مزدور بچے، ملکی غدار یا قومی خدمت گار


مزدور چاہے افغانی ہو یا تورانی، امریکی سٹور پر کام کرنے والا ہو یا پاکستان میں سڑک پر بیٹھ کر مزدوری کا انتظار کرنے والا، ہمیشہ سے قومی خدمت گار کے روپ میں نظر آتا ہے۔ مگر یہ خدمت گاری، کب ملکی غداری میں بدل جائے اس کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ہاں کچھ وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں اور ان میں سے ایک، اور سب سے اہم ہے ”بچوں سے مزدوری کرانا“ ۔ دنیا بھر میں بچوں سے مزدوری کرانا قانونی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اگر گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ قانون جرم، اخلاقی ظلم بھی معلوم ہو گا۔ مگر ہمارے ہاں قانون کی کوئی حیثیت نہیں، اخلاق تو بڑے اونچے مقام کا نام ہے۔

پاکستان میں بچوں سے مزدوری کرانا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بچے ملک و قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں غریب بچے اس زمرے میں نہیں آتے۔ 76 سال گزرنے کے بعد بھی ہم نے بحیثیت قوم بچوں کے حقوق کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔ ملک بھر میں بچوں سے مزدوری کرانے کا تناسب روز بروز تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق کووڈ۔

19 اور بعد کے سالوں میں 80 لاکھ سے زائد بچے جبری مشقت کا شکار ہوئے ہیں اور پاکستان بچوں سے جبری مشقت کرانے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ٹھیکے دار بچوں کا بے دردی سے استحصال کرتے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرنے کی خاطر ان سے ہمدردی کے نام پر جبری کام کرواتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مزدوری جبری نہیں، بلکہ رضا مندانہ فیصلہ کی بنیاد پر ایسا کرایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ بچہ تو اپنی مرضی سے ہی اس طرف کو متوجہ ہوا ہے۔

درحقیقت ایسا ہے نہیں، کیونکہ بچہ تو اس قابل ہی نہیں ہوتا کہ وہ غلط اور صحیح کا فیصلہ کر سکے۔ یہ فیصلہ کرانے کے پیچھے والدین کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ مگر کہیں نا کہیں والدین بھی مجبور ہوتے ہیں۔ کبھی غربت کی وجہ سے تو کبھی صرف اس وجہ سے کہ صاحب کو گھر پر کام کرانے کے لیے ایک بچہ کی ضرورت ہے اور نوکر کا بچہ حاضر کر دیا جاتا ہے۔ صورتحال اس وقت اور بھی مایوس کن ہوتی ہے جب تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مستحکم خاندانوں کے گھروں میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کو دبایا جاتا ہے۔

یہ مایوسی اس وقت دکھ اور الم میں بدل جاتی ہے، جب بچوں سے جبری مشقت کرانے اور ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف اقدام اٹھانے میں، ادارے ناکام نظر آتے ہیں۔ ایسی صورتحال کے پیش نظر اس سلگتے ہوئے سوال کو حل کرنے، اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ناکام رہنا، تشویش ناک ہے اور اس کے نتیجے میں 1973 کے آئین کے آرٹیکل 11 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ یہ آرٹیکل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ 14 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے کو خطرناک کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بچوں کو گھریلو کام پر رکھنا ان پر احسان نہیں ہے بلکہ بچوں، ملک اور قوم کے مستقبل کو تباہ کرنے کا اعلان ہے۔ اگر ایسے بچوں پر احسان کرنے کا ارادہ رکھتے ہو تو، ان کو مفت تعلیم دو نا کہ مزدوری کے عوض کھانے کو روٹی۔ قوم کو محفوظ رکھنے اور اس کے مستقبل کو روشن بنانے کے لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنگین جرم کا خاتمہ کیا جائے۔ معاشرے، قانون ساز اداروں اور حکومت کو غربت کے خاتمے، آبادی پر قابو پانے، مفت لازمی تعلیم اور بچوں کو استحصال اور زیادتی سے بچانے کے لیے کچھ سخت اقدامات اٹھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais