ایک تھا شہزادہ



بے حد خوبصورت۔ دنیا اس پر مرتی تھی۔ خاص طور پر دس سے ستر برس کی نوجوان خواتین کے تو ماضی حال اور مستقبل کے خوابوں پر اس کی اجارہ داری تھی۔ شاہی مجالس میں وہ ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا، بیگمات اس کے قرب کی متمنی رہتیں۔ شادی اس نے خاصی تاخیر سے کی اور جب تک نہیں کی سلطنت کے طول و عرض میں امید کے دیے ہر طرف روشن رہے۔ شادی کے بعد بھی اس کے پرستاروں میں کوئی خاص کمی واقع نہ ہوئی کہ اس نے اب اپنی تمام تر توجہ بہبود خلق خدا کی طرف مبذول کر لی تھی۔

اعلیٰ پائے کے شفا خانوں اور معیاری درسگاہوں کا قیام اس کا مطمح نظر تھا۔ خلق خدا سے پہلی بار واسطہ پڑا تو اسے ان کی حالت زار سے آگاہی ہوئی۔ اس نے دیکھا کیسے بالا دستوں کے ہاتھوں ان کا استحصال ہوتا ہے۔ مہاتما بدھ کی طرح اس کا دل بھی ان مظلوموں میں اٹک گیا۔ اس نے ان کی خاطر نظام کے کرتا دھرتاؤں سے ٹکر لینے کی ٹھان لی۔ بہت سی چیزوں کا اسے کوئی اندازہ نہیں تھا۔ عوامی زندگی اس نے گزاری نہیں تھی۔ مداحوں کا لاؤ لشکر ہر وقت اسے گھیرے رکھتا۔

دوسری طرف وہ لوگ تھے جو نہ صرف نظام کی رگ رگ سے واقف تھے بلکہ اس کی تشکیل ہی انھی کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ پہلے تو کسی نے اسے سنجیدہ نہ لیا مگر وہ اپنی انا اور جاہ و حشم کو یکسر فراموش کر کے اس کام میں جتا رہا۔ اس کی مستقل مزاجی رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے لگی۔ اس کی پکار پر لوگوں کا اکٹھ ہونے لگا۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ کسی کو اس کی پرواہ نہیں تھی۔ راج نیتی کے پرانے گرو اس کی سادہ دلی کو اس کی کمزوری پر محمول کر کے مطمئن تھے مگر جب اس نے ان کے خرمن پر ہاتھ ڈالا اور ببانگ دہل اسے عامیوں کے خون پسینے کا اعجاز قرار دیا تو وہ بھی اس کی کجیوں کوتاہیوں کی کھوج میں لگ گئے۔

اس نے بہرحال کوئی پرواہ نہ کی کہ واپس مڑنا اس کی فطرت میں ودیعت ہی نہ ہوا تھا۔ البتہ وہ جو اس کے رمز آشنا نہ تھے اسے بھی ہر وقت دوسرے نیتاؤں کے پیمانے سے جانچنے میں لگے رہتے۔ ان میں چیدہ چیدہ شاہی پتر کار سر فہرست تھے۔ خیر چند بے حد ذاتی انسانی کمزوریوں کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگا۔ اسی ہنگام بالا دستوں کو سوجھی کہ کیوں نہ اس کی مقبولیت کو غیر محسوس طریقے سے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے استعمال کر لیا جائے۔

چنانچہ اس نے ان کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا اور انھیں بے لوث خدام سلطنت سمجھ کر مسند شاہی پر متمکن ہونے میں کوئی قباحت نہ سمجھی۔ اس کی یہ سادہ دلی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اسے رفتہ رفتہ ادراک ہوا کہ اقتدار اور چیز ہے اور اختیار اور چیز۔ مگر اوکھلی میں سر دے دیا تھا اس لیے ڈٹا رہا۔ کچھ ایسے بے ضرر مگر نہایت اہم کام جن کا تعلق عوامی بہبود سے تھا کر ڈالے۔ اس کے علاوہ اپنی وجاہت کے بل بوتے پر چند ایسے دلیرانہ اقدام بھی اٹھائے جن کی عوامی سطح پر تو بہت پذیرائی ہوئی مگر خدام سلطنت کو وہ خوش نہ آئے۔

یہ گھمنڈی اور نالائق اسے بھی دوسروں جیسا پھسڈی سمجھ کر قابو کرنے اور اپنا معمول بنا کر کار سلطنت نمٹانے کی دیرینہ روش کو برقرار رکھنے کی نادر شاہی خواہش پر قابو نہ پا سکے۔ اگرچہ اس نے انھیں ایک اٹل حقیقت اور طاقت کا اصل سرچشمہ سمجھ کر اپنی بات سمجھانے کی بہتیری کوشش کی مگر ان کا رخ اب کسی اور طرف تھا۔ اگلوں کی طرح اسے بھی تخت شاہی سے اتار پھینکا گیا۔ وہ تو رو دھو کر چپ ہو جاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ اپنے سیاسی حریفوں کو کوس لیتے اور سارا الزام ان پر ڈال کر ایک بار پھر موقعے کی تلاش میں دبک کر بیٹھ جاتے۔

یہ مگر حقیقت حال بیان کرنے اور مقدس گائیوں کا پردہ فاش کرنے سے باز نہ آیا۔ ظاہر ہے اسے کون سی مصلحت عزیز تھی اور کون سے خفیہ خزانے اس نے جمع کر رکھے تھے مگر مقدس ہستیوں کی جان پر بن آئی۔ وہ جو کبھی سامنے آ کر کوئی کام نہیں کرتے تھے ایسے بے پردہ ہوئے کہ چھوٹے بڑے کسی کو بھی کوئی شک نہ رہا کہ دھرتی کے یہ نام نہاد رکھشک آخر بیچتے کیا ہیں۔ مگر اس سے کیا فرق پڑنا تھا۔ طاقت تو پھر بھی ان کے پاس تھی۔ سادہ دل شہزادہ یہ سمجھتا رہا کہ پرجا کی طاقت ہی سب سے بڑی طاقت ہے وہ اس کے ساتھ ہے تو کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر یہ اس کی بھول تھی۔

اسلحہ بردار پہلے تو عوامی مقبولیت سے خائف ہو کر اس پر ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاتے رہے یا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت محض چھیڑ چھاڑ کرتے اور اس کے حامیوں کا ہنر آزماتے رہے۔ اس کے حامی بھی اسی کی طرح سادہ مزاج اور تصور پرست تھے جذباتی قلابازیاں لگا لگا کر توانائی ضائع کرنے والے۔ بہتیروں کو اس بے مقصد اچھل کود کی پاداش میں زندانوں میں جھونکنا پڑا۔ اس کے بعد جب سچ مچ شہزادے پر ہاتھ ڈالا گیا تو کوئی رکاوٹ سامنے نہ آئی۔

سب خوفزدہ کبوتروں کی طرح اپنے کابکوں میں دبک کر بیٹھ گئے۔ شہزادے کو قید تنہائی میں رکھا گیا کہ شاید ہوش ٹھکانے آجائیں۔ ہوش تو خیر کیا ٹھکانے آنے تھے اس نے اسے بھی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا اور زندان کے روز و شب اور خورد و نوش پر قناعت کر لی۔ اسے بار بار پیغام پہنچایا گیا کہ دساور چلا جائے اور زندگی کے بقیہ ایام عافیت و سکون کے ساتھ گزارے مگر وہ اتنا عقلمند ہوتا تو اس حال کو ہی نہ پہنچتا۔ دوسری طرف جنتا بھی رفتہ رفتہ اسے فراموش کر کے زندگی کے جھمیلوں میں الجھ گئی اور اسے تاریخ کے ”پنوں“ پر جھلملانے کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔

Facebook Comments HS