گمشدہ کہانی کا پہلا سِرا
جہاز کی ننھی مُنی کھڑکی سے باہر کے منظر نامے نے مجھے بے حد تھکا دیا ہے۔ میری حالت اس مسافر جیسی ہے جو میلوں کی مسافت طے کر کے بھی کہیں نہ پہنچا ہو۔ اگر دیکھا جائے تو وہ حقیقتاً میلوں کی مسافت ہی تھی جسے رفتار نے گھنٹوں سے گھٹا کر منٹوں پہ منطبق کر دیا تھا۔ آج کی دُنیا اتنی برق رفتار ہے کہ جو سوچتی ہے وہ کر گُزرتی ہے اور افسوس کہ ہم اس برق رفتار دُنیا کی جانب لپکنے والے لوگوں کی آخری صف سے بھی کوسوں دور ہیں اور مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔ وقت ہمیں روند کر آگے بڑھ چُکا ہے اور ہم کُچلے ہوئے، بدن دریدہ بنا کسی پلاننگ اور بنا کوئی مقصد و ہدف مقرر کیے گُزر جانے والے قافلوں کی بتیوں کے تعاقُب میں بس گھٹنوں کے بل گھسٹ رہے ہیں۔ کیا یہ بے مقصدیت ہمیں کہیں لے جائے گی یا ہماری جنم کنڈلیوں میں دائروں میں گول گول گھومنا ہی لکھا ہے؟
مجھے یاد آیا کہ سائیکاٹرسٹ نے کہا تھا تمہیں زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔ میں نے پلٹ کر کاٹ دار لہجے میں کہا تھا کہ تُم یہ کیوں چاہتے ہو کہ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کُچھ بھی نہ سوچے؟ انہیں کام کرنے سے روکا جاتا ہے، باہر نکلنے سے روکا جاتا ہے۔ جو باہر نکلے اُسے راستے میں بے شمار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ کرو وہ نہ کرو کی گردان نے آدھی آبادی کو عضو معطل میں تبدیل کر دیا ہے اور اب تمہارا یہ کہنا کہ میں سوچوں بھی نہیں، آخر کیوں اور کب تک؟ میں نے طنزاً کہا کہ یہ بات تو ہر کوئی کہتا ہے لیکن اگر ہم نہیں سوچیں گے تو پھر کون سوچے گا؟ اگر سوچیں گے نہیں تو مسائل کا حل کیسے نکلے گا؟ اس کا جواب کوئی نہیں دیتا۔ سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ کیا انسان سوچ سے چُھٹکارا پا سکتا ہے؟ میں ایک نرم خُو اور بزدل سی عورت تھی۔ زمانے بھر کی یہ تلخی میرے لہجے میں کب اور کیسے در آئی؟ شاید جب برتن بھر جائے تو چھلکنا ایک قدرتی عمل ہوتا ہے۔ میں خود بھی اس طرز تکلم پہ حیران تھی۔
اگر میں تمہاری بات مان بھی لوں تو اس کا کیا کیا جائے کہ نظر جس سمت بھی اُٹھتی ہے وہاں کا منظر نامہ خود بخود سوچنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ کیا تمہارے پاس وہ جادوئی چھڑی ہے جو پلک جھپکتے ہی اس منظر نامے کو نظروں سے اوجھل کر دے یا ہمیں بے حس کر سکے؟ آئندہ ان کھڑکیوں کو بند کرنے کا کسی سے نہ کہنا جو سوچ کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ ان کے علاوہ ہماری زندگیوں میں اور ہے ہی کیا؟ ان ہی سے نظر آنے والا آسمان چاہے وہ مُٹھی بھر ہی کیوں نہ ہو، ہمیں جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ہم وہ پرندے ہیں جن کے پر بچپن میں کتر دیے گئے تھے تاکہ کبھی اُڑان نہ بھر سکیں۔ ہم اُڑنا بھول گئے مگر کم از کم ہمیں اُڑتے پرندوں کو دیکھ کر ہی خوش ہو لینے دو۔
کیا تُم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ سلاخوں کے پیچھے سوچ کا گُزر نہیں ہوتا؟ ذرا ایک دن پنجرے کا دروازہ کُھلا چھوڑ کر تو دیکھو برسوں سے بند پکھیرو کمزور بال و پر کی پرواہ کیے بغیر اُڑنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ یہ سوچ ہی تو ہے جو اُسے اُڑا لے جاتی ہے۔ یہی قانون فطرت ہے۔ اس نے گمبھیر نظروں سے مجھے دیکھا پھر رسٹ واچ پہ نظر دوڑانے ہوئے بولا کہ مزید بات اگلی اپوائنٹمنٹ پہ ہو گی۔ میں نے ترنت کہا، ڈاکٹر سال ہو گیا علاج چلتے، اگلی اپوائنٹمنٹ مُمکن نہیں، میں جا رہی ہوں بس اتنا بتا دو کہ تمہاری لکھی ہوئی دوائیں مجھے کب تک پھانکنی پڑیں گی؟ ریسپشن سے تمہیں نسخہ اور لکھی ہوئی ہدایات مل جائیں گی، یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ ہی میں بھی۔ ایک کسٹمر کم ہونا مطلب بزنس میں کمی، یہ فکر اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔
اس وقت میں دیگر مسافروں کے ہمراہ ایک کیپسول میں بند ہوں۔ کھڑکی کے باہر دودھیا بادلوں کے سوا دیکھنے کو کُچھ بھی نہیں ہے۔ نہ غم جاناں نہ غم دوراں۔ غم دوراں سے کسی کو مفر نہیں مگر غم جاناں تو محاورتاً ہی مستعمل ہے البتہ سوچ کا پنچھی تو اس کیپسول میں قید نہیں ہے اُسے تو اُڑان سے مطلب ہے۔ لگے بندھے راستے پہ سفر کرنے والے پرندے کے لیے مستقبل ایک نادیدہ جزیرہ ہے وہ وہاں نہیں جائے گا۔ وہ حال سے ماضی کی جانب ہی جا سکتا ہے۔ انجانی منزلوں کی جانب چل پڑنے کی صفت تو صرف انسانوں میں ہے۔ افسوس کہ انسان اس صفت سے مستفید ہونے کی کوشش کم ہی کرتا ہے۔ اس کے لیے جگرا چاہیے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ مہر بانو بھی تو بنا سوچے سمجھے انجانی منزل کی جانب چل پڑی تھی۔ یہ کتنی عجیب سی بات ہے کہ جس جگہ ہمارے لیے سانس لینا بھی دشوار ہوتا ہے وہیں ہم اپنی ہستی کا کُچھ حصہ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیں بار بار پلٹ کر دیکھنے پہ مجبور کرتا رہتا ہے۔
مہر بانو اور میں سکے کے دو رُخ تھے۔ جس جانب وہ تھی وہاں صرف دِل تھا اور جس جانب میں تھی وہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ دِل بھی اور دُنیا بھی ان میں سے کون سا کم تھا اور کون سا زیادہ اس کا تعین نہ کل مُمکن تھا نہ آج مُمکن ہے کہ یہ تناسب وقت اور حالات کے ساتھ گھٹتا بڑھتا رہتا اور یوں ان کی مخاصمت مستقل جاری رہتی۔ مہرو نے خوابیدہ شہر میں بہت کُچھ چھوڑا تھا۔ بہت سے دوستوں کے ساتھ ایسی قبریں بھی چھوڑی تھیں جو اس کے جینے کا حوصلہ تھیں۔ نجم السحر، جاوید اور روبینہ جو دوست غمگسار اور ہمدم سبھی کُچھ تھے۔ روز میری، ناہید پیٹر، لالہ رُخ اور ثمینہ سب قریبی دوست تھے۔ ہم سب مختلف مذاہب، فرقوں اور معاشرتی طبقاتی پس منظر سے متعلق تھے مگر شاید اس وقت زمانے کا چلن ہی ایسا تھا کہ دوستی کی راہ میں کوئی بھی فرق حائل نہیں ہوا۔ محرم کی حلیم، گیارہویں کی نیاز اور کرسمس کا کیک دوستی کا رنگ لیے سب ایک سے تھے۔ ہمیں مسز پال مسز جیوا نندم اور مس حمیدہ ملک میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا کہ وہ سب ہماری ٹیچرز تھیں۔
جو ہم نہیں جانتے تھے وہ یہ تھا کہ محبتوں کی عمر قلیل ہے تقسیم کا عمل تیز تر۔ نفرت کا وہ پانی دھیرے دھیرے ان سر سبز زمینوں کی جانب بڑھ رہا ہے جو ایک دن انہیں بنجر کر دے گا۔ یہ پہلے سے تقسیم شدہ معاشرے کو مزید تقسیم کر دے گا اور ہم ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں رہیں گے۔ گملوں میں نفرت کی پنیریاں تیار کی جا رہی تھیں۔ وہ شہر دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک خاردار تاروں کے اندر اور دوسرا باہر۔ باہر والوں کو اندر جھانکنے کی اجازت نہیں تھی۔ یوں بھی خاردار تاروں کے اندر کے کھیل کو باہر کے سادہ لوح اور پر امن لوگ کہاں سمجھ سکتے ہیں؟ اور سمجھ بھی جائیں تو کیا کر سکتے ہیں؟ کمزور آوازیں تیر و تفنگ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ انجانی سمت سے آنے والی گولی کس کے نام کی ہے کوئی نہیں جانتا۔ ساتویں دہائی کے آخر میں تو ہر سمت دھمک تھی، بھاری بوٹوں کی دھمک اور گملوں میں اُگائی ہوئی نفرت کے وہ پودے تھے جو اب زمین میں بوئے جا رہے تھے۔
مہر بانو جب اپنی آخری ڈبیٹ کا کپ وصولنے تالیوں کی گونج میں سٹیج پہ پُہنچی تو اس سے صدر محفل نے کہا تھا تمہارے پاس تین منٹ ہیں۔ پچھلے گیٹ سے کالج کی حدود سے باہر نکل جانا اس کے بعد کی ذمہ داری ہماری نہیں۔ اس لمحے دماغ اس بُری طرح سُن تھا کہ سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت ماؤف ہو گئی تھی۔ کب نجم السحر نے اس کا ہاتھ تھاما کیسے وہ میدان پار کر کے پچھلے گیٹ تک پہنچے اُسے پتہ ہی نہیں چلا۔ اُس وقت نجم السحر عامل تھا اور مہر بانو ایسا معمول جو حالت تنویم میں دوڑ رہا تھا۔ گیٹ سے باہر ہوتے ہی گولیوں کی تڑتڑاہٹ فضا میں تھی۔ پرو فیسر ملک کے فلیٹ پر پہنچنے تک وہ اسی کیفیت میں تھی۔ اس نے زندگی کا یہ کریہہ روپ پہلی بار دیکھا تھا۔ اُس دن سے نجمی اُس کی زندگی کا ایسا حصہ بن گیا جسے کاٹ کر ہی الگ کیا جاسکتا تھا مگر جنم کُنڈلی میں تو کُچھ اور ہی لکھا تھا۔ ایک سال بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ ہو گی اور اس کے جسم کا اٹوٹ انگ ہو گا۔ جاوید ٹریفک کے حادثے میں ختم ہوا تو روبینہ نے کالج ہی جانا چھوڑ دیا۔
عامرہ، سمیعہ، شاکر بھائی، نعمان صاحب، پروفیسر ملک، کامریڈ جھکی، سلیم، شاہانہ اور ثمرہ شبیر جسے سب ایکٹرس کے کہہ کر پُکارتے تھے۔ یہ بھی مہر بانو کی زندگی کے کردار تھے مگر ضمنی کردار جیسے کہ ہر کہانی میں ہوتے ہیں۔ نام بھول جاتے ہیں مگر چہروں کے نقوش ذہن پہ ثبت رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کُچھ نام رہ گئے ہوں کیونکہ عمر کے کے ساتھ ساتھ یاداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ یوں بھی زندگی کی کہانی میں انگنت کردار ہوتے ہیں البتہ نام ان ہی کے یاد رہتے ہیں جو سٹیج پہ دیر تک رہیں اور ان کا رول بھی اہم ہو بقیہ ایسی بھولی بسری یاد ہو کر رہ جاتے ہیں جو اچانک سامنے بھی آ جائے تو انسان ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتا ہے یا مُسکرا دیتا ہے۔ یہی زندگی کا چلن ہے۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ہر انسان ایک کہانی ہے گویا اس دُنیا میں ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ ارب سے اوپر ہی کہانیاں ہوں گی مگر ان میں سے کتنے لوگ کہانی کہنا جانتے ہیں؟ گوگل بابا کے مطابق دُنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں بھی یہ تعداد ایک لاکھ اور چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے اور ان میں بھی فقط چند ہزار ہی ایسے ہیں جو کسی بھی کہانی کو مناسب الفاظ اور مناسب طور بیان کر سکیں۔ یعنی کہ تیس کروڑ میں سے محض چند ہزار ہے نا اچنبھے کی بات! یہی وجہ ہے کہ بہت بڑی تعداد میں کہانیاں گُم ہو جاتی ہیں۔ انہیں بیان کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ گو کہانی کہنے کا ہُنر مجھے بھی نہیں آتا مگر ایک کوشش تو کی جا سکتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کہانی ایک فرد کی نہیں ہوتی پورے عہد کی ہوتی ہے۔ اس سے معاشرے کی بنت کا پتہ چلتا ہے۔ ان خرابیوں کی نشاندہی ہوتی ہے جنہیں قالین کے نیچے چھپا کر سب اچھا ہے کی نوید سُنائی جاتی ہیں۔ سچ یہ بھی ہے مہر بانو جو میری ذات کا ایک اٹوٹ انگ تھی اور رہے گی، اس کی کہانی گُم ہوتے میں دیکھ نہیں سکتی۔ مجھے ہر حال میں اس کے گمشدہ سِرے تلاش کرنے ہوں گے
ضمنی کہانیاں جو بھی ہوں اصل کہانی تو مہر بانو کے گرد ہی گھومتی ہے۔ جب مہر بانو اس بے مہر دنیا میں بالکُل تنہا رہ گئی تو میں نے ایک دن اس سے پوچھا کہ مہرو اب تم کیا کرو گی؟ اُس نے مستحکم لہجے میں کہا، دو بار مرنے کی کوشش کے باوجود بھی میں زندہ ہوں تو کیوں نہ ایک داؤ زندگی پہ لگا کے دیکھا جائے؟ شاید زندگی اس بازی کو جیت جائے۔ پھر اس نے ایک شعر پڑھا جس کا طلب اس وقت میری سمجھ سے باہر تھا اور میرا شعری ذوق بھی واجبی سا تھا مگر پھر بھی نجانے کیوں ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔ پہلی بار میں نے اپنے خوف کا اظہار نہیں کیا۔
گر بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
مگر جس شہر کے ہر موڑ ہر راستے پر پہ ایک ہی نام لکھا ہو وہاں جینا مُمکن نہیں مجھے شہر چھوڑنا ہو گا، کیا تم میرا ساتھ دو گی؟ میں سدا کی ڈرپوک اور مصلحت کوش ڈر کے بولی مہرو اور تمہارے گھر والے؟ وہ بولی دیکھا جائے گا۔ گویا کوئی واضح منصوبہ اس کے پاس بھی نہیں تھا۔
میری سوچ کا سلسلہ اس وقت منقطع ہو گیا جب فضائی میزبان نے میرے قریب آ کے دھیرے سے کہا ہم لنچ سرو کرنے والے ہیں، میم اپنی ٹیبل کھول لیجیے۔ لذتِ کام و دہن سے اس سمے کس کافر کو مطلب ہے مگر زندہ رہنے کے لیے چند لقمے تو ضروری ہیں۔ اس وقت ایک گھنٹہ اور دس منٹ گُزر چُکے ہیں۔ گویا یادوں کا دبستان چودہ گھنٹے اور پینتیس منٹ تک مزید کُھلا رہے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔


