مرد حنیف کی یادیں


بلوچستان کے سرحدی شہر چمن نے ستمبر دو ہزار انیس میں جس مرد حر کو کھویا لوگ اس کو مولانا محمد حنیف شہید کے نام سے جانتے ہیں۔ اہل چمن اس بات کے معترف ہے کہ پھر ان پانچ سالوں میں اس جیسا رجل ظریف ہم نے نہیں پایا۔ وہ ایک ایسے بشر تھے جو جسدی مضبوطی میں مثل جبل اور نرم دلی موم جیسی تھی۔ وہ عوامی خدمت میں تھکاوٹ کو راہ میں حائل نہیں سمجھتے تھے۔ دن ہو یا رات، گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان وہ ان کے ارادے اور کام میں مخل نہیں بن سکتے تھے۔

لوگوں کی خدمت وہ فرض سمجھ کر کیا کرتے تھے مولانا شہید کی اس ادا نے غریب کیا امیر کیا، اپنے کیا پرائے کیا ہر شخص ان کی تعریف کرتا نظر آتا ہے۔ اخلاص ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ تحمل، بردباری اور برداشت ان کا خاصہ تھا نرم و شفیق لہجہ، صلح جو طبیعت، حسن اخلاق، زندہ دلی اور دور اندیشی و دانائی، وہ لوگوں کے درمیان صلح کروانے والے اور انصاف میں توازن رکھنے والے ایک بہترین منصف تھے۔ جو فیصلہ کرتے فریقین دعاؤں سے نوازتے تھے۔

چمن شہر میں مولانا شہید کا دفتر تھا وہاں روزانہ عوامی کچہری کا انعقاد ہوتا تھا لوگوں کا اک ہجوم ہوتا ہر بندہ مسائل کا حل اس دفتر میں بیٹھے مسیحا کے پاس ڈھونڈتے۔ سرکار کا کوئی کام ہوتا، متعلقہ دفتر کو فون کرتے، فون سے مسئلہ حل نہ ہوتا، تو اس کے ساتھ وہی چلتے۔ رحم دلی اتنی تھی کہ انسان تو کیا جانور کو بھی تکلیف میں نہ دیکھ سکتے تھے۔ تحمل اور بردباری ایسی کہ بڑے بڑے سانحات، پریشانیوں اور مسائل کا انتہائی خندہ پیشانی اور حوصلے سے سامنا کیا کرتے تھے۔

اہل چمن کا دکھ درد وہ اپنا دکھ سمجھتے تھے دن کو تو وہ خدمت میں مصروف ہوتے تھے بعض اوقات رات کے وقت کسی کو کوئی مشکل پیش آتا، مولانا شہید کو کال کرتے، قطعاً حاضری سے دریغ نہ کرتے۔ 28 ستمبر 2019 کو بھی وہ اپنے دفتر میں لوگوں کے مسائل سن رہے تھے وہاں سے فارغ ہو کر جیسے ہی باہر نکلے کسی ستم گر نے بم بلاسٹ میں اس مسیحا کو نشانہ بنا کر ہمیشہ کے لئے وہ ہمیں وداع کہہ گئے۔ اس دن کے بعد سے لے کر آج تک اہل چمن چراغ رخ زیبا لے کر اپنے اس محسن جیسے انسان کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ مگر اس جیسا کہاں۔

Facebook Comments HS