جانا تو پڑتا ہے”: عبداللہ خان سنبل“


abdullah khan sumbal
عبداللہ خان سنبل

تحریر:اشرف سنبل (والدہ عبداللہ خان سنبل)

فانی بدایونی کا شعر ہے کہ اور کس قدر حسب حال ہے کہ
آنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈ آتا ہے
اک دل پے گھٹا سی چھائی ہے جو کھلتی ہے نہ برستی ہے

آج بدھ کا دن ہے اور ستمبر کی 20 تاریخ، آج عبداللہ خان کو ہم سے جدا ہوئے پندرہ دن ہو گئے۔ وہ جوان جہان ہنستا کھیلتا، صحتمند ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے ہاتھوں میں سے چلا گیا اب وہ پیارا چہرہ ہمیں کبھی نظر نہ آئے گا۔ ویک اینڈ پر اس کے آنے کی تانگ اور امید ختم ہو گئی۔ اس کے آنے پر ہر شام، بلکہ سارا دن اس کے دوستوں کا جو جمگھٹا لگا رہتا تھا وہ اب کبھی نہ لگے گا۔ اب اس کلبۂ احزاں میں وہ کیوں آئیں گے۔

ہم اس کے بزرگ زندہ بیٹھے ہیں۔ سوچتی ہوں کہ اس کے جانے کی خبر ہم نے کیسے سنی؟ کس طرح برداشت کرلی۔ ہمارے دل پھٹ کیوں نہ گئے؟ مگر وہ مالک جتنا بڑا صدمہ دیتا ہے شاید صبر بھی اسی حساب سے عطا فرما دیتا ہے۔ زندگی کے سارے سلسلے، میلے اور معاملے، اسی طرح چل رہے ہیں۔ سورج نکلتا ہے، کبھی بارش ہوتی ہے تو لان کے درخت اور پھول پتے دھل کر نکھر جاتے ہیں پرندے اسی طرح چہچہاتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے زندگی کے سبھی معاملات اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے دن گزر جائیں گے مگر وہ کبھی واپس نہ آئے گا۔

وہ بے حد پیارا اور نفیس انسان بچپن کا عبادت گزار، انتہائی مودب، سعادت مند اور فرمانبردار بیٹا، بہترین شوہر بہت ہی شفیق باپ، دوستوں پر جان چھڑکنے والا اور دشمنوں کے ساتھ روادار۔ ان کی کی گئی زیادتیوں کو اگنور کرنے اور ہنس کر ٹالنے والا چلا گیا۔ کبھی بہت دکھی اور رنجیدہ ہوتا تو اپنے والد سے ذکر کرتا۔ بیوروکریسی کی ساری کالی بھیڑیں، جنہوں نے اعلی قیادت کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا۔ اس کے خلاف متحد ہو گئیں تھیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ اسے اس کے شایان شان کوئی عہدہ نہ ملے۔ چیف سیکرٹری منصب کے بعد جب کیئر ٹیکر حکومت آئی تو اتنا فعال اور مصروف رہنے کا عادی انسان بلا وجہ تین ماہ تک فارغ بیٹھا رہا۔ جب کبھی وہ اپنے والد سے ان معاملات کا ذکر کرتا تو ان کا یہی جواب ہوتا کہ ”بیٹا اللہ ہے سارے معاملے بندوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتے ایک اور طاقت بھی ہے جو سب سے اوپر ہے“ ۔

عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را

اکثر عبداللہ ہنس کر کہتا کہ ابو جان ان کو کرنے کو اور کوئی بات میرے خلاف نہیں ملتی تو میرے بولنے کے انداز اور میرے بالوں کے سٹائل کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ ہیئر سٹال جو ہمارے نزدیک اس کو بہت جچتا تھا مگر بات وہی ہے کہ محبت کی نظر اور ہوتی ہے اور دشمنی اور رقابت کی نظر اور۔ اس کے بالوں کا یہ انداز بچپن سے تھا اور بچپن اگر کسی کا خوبصورت تھا تو اس کا بھی تھا۔ اس کے انتہائی معصوم فرشتوں جیسے سرخ و سفید چہرے پر سنہری مائل براؤن گھنگریالے بال، گردن پر تھوڑا سا خم کھا جانے تھے اور وہ جوانی میں بھی اسی طرح رہے کیونکہ اسے سمجھتے تھے اسی لئے کسی نے نہ کٹوائے سو یہ انداز آخر تک برقرار رہا۔

اس کی طبیعت میں بھی ہر ذہین بچے کی طرح کیوراسٹی بہت تھی۔ ہر چیز کا کھوج لگانا اور ہر کونے کو ایکسپلور کرنا۔ جب تعطیلات میں میانوالی جاتے تو اس کے دادا جان جنہیں سب بچے ابا جان کہتے تھے۔ کسی ملازم کو حکم دیتے کہ بھئی خانوں کو اندر، باہر کی اچھی طرح سیر کروا دو تاکہ پھر ان کو باہر جانے کا شوق نہ اٹھے۔ حالانکہ زنان خانے میں بھی پرانے زمانے کے بڑے سے گھر میں کھیلنے کودنے اور گھومنے پھرنے کے بہت سے کونے کھدرے تھے مگر ان کو مردانہ حویلی اور چھت پر بنے کمروں کی بھی اچھی طرح سیر کروا دی جاتی۔ مبادا باہر نکلنے کی ہڑک اٹھے! اس کے بعد سختی سے یہ آرڈر تھا کہ اب بچے ہرگز باہر نہ نکلیں۔

مگر عبداللہ خان اکثر لکڑی کا بڑا سا اندرونی دروازہ جو ایک پرانی طرز کے لکڑی ہی کے لیور سے بند ہوتا اور ایک اڑھائی تین سال کے بچے کے قد اور رسائی سے بہت او پر تھا، کھول کر باہر نکل جاتا اور اکثر مردانے سے یا باہر گلی سے پکڑا جاتا۔ ایک ایسے ہی موقعہ پر والد نے اس سے پوچھا کہ تم دروازہ کیسے کھول لیتے ہو؟ تو اس نے ایک سرکنڈے کی مدد سے لیور کو اوپر کر کے ڈیمو دی کہ ایسے۔ جیسے مہرالنساء نے اکتوبر اڑا کر بتایا تھا کہ صاحب عالم یوں۔ اس پر تھوڑی زبانی گوشمالی ہوئی اور کہا گیا کہ ”منع جو کیا ہے کہ باہر نہیں جانا تو پھر کیوں باہر جاتے ہو“ تو جواب بڑا شاکی تھا تھوڑا سا غور کر کے بڑے فلسفیانہ انداز میں فرمایا کہ ”جانا تو پتا ہے نا! یعنی جانا تو پڑتا ہے نا!“

فوٹو گرافک میموری کے ساتھ مطالعہ کا بے حد شوقین تھا ہر اک موضوع پر اس کی خریدی اور پڑھی کتابوں سے گھر بھرا پڑا ہے، کرکٹ کا دیوانہ تھا اور اس موضوع پر مکمل انسائیکلوپیڈیا! دوران تعلیم گورنمنٹ کالج کی کرکٹ ٹیم کا کیپٹن رہا۔ آج کل جم خانہ کی ٹیم کا کیپٹن تھا۔ اس کے والد کے دوست کہتے تھے کہ آپ نے اسے خواہ مخواہ ملازمت کے چکر میں پھنسا دیا اسے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔ حالانکہ والد کی تو خواہش تھی کہ دونوں بچے میڈیکل میں جائیں۔ بڑے سیف اللہ خان کا تو میرٹ پر کنگ ایڈورڈ میں داخلہ بھی ہو گیا تھا مگر سول سروس کی کشش اسے کھینچ کر ادھر لے گئی۔ عبداللہ خان نے بھی والد، بھائی اور اپنے چچا زاد بھائیوں کے نقش قدم پر جانا پسند کیا۔ کرکٹ کے لئے تو اس کا شوق عشق کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ ہر اتوار کو جم خانہ میں میچ کھیلنا لازم تھا۔ چیف سیکرٹری شپ کے دوران بھی اس معمول کی پابندی رہی۔ چند مہینے پہلے اس کی اسلام آباد پوسٹنگ ہوئی اور وہ ویک اینڈ پر لاہور آتا تب بھی یہ اتوار کی کرکٹ کی روٹین جا رہی رہی۔ آندھی آئے یا بارش، کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہو یا جھلسا دینے والی دھوپ، روزے کے ساتھ بھی عبداللہ خان کو کرکٹ کھیلنا لازمی تھا۔ اکثر رات کے دو بجے ٹھکا ٹھک بیٹنگ شروع ہوجاتی (بال ایک ڈوری سے بندھا چھت سے لٹک رہا ہوتا تھا ) ہم اکثر جاگ رہے ہوتے۔ اس کے والد بجائے اس کے کہ اس شور سے ڈسٹرب ہوتے وہ نہال ہو کر کہتے کہ ”عشق ہو تو ایسا ہو عبداللہ کو کرکٹ سے سچا عشق ہے“ !

اسی رشتے سے ماجد جہانگیر صاحب (مشہور کرکٹر) کے ساتھ بہت دوستی اور عقیدت و احترام کا تعلق تھا۔ وہ بھی عبداللہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ عبداللہ خان نے ایک دفعہ انہیں بتایا کہ اس نے پہلی دفعہ اپنے دادا محترم کی گود میں بیٹھ کر انہیں کھیلتے دیکھا تھا کوئٹہ میں جہاں اس کے والد پوسٹڈ تھے۔ اس کے دادا پرانے زمانے کے بزرگ ہونے کی حیثیت سے حالانکہ کرکٹ کی الف بے سے بھی واقف نہ تھے مگر اپنی بصیرت سے انہوں نے بھی نوٹس کیا کہ یہ جوان بہت اچھا کھیل رہا ہے۔

ساری دنیا سے اس کے دوست تحفے میں اس کو کرکٹ بیٹ بھیجتے یا لاتے جو وہ بہت خوشی خوشی ابو جان کو لاکر دکھاتا کہ اس میں فلاں خصوصیت ہے اور اس بیٹ سے فلاں مشہور کرکٹر کھیلا ہے۔ اس کے پاس بہت اتنے اکٹھے ہو گئے تھے ان کے لئے ایک اور چھوٹا سا کمرہ بنوانا پڑا۔ حالانکہ وہ اکثر اپنے نوعمر ساتھی کھلاڑیوں کو یہ بیٹ تحفتاً بھی دیتا رہتا تھا۔ بیڈ روم کے چھوٹا پڑنے سے یاد آیا کہ عبداللہ خان کو سروس کی ابتدا سے ہی جی او آر ون میں رہائش کی اینٹائٹلمنٹ مل گئی تھی مگر اس نے اپنے والد کے گھر میں اپنے کمرے میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ شادی کے بعد وہ بھی اسی کمرے میں رہا۔ جب کمشنر لاہور پوسٹ ہوا تو کمشنر کا ایکڑوں پر بنا فرنشڈ ہاؤس بمعہ اپنے سارے سٹاف کے خالی پڑا رہا۔ 19 گالف روڈ جہاں وہ اپنے والد کی سروس کے دوران اپنے بچپن اور اوائل جوانی میں دس سال رہا کمشنر ہاؤس اسی روڈ پر چند کوٹھیاں چھوڑ کر تھا۔ وہ اپنے بہت ایفی شنٹ اور ٹرینڈ سٹاف سمیت موجود رہا۔ مگر عبداللہ خان نے وہاں جھانک کر نہ دیکھا۔ بطور کمشنر اسے چوبیس گھنٹے اپنے عملے کی اور ایک کیمپ آفس کی سخت ضرورت تھی اور اس کی گھر میں سمائی مشکل تھی۔ مگر عبداللہ خان نے کسی نہ کسی طرح اپنا گزارا چلایا اور والد کی اجازت بلکہ اصرار کے باوجود بھی کمشنر ہاؤس جانے پر رضا مند نہ ہوا۔ نہ وہاں کے سٹاف سے ایک بندہ بھی اپنے لئے بلوایا۔ اس کا اصرار تھا کہ اس کے والدین اور ساری فیملی اس کے ساتھ جائے گی تو وہ جائے گا جو کہ ممکن نہ تھا۔

گھر میں تو وہی گھر کے سیدھے سادھے ان ٹرینڈ ملازم تھے جن سے روز یہ شکایت ہوتی تھی کہ پتلون کی ڈبل کریز بنا دی، شرٹ کا کالر زیادہ چمکا دیا۔ کپڑوں پر زنگ کی طرح کے داغ لگا دیے! ہم سے شکایت کرتا مگر ہیلپروں کو کچھ نہ کہتا۔

ہم کہتے ہمارا مالی بالکل نو آموز ہے۔ اسے سویٹ پیز کے سہارے کے لئے کانوں کی باڑ باندھنی ہی نہیں آتی، کمشنر ہاؤس سے ایک اچھا سا ماہر مالی ہی گھر کے لئے منگوا لیں۔ کہ آخر یہاں کمشنر رہتا ہے۔ وہی تو کمشنر ہاؤس ہوتا ہے! مگر وہ مسکرا کر بات گول کر جاتا۔

ہمارے گھر کے ساتھ ہی ہماری دو کنال کی گرین بیلٹ بیکار پڑی تھی۔ میرا دل چاہتا کہ اس پر سبزی ہی لگا لی جائے۔ مگر باغبان صاحب یہ کہہ کر جان چھڑا لیتا کہ پلاٹ کے نیچے بہت اینٹیں روڑے اور ملبہ ہے۔ سبزی نہیں لگ سکتی جب تک مٹی سے اس کی بھرائی نہ کی جائے۔ اسے پورا پتہ تھا کہ یہ بھرائی ہمارے بس کا روگ نہیں لہذا۔ نہ نو من تیل ہو گا۔ نہ رادھا ناچے گی۔ عبداللہ خان سے فرمائش کی تو خلاف معمول مان گیا بہت سے مٹی پڑی بھرائی ہوئی اس پر گھاس لگی لان بنا۔ جاگنگ ٹریک بھی بن گیا۔ سائیڈوں پر پھولوں کی کیاریاں اور کچھ آرائشی پورے درخت بھی لگ گئے۔ دو عدد بینچ بھی رکھ دیے گئے اور سڑک کے کنارے ایک خوبصورت سا منی پارک بن گیا۔ جس سے سامنے بنے سکول کالج کے بچوں اور ان کو لینے آنے والوں کو بہت سہولت ہو گئی۔ میں نے کہا کہ گرین بیلٹ تو بہت اچھی بن گئی مگر میری سبزی؟ اس نے کہا کہ ”جی“ دیوار کے ساتھ ساتھ اس کے لئے جگہ چھوڑ دی۔ اب مالی صاحب کو سبزی تو مجبوراً لگانی پڑی مگر اس طرح کہ کبھی تین عدد کیڑا لگے بینگن آرہے ہیں تو کبھی چار عدد کریلے اور پوچھنے پر پتہ چلا کہ براکلی اور ٹماٹر تو کسی کی بکری کھا گئی۔ اور سبزی ادھر سے گزرنے والی خواتین اور مرد حضرات تو اڑا کر لے گئے۔ لیجیے قصہ ختم۔

میرے خیال میں ہی ایک پرسنل فیور تھا جو اس نے اپنی ساری ملازمت کے دوران اپنے لئے حاصل کیا۔ وہ بھی سرکاری زمین کے ایک ٹکڑے کو سنوارا، جس سے خلق خدا کو فائدہ ہوا۔ اس کا پہلا اور آخری ذاتی کام! اس کی سالگرہ پر اس کے والد ہمیشہ کسی کارڈ پر کسی کتاب کے پہلے صفحے پر یا کسی کاغذ کے ٹکڑے پر اس کو یہ رباعی لکھ کر دیا کرتے تھے۔

الہی! بخت تو بیدار باد!
ترا دولت ہمیشہ یار باد!
گل اقبال تو دائم شگفتہ!
بہ چشم دشمنانت خار باد!

بہر حال ہم سب کی او ر ان سب لوگوں کی جن کی اس نے بے لوث مدد کی، خدمت کی اور ان کے کام آیا۔ دعائیں اسے یوں لگیں کہ اس نے اس دنیا میں اپنے سارے کام جلدی جلدی نمٹائے۔ چھوٹی سی عمر میں اعلی ترین عہدوں پر پہنچا۔ وہ ساری عزت و اکرام جو عام طور پر ملازمت کے اختتام پر اور ریٹائرمنٹ کے نزدیک کہیں جاکر ملتا ہے۔ وہ سب حاصل کیا۔ مخالفین اور حاسدین کی ساری کوششوں اور سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود۔ مگر جانے کس بد نگاہ کی نظر اسے لگی! یہاں پر وہ ہار گیا۔ نظر لگنا اور اسے برے اثرات کا ذکر تو قرآن پاک میں بھی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر تقدیر پر کوئی چیز غالب آ سکتی ہے تو وہ نظر بد ہے!

بہت پٹے ہوئے شعر ہیں مگر کتنے درست کہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
اور
خوش درخشید، ولے شعلۂ مستعجل بود

یہ صرف ہمارے خاندان کے لئے ہی ایک عظیم نقصان نہیں بلکہ پورا سول سروس اور پورے ملک کا نقصان ہے۔ ایسے ایماندار، با اصول، ذہین اور محنتی فرض شناس لوگ پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو ہیں بھی تو کچھ ملک چھوڑنے جا رہے ہیں اور کچھ دنیا اس قحط الرجال کے عالم میں میں ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے میں نے تو کالم کی صورت میں لکھنا چاہا تھا مگر اس پیارے شخص کا ذکر تھا، بے ساختہ طویل ہو گیا۔ لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم!

Facebook Comments HS