منگلا ڈیم (قسط۔ 1 )
دریا جہلم اب بھی نئے میرپور شہر کے مغرب میں بہہ رہا ہے۔ قدیم تاریخی میرپور شہر 1967 ء میں منگلا ڈیم بننے پر منگلا جھیل میں دریا جہلم کے پانی میں غرق ہو گیا تھا۔ میرپور سے چند کلومیٹر کی دوری پر دریا جہلم کے بائیں کنارے واقع منگلا ایک تاریخی اہمیت کا مقام ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ یونانی بادشاہ الیگزینڈر 326 قبل مسیح میں منگلا کے مقام سے دریا جہلم عبور کر کے مہاراجہ پورس کی فوجوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ منگلا کی سب سے اونچی پہاڑی پر منگلا دیوی جو مہا راجہ پورس کی بیٹی بتائی جاتی ہے، کا مندر تھا۔
اسی مقام پر صدیوں سے بنے منگلا قلعہ کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ ریاست کھڑی کھڑیالی کا صدر مقام بھی عرصہ دراز تک اسی منگلا قلعہ میں قائم رہا۔ پنجاب کے ضلع گجرات اور اس کے قریبی علاقہ کو سیراب کرنے کے لیے برطانوی راج میں بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں نہر اپر جہلم بھی منگلا کے مقام سے نکالی گئی تھی۔ اس لحاظ سے منگلا ایک قدیم تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے۔
نو زائیدہ پاکستان میں معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر تھا۔ زراعت کی ترقی کے لئے آب پاشی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مغربی پاکستان میں دریا ہونے کے باوجود ان کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب حکومت پاکستان نے زراعت میں آب پاشی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دریاؤں کے پانیوں کو ذخیرہ کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں 1950 ء میں دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا منصوبہ بنا۔
1951 ء میں مغربی پاکستان کے محکمہ آب پاشی نے منگلا کے مقام پر دریا جہلم کے پانی کو روک کر ذخیرہ کرنے کی پہلی سکیم تیار کی۔ اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے 1952 ء میں حکومت نے منگلا کے مقام پر ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جس کے تحت ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کا کام کسی اچھی بین الاقوامی فرم کی مشاورت سے منگلا کے مقام پر ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک امریکن کمپنی ٹپٹن اینڈ ہل (Tiptan & Hill) کی خدمات حاصل کی گئیں جس نے اس جگہ کا تفصیلی معائنہ کر کے اور مقامی انجینئرز کی مشاورت سے 1954 ء میں اپنی سفارشات حکومت کو پیش کیں۔
انھوں نے اس مقام پر 346 فٹ بلند ڈیم بنانے کی سفارش کی تھی۔ ڈیم میں مجموعی طور پر 41 لاکھ مکعب ایکڑ فٹ ( 4.1 MAF) پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ 1957 ء میں حکومت پاکستان نے منگلا ڈیم آرگنائزیشن قائم کی اور منگلا ڈیم کی تعمیر کی نگرانی کے لئے ایک برطانوی مشاورتی انجینئرنگ فرم بینی اینڈ پارٹنرز لندن (Binnie & Charter London) کی خدمات حاصل کیں۔ فرم نے منگلا کے مقام پر ڈیم بنانے کے پراجیکٹ پر ابتدائی کام شروع کیا۔ اس مشاورتی فرم کی کور کمیٹی نے منگلا کے مقام پر 380 فٹ اونچا ڈیم بنانے کی سفارش کی جس میں 53 لاکھ 50 ہزار مکعب ایکڑ فٹ ( 5.35 MAF) پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی۔ حکومت پاکستان نے 1960 ء میں منگلا ڈیم پراجیکٹ کو سندھ طاس میں شامل کر لیا گیا۔
آزادی ہند کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا تنازعہ شروع ہوا تو ورلڈ بینک کی ثالثی میں مذاکرات شروع ہوئے۔ کافی غوروخوض کے بعد دونوں ممالک میں پانی کی تقسیم پر اتفاق ہو گیا اور 19 ستمبر 1960 ء کو کراچی میں دونوں ممالک میں پانی کی تقسیم کا معاملہ طے پا گیا جس کو سندھ طاس سمجھوتا کا نام دیا گیا۔ انڈین وزیراعظم لال بہادر شاستری اور صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے اس سمجھوتے پر دستخط کیے۔ سندھ طاس سمجھوتے کے تحت دریا جہلم، دریا چناب اور دریا سندھ کا پانی پاکستان کے حصہ میں آیا اور دریا راوی، دریا بیاس اور دریا ستلج کے پانیوں پر ہندوستان کا قبضہ ہو گیا۔
ہندوستان کے ساتھ سندھ طاس سمجھوتا طے پاتے ہی حکومت پاکستان نے منگلا ڈیم تعمیر کرنے کی منظوری دے دی۔ منگلا ڈیم کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات میں ورلڈ بینک کے قرضہ کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، مغربی جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بھارت نے رقم فراہم کرنے کی حامی بھری تھی۔ ڈیم کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر دینے اور نگرانی کے لیے ایک برطانوی فرم بینی اینڈ پارٹنر کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جون 1961 میں منگلا ڈیم کی تعمیر کا بین الاقوامی ٹینڈر جاری ہو گیا۔
15 نومبر 1961 کو امریکن فرم ایٹکنسن (Atkinson) کی سربراہی میں آٹھ بین الاقوامی کمپنیوں کے کنسورشیم نے سب سے کم تعمیری اخراجات کا تخمینہ دے کریہ ٹینڈر حاصل کر لیا۔ کنسورشیم میں شامل کمپنیاں آسٹرینڈر کنسٹرکشن (Ostrander Construction) ، والش کنسٹرکشن (Walesh Construction) ایس۔ جے۔ گروکر (SJGroker) ہنری (Henery) ٹرپرسی جے لینگرفیلڈ (Triper CJ Langerfiled) ، شکاگو برج اینڈ آئرن (Chicogo Bridge & Iron) شامل تھیں۔ ٹینڈر کی مالیت 35 کروڑ 39 لاکھ 63 ہزار 6 سو 31 (UD$ 353,963,631 ) امریکن ڈالر تھی جس کی اس وقت پاکستانی روپوں میں مالیت ایک ارب 68 کروڑ 55 لاکھ 34 ہزار 6 سو 52 (Rs۔ 1685,534,652 ) روپے تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں تعمیری لاگت کا دنیا کا ایک بہت بڑا ٹینڈر تھا۔ ویکیپیڈیہ کے مطابق منگلا ڈیم کی تعمیر پر کل لاگت ایک ارب سینتالیس کروڑ تیس لاکھ امریکن ڈالر (UD$ 1.473 Billion) آئی جس کی مالیت اس وقت پاکستانی روپوں میں 15 ارب 58 کروڑ 70 لاکھ روپے (Pak Rs۔ 15.587 Billion ) تھی۔
منگلا ڈیم میں پانی کو روکنے کے لئے بنیادی طور پر سات کروڑ ساٹھ لاکھ مکعب گز پشتوں کی تعمیر ہونا تھی۔ جس میں سکھیاں ڈائیک ایک کروڑ تیس لاکھ مکعب گز، مرکزی سپل وے دو کروڑ ستر لاکھ مکعب گز، ایمرجنسی اخراج کے لئے ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ مکعب گز، بنگ کینال ایک کروڑ ایک لاکھ مکعب گز اور جڑی کس ڈیم تین کروڑ چالیس لاکھ مکعب گز تھا۔ پانچ سرنگوں سے سالانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ مربع گز پانی کے اخراج کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ منگلا ڈیم مٹی اور پتھروں سے بننے والا اس وقت پانی ذخیرہ کرنے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم تھا۔
امریکی، برطانوی اور یورپین کمپنیاں دنیا میں جہاں بھی کام کرتی ہیں اپنے کارندوں کی رہائش اور کام کی جگہوں کو محفوظ بنانے پر خصوصی توجہ دیتی ہیں تا کہ وہ اطمینان سے اپنا کام کر سکیں۔ منگلا ڈیم تعمیر کے کام کی نگرانی اور کام کرنے والی کمپنی اور کنسورشیم کے چیف ایگزیکٹو اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ امریکہ سے سولہ ہزار کلومیٹر کی دوری پر امریکن اور یورپین انجینئرز اور ان کے خاندان کی رہائش کے لئے دریا جہلم کے دائیں کنارے پر برل گاؤں کے مقام پر سب سے پہلے رہائشی کالونی کی تعمیر شروع ہوئی۔
امریکن اور یورپین انجینئرز اور ان کے خاندانوں کے لیے 375 رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں۔ اکیلے افراد کے لئے 105 کمروں پر مشتمل پانچ کوارٹرز تعمیر کیے گئے۔ برطانوی کمپنی بینی اینڈپارٹنر کے منتظمین، انجینئرز اور ان کے خاندانوں کے لیے مزید 88 رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں۔ ان رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے 90 لاکھ اینٹیں استعمال ہوئیں جو نزدیکی بھٹوں پر تیار کی گئی تھیں۔ ان رہائشی مکانات میں استعمال کے لئے معیاری اور پائیدار فرنیچر مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یورپ سے درآمد کرنا پڑا۔
ڈنمارک کی ایک کمپنی کو فرنیچر فراہم کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ ڈیم پر کام کرنے والے یورپین اور امریکی انجینئرز کے بچوں کی معیاری تعلیم کے لئے ایک عالمی معیار کی درسگاہ منگلا انٹرنیشنل سکول کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں پڑھانے کے لیے امریکہ اور یورپ سے اساتذہ کی بھرتی گئی۔ لوگوں کی صحت اور طبی امداد کے لئے 86 بستروں کا ایک جدید ترین ہسپتال بنایا گیا۔ کھیل کے میدان، جم خانہ اور باؤلنگ کلب کے علاوہ بلیرڈ کلب اور سوئمنگ پول بنائے گئے۔
خوراک اور دیگر سامان کی خریداری کے لیے برل میں سپر مارکیٹ اور پولٹری فارم بنایا گیا۔ غرض کہ برل کے مقام پر ایک نیا شہر بسایا گیا۔ نو تعمیر شدہ گھروں میں موسم کی سختیوں اور گرمی سے بچاؤ کے لئے امریکن کمپنی ڈائیکن کی ذیلی کمپنی امانہ سے 2500 ائرکنڈیشنڈ خریدے گئے۔ ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے اس کمپنی سے معاہدہ کیا گیا۔ برل میں بسنے والے انجنیئرز اور ان کے خاندانوں کی حفاظت کے لیے ایک ریٹائرڈ امریکن شیرف کی خدمات حاصل کی گئیں، جس نے مقامی سابق فوجیوں کو لے کر ایک سیکورٹی کمپنی کھڑی کر لی۔
منگلا ڈیم میں کھدائی اور تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی بھاری مشینری، کرینیں، ٹرک، پک اپ اور لینڈرور گاڑیاں امریکہ اور برطانیہ سے درآمد کی گئیں، جو بحری جہاز سے کراچی بندرگاہ تک پہنچیں، پھر کراچی سے یہ سارا سامان بذریعہ ریل گاڑی منگلا پراجیکٹ تک پہنچایا گیا۔ اس کے لیے دینہ ریلوے سٹیشن سے منگلا ویئر ہاؤس تک نئی ریلوے لائن بچھائی گئی۔ منگلا میں رہائش پذیر خاندانوں کی نقل و حمل اور بیرون ممالک روانگی کے لیے منگلا پراجیکٹ سے چند میل دور ایک عارضی ہوائی اڈا تعمیر کیا گیا۔ اس وقت تک ملک میں واحد بین الاقوامی ہوائی اڈا کراچی میں تھا۔ امریکہ اور برطانیہ سے کراچی پہنچنے والے خاندانوں کو چھوٹے طیارے کے ذریعہ منگلا ائرپورٹ پر پہنچایا جاتا جہاں سے وہ منگلا اپنے گھروں تک پراجیکٹ کی گاڑیوں میں چلے جاتے۔ (جاری ہے )
”


