی۔ میں ایورنیو سے پان لے کر پانچ نمبر فلور کی جانب جا رہا تھا تو وہ باہر کھڑے سوچ رہے تھے کہ کلیپنگ کے لئے کس کو کہوں! مجھے دیکھ کر کہنے لگے بھائی کیا آپ اسسٹنٹ ہیں؟
میں نے کہا جی! انہوں نے کہا یار آج آپ ہماری شوٹنگ کروا دیں۔ ہمارے اسسٹنٹ نہیں آئے۔ میں نے کہا کہ کروا دوں گا۔ پوچھا کیا کرنا ہو گا بتلایا گیا کلیپ دینا ہو گی۔ یہ سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں نے کہا کہ صاحب سے پوچھ کر چھٹی لے کر آؤں گا۔ میں نے ان کو پان دیے اور کہا کہ سامنے ایک شوٹنگ ہو رہی ہے انہیں کلیپ دینے کے لئے اسسٹنٹ کی ضرورت ہے اگر اجازت ہو تو شوٹنگ کرا دوں؟ انہوں نے کہا کہ تم نے یہاں تو کبھی کلیپ دی نہیں یہ کیسے کرو گے؟ میں نے کہا کہ یہاں تو یہ لوگ مجھے موقع ہی نہیں دیتے! انہوں نے کہا اچھا پھر جاؤ لیکن مجھے بے عزت نہ کروا دینا“ ۔
” وہاں گیا تو خواجہ سرفراز صاحب ڈائریکٹر تھے۔ میں نے ان کی فلم“ بد نالوں بدنام برا ” ( 1970 ) میں اداکاری کی تھی۔ شاد صاحب سے انہوں نے پوچھا کہ لڑکا لے آئے؟ اس نے میری جانب اشارہ کیا کہ آ گیا ہے۔ اس پر سرفراز صاحب بولے کہ یہ تو ایکٹر ہے! اسسٹنٹ کہاں ہے؟ مجھ سے پوچھا او ہیرو تم اسسٹنٹ ہو گئے ہو؟ کہا جی ہاں پوچھا کس کے؟ جواب دیا کہ مظفر صاحب کا ۔ پھر سرفراز صاحب نے کہا چلو کرو کام شاباش! شاد صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے اس کو اسسٹنٹ نہیں سمجھنا۔
اس کو کام سکھاؤ۔ تو میں کچھ ایسا ان کے ساتھ جڑا کہ پھر ان کے ساتھ تین چار فلمیں کیں۔ اس دوران فلمساز ضیاء الدین قاضی صاحب آ گئے۔ آتے ہی کہنے لگے کہ خواجہ اچھے خاصے لڑکے کو اسسٹنٹ بنا دیا ہے؟ خواجہ صاحب نے کہا کہ اس کو ڈائریکٹر بننا ہے! اسے سب سے پہلے پروڈکشن سکھانی ہے۔ اسے تمام ہی شعبے سکھانے ہیں، ڈائریکشن خود ہی آہستہ آہستہ آ جائے گی۔ لیکن باہر کے کام اسے پہلے سکھانے ہیں۔ تو انہوں نے مجھے پروڈکشن کے کاموں پر لگا دیا۔ پر چیزنگ، کیل، کاغذ لانا، فلاں چیز کتنے کی آتی ہے؟ یہ سب ہی کچھ میں کرتا رہا“ ۔
اچھو میاں اور میں :
” اس کے بعد یہ ہوا کہ آخری فلم“ اتھرہ ” ( 1975 ) کر رہا تھا جس کے فلمساز سید اصغر حسین رضوی صاحب ( میڈم نور جہاں اور سید شوکت حسین رضوی صاحب کے چھوٹے صاحب زادے ) تھے۔ تو اس میں اچھو میاں (سید اصغر حسین رضوی صاحب) کے پاس شوٹنگ کے لئے فلم کا نیگٹو ہوتا تھا۔ اب ان سے نیگٹو لینے کوئی بھی نہیں جاتا تھا کہ صاحب کو کون اٹھائے۔ یہ کام بھی مجھے سونپ دیا گیا۔ میں دروازے پر دستک دیتا۔ اندر سے آواز آتی کون؟ اچھو میاں مجھے چھوٹی دنیا کہتے تھے۔
میں جواب دیتا چھوٹی دنیا۔ کہتے آ جاؤ۔ میں کہتا جناب نیگٹو چاہیے ہیں۔ پوچھتے شوٹنگ باہر کر رہے ہو یا اندر؟ میں کہتا اندر۔ کہتے کہ وہ پیلا والا ڈبہ اٹھا لو۔ میں کہتا ایک ہی دفعہ دو ڈبے دے دیں پھر جو آنا پڑے گا۔ کہتے ہاں لے جاؤ! وہ میں کیمرے والوں کے حوالے کر دیتا۔ بے ایمانی تو کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا کیوں کہ وہ خود مالکان کے بیٹے کی فلم تھی! اس فلم میں میری تنخواہ 150 روپے لگی“ ۔
فلم نگری میں پہلا جھٹکا:
” یہ غالباً 1975 کی بات ہو گی۔ میری بہنوں کی شادی آ گئی اور فلم ختم ہو گئی۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے پیسے چاہئیں۔ انہوں نے کہا آفس آ جانا۔ دفتر میں ایک پروڈکشن کے صاحب تھے انہوں نے ٹال مٹول کی۔ مجھے بڑی جلدی غصہ آتا تھا۔ سوچا کہ یہ کیسا کام ہے کہ کام بھی کرو اور پیسے بھی نہیں ملتے۔ میں نے گھر جا کر والد صاحب کو بتایا کہ مجھے میرے کام کے پیسے نہیں ملے۔ وہ مجھے ساتھ لے کر ایک صاحب کے پاس لے گئے اور ان سے پیسے لے کر ہم لوگ گاؤں چلے گئے۔ وہاں بہنوں کی شادیاں تھیں۔ ہمارے گھر میں تانبے کے بڑے پتیلے ہوتے تھے انہیں میں اور میری والدہ شہر میں بیچ کر باقی شادی کے لئے جو ضرورت کی چیزیں تھیں وہ لائے اور یوں میری بہنوں کی شادی ہو گئی“ ۔
قیصر مستانہ:
” میں نے ایک لڑکے، قیصر مستانہ کو اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا۔ یہ بچپن سے ہی میرے ساتھ تھے۔ بلکہ ہم دونوں ایک ساتھ اسسٹنٹ بھی ہوئے۔ جہاں انہیں موقع ملتا وہ مجھے گھسیٹ لیتے اور اسی طرح میں بھی کرتا۔ لیکن ان کو ایکٹنگ اور فائٹنگ کا شوق تھا۔ ڈائریکشن تو وہ اپنے کام کے لئے سیکھ رہا تھا۔ البتہ مجھے کہتا کہ تم صحیح طریقے سے سیکھو! تو خیر جیسے کہ رواج تھا کہ بہن کے ساتھ بھائی سسرال جاتا تو ایک بہن کے ساتھ میں اور ایک بہن کے ساتھ وہ بہنوں کے سسرال گیا۔ جب شادی کے بعد اسٹوڈیو میں واپس آ کر کام شروع کیا تو ڈائریکٹر زکی جرال صاحب کی فلم“ خطرہ 440 ” ( 1982 ) شروع ہوئی“ ۔
فلم ”قاتل تے سمگلر“ ( 1978 ) کا بننا خود ایک فلمی کہانی:
” میرا دل سرفراز صاحب کی جانب سے بھی کھٹا ہو گیا کہ ان میں جرات ہی نہیں کہ وہ میرے پیسے پروڈیوسر سے دلوائیں۔ تو ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر برکت صاحب مجھے کہنے لگے کہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کچھ نہیں بہنوں کی شادیوں سے ابھی واپس آیا ہوں۔ کہنے لگے آج شام کو ڈائریکٹر شوکت راز صاحب کراچی کی ایک پارٹی کی فلم کی شوٹنگ کر رہے ہیں۔ فلم شلم کوئی نہیں بننی بس دیہاڑی لگنی ہے لہٰذا موج کرنا! تم نے میرے ساتھ کام کرنا ہے۔ میں نے حامی بھر لی۔ پھر برکت صاحب نے کہا کہ میں رائل پارک جا رہا ہوں شام سات بجے تک واپس آ جاؤں گا۔ انہوں نے اوپر دفتر لیا ہوا ہے۔ تم وہاں جا کر شوکت راز صاحب کو کہو کہ مجھے برکت نے بھیجا ہے۔ پھر جو وہ کہیں وہ کرنا“ ۔
” میں چار بجے دن راز صاحب کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ مجھے برکت صاحب نے بھیجا ہے۔ وہ سات بجے تک آ جائیں گے۔ میں اسسٹنٹ ہوں اور ان کے ساتھ شوٹنگ کرانا ہے۔ بتائیں کہ شوٹنگ کب اور کہاں ہونا ہے؟ ٹھیک ہے! ایک نمبر فلور پر سیٹ لگ رہا ہے۔ یہ فلم کے کیمرہ مین سجاد رضوی صاحب ہیں باقی تو تمہیں سب پتا ہی ہے! کاسٹ شام کو آ جائے گی۔ تم سیٹ ڈیکوریٹ کرو۔ میں نے پوچھا کیا ڈیکو ریٹ کرنا ہے؟
گھر ہے یا دفتر؟ جواب دیا ڈرائنگ روم ہے۔ میں سیٹ پر آیا۔ لائٹیں لگا کر تازہ کیا گیا رنگ سکھا یا جا رہا تھا۔ سجاد رضوی صاحب چوں کہ زکی جرال صاحب کے ساتھ کیمرہ مین تھے لہٰذا میری ان سے سلام دعا تھی انہوں نے کچھ سامان پروڈکشن والوں سے منگوانا تھا۔ وہ بھی مجھے کرنے کو کہا گیا۔ اس زمانے میں پروڈکشن والوں کے کام بھی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے لیتے تھے۔ خیر وہ سامان لا کر سیٹ ڈیکوریٹ کیا۔ اس دوران فلم کے پروڈیوسر آ گئے لیکن برکت صاحب نہ آئے۔ کئی مرتبہ سجاد رضوی صاحب نے برکت کا پوچھا۔ خاصے بے چین لگے۔ مجھ سے پھر پوچھا تو میں نے بتایا کہ یہی کہہ کر گئے تھے کہ سات بجے آ جاؤں گا۔ پھر کہا کہ کوئی اسسٹنٹ ساتھ لے آؤ۔ برکت آ گیا تو ٹھیک اور نہ آیا تو تم دونوں کرتے رہنا“ ۔
” اسی زمانے میں پروڈیوسر طارق جاوید صاحب اور ڈائریکٹر جاوید حسن صاحب کی باری اسٹوڈیو میں کوئی فلم بن رہی تھی۔ نام یاد نہیں رہا۔ وہاں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز حسین تھے جن کو میں نے کلیپ دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ جب میں اسٹوڈیو سے باہر نکلا تو وہ ہوٹل پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ بک میں لکھ لوں گا کلیپ اس سے لے لوں گا۔ مکالمے وہ خود یاد کروا لیں گے۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ فارغ ہیں؟ کہا کہ ہاں تو میں نے کہا کہ ایک شوٹنگ کروانی ہے۔
پوچھا کس کی فلم؟ میں نے کہا کہ اصل میں برکت صاحب نے کہا ہے کہ یہ فلم نہیں بننی۔ لیکن جو شخص مجھے آج ملا ہے یہ فلم بنانے والا لگتا ہے۔ مگر ٹیم ہمارے ہی جیسی ہے! اس پر اس نے کہا کہ فلم بنے یا نہ بنے ہمیں کیا؟ ہم نے تو کام کرنا اور پیسے لینے ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اٹھو چلیں! اب میں ان کو لے کر شاہ نور اسٹوڈیو کی جانب چلنے لگا تو وہ گیٹ پر رک گئے اور کہا کہ میں تو سمجھا تھا کہ باری اسٹوڈیو میں جانا ہے۔
پوچھا کہ کیوں؟ تو بتایا کہ میں تو وہاں آڈیو کے شعبے کا ملازم ہوں۔ شاید بوم آپریٹر تھے اور فلم اسٹوڈیو میں میرے جانے پر پابندی ہے۔ میں نے کہا آئیں میرے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔ دونوں سیٹ پر چلے گئے۔ فلمساز نے ہم سے پان سگریٹ کا پوچھا میں نے کہا کہ یہ ’ہائی لائٹ‘ برانڈ پیتے ہیں اور میں پان کھاتا ہوں۔ انہوں نے سگریٹوں کے پیکٹ اور میرے لئے درجن بھر پان منگوا دیے! خیر شوٹنگ ہوئی۔ فلمساز آصف بٹ صاحب بھی اداکاری کر رہے تھے۔ تب مجھے پتا چلا کہ ایکٹنگ کے چکر میں فلم بن رہی ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ ان کا ٹرانسپورٹ کا کام ہے۔ تب میں نے بے ساختہ کہا کہ اداکاری کے شوق کے ساتھ پیسے بھی ہیں لہٰذا فلم بن سکتی ہے“ ۔
” میں مکالمے یاد کرا دیتا تھا۔ سجاد رضوی صاحب مارکنگ کر دیتے تھے۔ شوکت راز صاحب کے پاس اسکرپٹ ہوتا تھا، او کے وہ لکھتے تھے۔ میں بک میں نوٹ کر لیتا تھا۔ کلیپ بھی راز صاحب دے لیتے تھے۔ اس طرح ہم لوگوں نے پہلے دن کی شوٹنگ کی۔ شام کو
ہمیں پانچ پانچ روپے آنے جانے کے دیے گئے اور ساتھ ہی انہوں نے ہزار ہزار روپیہ ہم دونوں کو ایڈوانس دیا کہ اب سارا کام آپ نے ہی کرنا ہے۔ ہم بڑے مطمئن ہو گئے۔ قصہ مختصر یہ کہ اس فلم میں ایک ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کا مکمل کام میں نے سیکھا کہ ایسوسی ایٹ کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں۔ بہرحال یہ فلم ”قاتل تے سمگلر“ ( 1978 ) چھ سات ماہ میں مکمل ہو گئی۔ پھر ریلیز بھی ہو گئی جو ’گڈ بی کلاس‘ فلم تھی۔ اسی فلم کے دوران کسی وجہ سے فلم کے مکالمہ نگار نہ آ سکے تو مصطفے ٰ قریشی صاحب اور آصف بٹ صاحب کا ایک سین کیمرہ مین سجاد رضوی کو پسند نہیں آیا۔ ہماری پوری ٹیم میں ٹیکنیکل مائنڈ وہی تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تم یہ سین دوبارہ لکھو! میں نے کہا کہ میں کیسے لکھوں؟ پھر ان کی حوصلہ افزائی سے میں نے شوکت راز صاحب ( جنہوں نے فلم کی کہانی لکھی تھی) کی اجازت سے مصطفے ٰ قریشی صاحب اور آصف بٹ صاحب کے لئے ایک سین لکھا جو فلم میں ہے ”۔
سرفراز حسین اور فضل حسین :
” وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز حسین جن کو میں لے کر فلم“ قاتل تے سمگلر ”کے سیٹ پر گیا تھا اب ماشاء اللہ میرے بہنوئی ہیں۔ میرا بھانجا فضل حسین چائلڈ اسٹار سے لے کر اب تک کراچی کا بہترین ایکٹر ہے اور اے آر وائی چینل پر نشر ہونے والے ڈرامے“ بے بی باجی ”میں ولید کا کردار ادا کر رہا ہے“ ۔
” قاتل تے سمگلر“ میری زندگی کا انتہائی اہم موڑ:
” یہ فلم اس لحاظ سے میری زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ مجھے کام کو کھل کر کرنے کا پہلی مرتبہ موقع ملا۔ میں اس فلم کے حوالے سے شوکت راز صاحب، کیمرہ مین سجاد رضوی صاحب اور فلم ایڈیٹر احمد دین گلبا صاحب کو اپنے استادوں کا درجہ دیتا ہوں۔ پہلے تو شوٹنگ ہوتی تھی، پیک اپ ہوتا تھا، اندر ایڈیٹنگ ہوتی ہم باہر بیٹھے رہتے۔ فلم ایڈیٹر احمد دین گلبا صاحب کے ساتھ کام کر کے میں نے عملاً ایڈیٹنگ کا کام سیکھا اور 400 فٹ کی فائنل پکچر نیگٹو ایڈیٹر کی حیثیت سے خود کاٹی۔ اسی فلم میں مجھے اپنی مرضی سے کیمرہ رکھوانے کا بھی موقع ملا“ ۔
سلمان پیرزادہ صاحب :
” اسی دوران عثمان پیرزادہ صاحب کے بڑے بھائی سلمان پیرزادہ صاحب امریکہ سے فلم“ اکھیاں ”بنانے لاہور آئے۔ کاسٹ میں روحی بانو، سلطان راہی صاحب وغیرہ تھے۔ میں نے اپنے اسسٹنٹ بھائی سے کہا کہ تم بھی اب سارا کام سمجھ چکے ہو میں ایک ہفتہ سلمان پیرزادہ صاحب کے پاس جا کر دیکھ آؤں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ یہاں کوئی مسئلہ ہو تو مجھے فون کر لینا۔ میں مسئلہ کا حل نکال لوں گا یا آ جاؤں گا۔ وہاں جا کر میں فرسٹ اسسٹنٹ ہو گیا۔
پوزیشن یہ ہو گئی کہ کوئی بھی مشورہ کرنا ہوتا تھا تو مجاہد صاحب مجھ سے مشورہ کرتے اور پھر اس کے انتظام کرنے کی میری ڈیوٹی لگ جاتی۔ الحمدللہ میں اس میں کامیاب ہوتا تھا۔ میں پوچھتا آپ کو یہ چیز کتنے بجے درکار ہے اگر کہتے ایک بجے تو میں کہتا کہ آپ کو دو بجے ملے گی۔ ایک گھنٹہ اوپر رکھ کر بتاتا کہ کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے! ان کے ہاں اللہ نے میری عزت رکھی۔ وہ فلم تو نہ بن سکی لیکن واپس جاتے ہوئے چھوٹے بھائی عثمان کو کہہ گئے کہ جب کبھی تم فلم بناؤ تو اس کو اپنے ساتھ رکھنا۔ لیکن اس کا کبھی موقع نہیں آیا! “ ۔
پہلا اسٹارٹ ساؤنڈ:
” باری اسٹوڈیو میں اسد بخاری صاحب کی فلم“ بلا ببر شیر ”( 1976 ) کی شوٹنگ جاری تھی۔ ان کے اسسٹنٹ فیضان کاظمی صاحب (تنویر کاظمی صاحب کے بھائی) تھے۔ کیمرہ مین جمال شاہ صاحب فلم“ اکھیاں ”اور اس فلم دونوں کے کیمرہ مین تھے۔ مجھے کہنے لگے ایک دن کا کام ہے باری اسٹوڈیو میں بخاری صاحب کی شوٹنگ کروا دو ۔ میں وہاں چلا گیا۔ جب شاٹ شروع ہوا تو مجھے کہا کہ کہو اسٹارٹ ساؤنڈ! کٹ میں کر اؤں گا! میں نے اپنی زندگی کا یہ پہلا اسٹارٹ ساؤنڈ کہا! “ ۔
ڈائریکٹر کی حیثیت سے ملنے والی میری پہلی فلم:
” فلم“ قاتل تے سمگلر ”کی شوٹنگ کے دوران ہی فلمساز نے مجھے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایکشن فلم“ رسم ”کی پیشکش کی۔ اس کے رائٹر امیر علی ناز صاحب اور سجاد رضوی صاحب کیمرہ مین تھے۔ میوزک صابر علی صاحب نے بنانا شروع کر دیا۔ اس وقت فلم“ مولا جٹ ” ( 1979 ) ہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم پر تمام توجہ محض مکالموں پر ہی مرکوز تھی کہ مکالمے ردھم میں فلم“ مولا جٹ ”جیسے ہوں۔ فلم لکھی گئی اور کاسٹنگ شروع ہو گئی۔ بٹ صاحب کہنے لگے کہ ہیرو کا کردار وہ کریں گے۔
میں نے کہا جناب آپ نہیں کیجئے۔ کیوں کہ یہ آپ کا رول ہے ہی نہیں! معاملے کو ہوا دینے والوں نے کہا کہ پیسے آپ نے لگانے ہیں ڈائریکٹر کو کیا تکلیف ہے؟ ضرور تم نے مراد کو ڈائریکٹر لینا ہے؟ یوں یہ فلم ہی بند ہو گئی۔ اس کی جگہ فلم“ گلیاں دے غنڈے ”شروع ہوئی۔ وہ فلم بنی تو لیکن پتا نہیں کیوں ریلیز نہ ہو سکی۔ خیر وہ باب ہی بند ہو گیا! “ ۔
ڈائریکٹر حیدر چوہدری صاحب اور میں :
” میں اس زمانے میں ڈائریکٹر حیدر چوہدری صاحب کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ ان کی فلم“ مس اللہ رکھی ” ( 1989 ) کے لئے میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر آیا۔ مجھے یہاں قیصر مستانہ صاحب نے لگوایا تھا۔ لیکن ایسوسی ایٹ نہ رہ سکا اور سیکینڈ اسسٹنٹ ہو گیا۔ میری جگہ پرویز چوہدری صاحب آ گئے۔ میں اس وجہ سے پیچھے ہٹ گیا کیوں کہ وہ چربہ بن رہی تھی۔ ہر ایک چیز کو فلمساز او کے کرتے اور چوہدری صاحب آمین کہہ رہے تھے۔ تو میں نے کسی کو کیا مشورہ دینا تھا اس لئے میں خاموش رہتا تھا۔
یہ خاموشی میری اس تنزلی کا باعث بنی۔ قدرتی طور پر شروع سے ہی مجھے چربہ فلمیں بنانے سے چڑ تھی۔ اس وقت میرے پاس سات آٹھ پروڈکشنیں تھیں۔ حیدر چوہدری صاحب کی پروڈکشن سے مہینہ کا دو ہزار اور ہزار ہزار باقی پروڈکشنوں کا ملنے لگا۔ یوں 9,000 ہزار روپے مہینہ ملنا شروع ہو گیا۔ اس سے میرے کئی ایک اسسٹنٹ بھائی حاسد ہو گئے“ ۔
” اتفاق سے اسی دوران حیدر چوہدری کی فلم کی ’پیچ ورک‘ شوٹنگ راولپنڈی میں آ گئی۔ کچھ اظہار قاضی صاحب اور کچھ راہی صاحب کے ڈپلی کیٹ کے شاٹ تھے۔ کہا گیا کہ ایک لڑکے کی ضرورت ہے۔ مجھے بھیج دیا گیا۔ شوٹنگ میں نے کروائی۔ جب ہم لاہور واپس آئے تو آتے ہی آرڈر ہو گیا کہ اب آئندہ جس فلم کی بھی آؤٹ ڈور ہو گی مراد ساتھ جائے گا۔ میں تو ڈائریکٹر کے احکامات پر عمل کرتا تھا۔ جب کہ اکثر ہمارے اسسٹنٹ بھائی اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ڈائریکٹر صاحب ہم سے کچھ کرنے کو کہیں۔
یہ مجھے مظفر طاہر صاحب نے سبق دیا تھا کہ ڈائریکٹر پر چڑھ کر رہنا ہے۔ اسے آواز نہ دینا پڑے اور تم سمجھ جاؤ کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ چوہدری صاحب پہاڑی پر چڑھنے لگے میں نے بھی ان کے پیچھے چڑھنا شروع کر دیا اوپر چڑھ کر وہ فریم بنا نے لگے۔ پھر پلٹ کر میری طرف دیکھا تو میں نے کہا کہ بلا لوں کیمرہ؟ کہا ہاں! یوں اکثر میں ذہنی طور پر ان کے قریب ہی رہتا تھا“ ۔
” ادھر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایسوسی ایشن کے انتخابات کا وقت آ گیا۔ الطاف قمر نے کہا میں ایسوسی ایشن کے الیکشن تب لڑوں گا جب تم میرے ساتھ ہو گے۔ میں نے سوچا کہ چوہدری صاحب سے کیسے بات کروں! ان کے بعض اسسٹنٹ تو چاہتے ہی تھے کہ میں چلا جاؤں۔ ان کے فرسٹ اسسٹنٹ پرویز چوہدری صاحب سے بات کی۔ خیر میں نے حیدر چوہدری صاحب کے پاس کام چھوڑ کر ایسوسی ایشن کی خاطر واپس چلا آیا۔ بندے کو بظاہر نقصان نظر آتا ہے لیکن اللہ بہتر کرنے والا ہوتا ہے“ ۔
جان محمد جمن صاحب کے ساتھ کام کرنا:
” جان محمد جمن صاحب فلم“ روپ کی رانی ” ( 1989 ) شروع کرنے والے تھے۔ انہوں نے الطاف قمر سے پوچھا کون کون بہتر اسسٹنٹ ہیں؟ انہوں نے میر ا اور امتیاز کا بتایا۔ ایک نمبر فلور پر جان صاحب کا پہلا سیٹ لگا تھا۔ جب جان صاحب شوٹنگ کے لئے آئے تو آتے ہی مجھ سے کہا کہ مجھے ایک دستاویزی فلم ملی ہے تو تم اور بشیر بیگ سارا کام سنبھالو۔ یوں بشیر بیگ کیمرہ مین اور میں اسسٹنٹ! اب ہم منشیات پر 35 ایم ایم نیگٹو پر دستاویزی فلم بنانے لگے۔ تو انہوں نے دو تین دن شوٹ کرایا۔ انہوں نے ہمیں طریقہ کار بتا دیا۔ اس کے بعد باقی میں نے اور بشیر بیگ صاحب نے مکمل کی۔ اس کے گانے جان صاحب نے خود کیے۔ قصہ مختصر یہ کہ
روزانہ شوٹنگ کے بعد میں واپس آ کر جان صاحب کو رپورٹ دیتا تھا۔ ویسے جو کچھ بھی فلم بند ہوتا وہ لیب میں جمع ہو جاتا۔ جب وہ کہتے تو پرنٹ نکلتا۔ ساکت تصویریں البتہ وہ غور سے دیکھتے جس سے ان کو اندازہ ہو جاتا تھا۔ میں جب دستاویزی فلم کی دن بھر کی رپورٹ لے کر اسٹوڈیو میں داخل ہوتا تو خواہ لائٹ ہو رہی ہو شاٹ یا ریہرسل، سب کچھ رک جاتا اور جان صاحب سب ایک طرف رکھ کر پہلے میری بات سنتے تھے۔ اس لئے نہیں کہ وہ کوئی میرا ادب یا لحاظ کر رہے تھے بلکہ ان کو اپنی دستاویزی فلم کی بہت فکر تھی۔ صبح سات بجے سے ہماری شوٹنگ شروع ہوتی تھی ”۔
بابرہ بیگم کا تجسس:
” اس دستاویزی فلم کے دوران اسٹوڈیو میں بننے والی دونوں فلموں کا کام ختم ہو گیا صرف بیرونی عکس بندی رہ گئی۔ ادھر اس دستاویزی فلم کا بیک گراؤنڈ اور مکسنگ کا کام باقی رہ گیا۔ جان صاحب کچھ دن کے لئے کراچی جا کر واپس آ گئے۔ اب میں اسٹوڈیو میں ہی موجود رہنے لگا۔ سب آرٹسٹ خاص طور پر بابرہ بیگم جن کے ساتھ میرا پہلا کام تھا انہوں نے دیکھا کہ یہ لڑکا آتا ہے اور ہر ایک کام رک جاتا ہے جان صاحب بھی اس کی بات سنتے ہیں۔
جب سے یہ فلم شروع ہوئی ہے یہی ہو رہا ہے! اور یہاں بھی یہ سب سے آخر میں آتا ہے۔ جان صاحب کا سیکریٹری ہے؟ پروڈکشن والا ہے؟ اسسٹنٹ ہے؟ چپڑاسی ہے؟ کون ہے؟ جب اسسٹنٹ سے پوچھا تو اس نے بے ساختہ لمبا سا قہقہہ لگایا۔ وہاں ہم سمیت تمام ہی لوگ متوجہ ہو گئے۔ تو قیصر صاحب اور میں گئے۔ مجھے بتایا گیا کہ بابرہ بیگم پوچھ رہی ہیں کہ یہ کون ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔ جان صاحب اس کے ذمہ جو کام لگاتے ہیں یہ وہ کرنے کے بعد آتے ہیں“ ۔
جان محمد جمن صاحب نے امتحان لیا:
” جان صاحب نے آؤٹ ڈور میں بھی جا کر میرا امتحان لیا۔ مجھے کہا کہ کل ایک بجے مجھے یہ چیزیں یہاں چاہئیں۔ یہ لاہور سے لے کر جانی تھیں اور یہ کارپینٹر کا کام تھا۔ آؤٹ ڈور میں کیسے بنیں گی؟ میں سوچ میں پڑ گیا۔ خیر میں نے جان صاحب سے کہا کہ پہاڑی اور چڑھائی ہے دو بھی بج سکتے ہیں۔ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے میں دو بجے وقفہ کر دوں گا۔ لیکن وہ چیزیں ہم ایک بجے ہی لے کر پہنچ گئے۔ بالآخر وہ بھی کام ہو گیا تھا“ ۔
ہمیں انعام ملا:
” جب ہم واپس آئے تو جان صاحب کراچی چلے گئے اور فلم ’‘ روپ کی رانی“ ( 1989 ) کے ریلیز والے دن واپس آئے۔ انہوں نے دو دو ہزار روپے مجھے، قیصر مستانہ اور بشیر بیگ صاحب کو بطور انعام دیے۔ پوچھا کیا ہوا؟ کہا کہ میری دستاویزی فلم اول قرار پائی ہے اور مجھے پانچ لاکھ روپے گفٹ ملا ہے! اس کا اسکرپٹ نور صاحب نے لکھا تھا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ جان محمد جمن صاحب واپس چلے گئے ہم پھر فارغ! ویسے جان صاحب کے ساتھ میں نے پانچ فلمیں کیں ”۔
فلم ”روپ کی رانی کے بعد مجھے ایک فلم“ چوہدری جی ”مل گئی جس کے فلمساز نئے تھے۔ اس کا میوزک بنا لیکن وہ فلم نہیں بنی“ ۔
سلمان پیرزادہ اور جان صاحب کے ساتھ کام کرنا:
” مجھے تو جان صاحب اور سلمان پیرزادہ صاحب کے ساتھ کام کرنے کی عادت پڑ گئی۔ سلمان صاحب تھوڑا آہستہ جب کہ جان صاحب تیزی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ لیکن کام کا انداز ایک ہی جیسا تھا جس کا مجھے بڑا مزہ آتا تھا۔ اب اور کہیں کام کرنے کا
دل نہیں کرتا تھا اوپر سے حیدر چوہدری صاحب مجھے بلوا رہے تھے۔ خیر میں ان کے سامنے پیش ہو گیا۔ لیکن مجھے دکھ ہے کہ میں نے ان کے ساتھ کام بے وجہ چھوڑا۔ آخری دفعہ جب میں ان سے ملا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے! میں نے ان کے ساتھ فلم ”وحشت“ ، ”برداشت“ ( 1988 ) ، ”ننگی تلوار“ ( 1989 ) وغیرہ کی تھیں لیکن کسی میں میرا کریڈٹ پر نام آیا کسی میں نہیں۔ البتہ فلم ”اللہ رکھی“ میں میرا سیکنڈ اسسٹنٹ کا ٹائٹل ہے ”۔
بنانا چائے کا ہوٹل:
” 1990 کیا شروع ہوا یہاں انڈسٹری کا کام ہی بند ہو گیا اور تناؤ کا دور شروع ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ کام چھوڑ کر کسی دوسرے شہر چلا جاتا ہوں۔ کوئی کام مل جائے گا اور سلسلہ چلتا رہے گا۔ پھر مجھے وہاں کوئی جانتا بھی نہیں ہو گا۔ اسی شش و پنج میں اپنے مرشد سید شبیر حسین شاہ سے اجازت لینے کے لئے گیا۔ وہ سائیکل پر آرہے تھے۔ درخواست پیش کی تو جواب آیا کہ یہ چوک چھوڑ کر کہاں جانا ہے؟ یوں میں نے یہیں چائے کا ہوٹل کر لیا۔ دس کلو دودھ سے شروع ہو کر ایک من تک آ گیا۔ لیکن مجھے پیسے نہیں بچتے تھے“ ۔
” اس دوران پھر الطاف قمر صاحب آ گئے۔ انہوں نے اپنے بھائی کے پیسوں سے ذاتی فلم“ بادشاہی ”ڈائریکٹر کی حیثیت سے شروع کی جو نہ بن سکی پھر ان کو فلم“ اکھاڑہ ” ( 1992 ) مل گئی جو ریلیز بھی ہوئی۔ اس کے بعد فلم“ پرندے ” ( 1992 ) شروع کی وہ بھی ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد ان کو “ سیلاب ”( 1991 ) مل گئی۔ فلم“ اکھاڑہ ”کے دوران جان صاحب دوسری فلم“ انٹرنیشنل گوریلے ” ( 1990 ) کے لئے آ گئے۔ اور مجھے ساتھ کراچی لے گئے۔
پھر وہاں سے آگے ہم لوگ تھائی لینڈ چلے گئے۔ کوئی وجہ ہوئی اور ان کے فرسٹ اسسٹنٹ اقبال صاحب واپس پاکستان آ گئے۔ وہاں اکیلے میں نے ساری فلم کی۔ یہاں کچھ لوگوں کی کوشش تھی کہ جان محمد صاحب کا ایورنیو فلم اسٹوڈیو والوں کے ساتھ جھگڑا ہو جائے۔ مذکورہ فلم ایورنیو والوں کی ہی تھی۔ ہم تمام صورت حال کو دیکھ رہے تھے۔ اس لئے دن رات ایک کر کے فلم کو مکمل کیا اور فلم ریلیز ہو گئی۔ مجھے اس فلم میں بھی تجربات حاصل ہوئے“ ۔
گولڈ میڈل ملنا چاہیے :
” اسی دوران ایک بات ہوئی جو میں چاہتا ہوں کہ آپ ریکارڈ پر لائیں۔ ایورنیو فلم اسٹوڈیوز کے مالک نے جان صاحب سے کہا کہ آپ کے اس اسسٹنٹ نے بہت کام کیا ہے۔ اسے گولڈ میڈل ملنا چاہیے! جان صاحب نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ آپ
اسے گولڈ میڈل دیں نا؟ لیکن آپ لوگ صرف کہتے ہیں دیتے نہیں! اس ایک جملے نے معاملے کو مزید چنگاری دکھا دی ”۔
” پھر ان کی تیسری فلم“ تین یکے تین چھکے ” ( 1991 ) شروع ہوئی۔ جو تمام ہی کراچی میں بنی۔ ہم سب بھی اس کے لئے کراچی چلے گئے۔ پھر جان صاحب نے چوتھی فلم“ محبت کے سوداگر ” ( 1992 ) بنائی۔ اس کے بعد“ سب کے باپ ” ( 1994 ) بنی“ ۔
فلم ”کڑیوں کو ڈالے دانہ“ نہ کرنے کی وجہ:
یہ ان کے ساتھ میری آخری فلم تھی۔ پھر میرے اور اللہ بخشے بھابھی ( بیگم جان محمد) کے درمیان کچھ مسائل پیدا ہو گئے۔ جان صاحب جو کہتے تھے میں اس پر عمل کرتا تھا۔ یہی بڑی وجہ بن گئی۔ ان کی بیگم نے کہا کہ اس (یعنی میں ) سے اچھا تو فلاں تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ اب جب کام دے گا تو اسی سے کروا لیجیے گا! اسی لئے جب ”کڑیوں کو ڈالے دانہ“ ( 1996 ) شروع ہوئی تو مجھے ان کے ’کواڈینیٹر‘ کا جو سب کو اطلاع دیتے تھے، فون آیا کہ جان صاحب آ گئے ہیں آ کر ان سے مل لو۔ پھر کچھ دن بعد فون آیا کہ اسکرپٹ فائنل ہو گیا ہے ان سے مل لو۔ آج ریکارڈنگ شروع ہو گئی ہے ان سے مل لو۔ آج آؤٹ ڈور کا فائنل ہو رہا ہے آ کر مل لو۔ جان صاحب چلے گئے۔ جان صاحب آ گئے۔ آج جان صاحب نے اپنی فلم کے پریمیئر پر آنا ہے مل لو! ”۔
” فلم کامیاب ہوئی۔ بعد میں جان صاحب کسی اور فلم کے لئے لاہور آئے۔ اسٹوڈیو میں ہم دونوں کا ٹکراؤ ہوا۔ مجھے کہنے لگے ابھی تک ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو! میں نے کہا سر آپ ہی نے سوار کرایا ہے! پوچھا کہ کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا حکم کریں۔ کہنے لگے میں نے اتنی دفعہ بلوایا تم آئے ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے تو صرف کہا گیا تھا کہ مل لو۔ یہاں کروڑوں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پانچ دفعہ مساجد میں بلاتا ہے لوگ وہاں نہیں جاتے!
صرف ملنے کے لئے آپ کے پاس وقت ہے نہ میرے پاس کہ آپ کا ٹائم ضائع کروں! اگر وہ ایک دفعہ کہتے کہ کام کرنے آ جاؤ، جان صاحب بلا رہے ہیں پھر میں نہ آتا تو آپ مجھ سے پوچھتے! اچھا غلطی ہو گئی اب وہ آئندہ یہ کہے کہ میں تمہیں کام کے لئے بلا رہا ہوں! لیکن پھر اللہ نے موقع ہی نہ دیا کام کرنے کا اور وہ اللہ کو پیارے ہو گئے“ ۔
” اس سے پہلے ان کے بچوں نے“ ایشیا کا ٹائیگر ”شروع کی تو انہوں نے بچوں کو بلا کر کہا کہ یہ تمہارا بڑا بھائی ہے جب بھی کوئی کام کرو تو اس کو ساتھ رکھنا۔ وہ بات آئی گئی ہو گی۔ جب میں نے ان کو چھوڑا تھا تو ایورریڈی والوں نے میڈم شمیم آرا کو لے کر ایک فلم شروع کی۔ انہوں نے شمیم آرا کو کہا کہ ہمارے پاس اپنا قابل اعتبار اسسٹنٹ ہے۔ ایوریڈی والوں کی طرف سے ایک شخص مجھے بلانے آیا۔ میں نے کہا کہ بھائی صاحب میرا ایور ریڈی سے واسطہ جان صاحب کی وجہ سے ہے۔ مجھے تو کبھی ایور ریڈی نے براہ راست نہیں رکھا۔ اب جان صاحب کے ساتھ ان کی بگڑی ہے تو مجھے بلا وا دیا جا رہا ہے اور کام کرنے سے معذرت کر لی۔ ویسے بھی جان صاحب نے کہہ رکھا تھا کہ تم نے کہیں اور کام نہیں کرنا“ ۔
اداکار عابد علی کے پانچ میگا ٹی وی سیریل ڈرامے :
” اس کے بعد اداکار عابد علی صاحب کا ڈرامہ“ دشت ”1991 میں شروع ہو گیا۔ غالباً این ٹی ایم سے چلا تھا۔ میں نے پہلی دفعہ ڈرامہ ان کے ساتھ اسسٹ کیا۔ پھر ان کے پانچ میگا سیریل کیے۔ پہلے ان کے کیمرہ مین علی جان صاحب تھے۔ چوہدری اجمل صاحب اور فیصل بخاری صاحب بعد میں آئے۔ ویسے کراچی سے عدنان اور پشاور سے الیگزینڈر صاحب بھی ان کے کیمرہ مین ر ہے لیکن بعد میں یہی تین: علی جان، چوہدری اجمل اور فیصل بخاری صاحبان ہی کیمرہ کے شعبے میں رہے۔ دوسرا میگا سیریل“ دیمک ”تھا جو ریلیز نہ ہو سکا۔ پھر“ سائبان شیشے کا ”اس کے بعد“ آن ”جو دبئی کی پروڈکشن تھی پھر“ ہوا پر رقص ”۔
فلم ’جان توں پیارا‘ ( 2014 ) کی مشکلات:
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ فلم ”روپ کی رانی“ کے بعد مجھے ایک فلم ”چوہدری جی“ مل گئی تھی جس کے فلمساز نئے تھے۔ اس کا میوزک بنا لیکن وہ فلم نہیں بنی تھی۔ یہ ”رسم“ کے بعد دوسری فلم ملی تھی۔ فلم ”چوہدری جی“ کے موسیقار حسن صادق کو پہلی بار موسیقار لیا تھا۔ ان سے ایک دن بارش میں ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے یاد ہے ایک مرتبہ میں نے کہا تھا کہ یا اللہ ہمیں پروڈیوسر کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ قبولیت کا وقت آ گیا ہے۔
میں نے فلم ”بالا سنگھ“ شروع کی ہے۔ جس کے رائٹر ڈائریکٹر اقبال چوہدری ہیں۔ حسن صادق صاحب آج کل مشہور نوحہ خواں ہیں۔ کہنے لگے انہوں نے کسی کو ڈائریکٹر لے لیا۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ نے انہیں اسسٹ کرنا ہے۔ میں نے کہا چلو ٹھیک ہے۔ فلم 2002 میں شروع ہوئی اور آٹھ سال اسی طرح گزر گئے اور 2010 آ گیا۔ پھر ڈائریکٹر کے ساتھ بھی فلمساز کی چپقلش ہو گئی نیز ڈائریکٹر اللہ کو پیارے ہو گئے ”۔
” احسن صاحب کو اسکرپٹ اچھا لگ رہا تھا اور ان کے علاقے کے لوگوں کو پتا تھا کہ یہ فلم بنا رہے ہیں لہٰذا اب تو فلم بنانا ان کی مجبوری بن گئی۔ مجھ سے پوچھا کہ اب کیا کریں۔ میں نے کہا کہ رائٹر محمد اقبال چوہدری صاحب کو پیسے دیں یا نیا اسکرپٹ لکھا لیں کیوں کہ ڈائریکٹر صاحب اسکرپٹ لے گئے ہوئے تھے۔ ان کے گھر گئے اور بچوں کو اکٹھا کیا۔ ان کے ساتھ جو طے تھا اس کی ان کو پوری ادائیگی کی۔ ان سے اسکرپٹ لے کر قانونی تحریر بھی لے لی۔
فلم دوبارہ 2010 میں شروع ہوئی۔ 2011 میں سیٹ پر آئی اور 2014 میں ریلیز ہوئی۔ پہلے اس کا نام“ بالا سنگھ ”تھا۔ میرے ڈائریکٹر ہونے کے بعد اس کا نام“ ماں پتر ”ہو گیا۔ ساری فلم اسی نمونے پر بنی۔ میں نے فلم سے بدمعاشی نکال دی۔ جب فلم ریلیز ہونے لگی تو کسی نے پروڈیوسر کو کہہ دیا کہ یہ نام تو ہٹ ہی نہیں ہو گا۔ اس کا نام ’ج‘ سے کچھ رکھ لیں۔ یوں وہ فلم“ جان توں پیارا ”کے نام سے ریلیز ہو گئی“ ۔
” اس زمانے میں پاکستانی فلم بڑی مشکل سے ایک ہفتہ چلتی تھی۔ اس فلم کو چلتے ہوئے پانچ ہفتے ہو گئے۔ جب آخری شو ہو رہا تھا تو میں اپنے پروڈیوسر کے پاس گیا اور کہا کہ حسن بھائی آپ دیکھ رہے ہیں؟ سنیما میں فیمیلیز شو دیکھ کر نکل رہی ہیں! حسن صاحب آپ کے پیسے واپس آئے یا نہیں مجھے نہیں پتا لیکن اللہ نے مجھے کامیاب کر دیا! آپ نے مجھے کہا تھا نا کہ فیملیز کے لئے فلم بنانا تو دیکھ لیں یہ فیملیز باہر آ رہی ہیں!
فلم ”مٹی دے باوے“ :
2015 شروع ہوا تو مجھے ملتان کے پروڈیوسر کی فلم ”بہادر ماہی“ ملی۔ اس کے دوران ہی مجھے چوہدری محمد ریاض کے بڑے بھائی خلیفہ صاحب اور عباس صاحب ملے۔ ان لوگوں نے کچھ ڈرامے ٹی وی کے لئے بنائے ہوئے تھے۔ وہ لے کر ہم نے چینلوں کی بڑی بھاگ دوڑ کی۔ یہاں اجارہ داری ہے۔ مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے کہا کہ فلم بنائیں اور سنیما میں لگائیں۔ ہاتھ کے ہاتھ فیصلہ ہو جائے گا۔ ان کے دو ٹی وی ڈراموں کو ہم نے فلم ”مٹی دے باوے“ کی صورت دی۔ 2015 کے آخر میں اس کا کام شروع ہوا۔ ابھی دو چار دن پہلے ہی میں ہم نے اس کا کیمرہ کلوز کیا ہے۔ یہ میری کامیڈی اور سوشل فلم ہے۔ یہ فلم نچلے اور مڈل کلاس طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ کہ وہ اپنی زندگی کیسے بسر کرتے ہیں؟ ان کی خیالات کیا ہیں؟ وہ چاہتے کیا ہیں؟ ہو کیا رہا ہے؟ یہ
اس فلم کا موضوع ہے۔ کہانی میں تین اندھے دوست ہیں۔ دو پیدائشی اور تیسرا بیماری سے نابینا ہو گیا۔ وہ ایک ’بی ایم جی‘ میوزیکل گروپ بناتے ہیں۔ بلائنڈ میوزیکل گروپ۔ تو یہ تین دوستوں کی کہانی ہے۔ کہانی گلزار صاحب المعروف بابا خلیفہ صاحب کی ہے۔ البتہ مکالمے میں نے خود لکھے ہیں۔ موسیقی بوبی علی خاں صاحب کی ہے۔ گیت نگار عبدا اللہ چلی صاحب ہیں ”۔
نئے اداکار علی حیدر کا اسٹوڈیو کی مسجد میں انتقال:
نئے اداکاروں کا ذکر چھڑا تو مراد صاحب نے بتایا کہ فلمساز کی معرفت اداکاری کا خواہش مند ایک باصلاحیت نوجوان حیدر علی میرے پاس آیا۔ میں نے اس کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے خصوصی طور پر ایک فوجی کا کردار لکھا۔ میں ویسے بھی فوج کو اس لئے پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور بنی پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ مومنو جہاد کے لئے ہر وقت اپنے گھوڑے اور تلواریں تیار رکھو! اگر ہمارا ملک اسلام کا قلعہ ہے تو ہماری فوج بھی سلامی فوج ہے! اس لئے میں اس کو سلیوٹ کرتا ہوں! حیدر علی شوٹنگ سے پہلے یہیں اسٹوڈیو کی مسجد میں وضو کر کے اٹھنے ہی لگا تھا کہ اللہ کو پیارا ہو گیا۔
میرے کریڈٹ اور تجربات:
” میں نے تقریباً 35 فلمیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیں۔ 05 میگا ٹی وی سیریل ایسوسی ایٹ کے طور پر کیے۔ آفتاب اقبال اور دوسروں کے ساتھ دو تین ڈرامے اسسٹنٹ کی حیثیت سے کیے۔ “ چوہدری جی ”،“ مٹی دے باوے ”شروع کیں۔“ جان توں پیارا ” ( 2014 ) مکمل ہو کر ریلیز ہوئی۔ ایک فلم“ شاٹ کٹ ” ( 2009 ) سید اصغر حسین رضوی صاحب نے تجربے کی خاطر بنائی تھی۔ اس وقت فلم مہنگی ہو رہی تھی۔ دو تین کروڑ روپے میں پروڈکشن ہوتی تھی۔
انہوں نے سوچا کہ ہمارے پروڈیوسر اس لائق نہیں تو کیوں نہ ہم ان کو سستا طریقہ کر کے بتائیں! تو جس فارمیٹ پر آج فلم بن رہی ہے اس پر ہم نے اس وقت فلم بنائی۔ اس کو نیگیٹیو پر منتقل کیا پھر اس کو پازیٹیو میں پرنس سنیما میں ریلیز کیا۔ بنیادی طور پر یہ فلم، فلم ٹریڈ کے لئے بنائی گئی تھی۔ یہ بھی مجھے شرف حاصل ہے کہ جب نیا نیا وی سی آر آیا تو میں نے اس فارمیٹ میں بھی ایک ڈرامہ اور گانے بنائے۔ پھر ان کو وی سی آر سے وی سی آر ایڈیٹ بھی کیا۔ جیسے ہی کوئی نیا فارمیٹ آتا میں اس پر تجربہ کرتا تھا۔ تو اللہ نے یہ اچھو میاں والا تجربہ بھی کرنے کا موقع دیا“ ۔
” دیکھیں اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ کڑی دھوپ میں مسافر سوچتا ہے سفر کیسے کٹے گا لیکن پھر اچانک بادل آ جاتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہماری فلم ٹریڈ میں فلم“ مٹی دے باوے ”برکت والا بادل ثابت ہو! یہ 60 فی صد اردو اور 40 فی صد پنجابی کے تناسب سے اردو پنجابی مکس فلم ہے۔ میری کوشش ہے کہ یہ پہلے کراچی میں ریلیز ہو“ ۔
نگار ویکلی:
” صحیح معنوں میں نگار ویکلی ہی فلم کی ترجمانی کرتا ہے۔ باقی جو بھی پرچے آئے وہ زیادہ تر وقتی ثابت ہوئے۔ “ مصور ”کے علاوہ انہوں نے ٹھوس بنیادوں پر کام بھی نہیں کیا۔“ نگار ویکلی ”متواتر کام کر رہا ہے۔ نگار نے ہی بچوں کو زیادہ ایوارڈ دیے لیکن مجھے ایک بھی نہیں دیا۔ حالاں کہ کراچی میں بھی میری فلمیں سپر ہٹ ہوئیں! جیسے :“ ماں پتر ”( 1970 ) ،“ ہم لوگ ” ( 1970 ) نے بھی وہاں سلور جوبلی کی۔“ عادل ” ( 1966 ) بھی وہاں اچھی گئی۔
الیاس رشیدی صاحب، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، فنکار پرست آدمی تھے۔ ان کی تحریر اور بیانات سے بھی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے۔ میں نے انہیں دور ہی سے دیکھا تھا۔ نگار فلمی دنیا پر نگاہ بھی رکھتا ہے اور نگارش بھی کرتا ہے۔ مجھے نگار میں فین کلب کا سلسلہ پسند ہے۔ فنکار کلب بننے سے فنکاروں کا امیج بننا شروع ہوا ہے۔ نگار نے یہ بڑا اہم کام کیا ہے“ ۔
” معذرت کے ساتھ عاشق چوہدری صاحب یا جیو نے ہماری انڈسٹری کے لئے کچھ نہیں کیا! خواتین کی تصویریں لگا نا کاروباری ضرورت ہے لیکن بھارتی اداکاراؤں کی تصاویر لگانا کون سی کاروباری ضرورت ہے؟ کیا آپ کے پاس اسٹار نہیں؟ کراچی اور لاہور دونوں جگہوں میں نئے اسٹار موجود ہیں۔ اگر کسی وجہ سے نئی خواتین سوٹ نہیں کرتیں تو پرانے فیچر ہی چھاپ دیں! لیکن ان لوگوں نے بھارتی اسٹارز کے مقابلے میں ملکی اسٹار کو کم ترجیح دی ہے“ ۔
” شاہد صاحب دعا کریں کہ یہ“ مٹی دے باوے ”سونے کے باوے بن جائیں“ ۔ یہ فلم اب ”بھوک“ کے نام سے سینسر ہو چکی ہے۔ اس کے فلمساز گلزار صاحب عرف بابا خلیفہ اور ریاض صاحبان انتقال کر چکے ہیں ”۔
میرے لئے اس نشست میں کی گئی گفتگو انتہائی چشم کشا تھی۔ بطور چائلڈ اسٹار ان کا ایک مقام تھا اسسٹنٹ ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ وہ خود اسسٹنٹ ہو گئے لیکن اسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا اور پھر خود بھی دوسرے فنکاروں کے لئے بھاگ دوڑ کرنے لگے۔ مہتاب مراد المعروف ماسٹر مراد اپنی ان تھک محنت سے اسسٹنٹ سے بالآخر کامیاب ڈائریکٹر بن گئے۔
ہماری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور عافیت سے رکھے کہ وہ مزید کامیابیاں حاصل کریں اور اپنے بہترین شاگرد تیار کریں!





