الووں سے معذرت کے ساتھ


ابھی نظروں سے وائس آف امریکہ کا ایک وی لاگ گزرا جس میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور جمہوریہ قبرص کے درمیان ایک بفر زون میں کسانوں کو درپیش طفیلیوں یعنی فصلوں کی تباہی کرنے والے چوہوں اور گلہریوں سے نجات کے لئے الووں کے سائنسی استعمال کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ تب سے اب تک عجیب وسوسے اور پریشانی ہو رہی کہ عجیب لوگ ہیں الووں کو ایسے کاموں پہ لگا رہے، ایسا نہ ہو وہاں الو بولنے لگیں اور پچھتانا پڑے، کیوں نہ ہو کہ وطن عزیز میں الووں کو ذرا سی چھوٹ کیا ملی اب ہر جگہ الو ہی بولتے ہیں، اور تو اور ”سامنے والے کیمرے سے عالمی فورم پہ لی گئی تصاویر بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لگاتے ہیں“ ۔

مذکورہ وی لاگ سے تو لگتا ہے الووں کو ہر جگہ کام پہ لگایا جاتا ہے، کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز میں الّوؤں کی فراوانی کو برا بھلا کہا جاتا ہے؟ ہمارے جیسے ناعاقبت اندیش بھی ایسی ہی نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں اب اگر الو اتنے ہی برے ہوتے تو انہیں سرخ قالین پہ خوش آمدید نہ کہا جاتا؟ الّوؤں اور ان کے پٹھوں کو لانے والے نہ جانے انہیں الّو اور الّو کا پٹھا کہنے پہ بُرا کیوں مانتے ہیں بلکہ کبھی کبھار ایسے ناخلفوں کو گم کر دیتے ہیں۔ آپ کو یقین نہیں آ رہا، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، کہہ کہ دیکھ لیں، اچھے اچھوں کو ’خاک‘ بدوش کر دیتے ہیں ہمارے دیسی الو۔

کاش قبرص والے کچھ ہم سے مشورہ ہی کر لیتے، ایسا نہ ہو کہ وہاں بھی ہر شاخ پہ الو بولنے لگیں۔ خیر اب خیال آ رہا ہے کہ خوامخواہ پریشان ہو رہا ہوں مشرق اور مغرب کے درمیان بحیرہ روم میں قبرص کا جزیرہ شاید الووں کو مغرب کے مروجہ معیار سے دیکھتا ہو گا جہاں اس پرندے کو حکمت اور دانائی کا علمبردار مانا جاتا ہے۔ ویسے تو الو اتنے برے بھی نہیں اور چند ایک الو ہمارے دوست ہیں یا ہمیں ایسا لگتا ہے، پر نہ جانے کیوں ہمارے ہاں ان سے عجیب و غریب داستانیں وابستہ ہیں، جیسے ایک باوردی حاکم کو الو کی طرح چالاک، عیار اور مکار لکھ ڈالا، جو کہ سراسر زیادتی ہے، کیوں نہ ہو کہ بھلا مانس پرندہ اپنی غیر معمولی نگاہ کے لئے مشہور ہے اور یہاں ایک آنکھ والے صاحب کو الو کے ساتھ تشبیہ دی جاتی رہی، اب قارئین خود فیصلہ کر لیں یہ زیادتی اول الذکر کے ساتھ ہے یا آخر الذکر کے ساتھ؟

ہمارے ایک عزیز دوست شرفا سے عجب بیر رکھتے ہیں۔ بظاہر ٹھیک ٹھاک خاندانی نظر آتے لوگوں کے شجرہ سے انگریزوں کی وفاداری کی ملاوٹ نکال لیتے اور لگے ہاتھوں الو و الو کا پٹھا بول دیتے ہیں، ان کے بقول الو کے پٹھے الووں کہ باقیات ہی تو ہیں تو انہیں الو کا پٹھا کیوں نہ کہا جائے۔ اب مزے کی بات یہ کہ انگریزوں کے نمک خوار یہ الو اور ان کے پٹھے لفظی معنی میں الو کو مشرقی سیاق و سباق میں لیتے ہیں جو کہ کھلا تضاد ہے حالانکہ مغربی آقاؤں کے یہ غلام الو کہلانے پر فخر کریں اور خوش ہوں کہ ان کے ہاں الو ایک ہر دل عزیز اور قابل فخر استعارہ ہے۔

سنا ہے خوابوں کی سرزمین پہ حسن کی بیٹھک میں پاکستانی حسیناؤں کی شمولیت پر بھی الو خفا اور شرمندہ شرمندہ سے ہیں، اور اپنے پٹھوں کو کچھ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ عجیب معمہ ہے کہ قاضی کے گھر میں بچی پہ جبر ہو یا شاہ کہ ہاں زیادتی، مدارس میں تشدد ہو یا مسیحی جلائے جائیں، ہمارے الووں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی پر ایک حسینہ کے غازے سے دہشت زدہ ہو جاتے ہیں یہ پیارے ہمارے الو۔ ارے آپ کی تیوری کیوں چڑھنے لگی، آپ تو اچھے بھلے معقول انسان ہیں، آپ خوامخواہ غصہ کر رہے ہم اردو میں مخاطب ہیں پر نیت میں مغرب والے الو کا حوالہ ہے، اور آپ تو بخوبی جانتے ہیں اعمال کا دار و مدار۔ ۔ ۔ چلیں ہمیں اجازت دیں، وہ کیا ہے نہ آج کل الووں کا طوطی بولتا ہے۔

 

Facebook Comments HS