کچھ طلباء یونین کے بارے میں


جون ایلیا نے کہا تھا ”پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت ہے“ ۔ لوگ جامعات میں کیوں آتے ہیں؟ یہ سوال پہلے میں خود سے کیا کرتا تھا اب اپنے طلباء سے پوچھتا ہوں۔ جن معاشروں نے انسانی آزادیوں کو دبانا چاہا وہ معاشرے سماجی اور اخلاقی ترقی میں پیچھے رہے۔ 1789 میں فرانس کے انقلاب کے بعد یورپ نے تبدیلی کی انگڑائی لی تو اس تبدیلی کی سپاہ میں نوجوان طالب علموں نے ہراول دستہ رہے۔ طلباء نے یورپ کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی نظریے کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کیا۔ جامعات میں مکالمہ اور فکر کی آزادی نے طلبہ یونین کی بنیاد رکھی۔

کیا طلباء یونین ضروری ہے؟

اس سوال کا جواب ہے ”کیا ملک میں الیکشن ضروری ہیں اگر نہ ہوں تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ کیا جامعات میں اساتذہ کی یونین ہے اور ملازمین کی نمائندہ جماعت بھی ہے تو پھر طالب علموں کو اس سے دور رکھنے اور قانونی و آئینی حق سے محروم رکھنے کے پیچھے حکمت کیا ہے۔ آئین میں درج بنیادی حقوق سب کے لئے ہیں اور کوئی بھی ادارہ پاکستان کے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا۔

طلباء یونین پر پابندی۔

9 فروری 1984 میں جنرل ضیاء الحق نے امام مالک کے دیے گئے اصول ”مصالح مرسلہ“ کی اپنی تشریح پر عمل کرتے ہوئے طلباء یونین پر پابندی لگا دی۔ ویسے پابندیوں کے اثرات دیکھنے ہوں تو پاکستان کی اجتماعی اخلاقیات دیکھ لیں، قانون کی حکمرانی دیکھنی ہو پاکستان میں بنائے گئے فوجداری قوانین گن لیں۔ آپ کو ہماری اشرافیہ کی دانش کا اندازہ ہو جائے گا۔ طلباء یونین پر پابندی لگانے کی وجہ ممکنہ مزاحمت کی روک تھام ہوگی۔ اس وقت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سیاسی ونگز طلباء یونین کی شکل میں تعلیمی اداروں میں موجود تھے۔

اور ان سیاسی طلباء یونین کو سیاسی اشرافیہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ جو سیاسی پارٹی مرکز یا صوبہ میں برسر اقتدار ہوتی اس سے ملحقہ طلباء یونین تعلیمی اداروں میں بد نظمی اور بدمعاشی کی مرتکب ہوتی۔ تعلیمی ادارے کی انتظامیہ اس طلباء تنظیم کے آگے بے بس ہوتی۔ بہت سی جامعات جب ایسی طلباء تنظیم کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرنے کا ارادہ کرتیں تو یہ طلباء تنظیم تعلیمی ادارے کو بند کر دیتی اور احتجاج کا راستہ اپناتی نتیجہ یہ نکلتا کہ انتظامیہ کے کچھ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا جاتا اور طلباء کے مطالبات کو تسلیم کر لیا جاتا جس سے طلباء کے حوصلے مزید بڑھ جاتے۔ کچھ مذہبی سیاسی جماعتوں سے وابستہ طلباء تنظیمیں مورل پولیسنگ میں مہارت اور وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور نظریہ اسلام کی اصل محافظ ہونے کا حلف اٹھا کر تعلیمی اداروں میں علم جہاد بلند کرتی نظر آتیں ہیں۔ کچھ طلباء تنظیمیں سرخ جھنڈے تلے لمبے کش کھینچتے آزاد معاشرے کا خواب بیچتے پائی جاتیں ہیں۔

طلباء یونین کیسی ہونی چاہیے۔

اب میں آتا ہوں اصل بات کی طرف۔ تعلیمی اداروں میں آنے والے طلباء کو بہت سے مسائل سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر تعلیمی ادارے میں انتظامیہ کی زیر سرپرستی طلباء کی نمائندہ تنظیم ہو، جو نئے آنے والے طلباء کے داخلہ، رہائش اور مالی مسائل کے لئے عملی دستور رکھتی ہو اور طلباء کی فلاح و بہبود کے لئے کئیے جانے والے عملی اقدامات کا ریکارڈ ہر سال شائع بھی کرے اور خود احتسابی کا نظام بھی رکھتی ہو۔ جیسے ہر سال جامعات میں اساتذہ اور ملازمین کے انتخاب ہوتے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں کا عمل دخل بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کسی سیاسی جماعت کے نام سے کسی طلباء تنظیم کو کالج یا یونیورسٹی میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ طلباء یونین کا مطلب جامعات اور کالجز میں اچھے ہونہار طالب علم جو قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہوں ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ اپنے ساتھی طلباء کی ذہنی و جسمانی نشو نما کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لئے عملی جستجو کر سکیں۔

میری جامعہ میں جہاں میں پڑھا رہا ہوں تقریباً سات سو سے زیادہ اساتذہ ہیں اور جامعہ کی سینڈیکیٹ میں سات سو اساتذہ کے 6 نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں وہاں 35 ہزار طلباء کا ایک بھی نمائندہ سینڈیکیٹ میں نہیں بیٹھا ہوتا حالانکہ جامعہ کے قانون (ایکٹ) میں طلباء کی نمائندگی ضروری قرار دی گئی ہے۔ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو تعلیمی اداروں میں سرایت کرنے اور تعلیم سے وابستہ ذہنوں پر جبر سے اپنا سیاسی یا مذہبی منشور نافذ کرنے کا اختیار نہیں دینا چاہیے۔ کالجز اور جامعات کو اس بارے سنجیدہ اور قابل عمل پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔ شروع میں نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لئے کچھ سخت فیصلوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے مگر جب ایک دفعہ طلباء یونین اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی تو اس کے ثمرات جلد آنا شروع ہو جائیں گے۔

تعلیمی اداروں میں بد نظمی یا بد معاشی کو اپنی نا اہلی نہ سمجھنے والے نادان دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ طلباء کے آئینی حق کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ان کو وہ حق دیں جو باقی اساتذہ اور ملازمین اپنے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ پابندی طلباء کے سیاسی و عسکری ونگز پر ہونی چاہیے نہ کہ طلباء کی اصل نمائندہ یونین پر۔

Facebook Comments HS