ہاتھوں میں سے گرتی دعا (افسانہ)
دو دن پہلے بارش ہوئی تھی جس وجہ سے قصبے کا پارک گیلا ہو گیا تھا اور کیچڑ زیادہ تھی۔ شام کے وقت واک کرنا میرے معمول میں شامل تھا۔ اس دن میں پارک کے بجائے روڈ کے کنارے واک کرتے چلا آیا۔ روڈ قصبے سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ ویسے یہ ہے قصبہ لیکن کسی چھوٹے شہر سے کم نہیں۔ ہمارے اس بڑی آبادی والے قصبے میں بوائز اور گرلز ہائی اسکول ہیں۔ بوائز ہائی اسکول میں سے بطور ہیڈ ماسٹر رٹائرڈ ہوا تھا۔
میں روڈ کے برم پر چل رہا تھا کہ ایک اچانک آلٹو کار پر نظر پڑی جو سامنے بڑی اسپیڈ میں آ رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں میری نظریں آتی ہوئی کار پر جم گئیں۔ لڑکی کار چلا رہی تھی اور نقاب میں تھی۔ شاید نقاب کی وجہ سے میری نگاہیں کار پر جم گئی تھیں کیوں کہ وہ ہمیشہ نقاب پہنتی تھی۔ نقاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہی نہیں تھی۔ کار تیز رفتاری سے پلک جھپک میں میرے قریب گزر گئی تھی۔ کار روڈ سے نہیں جیسے میرے وجود پر سے گزر گئی ہو۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو کار دور جا چکی تھی۔ سورج ڈھلنے کو تھا۔ ایسے لگا تھا جیسے سورج زخمی ہو گیا ہو اور شفق کی صورت میں خون آسمان پر بکھر گیا ہو۔
میں واک کرنا بھول گیا۔ دل میں غم کی تیز لہر دوڑ۔ نے لگی تھی۔ میں زمین پہ بیٹھ گیا تھا۔ روڈ سے کسی کے گزرنے کا احساس ہی نہیں رہا تھا۔ وہ یاد آ گئی تھی۔ دل میں اس کی یاد گھنگھرو باندھ کر ناچتے لہولہان ہو گئی تھی۔ ذہن کے قرطاس پر زخمی احساس تڑپنے لگے تھے۔ میری روح میں اداسی کی رات پھیل گئی تھی۔ رگوں میں خون کے ساتھ درد کی سلگتی آگ دوڑ۔ نے لگی تھی۔ میرا وجود اس آگ میں سلگتے لگا تھا۔
اس کا گھر قصبے کی دوسری گلی میں تھا۔ وہ بھی قصبے کے گرلز ہائی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ عمر میں تیس سال کا فرق ممکن تھا۔ مگر نہ دل اور نہ محبت عمر کے فرق کو ناپتی ہے۔
وہ کبھی مجھ سے ملی بھی نہیں تھی اور نہ ہی میں نے ملنے کی کوشش کی تھی۔ گلیوں میں سے قریب تر گزرتی تھی کہ جیسے میں گلابوں کے کھیت میں سے گزرتا تھا۔ سانسوں میں خوشبو پھیل جاتی تھی۔ اندر کی کائنات معطر ہو جاتی تھی۔ کئی دنوں تک وہ خوشبو حواسوں پر چھائی رہتی تھی۔ ملنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ملنا تھا بھی مشکل۔ نہ جانے کیسے اور کیوں دل میں بیٹھ گئی؟ اس کا چہرہ ہی نہیں دیکھا تھا۔ نقاب میں بھلا کیسے دیکھ سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اسے پتہ ہی نہ ہو کہ کوئی اسے ٹوٹ کر چاہتا ہے اور قریب ہوتے ہوئے بھی کوسوں دور ہے۔
سورج غروب ہونے کو تھا۔ میں مایوسی کے گہرے سمندر میں غوطے کھاتے ہوئے اٹھا۔ اس سے ملنے کی خواہش میں ساخت ہاتھ دعا کے لیے اٹھے تھے کہ اک بار وہ نقاب اتار کر گلی میں سے گزرے اور میں جی بھر کے اسے دیکھوں۔ مگر ہو نہ اور نہ ایسا ہو سکتا تھا۔ اس دن بھی لگا کہ جیسے میرے ہاتھوں میں سے دعا گر گئی ہو اور میں پاؤں گھسیٹتے گھر کی طرف چلنے لگا تھا۔


