کی بورڈ جنگجو


لفظ کی بورڈ واریئرز تو آپ نے سن رکھا ہو گا۔ جنگجوؤں کی یہ قسم اسی سوشل میڈیا اور ورچوئل ریالٹی میں پائی جاتی ہے۔ یہ جنگجو فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام سے آشنا ہیں اور سوشل میڈیا پر سر گرم ہیں۔ سوشل میڈیا ایک موثر پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر کے یا خیالات شیئر کر کے اچھا محسوس کرتے ہیں۔ دل ہلکا کرنے اور معلومات شیئر کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ یوں لگا کہ اسے کتھارسس کا ذریعہ بنا لیا گیا۔

پھر یہ ذرائع غصہ نکالنے اور دشنام طرازی کے لیے استعمال ہونے لگے۔ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر بھرپور حملے کیے اور زبان و بیان میں حد درجہ گراوٹ آ گئی اور کی بورڈ رائٹرز کی فوج وجود میں آ گئی۔

کی بورڈ واریئرز ہیں کیا؟ آسان الفاظ میں یہ وہ لوگ ہیں جو سوشل میڈیا پر جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ جب بھی کوئی بحث ہو وہ دلیل کے بجائے پرتشدد زبان کا استعمال کرتے ہیں لیکن اپنی اصلی زندگی میں وہ ایسا نہیں کرتے جس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ اصلی زندگی میں ان میں اتنا دم خم نہیں ہوتا کہ اکڑ دکھائیں۔

سوشل میڈیا کی طاقت سے کسی کو انکار نہیں۔ یہاں آپ جب دل چاہے جسے دل چاہے جو دل چاہے سنا دیجیئے۔ اسکرین کے پیچھے چھپ کر یہ باتیں کرنا بہت آسان ہے۔ کسی کی کبھی بھی پگڑی اچھل سکتی ہے۔

کچھ کی بورڈ جنگجو کسی ایجنڈے کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان کا کوئی خاص ہدف ہوتا ہے جس پر وہ حملہ کرتے ہیں۔ لیکن کچھ یونہی کسی سے الجھ پڑتے ہیں۔ ذرا خلاف طبیعت بات سنی اور لیجیے ٹرولنگ شروع۔

لکھنا لکھانا شروع سے انسان کا شغل رہا ہے۔ قدیم زمانوں میں غاروں پر تصویریں بنا کر اپنی بات کہی گئی پھر تصویروں سے حروف تہجی بنائے اور پیغام رسانی کی گئی۔ باقاعدہ رسم الخط بنا تو آسانیاں پیدا ہو گیں۔ شعرا حاکم وقت کے قصیدے لکھنے لگے اور دشمنوں کی ہجو۔ سمجھ لیں کہ ایک چھوٹا سا ہتھیار ہاتھ لگ گیا۔ یہ سب ذاتی محفلوں میں یا طاقتوروں کی سرپرستی میں ہوا۔ عوام تک کبھی کبھار کچھ چیزیں پہنچتیں لیکن انہیں اتنی شہرت نہیں ملتی۔ پھر پرنٹ میڈیا آیا اور اپنی بات کہنے کی کسی قدر آزادی اور آسانی ملی۔ ٹی وی ریڈیو نے اور بھی کھل کر کہنے کے مواقع دیے۔ ایک بات یہ تھی کہ جو بھی کہتا یا لکھتا، اسے اپنے نام اور شناخت کے ساتھ پیش کرتا تھا۔ لوگ بھی جانتے تھے کہ کون کہہ اور لکھ رہا ہے۔ یہ بھی ضروری تھا کہ آپ پرنٹ میڈیا میں کسی کو جانتے ہوں جو آپ کی تحریر چھاپ دے۔ یا آپ اتنے مشہور ہیں کہ ریڈیو ٹی وی پر آپ کو بلایا جانے لگا۔

پھر انٹرنیٹ آ گیا۔ نوے کی دہائی میں انٹرنیٹ نے کئی دروازے کھول دیے۔ لوگوں کو آزادی ملی دل کی بھڑاس نکالنے کی۔ اس طاقتور دیوتا نے ہر ایک کو تحفظ فراہم کر دیا۔ اب جس کو، جو جی چاہے، جب جی چاہے، کہہ سکتے ہیں۔ یہ منفی رویے اس قدر زہریلے ہو گئے کہ حق اظہار رائے کے حامی بھی اس سے نالاں ہیں۔ یہ ایک ایسا جمہوری علاقہ ہے جہاں ہر بات کہی جا سکتی ہے لیکن ذمہ داری نہیں۔ آپ گمنام رہ کر مزے سے زہر اگلتے رہیں اور شاید کبھی بھی پکڑے نہ جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دن کا بیشتر حصہ آن لائن رہتے ہیں۔ یہ کسی نہ کسی سے بلاوجہ الجھتے رہتے ہیں۔ اپنے بے ہودہ کمنٹس سے کسی کو اکساتے ہیں۔ جواب مل جائے تو جنگ کی سی صورت حال ہو جاتی ہے، جواب نہ بھی ملے تو باز آنے والوں میں سے نہیں۔

ٹین ایجرز کے ہاتھ جب یہ ہتھیار لگا تو انہوں نے اس کا جارحانہ انداز میں استعمال کیا۔ اپنے ہی کسی ہم جماعت یا ساتھی کے بارے میں منفی پراپیگنڈا شروع کیا۔ اس کے نتائج خوفناک نکلے۔ کچھ بچوں نے اس بُلینگ کی وجہ سے اسکول جانا چھوڑ دیا، کچھ نفسیاتی مریض بن گئے اور کچھ نے خودکشی کر لی۔ ٹین ایجرز آج بھی اسی کام میں مصروف ہیں۔ چلیے وہ تو ٹین ایجر ہیں، شاید ابھی انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ کسی کو کتنا ستا رہے ہیں اور اس کے اثرات کتنے منفی ہیں۔ کچھ اچھی خاصی عمر کے لوگ بھی اسی مشغلے میں خود کو بہلائے ہوئے ہیں۔

اب کوئی بھی ان تیروں سے محفوظ نہیں۔ سیاست دان تو شروع ہی سے نشانے پر تھے۔ باقاعدہ میڈیا سیل بنائے گئے اور مخالفوں کے ساتھ ان کے گھر والوں پر بھی کیچڑ اچھلی۔ پھر اس کا دائرہ اور وسیع ہوا۔ کھلاڑیوں کی کوئی کوتاہی نظر آئی تو اسے رگڑ دیا۔ کوئی اداکار ناپسند ہے، تو اسے سو سو سنا دیں۔

یہ پردے کے پیچھے بیٹھے اپنے محفوظ مقام سے گولا باری کرتے رہتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں انہیں کبھی نہ موقع ملتا ہے نہ ہی ان کی اتنی جرات ہوتی ہے۔ ان میں اکثر کی آئی ڈیز بھی فیک ہوتی ہیں اور تصویر بھی جعلی۔ یہ اپنی زندگی میں لوزر سمجھے جاتے ہیں جن کا کسی پر بس نہیں چلتا۔ ہو سکتا ہے اپنی حقیقی زندگی میں یہ خود بھی اسی قسم کے رویوں کا شکار رہے ہوں اور اب دوسروں کو نشانہ بنا کر غصہ اتارتے ہوں۔

ان کی بورڈ جنگجوؤں سے کسی کو جسمانی ضرر نہ بھی پہنچے، یہ نفسیاتی طور پر ضرور نقصان پہنچاتے ہیں۔

Facebook Comments HS